عقائد و نظریات

معبودان کفار اور شرعی احکام (قسط ششم)

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ

قسط ششم میں بحث دہم ہے۔اس میں تعریض وتوریہ کی تعریف وحکم کا بیان ہے۔

بھارت کے موجودہ ماحول اور حالات وحادثات کو دیکھ سن کر بہت افسوس ہوتا ہے۔

اے گنبد خضریٰ کے مکیں وقت دعا ہے

امت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے

آسام میں مسلمانوں پر ظلم وجبرکیا جارہا ہے۔ وہ جبرواستبداد کے شکار ہورہے ہیں اور ملک بھر میں لڑکیاں کفروارتداد کی شکار ہورہی ہیں۔ کہیں قتل وغارت گری ہے تو کہیں محبت کے پھول ہیں۔یہ ہماری بھول ہے۔ نہ جانے کتنی مسلم لڑکیاں غیروں کے ساتھ شادی رچیں اور طوائف خانے پہنچیں۔ کبھی وہ ڈانس بار میں بیچ دی گئیں۔کبھی غیروں کے ہوس کی تکمیل کرتی رہیں اور اپنے آپ سے ہار گئیں۔ لڑکیوں کو اسکول وکالج بھیجنا،یا جاب سے منسلک ہونا غلط ہے۔ لڑکی جیسے ہی نظر سے غائب ہوجائے، خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

مسلم لڑکیوں کے واسطے مسلمانوں کے زیر انتظام گرل کالج ہو، یا پھر مڈل کلاس کے بعد فاصلاتی تعلیم دلائی جائے۔ بہتر ہے کہ لڑکیوں کے لیے دینی مدارس کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔وہاں عصری تعلیم کابھی نظم ہو،او ر فاصلاتی نظام تعلیم سے منسلک کیا جائے۔

بحث دہم:

تعریض وتوریہ اورکفریہ کلمات
بحث نہم میں اکراہ شرعی کی تفصیل مرقوم ہے۔ حالت اکراہ میں توریہ کا خیال آئے تو مجبور شخص کو توریہ کرنا فرض ہے۔اکراہ شرعی اورتویہ سے متعلق ایک قول مندرجہ ذیل ہے۔

(۱)امام جصاص رازی حنفی:ابوبکر احمدبن علی(370-305ھ) نے رقم فرمایا:
(قولہ تعالی:من کفر باللّٰہ من بعد إیمانہ إلا من أکرہ وقلبہ مطمئن بالإیمان-روی معمر عن عبد الکریم عن أبی عبید بن محمد بن عمار بن یاسر:(إلا من أکرہ وقلبہ مطمئن بالإیمان)قال:أخذ المشرکون عمارا وجماعۃ معہ فعذبوہم حتی قاربوہم فی بعض ما أرادوا۔

فشکا ذلک إلی رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم-قال:کیف کان قلبک؟قال:مطمئن بالإیمان-قال:فإن عادوا فعد:
قال أبو بکر:ہذا اصل فی جواز إظہار کلمۃ الکفر فی حال الإکراہ -والإکراہ المبیح لذلک ہو أن یخاف علی نفسہ أو بعض أعضاۂ التلف إن لم یفعل ما أمرہ بہ فأبیح لہ فی ہذہ الحال أن یظہر کلمۃ الکفر۔

ویعارض بہا غیرہ إذا خطر ذلک ببالہ فإن لم یفعل ذلک مع خطورہ ببالہ کان کافرا۔

قال محمد بن الحسن:إذا أکرہہ الکفار علی أن یشتم محمدا صلی اللّٰہ علیہ وسلم-فخطر ببالہ أن یشتم محمدا آخر غیرہ فلم یفعل وقد شتم النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم، کان کافرا-وکذلک لو قیل لہ:لتسجدن لہذا الصلیب فخطر ببالہ أن یجعل السجود للّٰہ فلم یفعل وسجد للصلیب کان کافرا-فإن أعجلوہ عن الرویۃ ولم یخطر ببالہ شیء وقال ما أکرہ علیہ أو فعل لم یکن کافرا،إذا کان قلبہ مطمئنا بالإیمان۔

قال أبو بکر:وذلک لأنہ إذا خطر ببالہ ما ذکرنا فقد أمکنہ أن یفعل الشتیمۃ لغیر النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم-إذا لم یکن مکرہا علی الضمیر وإنما کان مکرہا علی القول-وقد أمکنہ صرف الضمیر إلی غیرہ-فمتی لم یفعلہ فقد اختار إظہار الکفر من غیر إکراہ فلزمہ حکم الکفر۔

وقولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لعمار:(إن عادوا فعد)إنما ہو علی وجہ الإباحۃ لا علی وجہۃ الإیجاب ولا علی الندب-وقال أصحابنا:الأفضل أن لا یعطی التقیۃ ولا یظہر الکفر حتی یقتل وإن کان غیر ذلک مباحا لہ)
(احکام القرآن للجصاص:جلد پنجم:ص13-مکتبہ شاملہ)

(ویعارض بہا غیرہ إذا خطر ذلک ببالہ-فإن لم یفعل ذلک مع خطورہ ببالہ کان کافرا)کا مفہوم یہ ہے کہ بوقت اکراہ اگراس کے دل میں توریہ کی صورت کا خیال آیا تو وہ توریہ کرے۔ اگر توریہ نہ کرے گا تو اس پر کفر کا حکم ہوگا،کیوں کہ کلمہ کفرسے بچنے کی ایک راہ اسے فراہم ہوچکی ہے۔

مشرکین نے کسی مسلمان کو مجبورکیا اورکہا کہ تم اپنے معبود کو برا بھلا کہو۔مسلمان نے مشرکین کے معبود باطل کی نیت کی اورکہا کہ معبود ایسا ہے،ویسا ہے۔ یہی توریہ ہے۔

(إذا لم یکن مکرہا علی الضمیر وإنما کان مکرہا علی القول) کا مفہوم یہ ہے کہ مشرکین دل کی نیت پر جبر نہیں کرسکتے،لہٰذا جب توریہ کی صورت خیال میں آئے تو حالت اکراہ میں بھی مسلمان پر توریہ فرض ہے،ورنہ کفر کا حکم عائد ہوگا۔

(فإن أعجلوہ عن الرویۃ ولم یخطر ببالہ شیء وقال ما أکرہ علیہ أو فعل لم یکن کافرا،إذا کان قلبہ مطمئنا بالإیمان)کا مفہوم یہ ہے کہ جلد بازی میں توریہ کی صورت خیال میں نہ آسکی اور کلمہ کفر کہا،اوردل ایمان پر مطمئن تھا تومعذور ہے۔

تعریض وتوریہ کا بیان
تعریض وتوریہ کا شمار کذب میں نہیں ہوتا،بلکہ کسی ضرورت کے سبب تعریض وتوریہ جائز ہے۔ تعریض وتوریہ دونوں میں چند مفہوم ہوتے ہیں۔ قائل کی مراد ایک مفہوم ہوتی ہے۔

توریہ کی تعریف ومثال
علامہ سعد الدین تفتازانی شافعی (792-722ھ)نے رقم فرمایا:
(التوریۃ وتسمی الایہام ایضا-وہوان یطلق لفظ لہ معنیان،قریب وبعید ویراد بہ البعید)اعتمادًا علی قرینۃ خفیۃ

(وہی ضربان) الاولی (مجردۃ وہی)التوریۃ(التی لا تجامع شیئا مما یلائم)المعنی(القریب نحو: الرحمن علی العرش استوی)فانہ اراد باستوی معناہ البعید-وہو استولی -ولم یقرن بہ شیء مما یلائم المعنی القریب الذی ہو الاستقرار۔

(و)الثانیۃ(مرشحۃ)وہی التی تجامع شیئا مما یلائم المعنی القریب (نحو:والسماء بنیناہا باید)اراد بالا یدی معناہ البعید وہو القدرۃ وقد قرن لہا ما یلائم المعنی القریب الذی ہوالجاریۃ المخصوصۃ وہو قولہ ”بنیناہا“إذ البناء یلائم الید-وہذا مبنی علی ما اشتہر بین اہل الظاہر من المفسرین-والا فالتحقیق ان ہذا تمثیل وتصویر لعظمتہ وتوقیف علی کنہ جلالہ من غیر ان یتمحل للمفردات حقیقۃ أو مجازا)
(مختصر المعانی:ص254-مکتبہ شاملہ)

توضیٖح:توریہ کا نام ایہام بھی ہے۔ توریہ کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا لفظ کہا جائے جس کے دومعنی ہوں،ایک قریب اور ایک بعید،اورمخفی قرینہ کی بنیاد پراس کا بعید معنی مراد لیا جائے۔

حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سفر سے آئے۔ ان کے فرزند بیمار تھے۔ انہوں نے اپنی زوجہ مکرمہ حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے بچہ کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے جواب دیا کہ بیٹا پرسکون ہے،اور مجھے امید ہے کہ اسے راحت مل گئی۔

اس کاقریب معنی ہے کہ اس کو بیماری سے نجات مل گئی، اور بعیدمعنی یہ تھا کہ وہ فوت ہو گئے، اور ان کو ابدی راحت مل گئی۔چوں کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابھی سفر سے آئے تھے، اس لیے ان کی زوجہ مکرمہ نے انہیں آتے ہی اذیت ناک بات سنانا پسندنہ کیا۔

(قال اسحاق سمعت انسًا مات ابن لابی طلحۃ فقال:کیف الغلام قالت ام سلیم:ہدأ نفسہ وارجوان یکون قد استراح-وظن انہا صادقۃ)
(صحیح البخاری:باب المعاریض مندوحۃ عن الکذب)

ترجمہ:حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرزند کی وفات ہوگئی۔انہوں نے سوال کیا کہ بچہ کیسا ہے؟ حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ وہ پرسکون ہے، اور مجھے امید ہے کہ اسے راحت مل چکی ہے۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سمجھا کہ وہ سچ بول رہی ہیں۔ (یعنی حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سمجھا کہ بچہ شفایاب ہوچکاہے)

محدث بدرالدین عینی حنفی نے رقم فرمایا:(فان ام سلیم وَرَّتْ بکلامہا ہذا ان الغلام انقطع بالکلیۃ بالموت-وابو طلحۃ فہم من ذلک انہ تعافی)
(عمدۃ القاری:جلد 32:ص426-مکتبہ شاملہ)

ترجمہ:حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے اس کلام کے ذریعہ یہ توریہ کیا کہ بچہ موت کے ذریعہ بالکل پرسکون ہوگیا،اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کلام سے یہ سمجھا کہ بچہ شفایاب ہوگیا۔

تعریض کی تعریف ومثال
(۱)امام فخرالدین رازی نے رقم فرمایا:(التعریض فی اللغۃ ضد التصریح-و معناہ أن یضمن کلامہ ما یصلح للدلالۃ علٰی مقصودہ ویصلح للدلالۃ علی غیرمقصودہ-إلا أن إشعارہ بجانب المقصود أتم وأرجح-وأصلہ من عرض الشیء وہو جانبہ کأنہ یحوم حولہ ولا یظہرہ-ونظیرہ أن یقول المحتاج للمحتاج إلیہ:جئتک لأسلم علیک ولأنظر إلی وجہک الکریم-ولذلک قالوا:وحسبک بالتسلیم منی تقاضیًا۔

والتعریض قد یسمی تلویحاً لأنہ یلوح منہ ما یرید-والفرق بین الکنایۃ والتعریض أن الکنایۃ أن تذکر الشیء بذکر لوازمہ،کقولک: فلان طویل النجاد،کثیر الرماد-والتعریض أن تذکر کلاماً یحتمل مقصودک ویحتمل غیر مقصودک إلا أن قرائن أحوالک تؤکد حملہ علی مقصودک)(تفسیر کبیر:سورۃ البقرہ:جلد اول ص938-مکتبہ شاملہ)

توضیح:تعریض تصریح کی ضد ہے۔ تعریض کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی ایسا کلام کہا جائے جوقائل کے مقصود پربھی دلالت کرے، اور غیر مقصود پر بھی دلالت کرے،لیکن مقصود پر دلالت راجح ہو۔ کوئی محتاج آدمی کسی سخی کے پاس جائے جو لوگوں کی ضرورتوں کی کفالت کرتا ہو۔ اسے کہے کہ:میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا،تاکہ آپ کو سلام پیش کروں اور آپ کا دیدار کروں۔قائل نے صریح لفظوں میں اپنا مدعا بیان نہیں کیا، لیکن چوں کہ وہ سخی آدمی لوگوں کی ضرورتیں پوری کرتا ہے،پس اس کے پاس آنایہی ظاہرکرتا ہے کہ آنے والا کسی ضرورت کے سبب آیا ہے،گرچہ صریح لفظوں میں وہ اپنی ضرورت بیان نہ کرے۔

امام رازی نے فرمایاکہ کنایہ اور تعریض میں فرق یہ ہے کہ کنایہ میں کسی امر کا بیان اس کے لوازم کے ساتھ ہوتا ہے اور تعریض میں کلام مقصود اور غیر مقصود دونوں کا احتمال رکھتا ہے،لیکن قرینہ مقصودکی تاکید کرتا ہے،پس ایک معنی راجح اوردوسرا مرجوح ہوجاتا ہے۔

تعریض وتوریہ کا حکم
امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے رقم فرمایا: ”جھوٹ بولنا حرام ہے۔ ہاں، اپنا حق وصول کرنے یا اپنے اوپر ظلم دفع کرنے کے لئے پہلودار بات کی اجازت ہے، جس کا ظاہر کذب ہو، اور باطن میں صحیح معنی مراد ہوں۔وہ بھی اسی حالت میں کہ صدق محض سے وہ حق نہ ملے اور ظلم نہ ٹلے،ورنہ یہ بھی جائز نہیں۔

درمختارمیں ہے:(الکذب مباح لا حیاء حقہ ودفع الظلم عن نفسہ، والمراد التعریض، لان عین الکذب حرام)

(اپنے حق کو ثابت اور ظلم کو ختم کرنے کے لئے جھوٹ مباح ہے۔اس جھوٹ سے مراد تعریض ہے،نہ کہ عین جھوٹ، کیوں کہ یہ حرام ہے:ت)

ردالمحتارمیں ہے:(حیث ابیح التعریض لحاجۃ لایباح لغیرہا، لانہ یوہم الکذب)

(جہاں کسی حاجت کی وجہ سے تعریض جائز ہے،وہاں بغیر حاجت جائز نہیں، کیوں کہ تعریض جھوٹ کا وہم پیدا کرتی ہے:ت)

ہاں اگر ظلم شدید ایسا ہو کہ قابل برداشت نہیں۔ضرر ایسا سخت ہے جس کا مفسدہ کذب کے مفسدہ سے بڑھ کر ہے،اور ا س کا دفع بے کذب ناممکن ہو تو بمجبوری اجازت پا سکتا ہے:(لان الضرورات تبیح المحظورات)(کیوں کہ ضروریات ممنوع چیزوں کو مباح کرتی ہیں:ت)

ردالمحتارمیں منقول:(ینبغی ان یقابل مفسدۃ الکذب بالمفسدۃ المترتبۃ علی الصدق-فان کانت مفسدۃ الصدق اشد فلہ الکذب،وان بالعکس، او شک حرم)-وقد نقلنا القول فیہ فی فتاوٰنا-واللّٰہ تعالٰی اعلم۔

(جھوٹ کے فساد اور صدق پر مرتب ہونے والے فسا کا تقابل کیا جانا مناسب ہے۔ اگر صدق پرمرتب فساد شدید ہو تو جھوٹ مباح، اور گر معاملہ بالعکس ہو،یا دونوں صورتوں میں شک ہو توپھر کذب حرام ہے۔ فیصلہ کن قول ہم نے اپنے فتاوٰی میں ذکر کیا ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم:ت)(فتاویٰ رضویہ:جلدبستم:ص197-196-جامعہ نظامیہ لاہور)

کفریہ کلمات کی تحقیق کا طریقہ
تعریض وتوریہ وغیر ہ کی گنجائش ان امورمیں ہے جو کفریہ نہیں ہیں۔ کوئی کفریہ کلام کہے اور کہے کہ ہم نے بطورتعریض یا بطورتوریہ دوسرا معنی مراد لیا تو یہ قابل قبول نہیں۔

امام ابن حجر ہیتمی نے قاضی عیاض مالکی کے بیان کردہ کفریہ اقوال کونقل کرنے کے بعد رقم فرمایا:(وَمَا ذَکَرَہ مُوَافِقٌ لِقَوَاعِدِ مَذہَبِنَا-اِذِ المَدَارُ فِی الحُکمِ بالکفر عَلَی الظَّوَاہِرِ-وَلَا نَظرَ لِلمَقصُودِ وَالنِّیَّاتِ وَلَا نَظرَ لِقَرَاءِنِ حَالِہ)
(الاعلام بقواطع الاسلام: ص382)

کفریہ کلام کی تحقیق میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کلام کفری معنی میں متعین ہے یا محتمل۔اگر کلام کفری معنی میں متعین ہے تو فقہا ومتکلمین سب کے یہاں یہ کفریہ کلام ہے۔

اگرکلام محتمل ہے تو غیر کفری معنی کا احتمال بعید ہے یا احتمال قریب ہے۔ اگر احتمال بعید ہے تو فقہا کے یہاں احتمال بعید قبول نہیں۔ اگر عدم کفرکااحتمال قریب ہے،اور کفر کا بعید احتمال ہے توحکم کفر نہیں ہوگا۔ایسی صورت میں حرمت، عدم جواز،کراہت وغیرہ کا حکم ہوگا۔ احتمال کفر جس قدر بعید ہوگا،اسی اعتبارسے حکم میں تخفیف ہوگی۔

اگر کلام فی نفسہ متعدد معانی کا مساوی احتمال رکھے،تب قائل سے مراد دریافت کرنی ہوگی،یا قرائن کے ذریعہ معنی کا تعین ہوگا،جیسے لفظ مشترک متعددمعانی کا مساوی احتمال رکھتا ہے۔ صریح لفظ میں قائل کی مرادا ورنیت کا اعتبار نہیں۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:(وکذلک لو قال:اَنَا رَسُولُ اللّٰہ-او قال بالفارسیۃ:من پیغمبرم-یرید بہ:”من پیغام می برم“یکفر)
(فتاویٰ عالمگیری:جلددوم:ص263)

فقیہ محمد سلیمان آفندی حنفی نے الفاظ مکفرہ کے بیان میں رقم فرمایا:
(وبقولہ:انا رسول)(مجمع الانہرشرح ملتقی الابحر: ص692)

توضیح:لفظ رسول اورلفظ پیغمبر میں تاویل کی گئی،لیکن لفظ صریح ہونے کے سبب تاویل قبول نہیں کی گئی۔رسول وپیغمبرکا معنی قاصد بتایا گیا،لیکن وہ تاویل تسلیم نہیں کی گئی،اورمذکورہ کلام کو کفر قرار دیا گیا،کیوں کہ اصطلاح شرع میں رسول اورپیغمبرکا معنی قاصد نہیں اور مومن کا کلام شرعی اصطلاح پر محمول ہوتا ہے۔لغوی مفہوم مراد لینا درست نہیں،کیوں کہ یہ لفظ منقولات شرعیہ کے قبیل سے ہے۔

بلا اکراہ توریہ کے طورپر کفریہ کلام
قال الہیتمی:(ونقل الامام عن الاصولیین-اَنَّ مَن نَطَقَ بکلمۃ الردَّۃِ وَزَعَمَ اَنَّہ اَضمَرَتَورِیَۃً کَفَرَ ظَاہِرًا وباطنًا-وَ اَقَرَّ ہُم عَلٰی ذٰلِکَ-فَتَاَمَّلہُ یَنفَعُکَ فی کثیر من المسائل)(الاعلام بقواطع الاسلام:ص348)

امام الحر مین جوینی شافعی قدس سرہ القوی نے علمائے اصول سے نقل فرمایا کہ جو کفر یہ کلام کہے، اوریہ قصد کرے کہ ہم نے اپنا ایمان چھپایا توکافرہے۔حکم دنیا میں بھی کافر ہے، اور عند اللہ بھی کافر ہے۔امام الحر مین جوینی نے علمائے اصول کے اس قول کوثابت رکھا۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button