بھارت کی راجدھانی میں پہلی بار "لبیک یا رسول اللہ”کے نعرے گونجے

دہلی: 24 اگست ہماری آواز(طارق انور مصباحی)

آج بروز منگل 14:محرم الحرام 1443 مطابق 24:اگست 2021 کو غازی ملت شیر اسلام حضرت قمر غنی عثمانی لکھنوی دام ظلہ الاقدس کی تحریک فروغ اسلام کے جھنڈے تلے پہلی بار بھارت کی راجدھانی”دہلی”کے مشہور احتجاجی مقام”جنتر منتر” پر "لبیک یا رسول اللہ”(صلی اللہ تعالی علیہ وسلم)کے نعرے گونجے۔

اہل عالم کو معلوم ہے کہ بھارت میں بی جے پی کی حکومت ہے۔جو ایک ہندو قوم پرست سیاسی پارٹی ہے۔دہلی کا محکمۂ پولیس مرکزی حکومت کی وزارت داخلہ کے کنٹرول میں ہوتا ہے۔وزیر داخلہ مسلمانوں پر کتنے مہربان ہیں,ہر کوئی واقف ہے۔اگر وزارت داخلہ شدت پسندوں پر قابو پانے کی کوشش کی ہوتی تو شاید آج یہ نوبت ہی نہ آتی۔خیر!

ع/ مرضی مولی از ہمہ اولی

جو فرزندان توحید جنتر منترپر”لبیک یا رسول اللہ”(علیہ الصلوۃ والسلام)نعرے بلند فرما رہے ہیں۔وہ اس لائق ہیں کہ ہم ان کے جوتوں کو اپنے سروں کے تاج بنائیں۔یہ وہ بلند رتبہ اور عالی ہمت نوجوانان اسلام ہیں کہ جنہوں نے خوف ودہشت کے ماحول میں خوفناک دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہمیں قرون اولی کی یاد دلا دی ہے۔

باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم

سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا

خبر کے مطابق غازی ملت حضرت قمر غنی عثمانی صاحب قبلہ کو جنتر منتر جاتے ہوئے راستے ہی سے پولیس والے مندر مارگ تھانے لے گئے اور انہیں پروٹیسٹ میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ان کو وہیں روک لیا گیا ہے۔

https://youtube.com/shorts/ETEQlsB06dQ?feature=share

یہ رتبۂ بلند ملا جس کو مل گیا
ہرایک کے نصیب میں دار ورسن کہاں

حضرت عثمانی صاحب قبلہ کی جرأت وہمت, شجاعت وبہادری اور نعرۂ مستانہ دیکھ کر ہمیں حضور مجاہد ملت قدس سرہ العزیز یاد آجاتے ہیں۔مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرن کے سبب ان کی حیات مستعار کا اچھا خاصا حصہ جیلوں میں گزرا ہے۔

کئی ماہ سے شدت پسند عناصر اللہ ورسول(عز وجل وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم)کی شان اقدس میں گستاخیاں کر رہے ہیں,لیکن خود کو سچے پکے مسلمان کہنے والے دیابنہ اور غیر مقلدین کہاں غائب ہیں؟

بزدلو! ارباب اقتدار کی چمچہ گیری اور چاپلوسی سے اسلام کو عزت وسربلندی نہیں ملتی۔میدان میں آؤ۔یہ جمہوری ملک ہے۔جمہوری دستور میں ہر شہری,ہر قوم اور ہر مذہب والے کے حقوق کی ضمانت دی جاتی ہے۔جمہوری ممالک میں اپنے حقوق کی حصولیابی کے لئے جد وجہد اور محنت ومشقت کرنی پڑتی ہے۔گھر میں چھپے بیٹھے رہے تو کل تم بھی مارے جاؤ گے۔میدان میں اترو۔اہل حکومت کے سامنے اپنے مطالبات رکھو۔

جمہوری ممالک میں سر گنے جاتے ہیں۔اہل سنت وجماعت کے جملہ طبقات متحد ہو جائیں تو افرادی قوت کے سبب ہم ایک مضبوط سیاسی قوت بھی تسلیم کئے جائیں گے۔ایک زمانے میں اندرا گاندھی بھی علمائے اہل سنت کے پاس ووٹ کی بھیک مانگنے آئی تھی۔اپنے عہد ماضی کو یاد کرو,اور ماضی کی طرح متحد ومتفق ہو جاؤ۔

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندی مسلمانو!

تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں

About ہماری آواز

Check Also

جمعیت علمائے اہلسنت ممبئی کے جنرل سکریٹری نباض ملت حضرت علامہ محمد عمر نظامی صاحب قبلہ کی دارالعلوم اہلسنت ضیاء النبی رفیع نگر گوونڈی میں آمد

علماء اہلسنت گوونڈی سے قومی ملی مذہبی رفاہی فلاحی امور پر تبادلہ خیال علاقہ سبربن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے