سیرت و شخصیات

آبروے صحافت الحاج حافظ محمد قمر الدین رضوی علیہ الرحمہ

حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی جمشید پور

موت برحق ہے اور ایسی سچی حقیقت ہے کہ کوئی اِ س کا انکار نہیں کر سکتا ہے۔ موت کا سفر زندگی کے آ غاز کے ساتھ پیدائش سے ہی شروع ہو جاتا ہے اور اس بات کو جدید سائنسی تحقیق میں "حیاتیاتی”اور طبی لحاظ سے بھی ایسا بیان کیا ہے کہ تمام عمر اِنسان( اور تمام جانداروں) کے خلیات کے اندر سے کیمیا کی تعملات جاری رہتے ہیں،جو آہستہ آہستہ موت کا سبب بن جاتے ہیں۔ اور اب تو ڈاکٹر وسائنس داں یہا ں تک جان چکے ہیں کہ زندگی کے لیے سب سے اہم ترین کیمیائی سالمے یعنیDNA میں موت کی ایک طرح کی منصوبہ بندی پہلے سے ہی شامل کی جا چکی ہے جو ایک گھڑی کی طرح موت کے لمحات کو گنتی رہتی ہے۔
اس کے سائنسی ثبوت موجود ہیں اور کلام الٰہی قرآن مجید میں تو,82 جگہ موت کا ذکر الگ الگ طرح سے موجود ہے۔ قرآن مجید نے غورو فکر کی دعوت بھی دی ہے ،ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ تر جمہ: کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں میں تالے (لگے ہوئے) ہیں۔( القر آن سورہ محمد،47:آیت24,)
آبروئے صحا فت ،الحاج حافظ محمد قمرالدین رضوی علیہ الرحمہ کی صحافتی خدمات : ہمارا موضوع حافظ قمرا لدین کی دینی خدمات ، دینی کتابوں کی نشرو اشاعت،علمی،ادبی اور صحافتی خدمات پر کچھ روشنی ڈالنا ہے، ہر دور میں صحا فت کی اہمیت وضرورت رہی ہے، آج جو قومیں صحافت یعنی میڈیا پر قابض ہیں ان کاہر شعبے میں بول بالا ہے،حکومت سے لیکر عدلیہ تک انکی رسائی ہے اس کی تازہ مثال ار نب گوسوامی کی رہائی ہے،ان گنت اور بھی مثالیں موجود ہیں، حکومت نے میڈیا پر قبضہ کر کے سبھی محکموں کو غلام بنالیا ہے۔ صحافت کے میدان میں مسلمان ہمیشہ پیچھے رہے ہیں اور اُ ن میں اہلسنت و جماعت کی بے چارگی کا رونا کیا رویا جائے؟۔
بھیونڈی مہاراشٹر میں 1975, میں محترم حافظ صاحب نے” رضوی کتاب گھر” کی شروعات کی ،کڑی محنت اور لگن سے کاروبار ترقی کرنے لگا تو آپ نے آگے کی منصوبہ بندی کی اور دہلی کی جانب قدم بڑھایا،1995, میں آپ نے دہلی میں دوکان خریدی اوـرـ” رضوی کتاب گھر دہلی "میں بھی قائم فر مایا کتا بوں کی تجارت میں بھی بہت سر مایہ کی ضرورت ہوتی ہے،کم سرمایہ آپ کی زندگی میں کبھی بھی اثر انداز نہیں ہوا،مضبوط ارادے کے مالک اور کڑی محنت سے آپ نے اس دشواری پر قابو پایا۔ اس میدان میں کثیر سرمایہ لگانے سے ہی تو اس کا ریٹرن ملتا ہے اور صحافت کے میدان میں بھی کثیر سر مایہ کی ضرورت ہوتی ہے ا ورتبھی تو حکومت سے لیکر حکومت کے سبھی شعبے اور بے پناہ دولت قدموں کے ارد گرد جمع ہونے لگتی ہے۔ پر سوال اردو صحافت کا ہے،اس کی کہانی با لکل بر عکس ہے ،لکھنے کے لیے ایک دو کتابیں بھی نا کافی ہوں گی۔1998, نومبر میں ایک اللہ کا مخلص بندہ الحاج حافظ محمد قمر ا لدین رضوی علیہ الرحمہ نے اردو صحافت کے سنگلاخ(پتھریلی زمین) کے میدان میں قدم رکھا ، واضح رہے اردو صحافت میں کئی شعبے ہیں اخبارات، نیوز، ادبی پرچے، افسانے قصے کہانیاں،ان میں خالص دینی اور وہ بھی مسلک سوادِ اعظم،مسلک اہلسنت وجماعت کی نشرو اشاعت کا کام کر نا،بیڑا اٹھانا یہ بہت بڑے دل وجگر کا کام ہے۔ جو حافظ صاحب قبلہ نے کیا ان کی خد مات پر بہت کچھ روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے،یہ کام اہل سنت کے لکھنے والے حضرات واُنکے صاحبزاد گان بڑے صاحبزادے جناب محمد احمد صاحب،چھوٹے صاحبزادے جناب محمد ارشد صاحب کی ذمہ داری ہے اور ہم امید کرتے ہیں انکے صابزادگان وحضرت مولانا ظفر الدین بر کاتی صاحب اس جانب ضرور توجہ فر مائیں گے آپ کے لکھے ہوئے مضامین اور اداریوں کو بھی کتابی صورت میں شائع کیا جائے تو بہت بہتر ہوگا،(ناچیز سے اگر کوئی خدمت لینا ہو تو بلا معاوضہ تیار ہے)۔
حافظ قمرالدین سے میری ملاقات: دہلی میرا جانا گاہے بگاہے ہوتا رہتا ہے پہلے کاروبار کی وجہ کر جانا ہوتا تھا،وقت بہت کم ملتا تھا ایک بار مختصر ملاقات رہی، اِدھر ایک دہائی سے "بیٹی مبینہ ہاشمی”شاہین باغ میں رہتی ہے تو مختلف ضروریات سے جانا ہوتا رہتاہے، اس بیچ میری تین ملاقا تیں ہوئیں گفتگو میں لکھنے لکھانے سے باتیں زیادہ ہوئیں ناچیز کے مضامین پر مسرت کا اظہار کیا اور یہ بھی کہا کہ موجودہ حالات پر ضرور لکھیں ذمہ داری سے لکھیں اور مختصر لکھیں،بہت کار آمد مشورے بھی دیئے۔ "کورونا کا ظلمِ عظیم” کرونا کال میں بہت سی موتیں ہوئیں اور ہورہی ہیں پر
؎ موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس ٭ یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے
میرے پرسنل واٹس ایپ پر حضرت مولانا ظفرالدین برکاتی ایڈیٹر ماہ نامہ کنزالایمان دہلی کا میسیجmessages, آیا دعا کی درخواست کے لیے کہ رضوی کتاب گھر کے مالک الحاج حافظ محمد قمر الدین صاحب کورونا پوزیٹیو ہیں ہولی فیملی ہسپتال میں بھر تی ہیں،دعائیں سبھی کے لیے جاری رہتی ہیں حافظ صاحب کے لیے بھی خصوصی اوقات میں بار گاہِ رب العالمین میں گڑگڑا یا،دودن ہی گزرے تھے کہ فیس بک پر اُنکی اہلیہ محتر مہ کی بیماری کی خبر بھی ملی، رب کی بار گاہ میں التجا کی،اللہ قادر مطلق ہے اسکی مرضی،مرضی ٔ مولیٰ کے آگے سبھی مجبور ہیں۔ حضرت مولانا کامل نعیمی صاحب کی فیس بک وال پر آپ کی وفات کی خبر پڑھی فورً امولانا ظفر الدین بر کاتی صاحب کو فون لگایا ان کا فون انگیج ملا پھر مولانا صغیر صاحب جو دہلی انقلاب میں کام کرتے ہیں ان سے بات ہوئی اور اس افسوس ناک خبر کی تصدیق ہوگئی پھر تو میسج آنے کا لا متناہی سلسلہ چل پڑا اور نا چاہتے ہوئے بھی یقین کر نا پڑا۔2/ربیع الا ول1442ھ/20اکتوبر2020ء بروز منگل کو8:50 پر ہولی فیملی ہسپتال دہلی میں آپ کا انتقال پُر ملال ہو گیا۔اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِ لَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فر مائے اور اُن کی قبر کو اپنے اور اپنے حبیب ﷺ کے نورسے منور فر مائے آمین۔
ؔ ؔالحاج حافظ محمد قمر الدین کی صحافتی،علمی خدمات:آپ کی عملی، ادبی ،نشری وصحافتی خد مات بہت زیادہ اور قابل ِ قدرہیں،آپ نے دہلی سے1998, نومبر سے "ماہ نامہ کنز الایمان” نکال کر اور ساتھ ہی ساتھ "رضوی کتاب گھر” کتب خانہ کا قیام کر کے دنیائے سنیت پر بہت بڑا احسان فر مایا،کنز الایمان بہت سے ممالک جاتاتھا: اس میں شائع مضامین اور خطوط سے اس کا اندازہ ہوتا ہے آپ کی محنت سے اہلسنت والجماعت کی صحافت میں کنزالایمان نے بڑا مقام بنا یا ہے۔ اس میں دنیا کے بڑے بڑے عالموں اور دوسرے اہل علم حضرات کے مضامین شائع ہوتے ہیں،خاص کر حالات حاضرہ اور صلح کلیت کی تبلیغ والوں کی تو زبر دست بیخ کنی کی جاتی ہے ،اعلیٰ حضرت کے شیدائی حافظ صاحب اپنے نام کے ساتھ ہمیشہ” رضوی” لکھتے سچے عاشق(ِ مولانا احمد رضا خان علیہ الرحمہ) کے سپاہی بنے رہے۔
؎ یہ رضا کے نیزے کی مار ہے کہ عدو کے سینے میں غار ہے ٭ کسے چا رہ جوئی کا وار ہے کہ وار وار سے پار ہے
الحمدُ للہ راقم کے مضامین بھی کنزا لایمان میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ ؎ بچھڑا کچھ اس ادا سے کی رُت ہی بدل گئی٭ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا۔۔(خالد شریف) اللہ پاک حافظ صاحب کو کروٹ کروٹ جنت کی باریں نصیب فر مائے آمین لواحقین کو صبر جمیل عطا فر مائے آمین ثم آمین

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button