سیاست و حالات حاضرہ

مدینہ منورہ اور انڈیا کے آسام سے روح فرسا خبریں

تحریر: محمد فیضان رضا علیمی
مدیر اعلی سہ ماہی پیامِ بصیرت و نائب صدر جماعت رضاے مصطفے شاخ سیتامڑھی۔
[email protected]

اس وقت پوری دنیا کے صاحبِ دل و دماغ اور قلب و جگر رکھنے والے مسلمانوں کے سامنے دو ملکوں کے دو شہروں کا مسئلہ بڑی اہمیت کا حامل ہے جس نے پوری انسانیت اور خصوصاً مسلمانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔ ایک عرب کا شہرِ مقدس، شہرِ رسول اکرم صلى الله عليه وسلم مدینة المنورہ اور دوسرا ہند کا صوبہ آسام ہے۔ دونوں جابر حکمرانوں کے شکنجے میں تباہ و برباد ہو رہے ہیں۔
اگر شہر مقدس و متبرک مدینة الرسول کی بات کریں تو وہاں سعودیہ عربیہ کی نجدی سلمانی حکومت جو پاک و صاف سر زمین، مرکزِ عقیدت اور عشاقِ رسول مقبول صلى الله عليه وسلم کا سکون ہے ایسی مقدس جگہ کو جہاں سے برائیوں کا خاتمہ ہوا، جہاں سے رسول عربی صلى الله عليه وسلم نے دینِ متین کی خدمت کی، جہاں سے رسول کریم اور آپ کے صحابہ نے حرام کاری، بدکاری اور زنا کاری جیسی لعین عادات کو دور و نفور کیا، جس جگہ سے برائیوں کے خلاف ہمیشہ آواز بلند ہوتی رہی، جس کو پیارے آقا کریم نے سب سے زیادہ پسند کیا اور مکہ سے ہجرت کرنے کے بعد اس انداز میں دعا کی کہ مولی ہمیں مدینہ سے ویسی ہی محبت عطا فرما جیسی مکہ سے تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ، جس جگہ پر پیارے کریم آقا علیہ السلام بنفسِ نفیس اپنی قبرِ انور میں تشریف فرما ہیں اور نہ جانے کتنی اولادِ رسول، صحابیِ رسول اور مقدس و محترم شخصیات جلوہ افروز ہیں اس جگہ فاسق و فاجر سلمان اور اس کی حکومت نے سِنیما ہال اور ناچ گانے کا اڈا بنا دیا اور فلم شوٹنگ کروا رہا ہے۔ مدینہ پاک کی حرمت کو پال کر رہا ہے۔
ــــــــ اس بد بخت انسان کو پورے عرب میں اور کوئی جگہ نہیں ملی ہے۔ نجدی سلمان اور عربی حکومت کے خلاف پوری دنیا کے مسلمان احتجاج کر رہے ہیں اور پوری دنیا کے مسلمانوں کا دل مضطرب اور پریشان ہو چکا ہے۔ لیکن یہ بد بخت اس سے باز آنے کو تیار نہیں۔ جب کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نجدی سلمانی حکومت پیارے آقا کریم علیہ السلام کی محبت و عقیدت کے لیے آپ کی سنتِ مبارکہ کو فروغ دیتی اور غریبوں و مسکینوں کے رہنے کے لیے مکانات بناتی اور احکامِ خدا و رسول پر عمل پیرا ہونے کے لیے بڑے بڑے محققین و مدبرين کے ذریعہ تبلیغی کام کو ترجیح دیتی کہ یہ تو کھلا اعلان کرتی کہ ہم ہی قرآنِ پاک اور حدیثِ رسول پر چلنے والے ہیں۔ تو کیا فاسق حکومت یہ بتا سکتی ہے کہ احکامِ قرآن و حدیث میں سے کون سا حکم ہے کہ تم سِنیما ہال بناؤ؟ کون سا حکم ہے کہ ناچ گانے کو فروغ دو؟ کون سا حکم ہے کہ فلم بنواؤ؟ اور فحاش و عیاش مرد و خاتون کو مدینہ پاک میں نچواؤ؟
ــــــــ اس فاسق و فاجر نجدی حکومت سے ہم مطالبہ کرتے اور خدا و رسول کا واسطہ دیتے ہیں کہ خدارا مدینہ منورہ کی عزت و ناموس کو پال نہ کرو اور اس کی حرمت و تقدس کو سمجھو اور اپنے ناپاک ارادے سے توبہ کرو ورنہ انجام برا ہوگا۔ حکومت کے نشے میں چور ہوکر اس طرح سے محبوبِ خدا، سرورِ کائنات صلى الله عليه وسلم کے شہر مقدس کی حرمت و عزت اور تقدس و طہارت کو پامال مت کرو۔ خدا تمہیں معاف نہیں کرےگا۔
ــــــــ دوسری طرف آسام کی اگر ہم بات کریں تو ہندوستان کی ظالم و جابر حکومت وہاں کے مسلمانوں پر ظلم و جبریت کا پہاڑ توڑ رہی ہے اور بے رحمی کے ساتھ ان کی جان لے رہی ہے جیسے بھیڑ بکری سے بھی کم تر قوم ہو۔ قصور صرف اتنا ہے کہ وہ مسلمان ہے، وہ ایک اللہ کی عبادت کرنے والے ہیں اور ایک رسول کا کلمہ پڑھنے والے ہیں۔ ظلم کی انتہا تو اس وقت دیکھنے میں آئی کہ جس پولیس کا کام عوام کی حفاظت کرنا ہے، جس میڈیا والے کا کام خبر نشر کرنا ہے، جس صحافی کا کام ظلم کے خلاف آرٹیکل لکھنا ہے وہ سب اپنے کاموں کو بالائے طاق رکھ کر مسلمانوں کی جان لے رہے ہیں اور ان کے گولی کھائے ہوئے سینے پر بندوق، کیمراہ، قلم اور کاغذ لے کر کود رہے ہیں ایسے جیسے فٹ بال کھیلنے والے کودتے ہیں۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ بے دردی سے۔
ــــــــ اس طرح سے ظلم و ستم ہو رہا ہے، جبریت اور دہشت گردی کا ننگا ناچ ناچا جارہا ہے اور پورے ہندوستان کے سیاسی، سماجی اور مذہبی قائدین خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں جو کل تک مسلمانوں کے نام پر اپنی سیاست چمکا رہے تھے، جو کل تک مسلمانوں کے پیسے سے اپنا گھر بار چلا رہے تھے اور آج بھی چمکا اور چلا رہے ہیں وہ خاموش ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیں اور رہے صاحب اقتدار تو وہ خود ہی کر رہے ہیں تو بھلا وہ کیوں بولیں۔
ــــــــ بات ان کے بولنے اور نہ بولنے کی نہیں بات یہ ہے وہ ہندوستانی عوام کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں اور UN کی 76 ویں بڑی کانفرنس میں افغانستان کے لوگوں کی مدد کی بات کر رہے ہیں وہ افغانستان کے طالبان کے خلاف دنیا بھر کے مضبوط حکمرانوں کو متحد ہو کر ان کے خلاف آواز بلند کرنے کی اپیل کر رہے اور کہ رہے ہیں کہ اگر ابھی توجہ نہ دی گئی تو دیر ہوجائے گی پھر مقابلہ آسان نہ ہوگا۔ یہ ان کی اچھی پہل ہے لیکن صاحب افغانی لوگوں کی جان و مال کی اتنی فکر آپ کو ہو رہی جس پر دنیا بھر کے لوگوں کو دعوتِ احتجاج دہے ہیں تو آپ کے ملک میں آپ کے رعایا پر آپ کے ہی چیلے چپاٹ اور آر ایس ایس کے غنڈے ظلم و تشدد کر رہے ہیں اس کے خلاف کب آپ آواز بلند کریں گے، اس پر دعوتِ احتجاج کب دیں گے، کب آپ UN کے اجلاس میں کہیں گے کہ ہمارا ہندوستان RSS کے غنڈوں سے تباہ ہو رہا ہے پچا لیجیے، کب دنیا کے مضبوط حکمرانوں کو دعوتِ احتجاج دے کر ہندوستان میں ہو رہے ظلم و تشدد پر روک تھام کی تجویز پیش کرنے کو کہیں گے اور کب اس پر پہل کریں گے؟
ــــــــ صاحب کو ذرہ کوئی بتائے کہ آپ کا ملک ظالموں سے محفوظ نہیں اس کو کب بچائیں گے؟ RSS کے لٹیرے گھر کا گھر تباہ کرر ہے ہیں ا ور اب تو ممبر آف پارلیمنٹ کا بھی دفتر اور رہائشی مکان ان غنڈوں سے محفوظ نہیں اس پر کب روک لگائیں گے صاحب کیا اس میں دیر نہیں ہورہی ہے؟
ــــــــ میں دونوں ملکوں کے حکمران اور صاحبِ اقتدار لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے اپنے ملکوں کو ظالم و جابر اور فاسق و فاجر لوگوں سے محفوظ کریں۔ عرب اسلامی ملک ہے خدارا وہاں اسلام کا قانون نافذ کریں اور اسی پر چلنے کی کوشش کریں۔ بھارت سیکولر اور جمہوری ملک ہے اللہ کے واسطے اس کی جمہوریت کے قانون کی حفاظت کریں اور سب کو اس کے حق حقوق کے ساتھ جینے کا حق دیں۔ ورنہ یاد رکھیں حکومت کوئی دائمی نہیں ہوتی ہے آج آپ ہو تو کل دوسرا ہوگا۔ اور ممکن ہے وہ آپ سے بدلہ لے۔ اور وہ نہ‌ بھی لے تو خدا معاف کرنے والا نہیں ہے۔ لہذا ہوش کے ناخن لیں۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button