تحریک فروغ اسلام کا احتجاجی مظاہرہ: کل 24 اگست کو دہلی جنتر منتر پر کیا ہوا؟ کس نے کیا؟ کیسے کیا؟ آگے کیا ہوگا؟

از قلم: مہدی حسن مضطر

جیسا کہ آپ سب کو سوشل میڈیا و دوسرے ذرائع ابلاغ سے یہ معلوم ہوگا کہ 8 اگست کو دہلی جنتر منتر پر اسلام مخالف نعرہ بازی کی گئی اور پولس نے وہی کیا جو ہر بار کرتے آئی ہے ، ظاہر ہے اب بات حد سے آگے بڑھ گئی ہے ، پانی سر کے اوپر آچکا ہے اسی لئے ہمدرد قوم و ملت حضرت عثمانی صاحب قبلہ حفظہ اللہ نے بنا اسباب و سائل کے اللہ کی ذات پر بھروسا کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہم 24 اگست کو اسی جگہ پر جمع ہونگے جہاں اللہ و رسول کی شان میں گستاخی ہو ئی ہے ، مولانا عقیل صاحب نے بتایا کہ اعلان کے بعد سے ہی پولس ہم پر نظر بنا نے لگی ، 23 کو شام پانچ بجے پولس اتنی متحرک ہو گئی کہ ہمیں اپنے آس پاس خطرات کا احساس ہو نے لگا ہمیں لگا کہ وہاں جانے سے پہلے ہی ڈیٹین کر لیا جائے گا مغرب کے بعد دو پولس والے آفس آئے معلومات حاصل کی پھر ایس ایچ او آیا ،تھوڑی دیر گفتگو ہوئی انھوں نے ہمیں خاموش کر نے کی پوری کوشش کی لیکن الحمد للہ وہ حضرت کے پائے استقلال کو جنبش نا دے سکے پھر حضرت کو ڈیٹین کیا ، پھر چھوڑا پھر ڈیٹین کیا المختصر صبح جب ہم مولانا عقیل صاحب سے ملے تو صورتحال یہی تھی کہ کسی کا پتہ نہیں چل پا رہا تھا کون کہاں ہے ، کیسے جمع ہونا ہے ، پولس کافی متحرک تھی خیر لوگ لڑتے بھڑتے صبح ہی سے موقع پر پہنچنے لگے چونکہ پولس والے یہاں ہمیں روکنے میں نا کام ہو چکے تھے ،اس لئے جنتر منتر سے لوگوں کو اٹھا نے لگے ، جو جیسے پہنچتا جہاں ملتا اسے اٹھا لیتے کچھ کو آفس سے اٹھایا کچھ کو راستے سے کچھ کو وہاں پہنچنے کے بعد اٹھا یا ، جب ہم وہاں پہنچے تو مولانا عقیل صاحب نے کہا کہ کوئی بھی پولیس کے سامنے نا جاۓ جب تک حضرت نہیں پہنچتے ۔
تقریبا گیارہ بجے باقی بچے مرکزی ذمہ داران 40 / 50 لو گوں کے ساتھ حضرت عثمانی صاحب قبلہ جنتر منتر پہنچے جیسے ہی پہنچے وہاں سے ان لوگوں کو اٹھا لیا اور مندر مارگ پولس اسٹیشن لے گئے اب جو لوگ پہنچتے قائد نا ہونے کی وجہ سے واپس آ جاتے یا پولس والے ان لوگوں کو بھی اٹھا لے جاتے ، اس کے بعد حضرت کی جانب سے یہ خبر ملی کہ آپ لوگ پولس اسٹیشن ہی پہنچیں ، پھر ہم لوگوں نے جو لوگ بھی باقی بچے تھے ان کو جمع کیا اور پیدل مارچ کرتے ہوئے آگے بڑھے پولس نے روکنے کی کوشش کی لیکن قوم کے جیالے نوجوان آگے بڑھتے رہے ، دھیرے دھیرے لوگ ساتھ آتے گئے ہم تقریبا 100 لوگ پولس اسٹیشن پہنچے اور باہر ہی دھرنے پر بیٹھ گئے اندر سے خبر ملتی رہی، کیا ہو رہا ہے، آگے کیا کرنا ہے ، قیادت کی ذمہ داری دوسرے لوگوں کو دے دی گئی ۔
ہم تھے تو کم ہی لوگ لیکن پولس والوں پر ہماری جو ہیبت تھی وہ قابل دید تھی ہم نے لوگوں کو کہتے سنا طالبانی آ گئے، جب ہم نعرہ تکبیر بلند کرتے تو لوگ عجیب نظروں سے دیکھتے، المختصر وہ لوگ اندر حضرت کو منانے کی کوشش کرتے رہے اور حضرت اپنی مانگوں پر اڑے رہے جب وہ اندر سے مایوس ہوئے تو باہر آکر ہم لوگوں کو کہنے لگے کہ آپ کا احتجاج درج ہو گیا ہے اب آپ چلے جائیں، سب نے کہا جو ہمارے قائد کا فیصلہ ہے وہی ہمارا فیصلہ ہے جب تک وہ نہیں کہتے ہم یہاں سے ہلیں گے بھی نہیں ، انھوں نے حضرت سے وعدہ کیا کہ ایک ہفتہ میں ہم پنکی چودھری کو گرفتار کر لینگے لیکن حضرت نے کہا ہمیں لکھ کر دو اس پر وہ نہیں مانے ، اسی طرح معاملہ چلتا رہا ، نمازیں پڑھی گئیں ، نعرہ لگایا گیا، صلواۃ و سلام پڑھا گیا، پھر شام میں حضرت نے کہا یہ لوگ ایکشن کرنے کے موڈ میں لگتے ہیں ، کوئی افرا تفری نہیں ہونی چاہئے جو یہ لوگ کہیں کرتے جاؤ پھر وہ لوگ ہمیں بسوں میں بٹھانے لگے ، ہم لوگ از خود جا کر بیٹھ رہے تھے لیکن پولس والوں نے مسلم دشمنی کا مکمل ثبوت دیا جان بوجھ کر ہم سے دھکا مکی کرنے لگے خیر ہم وہاں سے بسوں میں نکلے اور غازی آباد بارڈر پر اتارا یہاں انھوں نے یہ نالائقی کی کچھ لوگوں کو اتار کر کچھ لوگوں کو لے جانے لگے اس وقت نوجوانوں نے جس جرات مندی کا جواب دیا وہ سنہرے حرفوں سے لکھے جانے لائق ہے۔

ویڈیو میں دیکھیں پولیس والوں کا کھیل اور مسلم نوجوانوں کا جگر

اگرچہ اس صورت میں معاملات بڑھ جاتے، پھر ہم لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ واپس جنتر منتر چلتے ہیں لیکن حضرت عثمانی صاحب کے حکم پر ہم تحریک کے ہیڈ آفس آئے رات گزری دوپہر تمام شرکاء کے ساتھ میٹنگ ہوئی اس میں بہت سے علماء نے اصرار کر کے یہ کہا یہ معاملہ تمام مسلمانوں کا مسئلہ ہے ان شا ء اللہ 10/15 دنوں میں ملک کے کروڑوں مسلمان دہلی کی سڑکوں پر ہونگے ، تمام باتوں کو نظر میں رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ تقریبا ایک مہینہ تیاری کی جائے چونکہ یہ بغیر تیاری کے تھا اس لئے اس میں کمیاں بھی رہ گئیں ان کو درست کیا جائے ، جب تک پولس کو دیا ہوا وقت بھی ختم ہو جائیگا اس کے بعد ہم پوری تیاری کے ساتھ میدان میں ہونگے اور پوری دنیا کو بتائیں گے۔

باطل سے ڈرنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا

About ہماری آواز

Check Also

جمعیت علمائے اہلسنت ممبئی کے جنرل سکریٹری نباض ملت حضرت علامہ محمد عمر نظامی صاحب قبلہ کی دارالعلوم اہلسنت ضیاء النبی رفیع نگر گوونڈی میں آمد

علماء اہلسنت گوونڈی سے قومی ملی مذہبی رفاہی فلاحی امور پر تبادلہ خیال علاقہ سبربن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے