کوکن سیلاب متاثرین کیلئے رضا اکیڈمی و آل انڈیا سنی جمعۃ العلماء کا وفد چار ٹرک امدادی سامان لے کر ممبئی سے روانہ

ہم سیلاب متاثرین کو راحت کا سامان پہونچاتے رہیں گے:سید معین میاں

خدمت خلق عظیم دولت ہے:الحاج سعید نوری

ممبئی: 25اگست 2021 کو سنی بلال مسجد چھوٹا سوناپور ممبئی سے آل انڈیا سنی جمعۃ العلماء اور رضااکیڈمی کی طرف سے گیارہ رکنی وفد راحتی سامان لیکر کوکن مہاراشٹر کیلئے تیسری بار روانہ ہوا۔بورڈ کے صدر مولانا سید معین میاں اور رضااکیڈمی کے سپریمو جناب محمد سعید نوری کی ہدایت پر جناب اسلم لاکھا کی نگرانی میں سیلاب متاثرین کیلئے امداد کا سامان بھیجا گیا۔ حضرت سید معین میاں اور الحاج محمد سعید نوری صاحبان کی جتنی سراہنا کی جائے کم ہے۔گزشتہ مہینے کوکن کے علاقوں میں موسلادھار بارش نے جو تباہی مچائی تھی وہ ناقابل بیان ہے اس طوفانی بارش نے کوکن کے کئی گاؤں اور شہروں کو شدید نقصان پہنچایا تھا جس کی وجہ سے بےشمار لوگ بے گھر ہوگئے اور نہ جانے کتنی جانیں سیلاب کی نذر ہوگئیں۔دوکانوں اور مکانوں میں رکھی ہوئی اشیاء تباہ و برباد ہوگئیں تھیں انہیں حالات کے مد نظر آل انڈیا سنی جمعۃ العلماء کے صدر پیرطریقت معین المشائخ حضرت علامہ مولانا سید معین الدین اشرف اشرفی الجیلانی کچھوچھہ مقدسہ اور رضااکیڈمی کے بانی و سربراہ الحاج محمد سعید نوری صاحبان نے دو تین دن بعدان متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تھااور گھر گھر جاکر ان کی آب بیتی سنی اور ان متاثرین کی امداد وبحالی کیلئے ہر ممکن مدد کا ہاتھ بڑھایا وہاں سے آنے کے بعد ممبئی عظمی کے مخیرین حضرات سے رابطہ قائم کیا اور کوکن علاقوں کے متاثرین کیلئے امداد کی گہار لگائی جسے مخیرین نے دل سے قبول کیا اور دھیرے دھیرےکافی تعداد میں خوردنی اشیاء کیساتھ ضروریات زندگی کی دیگر اشیاء جیسے کپڑا گیس سیلینڈر چٹائی چادر وغیرہ وغیرہ سنی بلال مسجد ممبئی میں جمع کروایا اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ مخیرین نے بذات خود اپنے ہاتھوں سے راحتی اشیاء پہونچایا ہے۔جب امدادی سامان کی کاؤنٹنگ کی گئی تو پتہ چلا کہ سارا سامان انیس اشیاء پر مشتمل ہے تقریبا ۲۵ لاکھ سے زائد کی اشیاء اکٹھا ہوئیں۔ یاد رہے کہ سیلاب آنے کے ایک ہفتے کے درمیان یہ دونوں معزز اشخاص کوکن پہونچے تھے اپنے ماتھے کی نگاہوں سے دیکھا کہ ان متاثرین کی کیفیت کچھ عجیب سی تھی ان دونوں حضرات کو دیکھر وہ لوگ اپنا درد غم بیان کرنے لگے۔سید معین میاں اور سعید نوری صاحبان نے ان پریشان حال لوگوں کو دلاسہ دلایا اور یہ یقین دلایا کہ ہم آپ کی ہر ممکن مدد کی کوشش کریں گے۔ اس وقت بھی ان حضرات نے گیارہ لاکھ سے زائد کا سامان متاثرین کو دیا اور یہ کہتے ہوئے واپس ہوئے کہ ان شاء اللہ ہم بہت جلد دوسری بار پوری پلاننگ کیساتھ راحتی اشیاء لائیں گے۔کوکن علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد یہ حضرات ممبئی پہونچے شہزادۂ شہید راہ مدینہ حضرت سید معین میاں نے اپنے چاہنے والوں کو آواز دی اور کہا کہ کوکن علاقوں کے متاثرین کیلئے امداد کا سامان پیش کریں جس پر مریدین متوسلین عقیدت مندوں نے لبیک کہا اور اپنی فراخ دلی کا ثبوت پیش کیا اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے قارئین آپ کو یہ جان کرخوشی ہوگی کہ سنی بلال مسجد چھوٹا سوناپور ممبئی سے بڑی مقدار میں دوبارہ کوکن علاقوں کے متاثرین کیلئے راحت کا سامان حضرت سید معین میاں کی سرپرستی اور قائد ملت کی نگرانی میں بروز بدھ کو روانہ کیاگیا۔جس میں یہ اشیاء شامل ہیں چادر چٹائی جگ گیس سلنڈر خوردنی اشیاء کیساتھ ضروریات زندگی کی دیگر اشیاء انیس اشیاء ہیں۔ یہ کام واقعی میں ایک بہت بڑا کام ہے ایسے کام ہر کسی کے حصے میں نہیں آتے جن کے دلوں میں خدمت خلق کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے وہی ایسے کام کرپاتے ہیں۔ کرم بالائے کرم یہ ہے کہ سید معین میاں اور الحاج محمد سعید نوری نے کہا ہے کہ ہم ان متاثرین کی اس وقت تک مدد جاری رکھیں گے جب تک یہ لوگ مکمل آباد نہ ہوجائیں ساتھ ہی ساتھ ان دونوں بزرگوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم تمام لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ان مصیب زدہ لوگوں کی مدد کیلئے آگے آئیں اور ہرطرح سے ان کی مدد کریں کیونکہ خدمت خلق بہت ہی عظیم دولت ہے۔ یہ بھی بتاتے چلیں کہ پہلے دورے میں جب ان دونوں شخصیتوں نے متاثرین کے غم میں برابر شریک ہوئے تو ان لوگوں کی خوشی کی انتہا نہ رہی اور ان متاثرین نے ان دونوں شخصیتوں کو اپنی دعاؤں سے خوب نوازا ظاہر سی بات ہے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہی کافی ہے یکے بعد دیگرے متاثرین نے اپنا اپنا درد غم سنایا سن کر دل رونے پہ مجبور ہوگیا۔ایسے حالات میں ان مصیب زدہ لوگوں کی اعانت و مدد وقت کی اہم ضرورت تھی اسی کے پیش نطر سید معین میاں اور سعیدنوری نے ان متاثرین کی مدد کی۔اور آگے بھی امداد کا سامان فراہم کرنے کا وعدہ کیا اور کہا کہ آپ بالکل پریشان نہ ہوں اللہ تبارک و تعالی آپ لوگوں کی غیبی مدد فرمائے گا۔ قارئین کو معلوم ہو کہ سیلاب نے جس طرح سے کوکن علاقوں میں تباہی مچائی ہے ہم نے خود اپنی نظروں سے دیکھا ہے جس کو بیان کرنا مشکل ہے آل انڈیا سنی جمعۃ العلماء اور رضااکیڈمی نے ان متاثرین علاقوں کا دورہ کیا تھا اور جس طرح سے گھر گھر جاکر متاثرین کی مدد کی ہے وہ لائق ستائش ہے یہ دونوں حضرات اس دوران دودنوں تک کوکن میں مقیم رہ کر ان علاقوں کابنفس نفیس معائنہ کیااور خود اپنے ہاتھوں سے ریلیف تقسیم کی جن جن علاقوں کا دورہ ان بزرگوں نے کیا ہے وہ یہ ہیں کھیڑ السر مہاڈ چپلون رتناگیری کے گردونواح کے علاقے شامل ہیں ۔ایک پھر آل انڈیا سنی جمعۃ العلماء اور رضااکیڈمی قوم سے اپیل کررہی ہے کہ ضرورت مندوں کی حاجت روائی کرناہم سب کا انسانی فریضہ ہے لہذا ان لوگوں کی مدد کی جائے آج وہ لوگ بے سروسامانی کے عالم میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں اس لئے ہم آپ سبھی بھائیوں سے گزارش کرتے ہیں کہ ان کی زیادہ سے زیادہ امدادواعانت کریں اورآپ اپنی توجہ کوکن علاقوں میں سیلاب متاثرین کیطرف مبذول کریں اور ان کے املاک کو جو سیلاب نے نقصان پہنچایا ہے ہے اس کیلئے جتنا ہوسکے تعاون کرنے کی کوشش کریں۔ ہم لوگ آپ کے دئے ہوئے امدادی سامان ان متاثرین تک پہونچانے میں لگے ہوئے ہیں۔اور ایک وفد کو ہم نے آج ہی کوکن بھیجا ہے جواس وقت کوکن کے سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سامان پہونچا رہاہے۔وفد میں مولانا محمود علی خان اشرفی مولانا نورالعین، جناب اسلم لاکھا،قاری الیاس،مولانا راشد، مولانا عارف،قاری نظام،محمد اکرم خان،ریحان خان وارثی پرویز خان کے علاوہ اور بھی دیگر لوگ وفد میں شریک ہیں ۔

رپورٹ۔ظفرالدین رضوی
صدر رضا اکیڈمی بھانڈوپ ملنڈ ممبئی

About ہماری آواز

Check Also

مغربی ممالک یورپ میں اسلام کے عظیم داعی اور نشان مسلک اعلٰی حضرت کا نام ہے علامہ بدرالقادری: علامہ قمرالزماں اعظمی

تحفظِ ناموسِ رسالت کا عظیم علمبردار جان قرطاس وقلم مولانا بدرالقادری صاحب ہالینڈ ہم سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے