استاذ کا مقام ومرتبہ

تحریر: خلیل احمد فیضانی

وہی شاگرد پھر ہوجاتے ہیں استاذ اے جوہر
جو اپنی جان و دل سے خدمت استاذ کرتے ہیں

اپنے استاذوں کو پایا ہم نے مشفق و مہربان
حق نے بخشے ہیں انہیں اوصاف میر کارواں

جب محلہ والے تیری شرارتوں کی وجہ سے تجھ سے نالاں تھے, جب تیرے اپنے ہی بھائی بہن تیری تساہلی کی بنیاد پر تجھ سے خفا تھے , جب تیرے ہی ساتھی تجھ سے گھن کرتے تھے ,جب تیری زبان لکنت کا شکار تھی ,غرض یہ کہ تو بالکل لاشعوری کی زندگی گزار رہا تھا ;اس وقت جس ہستی نے ملبے کے ڈھیر سے نکال کر تجھے اوج ثریا تک پہونچایا اس وقت جس مایہ ناز شخصیت نے گمنامی کی وادی سے نکال کر تجھے آسمان شہرت کا کوکب تاباں بنایا اس وقت جس شخصیت نے اپنی شبانہ روز محنتوں سے تجھے قوم کا ہیرو بنایا اس وقت اس مطلبی دنیا کے اندر جس مہرباں نے اپنے خون جگر سے تیری زندگی کے پودے کی آبیاری کی آج تیری زیرکی و خردمندی پر زمانہ رشک کرتا ہے , آج تیرا طوطی بولتا ہے آج تجھ پر پھول نچھاور ہوتے ہیں آج علمی و ادبی حلقوں میں تیری ایک شناخت ہے لیکن ان سب کے باوجود تف ہے تیری شہرت و عہدہ پر ,افسوس ہے تیرے طرز حیات پر کہ تو اپنے ایسے فقید المثال محسن کو چھوڑ کر بھاگ گیا اپنے ایسے غم خوار کی ہمدردیوں کو نسیا منسیا کردیا خدا تجھے عقل سلیم دے تو پیچھے پلٹ کر اس وقت کو بھی دیکھ کہ جب قوم تیرے استاذ پر زہر میں بجھے ہوے تیر برساتی تھی لیکن تیرا استاذ اس وقت بھی تیری بھوک کی آگ کو بجھانے میں کوشاں رہتا تھا جب تجھے کوئی اشکال پیش آتا تھا تو تیرا استاذ ساری رات اضطراب میں رہتا تھا ساری رات جاگ کر کے بھی تیرا اشکال رفع فرمادیتا تیری خاطر اس نے خون پسینہ ایک کردیا تیرے مستقبل کے لیے اس نے اپنے حال کو داؤ پر لگا دیا لیکن تو نے کیا صلہ دیا سچ پوچھیے تو تجھے آج استاذ کا ہاتھ چومتے ہوئے بھی شرم و عارمحسوس ہوتی ہے-
کیا تو نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا وہ قول نہیں سنا فرماتے ہیں کہ ,,جس نے مجھ کو ایک حرف بھی سکھایا میں اس کا غلام ہوں چاہے وہ مجھ کو آزاد کرے یا بیچ دے,,( یقینا تاریخ ایسا شاگرد پیش کرنے سے قاصر ہے)با ب العلم نے تو ایک حرف سکھانے والے کو اپنا استاذ بلکہ اپنا آقا تسلیم کیا تو نے تو حروف تہجی تا بخاری شریف سب کچھ اسی سے پڑھا ہے پھر بھی تجھے احسان فراموشی و بے وفائی کا دیمک لگ گیا ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تو خدمت گزاری و وفا شعاری کے ذریعے ایک مثال قائم کرتا لیکن تو تواختلاف و انتشار کی نظر ہوگیا تجھے تو ,انا, کے درندے نے ہی اپنے چنگل میں لے لیا توبجاے تعاون کے طعن کرنے لگ گیا تو بعد فراغت اپنی فہم ناقص سے خود کو فہامہ گرداننے لگ گیا علمی انحطاط کے باوجود خوش فہمی کی جنت میں رہنے لگ گیا کیا تو نے شارح بخاری حضرت مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ کا وہ جھنجھوڑنے والا و خواب غفلت سے بیدار کرنے والا فرمان نہیں سنا! نہیں سنا تو سن اور اپنے ضمیر سے استفتا کر کہ آج تو کہاں کھڑا ہے
مفتی صاحب قبلہ علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں
"غالبا حضرات مدرسین کی بد قسمتی اس دور کے ساتھ خاص نہیں یہ بھی اسلاف کا ورثہ ہے کہ تلامذہ اپنے اساتذہ کو فراغت کے بعد بھول جاتے ہیں اور کوئی ربط نہیں رکھتے ان کا جو بھی نیازمندانہ تعلق ہوتا ہے وہ اپنے نامزد پیر کے ساتھ ہوتا ہے کتنا بڑا ستم ہے کہ اساتذہ اپنا خون جگر پلاتے ہیں طلبہ کی خوابیدہ استعداد بیدار کرکے ان کو اوج ثریا تک پہنچاتے ہیں ان کے ناز اٹھاتے ہیں ان کے آپس کے مناقشات خوش اسلوبی سے طے کرتے ہیں طلبہ کے لیے دردر کی بھیک مانگتے ہیں-
اکثر مدرسین اور اراکین سے لڑائ مول لیتےہیں اور فراغت کے بعد انہیں برسر روز گار کردیتے ہیں -مگر انہیں فراموش کردیا جاتا ہے یہی سبب ہے کہ پھر وہ ایسے گمنام ہوجاتے ہیں کہ ڈھونڈنے سے ان کا پتہ نہیں ملتا. لیکن جو سعید طلبہ اپنے اساتذہ سے نیاز و اخلاص کے ساتھ روابط رکھتے ہیں وہ پھلتے پھولتے ہیں اور اپنے اساتذہ کی طرح ملجا انام ہوتے ہیں. اس کی دلیل حضرت صدر الشریعہ کے تلامذہ کے حالات ہیں "

(مقالات شارح بخاری ج : ۳,ص:۸۲ ۸۳)

یہ ماضی کا سچ تھا حال کی حالت تو بالکل غیر ہوچکی ہے حالات دن بدن بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں جہاں علمی انحطاط کا المیہ ہے وہیں سوء ادب کا مرض بھی دور حاضر کی وبا کی شکل اختیار کرگیا ہے-
لیکن تو یاد رکھ! جتنا ادب تیرے اندر زیادہ ہوگا اتنا ہی روحانیت کا اثر تیرے اندر زیادہ ہوگا کیوں کہ استاذ شاگرد کا رشتہ روحانیت پر ہی قائم ہوتا ہے پس ادھر بے ادبی کا بدنما داغ تجھے لگا ادھر تیری روحانیت کا زوال شروع ہوا اس لیے حتی الامکان علم کے ساتھ ساتھ ادب بھی سیکھ تاکہ تیری روحانیت مزید فروغ پائے اور ایک دن تو کندن بن کر چمکے۔
ابن القاسم رضی اللہ تعالی عنہ بیس سال تک امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں رہے اٹھارہ سال علم حاصل کیا بقیہ دو سال صرف ادب سیکھنے میں گزاردیے لیکن پھر بھی تشنگی باقی رہ گئی جاتے جاتے فرمایا کہ کاش وہ اٹھارہ سال علم والے بھی ادب سیکھنے میں گزار دیتا تو کیا ہی بہتر رہتا اللہ اکبر کبیرا !
اس لیے تجھے چاہیے کہ ہمیشہ ادب کا دامن تھامے رکھ اپنے استاذ کو ہر ایک پر فوقیت دے استاذ کے سامنے اپنے مزاج کی درشتگی کا اظہار مت کر ادب ادب بس سراپا سپاس و ادب بن کر ہی زندگی گزار۔

از خدا خواہیم توفیق ادب
بے ادب محروم گشت از فضل رب

About ہماری آواز

Check Also

حقیقت میں استاد ملک و قوم کی بنیاد

ازقلم: حسین قریشی، بلڈانہ مہاراشٹرا استاد کی عظمت میں،عظمت ہے زمانے کیتعظیم ملے اس کو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے