استاد کی ضيافت

ازقلم: محمد معظم علی مصباحی

استاد سے متعلق یہ بات کہی جاتی ہے کہ وہ روحانی باپ ہے۔ یہ بات بالکل سچ ہے اور حدیث سے ثابت بھی ہے۔

ابو ھریرہ (ت 59ھ) رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ بِمَنْزِلَةِ ٱلْوَالِدِ أُعَلِّمُكُمْ» بلاشبہ میں تمہارے لیے والد کی مانند ہوں، تمہیں سکھاتا ہوں۔
( سنن أبي داود: 8، سنن النسائي: 40، سنن ابن ماجه: 313، صححه الشيخ الألباني ).

استاد بحیثیتِ روحانی باپ ہونے میں صرف تعلیم وتربیت ہی کا خیال نہیں رکھتا ہے، بلکہ طلبہ کی صحت، آرام، بھوک پیاس کا بھی خیال رکھتا ہے۔

طالبِ علم کو نیند آ رہی ہو تو کلاس میں کھڑا کردینا سستا کام ہے، مگر اس کی نفسیات کا خیال کرکے نیند، بھوک، اور گھریلو حالات کا بھی خیال رکھنا؛ بہت مہنگا کام ہے، اور یہ بہترین استاد کی علامت ہے۔ پھر شرعی علم دینے والوں میں اس کا لحاظ رکھنا غیر معمولی اہم ہو جاتا ہے۔

سب سے عظیم معلِّم رسول اللہﷺ

رسول اللہ ﷺ صحابہ کی تعلیم وتربیت کے ساتھ ساتھ ان کی عمر، عقل، صحت، گھریلو حالات، ازدواجی زندگی، وغیرہ ہر طرح کی نگرانی کیا کرتے تھے۔ اس لیے کہ لفظ (( روحانی باپ )) ہلکا پھلکا لفظ نہیں ہے، بلکہ ایک کردار کا نام ہے۔

رسول اللہ ﷺ اپنے طلبہ کی بھوک کا بہت خیال رکھا کرتے تھے، سیرتِ رسول سے اگر مثالیں اکٹھا کریں تو ایک موسوعہ (( انسائیکلوپیڈیا )) تیار ہو جائے گا۔ یہاں ایک واقعہ ذکر کروں گا۔

جابر بن عبد اللہ (ت 70ھ کے بعد) انصاری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ (( خندق )) کے موقع پر کھدائی کے دوران ایک بڑی چٹان آگئی، خود رسول اللہ ﷺ نے اسے توڑا۔
اور وَبَطْنُهُ مَعْصُوْبٌ بِحَجَرٍ بھوک کی وجہ سے آپ کے پیٹ پر پتھر بندھے ہوئے تھے۔

جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم بھی تین دن سے بھوکے پیاسے تھے۔
میں فوراً گھر گیا اور اپنی اہلیہ سے کہا: رَأَيْتُ بِالنَّبِيِّ ﷺ شَيْئًا مَا كَانَ فِيْ ذَالِكَ صَبْرٌ۔
آج میں نے نبی ﷺ کو اس حالت میں دیکھا ہے جو مجھ سے برداشت نہیں ہو سکی۔
بہر حال جابر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ آپ اور آپ کے ساتھ دو تین آدمیوں کی گنجائش ہے، گھر پر آ جائیں۔

آپ ﷺ اکیلے یا اپنے ساتھ صرف دو تین کا خیال نہیں کیا، بلکہ بآواز بلند فرمایا: «يَا أَهْلَ الْخَنْدَقِ! إنَّ جَابِراً قَدْ صَنَعَ سُوراً فَحَيَّ هَلّا بِكُمْ»۔
اے اہل خندق! آج جابر نے تمہارے لیے ضیافت تیار کی ہے، آؤ جلدی چلیں۔
(( تفصیل کے لئے دیکھئے: صحيح البخاري: كتاب المغازي. رقم: 4101، اسی طرح صحیح البخاری سے ہی: كتاب الجهاد. رقم: 3070 ).

یہ عادتِ مبارکہ کسی بھی استاد کے لیے اختیار کرنا ضروری ہے، خصوصاً شرعی علم دینے والے اساتذہ اس میں بھی نمونہ رہیں۔

عبد اللہ بن لھیعۃ الحضرمی (ت 174ھ) رحمہ اللہ اپنے استاد درَّاج بن سَمْعان ابو السَّمح (ت 126ھ) کے بارے میں کہتے ہیں:
كَانَ كَرِيْمًا، وَكَانَ إذَا أَتَاهُ مَنْ يَطْلُبُ الْعِلْمَ لَمْ يُحَدِّثْهُ حَتّٰى يَطْعَمَ عِنْدَهُ آپ نہایت محترم استاد تھے، آپ کے پاس جب بھی کوئی طلبِ علم کے لیے آتا تو آپ اس کو اپنے پاس ضیافت کا اہتمام فرماتے تھے۔

حفص بن غیاث (ت 194ھ) معروف کوفی عالم دین ہیں، مشہور قاضی ہیں، آپ کہا کرتے تھے:
مَنْ لَمْ يَأْكُلْ طَعَامَنَا لَمْ نُحَدِّثْهُ جو ہمارے دستر خوان پر نہیں ہوگا اس کو سبق نہیں دیا جائے گا۔

عبد اللہ بن صالح کہتے ہیں: صَحِبْتُ اللَّيْثَ عِشرين سَنَةً لَا يَتَغَدَّى وَلَا يَتَعَشّٰى إلَّا مَعَ النَّاسِ۔
میں لیث بن سعد الفہمی مصری (ت 175ھ) رحمہ اللہ کی صحبت میں بیس (20) سال رہا آپ دوپہر (ظہرانہ) اور رات کا کھانا لوگوں یعنی طلبہ کے ساتھ ہی کھایا کرتے تھے۔

نوٹ

یہ سب واقعات حافظ ابو الحجاج المزی (ت 742ھ ) رحمہ اللہ کی (( تهذيب الكمال في أسماء الرجال )) سے لیے گئے ہیں، جو مذکورہ ناموں (( تراجم )) کے تحت دیکھے جا سکتے ہیں۔

یہ واقعات پیش کرنے میں بڑی دشواری ہوئی ہے کہ اس کثرت سے واقعات ہیں کہ ان میں انتخاب کرنا بھی آزمائش ہے۔

آخری بات

ایک بہترین معلم کے لیے ضروری ہے کہ طلباء کی تعلیم وتربیت کے ساتھ اس کی نجی زندگی سے بھی واقف ہوکر اس کی مدد کریں، اس کو مضبوط کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بہترین معلم بنائے۔

About ہماری آواز

Check Also

بنت زہرا تیرے پردے کا خیال آتا ہے

از قلم :محمد ہاشم اعظمی مصباحینوادہ مبارکپور اعظم گڑھ یو پی دین اسلام فطرت انسانی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے