صفر المظفرقمری سال کا دوسرا ماہ

ازقلم: محمد لقمان ابن معین الدین سمناکےشافعی
صدر مدرس: مدرسہ عربیہ نورالعلوم راجہ پور
رتناگیری مہاراشٹر

صفر المظفر اسلامی سال(قمری تقویم)کا دوسرا مہینہ ہے۔جو محرم الحرام کے بعد اور ربیع الاول سے پہلے آتاہے۔صفر عربی زبان کا لفظ ہےجس کے متعدد معنی بیان کیے گئے ہیں مثلاًپیٹ کے کیڑے یا سانپ
(📚تاج العروس ج۱۲ص۳۲۹)
(۲)سونا،پیتل،زردرنگ،خشک گھاس،صفراوی امراض،نحوست،شگون بد،عمدہ خوشبو وغیرہ یہ سب مجازی اور مرادی معانی ہیں حقیقی نہیں کیونکہ اسلام ان کی تردید کرچکا ہے۔
(۳)خالی ہونا
(📚لسان العرب ج۴ص۴۶۱)
(📚تفسیر ابن کثیر ج۴ص۱۲۹)
یہ تیسرا معنی ہی زیادہ معروف ہے۔عرب کے لوگ زمانہ جاہلیت میں (اسلام سے پہلے) محرم الحرام کی حرمت کی وجہ سے جنگ سے باز رہتےتھے،اس لئے جیسے ہی ماہ صفر کا آغاز ہوتا تو اپنی ضرورت کی اشیاء لینے اور جنگ وجدال کے لیے اپنے گھروں سے نکل جاتے اور گھروں کو خالی چھوڑدیتے تھے۔پس اسی مناسبت سے اس ماہ کو ماہ”صفر“ (خالی ہونا) کہا جانے لگا۔
شریعت اسلامیہ میں اس مہینہ کو صفر اس لیے کہا جاتا ہےتاکہ یہ بھی محرم الحرام کی طرح معصیت اور گناہ سے خالی رہے۔
ماہ صفر کے فضائل واعمال
اس مہینے کی فضیلت یا مخصوص اعمال کی کوئی حدیث نظر سے نہیں گذری اس مہینہ میں معمول کی عبادت ہے۔البتہ اس مہینے سے منسوب باطل نظریات وتوہمات سے دور رہنے کا حکم فرمایا ہے۔
عربوں میں ماہ صفر کو منحوس سمجھا جاتا تھا
دور جاہلیت (اسلام سے پہلے) میں بھی ماہ صفر کے بارے لوگ اسی قسم کے وہمی خیالات رکھا کرتے تھے کہ اس مہینے میں مصیبتیں اورآفتیں بہت ہوتی ہیں چنانچہ وہ لوگ ماہ صفر المظفر کے آنے کو منحوس خیال کیا کرتے تھے۔
(📚عمدۃ القاری ج ۷ص ۱۱۰)
عرب لوگ حرمت کی وجہ سے تین ماہ ذوالقعدہ،ذوالحجہ،اور محرم میں جنگ و جدل اور لوٹ مار سے باز رہتے اور انتظار کرتے کہ یہ پابندیاں ختم ہوں تو وہ نکلیں اور لوٹ مار کریں لہذا صفر شروع ہوتے ہی وہ لوٹ مار،رہزنی اور جنگ وجدل کے ارادے سے جب گھروں سے نکلتے تو انکے گھر خالی رہ جاتے اسی وجہ سے کہا جاتا ہے صفر المکان(مکان خالی ہوگیا) جب عربوں نے یہ دیکھا کہ اس مہینے میں لوگ قتل ہوتے ہیں۔اور گھر برباد یا خالی ہوجاتے ہیں تو انہوں نے اس سے یہ شگون لیا کہ یہ مہینہ ہمارے لیے منحوس ہےاور گھروں کی بربادی اور ویرانی کی اصل وجہ پر غور نہیں کیا نہ اپنے عمل کی خرابی کا احساس کیا اور نہ ہی لڑائی جھگڑے اور جنگ وجدل سے خود کو باز رکھابلکہ اس مہینے کو ہی منحوس ٹھرادیا۔
صفر کے ساتھ المظفر یا الخیر کا اضافہ کیوں؟
چونکہ زمانہ جاہلیت میں لوگ ماہ صفر کو منحوس،بدشگون اور برا سمجھتے تھے اور بڑے عجیب وغریب قسم کے خیالات رکھتے تھے کہ اس مہینے میں آفات ومصائب نازل ہوتی ہیں۔اس خیال کی تردید کےلیے اسے صفر المظفر یا صفر الخیر کہا گیا تاکہ اسے نحوست والا مہینہ نہ سمجھا جائے۔مظفر کا معنی کامیابی اور خیر کا معنی نیکی،سلامتی اور برکت کے ہیں۔
افسوس آج بھی زمانہ جاہلیت کے وہ فاسد خیالات اور باطل عقائد ہمارے معاشرے میں نسل در نسل چلے آرہےہیں۔اسی لیے اس ماہ میں خوشی کی تقریبات مثلاًشادی بیاہ،لڑکی کی رخصتی،ختنہ،اور عقیقہ وغیرہ سے مکمل احتراز کیا جاتا ہے۔نحوست کو دور کرنے کےلیے مختلف قسم کے ٹوٹکےاور عملیات کیے جاتےہیں اور اگر کوئی حادثہ یا غمناک واقعہ یا کسی کام میں ناکامی ہوجائے تو کہتے ہیں کہ یہ دن،یا یہ مہینہ یا یہ تاریخ منحوس تھی۔استغفراللہ
ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ آدم کی اولاد زمانے کو گالی دیتی ہے زمانے کو برا کہتی ہے حالانکہ زمانہ تو میں ہوں رات دن کی گردش میرے ہاتھ(قدرت)میں ہے۔
(📚صحیح بخاری،کتاب الادب،باب لا تسبو الدھر)
ایک دوسری روایت میں ہے رات دن کو میں بدلتا ہوں اور جب چاہوں گا اس کو الٹ پلٹ کر ختم کردوں گا۔
(📚صحیح مسلم باب النھی عن سب الدھر)
مطلب یہ ہےکہ بعض لوگ حوادثات زمانہ سے متاثر ہوکر زمانے کو برا کہنے لگتے ہیں حالانکہ زمانہ کوئی کام نہیں کرتا زمانے جو واقعات اور حوادثات رونما ہوتےہیں اور جو انقلاب ہوتے ہیں وہ تمام حق تعالی کی مشیت اور اس کے حکم سے ہوتے ہیں۔
صفر کے مہینے میں پیش آنے والے چند تاریخی واقعات
صفر المظفر پہلی ہجری میں حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم اور خاتون جنت حضرت سیدتنا فاطمہ رضی اللہ عنھا کی شادی خانہ آبادی ہوئی۔
(الکامل فی التاریخ ج ۲ ص ۱۲)
صفر المظفر سات ہجری میں مسلمانوں کو فتح خیبر نصیب ہوئی۔
(البدایہ والنھایہ ج ۳ ص ۳۹۲)
سیف اللہ حضرت سیدنا خالد بن ولید حضرت سیدنا عمرو بن عاص اور حضرت سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالی عنھم نے صفر المظفر ۸۰ ہجری میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کیا۔
(الکامل فی التاریخ ج ۲ ص ۱۰۹)
مدائن (جس میں کسری کا محل تھا) کی فتح سولہ ہجری صفر المظفر کے مہینے میں ہوئی ۔
(الکامل فی التاریخ ج ۲ ص ۳۵۷)
واقعہ بئر معونہ اسی ماہ میں ہوا۔
(تاریخ طبری ج ۲ ص ۱۵۲)
اسی ماہ کی ۲۵ تاریخ کو اعلی حضرت علیہ الرحمہ کا وصال ہوا۔نیز اسی ماہ میں بے شمار خیر کے کام ہوئے ہیں
صفر کچھ نہیں
حضور اکرمﷺ نے صفر المظفر کے بارےمیں وہمی خیالات کو باطل قرار دیتے ہوئے فرما یا ”لاصفر“ صفر کچھ نہیں
(بخاری شریف،کتاب الطب باب الجذام)
محقق علی الاطلاق حضرت علامہ مولانا شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں عوام اسے (یعنی صفر کے مہینے کو) بلاؤں حادثوں اور آفتوں کے نازل ہونے کا وقت قرار دیتے ہیں یہ عقیدہ باطل ہے۔اس کی کوئی حقیقت نہیں
(اشعتہ اللمعات فارسی ج ۳ ص ۶۶۴)

صدرالشریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں ماہ صفر کو لوگ منحوس جانتے ہیں اس یں شادی بیاہ نہیں کرتےلڑکیوں کو رخصت نہیں کرتے اور بھی اس قسم کے کام سے یہ پرہیز کرتے ہیں اور سفر سے گریز کرتے ہیں خصوصاً ماہ صفر کی ابتدائی تیرہ تاریخیں بہت زیادہ نحس (یعنی نحوست والی) مانی جاتی ہیں اور ان کو تیرہ تیزی کہتے ہیں یہ سب جہالت کی باتیں ہیں۔حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ صفر کوئی چیز نہیں یعنی لوگوں کا اسےمنحوس سمجھنا غلط ہے۔
(بہار شریعت ج ۳ ص ۶۵۹)

کوئی دن منحوس نہیں ہوتا
علامہ سید امین بن عمر بن عبدالعزیز شامی لکھتے ہیں علامہ حامد آفندی رحمۃ اللہ علیہ سے سوال کیا گیا کیا بعض دن منحوس یا نا مبارک ہوتے ہیں جو سفر اور دیگر کام کی صلاحیت نہیں رکھتے؟تو انہوں نے جواب دیا کہ جو شخص یہ سوال کرے کہ کیا بعض دن منحوس ہوتے ہیں اس کے جواب سے اعراض کیا جائے اور اس فعل کو جہالت کہا جائے اور اس کی مذمت بیان کی جائے ایسا سمجھنا یہودی کا طریقہ ہے مسلمانوں کا شیوہ نہیں جو اللہ پرتوکل کرتے ہیں۔
(تنقیح الفتاوی الحامدیہ ج ۲ ص ۳۶۷)
کوئی وقت برکت والا اور عظمت وفضیلت والا تو ہوسکتا ہے جیسےماہ رمضان، ربیع الاول،جمعۃ المبارک وغیرہ مگرکوئی مہینہ یادن منحوس نہیں ہوسکتا ہے۔تفسیر روح البیان میں ہے۔صفر وغیرہ کسی مہینے یا مخصوص وقت کو منحوس سمجھنا درست نہیں تمام اوقات اللہ عزوجل کے بنائے ہوئے ہیں اور ان میں انسانوں کے اعمال واقع ہوتے ہیں جس وقت بندہ مومن اللہ عزوجل کی اطاعت وبندگی میں مشغول ہو وہ وقت مبارک ہے اور جس وقت اللہ کی نافرمانی کرے وہ وقت اس کے لیے منحوس ہے۔درحقیقت اصل نحوست تو گناہوں میں ہے۔
(تفسیر روح البیان ج ۳ ص ۴۲۸)
ماہ صفر کا آخری بدھ
بعض لوگ ماہ صفر کے آخری بدھ کو خوشی کی تقریب مناتے ہیں۔مٹھائی وغیرہ تقسیم کرتے ہیں سیر وتفریح کرنے جاتے ہیں۔لوگ بایں نیت سیر کرتے ہیں کہ سرکار کائناتﷺ نے غسل صحت فرماکر باغ کی سیر فرمائی تھی۔لیکن حضور نبی کریم رؤف ورحیم کی محبت کی روشنی میں ایسے لوگوں سے کہا جاسکتا ہے اس دن سیر کی بجائے تلاوت قرآن مجیدکی جائے درود شریف پڑھا جائے،غریبوں مسکینوں،یتیموں اور بیواؤں کی مدد کی جائے
لوگوں میں یہ بات غلط مشہور ہوگئی کہ اس دن حضور اکرم ﷺ نے غسل صحت فرمایا تھااور آپ کے مرض میں افاقہ ہوا تھاجب کہ یہ درست نہیں البتہ شدت مرض کی روایت وارد ہوئی ہے۔
(مدارج النبوۃ ج ۲ ص ۱۸۹)
حضرت علامہ نور بخش توکلی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں
ماہ صفر المظفر ۱۱ہجری کے آخر عشرہ میں حضور اکرم ﷺ بیمارہوگئے تھے پھر فرمایا کہ ماہ صفر کی ایک یا دو راتیں باقی تھیں کہ مرض کا آغاز ہوا
(سیرت رسول عربی ص ۲۶۷)
اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ آخری چہار شنبہ (بدھ) کی کوئی اصل نہیں اس دن حضور ﷺ کی صحت یابی کا کوئی ثبوت نہیں بلکہ مرض جس میں وفات ہوئی اس کی ابتدا اسی دن سے بتلائی جاتی ہے۔
(احکام شریعت ص ۱۸۳)
صدرالشریعہ علیہ الرحمہ لکھتے ہیں ماہ صفر کا آخری چہار شنبہ (بدھ) ہندوستان میں بہت منایا جاتا ہے۔لوگ اپنے کاروبار بند کردیتے ہیں سیر وتفریح وشکار کو جاتے ہیں پوڑیاں پکتی ہیں نہاتے دھوتے خوشیاں مناتے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے اس روز غسل صحت فرمایا تھا اور بیرون مدینہ طیبہ سیر کے لیے تشریف لے گئے یہ سب باتیں بے اصل ہیں بلکہ ام دنوں میں حضور اکرمﷺ کا مرض شدت کے ساتھ تھا۔
(بہار شریعت ج ۳ ص ۶۵۹)
اللہ تبارک وتعالی ہمیں توہمات سے بچائے ۔اور دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے،آمین

About ہماری آواز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے