جمعہ کے خطاب کی تیاری کے لیے رہنما اصول (نو آموز ائمہ کے لیے)

ازقلم: محمد شہروز کٹیہاری
موہنا،چوکی،کدوا،کٹیہار

جمعہ کا خطاب مروجہ جلسہ عام کے خطاب کی طرح نہیں ہے -جلسہ کے خطاب میں عموما سنجیدگی جلسہ کی ناکامی تصور کی جاتی ہے -اور چیخ و پکار اور لطیفہ و چٹکلا کی اس میں بڑی اہمیت ہوتی ہے -پھر جلسے میں ایک انانسری(نقابت) کا عہد ہ ہوتا ہے ،نقیب کا کا م خطیب کو وقت کا رازی ،غازی،قاضی اور غزالی بناکر کر پیش کرنا ہوتا ہے،بیچ بیچ میں ہر خطیب کی خطابت پر واہ واہ ،سبحان اللہ ،ماشاءاللہ سے ان کا حوصلہ بڑھانا اور نعرہائے تکبیر و رسالت سے ماحول گرم کرنے والا ایک کامیاب نقیب سمجھا جاتا ہے-
جب کہ مسجد میں ایسا کچھ نہیں ہوتا ،یہان چیخ وپکار نہیں سوز و گداز چاہیے،سنجیدگی چاہیے ,یہاں سامعین میں نیکوں کی شرح نسبتا زیادہ رہتی ہے،اس لیے سب سے پہلے مروجہ طرز خطابت کو دماغ سے بالکلیہ ہٹادینا چاہیے، اس سے کچھ عوام یا اراکین مسجد شروع شروع ناپسندیدگی کا اظہار کریں گے ،مگر صبر سے کام لینا چاہیے، اور سنجیدگی کو اپنا اوڑھنا بچھونا سمجھنا چاہیے-
خطابت کے لیے سب سے اہم اور بنیادی چیز کتابوں کی فراہمی ہے -شہروں کی مسجدوں میں کتابوں کی فراہمی نسبتا آسان ہے -شہر میں جب کسی کا انتقال ہوتا ہے تو مرحوم /مرحومہ کے ایصال ثواب کی خاطر قران مقدس مسجد میں ہدیہ کرتے ہیں جو کثرت تعداد کی وجہ صرف طاقوں کی زینت بن کر بوسیدہ ہو جاتی ہیں ،ایسا بڑے شہروں کی اکثر مساجد میں ہوتا ہے – جمعہ کے خطاب میں انہیں سمجھایا جا سکتا ہے کہ قران کی تلاوت کار ثواب ہے اسی طرح قران کی افہام و تفہیم مقصد نزول قران ہے ،اس لیے جب بھی کسی کو ایصال ثواب کرناہو وہ امام صاحب سے ضرورت کی کتابوں کے نام حاصل کریں اور اسے مہیا کرانے کی کوشش کریں ،اس کا کچھ نا کچھ ضرور اثر ہوگا،
علاوہ ازین مسجد کے اراکین کو بھی چاہیے کہ اس پر توجہ دیں
چند کتابین درج کی جاتی ہیں ،اس میں اپنے ذوق کے حساب سے حذف و اضافہ کیا جاسکتا ہے
(1)تفسیر ضیاء القران 6 جلدیں از پیر کرم شاہ ازہری
(2)تفسیر نعیمی از مفتی احمد یار خاں نعیمی/تفسیر روح البیان مترجم
(3)تفسیر تبیان القران از غلام رسول سعیدی
(4)ضیاء البنی از پیر کرم شاہ ازھری
(5)جاءالحق از مفتی احمد یار خاں نعیمی
(6)انوار الحدیث از مفتی جلال الدین امجدی
(7)فتاوی فیض الرسول از مفتی جلال الدین امجدی /فتاوی فقیہ ملت از مفتی جلال الدین
(8)خطبات محرم از مفتی جلال الدین امجدی
(9)مشکوة شریف مترجم،ترجمہ از اختر شاہجہان پوری
(10)نزھة القاری شرح بخاری از مفتی شریف الحق امجدی
(11)شرح صحیح مسلم از غلام رسول سعیدی

(12)کیمائے سعادت از امام غزالی
(13)احیاء العلوم مترجم از اما م غزالی ،ترجمہ از صدیق ہزاروی
(14)احادیث صحیحین سے غیر مقلدین کا انحراف از مفتی نظام الدین رضوی
(15) ایک کتاب بارہ ماہ کے فضائل پر غالبا نور محمد پاکستانی کی ہے
(16)تقریر کی کتابوں میں معلم التقریر معروف بہ مواعظ رضویہ کامل چھ جلدیں از مولانا نور محمد پاکستانی اور ابو النور مولانا بشیر کی واعظ دو جلدیں
(17)بہار شریعت از صدر الشریعہ ،گر یہ دعوت اسلامی والی مل جائے تو بہت بہتر
(18)کنز الایمان ترجمہ قران از اعلی حضرت فاضل بریلوی
تقریر کی تیاری:-
جمعہ ختم ہوتے ہی اگلے جمعہ کی تیاری میں جٹ جائیں
سب سے پہلے موضوع کا انتخاب کریں ،
پھر اس موضوع پر کم از کم دو تین آیات قرآنی یاد کرنے کے لیے کاپی میں نشان زد کرلیں
،موضوع سے متعلق کم از کم دو تین احادیث بھی نشان زد کرلیں ،
پھر موضوع سے متعلق دوسری معلومات اپنی کتابوں سے کاپی میں نشان زد کرلیں
نشان زد آیات کی تفسیر دیکھ لیں اور احادیث کی شرح بھی موجودہ شروحات سے دیکھ لیں
یہ سارا کام سنیچر کی شام تک ہو جائے
اب اتوار سے قرآنی آیات و احادیث یاد کریں،کوشش ہو کہ احادیث بھی عربی میں ہی یاد کریں
اپنی تمام نشان زدہ مواد کا بغور کئی بار مطالعہ کرکے مفہوم ذہن نشیں کرلیں ،بلکہ جب تنہائی میں رہیں تو ذہن میں مفاہیم کو دہراتے رہیں ،واقعات میں دو چیزیں بہت اہم ہوتی ہیں ایک تو کردار دوسرے ان کے آپسی مکالمے ان دو نوں چیزوں لو ازبر کرلیں
بدھ جمعرات تک ادھا گھنٹہ کے لائق اچھا خاصا مواد آپ کو یاد ہوجائے گا،اب اگر بالکل بولنے کی مشق نہیں ہے تو ایک دو بار اپنے کمرے میں دروازہ بند کرکے مشق کرلیں
اب آپ خطاب کے لیے بالکل تیار ہیں
دوران خطاب بھول کا خوف دور کرنے کے لیے ایک چار انگل چوڑا ،ایک بالشت لمبا کاغذ پر اپنے مواد کا ترتیب وار اشاریہ لکھ لیں ،اشاریہ اتنا واضح ہوکہ نظر پڑتے ہی پورا مشارالیہ ذہن میں آجائے، اس کے لیے بار بار پرجے کو دیکھ کراشاریہ اور مشارالیہ کے ربط کو ذہن میں بٹھالیں،خطاب کے دوران اس پرچے کواہنے ہاتھ میں دو انگلی سے دبا لیں تاکہ دوران خطاب بھی دیکھا جاسکے،دوران تقریر پرچہ رکھنا کچھ کم علموں کے نزدیک ہو سکتا برا ہو،مگر اہل علم کا اعتماد آپ کے تقریر پر زیادہ ہوگا
یہاں ایک بات یاد رکھیں کہ قران و حدیث یاپھر کسی بزرگ کے اقوال ،فقہ کی عبارات کے علاوہ کسی بھی واقعہ پر رٹا نا لگائیں ،بلکہ مفہوم کو ہی ذہن نشیں کریں
ان شاءاللہ تعالی ایک دو سال میں آپ ایک اچھے عالم ہوں گے ،آپ کے علم فضل کا چرچا ہونے لگے گا ،آٹھ دس سال میں آپ ایک منجھے مجھائے عالم دین شمار ہونگے
کچھ لوگ صرف یوٹوب سن کر تقریر کرتے ہیں وہ اپنے علمی مستقبل کو تاریک میں دھکیل رہے ہیں۔

About ہماری آواز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے