پولیس کسٹڈی میں مرتي انسانیت اعدا و شمار!!!

تحریر: محمد زاہد علی مرکزی کالپی شریف
چئیرمین: تحریک علمائے بندیل کھنڈ
رکن: روشن مستقبل دہلی

18 مئی 2021 : ہریانہ کے میوات میں آصف نامی خوبرو جوان کو کئی شر پسندوں نے مل کر گولی مار دی، یہ جوان جم ٹرینر تھا اس لیے اس سے سیدھا مقابلہ کرنے کی بجائے اس کی گاڑی کو نشانہ بناکر کئی ٹکر مارے اور پھر اسے گولی ماردی، ساتھ میں اس نوجوان کے بھائی کو بھی مارا پيٹا، اور مردہ سمجھ کر چھوڑ گئے.
20 مئی 2021 : فیصل نامی 17 سالہ نوجوان کو قصبہ بانگر مؤ (اناؤ ،یوپی)میں لاک ڈاؤن کے دوران پولیس نے سبزی بیچتے ہوے پکڑا اور اس قدر زدو کوب کی اس کی موت ہوگئی، پہلے پولیس نے جھوٹ بولا کہ اس لڑکے کی موت پٹائی سے نہیں بل کہ ہرٹ اٹیک(Heart Attack) سے ہوئی ہے لیکن پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد اناو کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ پولیس (اے ایس پی) ششی شیکھر سنگھ نے ہفتے کے روز کہا کہ اگرچہ اس وقت میرے پاس کوئی رپورٹ نہیں ہے۔ تاہم موصولہ معلومات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ متوفی کے جسم پر چوٹ کے نشانات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سر کی چوٹ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ جوتے کے مارے جانے کی وجہ سے تھے.

22 مئی 2021 : بریلی : حال میں ختم ہوے گرام پنچایت الیکشن میں حافظ اسحاق صاحب منتخب ہوے تھے، یہی چیز سنگھی ذہنیت کے لوگوں کو پسند نہ آئی کہ ایک مسلم کیسے پردھان بن گیا، حافظ صاحب بائک سے دوا لے کر اپنی اہلیہ اور بہن کے ساتھ گاؤں واپس آرہے تھے کہ تبھی گاؤں کے شر پسندوں نے حملہ کیا اور تابڑ توڑ فائرنگ کرکے انھیں شہید کردیا.
مذکورہ واقعات گزشتہ چار روز کے درمیان ہوے ہیں اس لیے ہم نے ذکر کردیے ہیں، ہمارا مقصد پولیس حراست میں ہوئی موتوں کا تجزیہ کرنا ہے تاکہ قارئین کو یہ معلوم ہو سکے کہ بھارت میں پولیس فورس، نیم فوجی دستے اور اہم عہدوں پر تعینات لوگ قانون کا کس قدر غلط استعمال کرتے ہیں، سرحدی علاقوں، آسام، کشمیر، چھتیس گڑھ وغیرہ میں کتنے ان کاؤنٹر فرضی ہوتے ہیں یہ تو آئے دن اخباروں کی سرخیوں سے ظاہر ہوتا رہتا ہے، لیکن پورے ملک میں یہ کام کس قدر ہوتا ہے یہ بھی دیکھتے چلئے.
New Delhi: The National Human Rights Commission (NHRC) has sought reports from the police of eight states on how they acted on a complaint by the Commonwealth Human Rights Initiative which alleged that 15 people had died of police beating or caning or in police custody during the first couple of months of the COVID-19-induced lockdown.(16 June, 2020, the wire )
نئی دہلی: نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی) نے آٹھ ریاستوں کی پولیس سے یہ رپورٹ طلب کی ہے کہ انہوں نے دولت مشترکہ ہیومن رائٹس کی شکایت پر کیا عمل کیا جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ پولیس کی مار پیٹ یا کیننگ سے یا پولیس تحویل میں 15 افراد کی موت ہوئی تھی۔ یہ رپورٹ کورونا کے شروعاتی دو مہینوں پر مبنی لاک ڈاؤن کی ہے ۔
يعني شروعاتی دو مہینوں میں ہی پولیس کی پٹائی اور حراست کے دوران کافی موتیں ہوئی ہیں.

گاندھی نگر گجرات : گجرات ودھان سبھا میں گجرات کے وزیر اعلی ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں "گجرات میں گذشتہ دو سالوں میں پولیس کی تحویل میں 130 سے ​​زیادہ افراد کی موتیں ہوئی ہیں” .
(18 جولائی 2019)

یہ اعداد و شمار 2017 سے 2019 کے ہیں، اب ذرا انڈیا کے مشہور اخبار دی ہندو (The Hindu) کی رپورٹ بھی ملاحظہ فرمائیں.

27 جون 2020 : اخبار لکھتا ہے
"A total of 1,731 people died in custody in India during 2019. This works out to almost five such deaths daily, according to a report by a rights group released on Friday.

Timed with the International Day in Support of Victims of Torture, ‘India: Annual Report on Torture 2019’ said 1,606 of the deaths happened in judicial custody and 125 in police custody.
جمعہ کو جاری ہونے والی رپورٹ سے ظاہر ہے کہ انڈیا میں حراست کے دوران 2019 میں ایک ہزار سات اکتیس (1731)موتیں ہوئی ہیں،اس لحاظ سے ہر روز انڈیا میں پانچ لوگ حراست میں مرتے ہیں.
تشدد کے شکار متاثرین کی حمایت میں عالمی دن کے موقع پر انڈین سالانہ رپورٹ برائے تشدد 2019′ میں بتایا گیا ہے کہ ہلاکتوں میں سے 1،606 عدالتی تحویل اور 125 پولیس تحویل میں ہوئی ہیں۔

یہ موتیں کیسے ہوتی ہیں آپ اسے جان کر یقینا کانپ اٹھیں گے اور یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ آخر چھوٹے جرم کرنے والوں کے ساتھ بھی پولیس کیسا سخت رویہ استعمال کرتی ہے، اخبار سزا کے طریقوں کو لکھتا ہے

"included hammering iron nails in the body (Gufran Alam and Taslim Ansari of Bihar), applying roller on legs and burning (Rizwan Asad Pandit of Jammu and Kashmir), falanga’ wherein the soles of the feet are beaten (Rajkumar of Kerala), stretching legs apart in opposite side (Rajkumar of Kerala), and hitting in private parts (Brijpal Maurya and Lina Narjinari of Haryana),” said NCAT director Paritosh Chakma.

2019 میں استعمال ہونے والے اذیت کے طریقوں میں جسم میں ہیمر مشین کا استعمال کرنا، ناخون اکھاڑنا ( بہار کے غفران عالم اور تسلیم انصاری) ، ٹانگوں پر رولر لگانا اور جلانا (جموں و کشمیر کے رضوان اسد پنڈت) ، ‘فلنگا’ ’جس میں پیروں کے تلووں کو پیٹا جاتا ہے (کیرالہ راجکمار) ، ٹانگیں مخالف سائیڈ (کیرالا کے راجکمار) میں کھینچتے ہیں ، اور مخصوص حصوں میں مارتے ہیں. (ہریانہ کی برجپال موریہ اور لینا نرجنری)
( این سی اے ٹی کے ڈائریکٹر پریتوش چکما)

اخبار آگے لکھتا ہے
"The other methods of torture included electric shock, pouring petrol or applying chilli powder on private parts, beating while handcuffed, pricking body with needles, branding with a hot iron rod, beating after stripping, urinating in mouth, inserting a hard blunt object into anus, beating after hanging upside down with hands and legs tied, forcing to perform oral sex, pressing finger nails with pliers, beating with iron rods after victim is suspended between two tables with hands and legs tied, and kicking the abdomen of a pregnant woman”.(The Hindu 27 June ،2020)

تشدد کے دیگر طریقوں میں بجلی کا جھٹکا ، پٹرول ڈالنا یا مرچ کا پاؤڈر مخصوص حصوں پر لگانا ، ہتھکڑیاں لگائے ہوئے پیٹنا ، جسم کو سوئیوں سے داغنا ، گرم لوہے کی چھڑی سے داغنا ، پٹی اتارنے کے بعد پیٹنا ، منہ میں پیشاب کرنا ، کسی سخت کند شے کو مقعد(پاخانہ کے مقام) میں داخل کرنا شامل ہیں۔ ہاتھوں اور پیروں کو باندھ کر الٹا لٹکانے کے بعد پیٹنا ، زبانی جنسی فعل کرنے پر مجبور کرنا ، انگلی کے ناخنوں کو پلاس سے دبانا، کھینچنا، مجرم کو لوہے کی سلاخوں سے پیٹنا جب دو ٹیبلوں کے بیچ ہاتھ اور پیر بندھے ہوئے ہوں، اور حاملہ عورت کے پیٹ پر لات مارنا شامل ہیں۔

لاک ڈاؤن کے دوران پولیس کی ایک اور کارروائی.

On June 19, P. Jeyaraj (58), and his son Bennix (38), were arrested for allegedly violating the lockdown rules of the state by keeping their store open past the allowed hours in Tamil Nadu. Two days later, they died of police brutality. The growing outrage on social media over the deaths of Jeyaraj and Fenix put a massive spotlight on custodial deaths…(the wire 14 June 2020)

19 جون کو ، پی جیاراج (58) اور اس کے بیٹے بینکس (38) کو ریاست کے لاک ڈاؤن قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا کیوں کہ انہوں نے تامل ناڈو میں مشروط گھنٹوں سے زیادہ اپنے اسٹور کو کھلا رکھا ہوا تھا۔ دو دن بعد ، وہ پولیس کی بربریت سے فوت ہوگئے۔ جیراج اور فینکس کی اموات پر سوشل میڈیا پر بڑھتے ہوئے غم و غصے نے حراستی اموات پر بڑے پیمانے پر بحث شروع ہوگئی.
10 جنوری 2021 : بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں زیر حراست ملزم دھرمیندر ماجھی کی موت کے بعد اتوار کی صبح کنبہ کے افراد اور دیہاتیوں کا غصہ بھڑک اٹھا۔ متحرک اور دیہی شاہراہ پر اتر آئے۔ اس کے بعد ، ٹائر جلانے سے شاہراہ راستہ بند ہوگیا۔ صرف یہی نہیں ، مشتعل لوگوں نے گوریچک پولیس اسٹیشن کا گھیراؤ کیا اور سڑک جام کرکے آگ زنی کی جس کی وجہ سے تھانہ کے احاطے میں کھڑی بہت سی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ لواحقین کا کہنا تھا کہ دھرمیندر ماجھی کی پولیس کی پٹائی کی وجہ سے موت ہوگئی.
پولیس ٹارچر پر سپریم کورٹ کئی بار سخت کارروائی کی ہدایات جاری کر چکا ہے پر پوليس سب کچھ من مانے طریقے پر ہی کرتی ہے اور اسکی پر کاربند ہے،پولیس من مانی کی یہ رپورٹ بھی دیکھیے، 30 جون 2020 کو دی وائر ہندی کی یہ خبر چونکانے والی ہے.

…. 2011 में पृथीपाल सिंह इत्यादि बनाम स्टेट ऑफ पंजाब के केस में सुप्रीम कोर्ट की डिवीज़न बेंच ने पुलिस अत्याचारों की फिर से कठोर भर्त्सना की.

इस केस में पंजाब पुलिस द्वारा आतंकवाद विरोधी अभियान के नाम पर कम से कम 2,097 लोगों को टॉर्चर के बाद निर्मम हत्या करके शवों को जला देने की पुष्टि हुई थी.(द वायर हिन्दी)
پولیس اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے ساتھ ظلم کرتی ہے اور پھر سب کو مارکر جلا دیا جاتا ہے.
22 مئی 1987 کو بھی پی اے سی نے 42 مسلم نوجوانوں کو قتل کردیا تھا، جنھیں وہ پکڑ کر لائے تھے.

گزشتہ 10 سالوں میں، پولیس کی حراست میں 1004 موتیں ہوئی ہیں (69٪) بیماری، طبعی، جلد علاج نہ ملنے اور دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ہوئی ہیں، بقیہ کی وجہ تشدد ہے.

15 جون 2013 The times of India کی رپورٹ کے مطابق 2001 سے 2010 تک پولیس اور جوڈیشیل کسٹڈی میں 14,231 موتیں ہوئیں تھیں یعنی ہر چوتھے روز حراست میں ایک موت ہوئی ہے.

پولیس ظلم کیوں کرتی ہے اس پر ایک رپورٹ کا کچھ حصہ دیکھیں اور فیصلہ کریں.

पुलिस अत्याचार का मनोवैज्ञानिक विश्लेषण

पुलिस के द्वारा टॉर्चर करने के तीन मनोवैज्ञानिक कारण हैं. पहला ये कि पुलिस वालों को निरीह या कमजोर लोगों को पीट कर अपनी वर्दी की ताकत का एहसास होता है और अहम तुष्ट होता है.

दूसरा उनका सैडिज़्म या सेक्सुअल सैडिज़्म से पीड़ित होना है.

तीसरा, सत्ता से जुड़े होने के कारण पुलिसवाले मान लेते हैं कि वे जिन्हें प्रताड़ित करते हैं, वे इतने तुच्छ प्राणी होते हैं कि उनके विषय में किसी प्रकार के अपराधबोध से ग्रस्त होने की ज़रूरत नहीं.

आप इस मनोवृत्ति पर आश्चर्य न करें. यह मनोवृत्ति अपराधियों में अक्सर पाई जाती है. लेस्ली उडविन नाम की ब्रिटिश महिला फिल्म निर्माता (‘इंडियाज़ डॉटर’ की निर्माता) ने तिहाड़ जेल में निर्भया कांड के अभियुक्त मुकेश के अलावा एक और कैदी गौरव से भी बात की थी.

उसने एक पांच साल की बच्ची का बलात्कार और हत्या की थी. उडविन ने उससे पूछा कि वह ऐसा कैसे कर पाया. उस पर उसने उडविन को यूं देखा कि क्या बेवकूफी का सवाल पूछ रही है.

उसने जो जवाब दिया वो आपको स्तब्ध कर देगा, ‘वो एक भिखारिन लड़की थी. उसकी ज़िंदगी का क्या महत्व है भला?’

यही मानसिकता टॉर्चर करने वाले पुलिसवालों में पाई जाती है. उनके विचार से गरीब, असहाय, पिछड़े, दलित, और मुसलमान या अन्य अल्पसंख्यक ‘ह्यूमन’ न होकर उससे कम ‘सब-ह्यूमन’ होते हैं, जिनके साथ बेझिझक अत्याचार किया जा सकता है. (द वायर हिन्दी)

About ہماری آواز

Check Also

جمہوریت ہے پھر بھی مسلمانوں کی سیاسی شناخت گم!!

تحریر: جاوید اختر بھارتی[email protected] ہندوستان کی آزادی کی 75 ویں سالگرہ منائی گئی یعنی ملک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے