آدابِ بارگاہِ رسالت مآبﷺ (قسط نمبر 7)

ازقلم : ابوحامد محمد شریف الحق رضوی ارشدی مدنی کٹیہاری
امام وخطیب نوری رضوی جامع مسجد وخادم دارالعلوم نوریہ رضویہ رسول گنج عرف کوئلی ضلع سیتامڑھی بہار انڈیا

حضور اقدس رحمتِ عالم نورِمجسم احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بلانے پر حاضری کا حکم
آیۂ کریمہ
يٰا ايها الذين امنو ااستجيبوا لله وللرسول اذا دعاكم لما يحييكم –
(پارہ ‘ 9/ سورۂ انفال ‘ رکوع ‘ 17/ آیت ‘ 24/)
ترجمہ : اے ایمان والو! اللہ اور رسول کے بلانے پر حاضر ہو ‘ جب رسول تمہیں اس چیز کے لیے بلائیں جو تمہیں زندگی بخشےگی – (کنزالایمان)
اس آیتِ کریمہ سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا بلانا اللہ عزوجل ہی کا بلانا ہے بخاری شریف میں حضرت سعید بن معلیٰ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں نماز پڑھتا تھا کہ مجھے رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پکارا میں نے جواب نہ دیا پھر میں نے حاضرِ خدمت ہوکر عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں نماز پڑھ رہا تھا تو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ اللہ ورسول (عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) کے بلانے پر حاضر ہو ایسا ہی دوسری حدیث میں ہے کہ حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز پڑھتے تھے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے انھیں پکارا انھوں نے جلدی نماز تمام کرکے سلام عرض کیا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا تمھیں جواب دینے سے کیا بات مانع ہوئی عرض کیا حضور میں نماز میں تھا تو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے قرآن پاک میں یہ نہیں پایا کہ اللہ ورسول (عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے بلانے پر حاضر ہو ‘ عرض کیا بےشک آئندہ ایسا نہ ہوگا –
(خزائن العرفان ملخصًا )
غور کرنے کا مقام ہے کہ حضرت ابی ابن کعب اور حضرت سعید ابن معلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو جب حضور اقدس رحمتِ عالم نورمجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پکارا تو وہ کسی دنیاوی کام میں مصروف نہ تھے بلکہ ایمان کے بعد سب سے اہم ترین عبادت نماز میں مصروف تھے – مگر – اللہ تعالیٰ نے یہ خصوصیت اپنے رسولِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو عطا فرمائی کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی پکار اللہ عزوجل کی پکار ہے – لہذا عین حالت نماز میں اگر رسولِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پکاریں تو فورًا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی پکار پر حاضر ہونا ضروری ہے – علماء کرام نے اس ذیل میں یہ مسئلہ بھی بیان فرمایا کہ حالتِ نماز میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی پکار پر حاضر ہونے والا نماز ہی میں مانا جاتا ہے – اس لیے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں حاضری کے بعد واپسی پر از سر نو نماز ادا کرنے کے بجائے وہ بقیہ رکعتیں پوری کرےگا –
اعلیٰ حضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں
اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے

About ہماری آواز

Check Also

آدابِ بارگاہِ رسالت مآبﷺ(قسط نمبر 9)

از قلم : ابوحامد محمد شریف الحق رضوی باعثِ ایجادِ عالم ‘شہنشاہِ دوعالم ‘ حضور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے