فقہی اصول وضوابط اورکلامی مسائل۔

تحریر : طارق انور مصباحی

(1)فقہی اصول وضوابط سے کلامی مسائل کا حل نہیں ہوسکتا۔اصول فقہ میں بیان کردہ اکثراصول وضوابط کا تعلق قیاس واجتہاد سے ہے۔ہر مجتہد مطلق قرآن وسنت اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے طریق متوارث سے اپنے اجتہاد وقیاس کے لیے اصول وضوابط کو اخذکرتے ہیں۔

فقہی اصول وضوابط میں مذہب اسلام کے بعض عام قوانین بھی ہوتے ہیں۔ان کا تعلق خاص کر اجتہادی مسائل سے نہیں ہوتا،مثلاً اصول فقہ میں بیان کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید کی مفسر آیت مقدسہ کے معنی کا انکار کرنے والا کافر ہے۔

یہ مذہب اسلام کا عام قانون ہے۔ قرآن مجید کی مفسر آیت طیبہ کا معنی کسی عملی وفقہی مسئلہ کو بتائے،یا کسی اعتقادی مسئلہ کو، ہر صوورت میں اس کے معنی کا انکار کفر ہے۔

یہ بھی خیال رہے کہ فقہ کے تمام قواعد، کلیہ نہیں ہوتے،بہت سے قواعد،اکثریہ ہوتے ہیں،گرچہ ان کوبھی قواعد کلیہ کہا جاتا ہے۔علم کلام کے قواعد، کلیہ ہوتے ہیں۔جو حکم سے مستثنی ہو، وہ قاعدہ کے تحت درج نہیں ہوتے۔

(2)اصول فقہ کے وہ اصول وقوانین جو خاص کر اجتہادی وقیاسی مسائل کے لیے مدون ہوئے ہیں۔ان سے کلامی مسائل کا حل غلط ہے۔ کلامی مسائل کے اصول وضوابط جدا گانہ ہیں۔

ماضی قریب میں کتھائی مجلس کے فیصلے میں دو عظیم فقہائے اسلام نے فقہی اصول وضوابط میں سے خاص کر ان اصول وضوابط کا استعمال کیا ہے جن کا تعلق اجتہاد وقیاس سے ہے۔ جب کہ باب اعتقادیات میں ”قیاس“دلیل شرعی نہیں۔ فقہ کے چار اصول ہیں۔ قرآن وسنت اور اجماع وقیاس۔ عقائد کے بھی چار اصول ہیں۔ قرآن وسنت اوراجماع وعقل صحیح۔ باب اعتقادیات میں ”قیاس“دلیل شرعی نہیں۔

استعمال کردہ فقہی اصول وضوابط

(الف) (ان تعلیق الحکم بالمشتق یؤذن بعلیۃ مبدأ الاشتقاق)
(غمز عیون البصائر:جلد دوم:ص87)

تر جمہ: مشتق پر کسی حکم کا معلق کیا جانا مبدائے اشتقاق کی علیت کی خبر دیتا ہے۔
(ب)(المسلم ان الماخذ یکون علۃ للحکم)
(فواتح الرحموت:جلد دوم:ص215)

ترجمہ: یہ بات مسلم ہے کہ ماخذ حکم کی علت ہوتا ہے۔
(ج)(ان النسبۃ الی المشتق تدل علی علیۃ الماخذ)(توضیح:ص89)

ترجمہ: مشتق کی طرف حکم کی نسبت اس بات پردال ہے کہ ماخذحکم کی علت ہے۔

منقولہ بالا اصول وضوابط کا تعلق اجتہادی مسائل سے ہے۔ مجتہدین کرام منصوص مسائل کی علت کے ذریعہ غیر منصوص فقہی مسائل کوحل فرماتے ہیں۔
مذکورہ بالا فقہی اصول کی روشنی میں یہ بتایا گیا کہ معبود ان باطل کی تعریف وتو صیف پر شرعی حکم اس وقت وارد ہوگا، جب معبود ہونے کی حیثیت سے اس کی تعریف وتنقیص ہو۔

اب ان فتاویٰ کی روشنی میں کوئی دیوبندی کہے کہ جب حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تنقیص وتوہین رسول ونبی ہونے کی حیثیت سے کی جائے،تب حکم کفر ہوگا۔ اگر قبیلہ بنی ہاشم کے ایک فرد ہونے کی حیثیت سے تنقیص کی جائے تو کفرنہیں،بلکہ حرام ہے۔

اس دیوبندی کوکیا جواب دیا جائے؟

اگر کوئی قادیانی کہے: ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے

علمائے اہل سنت فرمائیں کہ کسی غیر نبی کو نبی سے افضل ماننا کفر ہے۔ اب قادیانی مذکورہ فتاویٰ کو دکھائے اور کہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃوالسلام کے نبی ہونے کی حیثیت سے کسی غیر نبی کو ان پر فضیلت دی جائے،تب کفر ہے۔ہم نے حضرت مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فرزندہونے کی حیثیت سے ان پر مرزا غلام احمد قادیانی کو فضیلت دی ہے۔

اس قادیانی کو کیا جواب دیا جائے؟

(3)مسلمین ومشر کین کی تعظیم وتنقیص میں حیثیتوں کا اعتبار ہے۔ اسی پر قیاس کرکے معبودان کفار میں بھی حیثیتوں کا اعتبارکر لیا گیا، حالاں کہ اعتقادی مسائل میں قیاس جاری نہیں ہوتا۔”مومن بہ“ اور ”غیرمومن معبودان کفار“میں حیثیت کا اعتبار نہیں۔

(4)کفار ومشرکین نے بعض مومنین صالحین اور بعض انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلا م کو بھی معبود بنالیا ہے۔ ان نفوس قدسیہ پر غیر مومن معبودان کفار کوقیاس کر لیا گیا، حالاں کہ یہ نفوس قدسیہ آیت مقدسہ(للّٰہ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین)(سورہ منافقون:آیت 08) کے سبب حکم سے مستثنی ہیں۔اعتقادی مسائل میں قیاس جاری نہیں ہوتا۔

اگر کوئی شخص حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی تنقیص نبی ورسول ہونے کی حیثیت سے نہ کرے,بلکہ بنی اسرائیل کے ایک فرد ہونے کی حیثیت سے بے ادبی کرے تو حکم کفر ہو گا یا نہیں؟

(5)کسی کا تاریخی تذکرہ الگ ہے،اور تعریف وتوصیف الگ ہے۔

بوجہ ضرورت غیر مومن معبودان کفارکے حقیقی حالات کا بیان الگ ہے، اور انہی واقعات کو تعریف وتو صیف کی صورت میں بیان کرنا الگ ہے۔

اگر کوئی شخص حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے کسی واقعہ صادقہ ثابتہ کوحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تنقیص کے طورپر بیان کرے تو ضرور حکم شرعی وارد ہوگا۔

طرز کلام میں حیثیتوں کا فرق معتبر ہے۔

(6)یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ممکن ہے کہ وہ معبودان کفار مومن ہوں۔ جواب یہ ہے کہ یہ فتاویٰ فقہائے کرام نے رقم فرمائے ہیں۔وہ فقہی اصول کو اس مقام پر کیوں ترک فر ما رہے ہیں؟ جب کہ فقہی اصول کی روشنی میں ہی فتویٰ رقم فرمایاجار ہا ہے۔

امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے رقم فرمایا:”احکام فقہیہ میں واقعات ہی کالحاظ ہوتا ہے،نہ احتمالات غیر واقعیہ کا۔بل صرحوا ان احکام الفقۃ تجری علی الغالب من دون نظر الی النادر۔بلکہ انھوں نے تصریح کی ہے کہ فقہی احکام کا مدار غالب امور بنتے ہیں،نادر امور پیش نظرنہیں ہوتے۔ت)“۔(فتاویٰ رضویہ جلد یازدہم:رسالہ ازالۃ العار:ص382-381-جامعہ نظامیہ لاہور)

کفار کے معبود مذکور سے متعلق واقعی حالت اورثابت شدہ حیثیت یہی ہے کہ وہ معبود کفارہے۔وہ اسی حیثیت سے متعارف ہے۔کفار اسے معبود ہی مانتے ہیں۔تاریخ اس کے وجود پرخاموش ہے۔ اس کے وجود پر کوئی تاریخی روایت موجود نہیں۔جب وجود ہی نامعلوم ہے تو مومن وموحد ہونا کیسے ثابت ہوگا۔ حکم کی بنیاد اسی حیثیت پر ہوگی، جو ثابت شدہ ہے۔

عقلی احتمال پر حکم کی بنیاد نہیں ہو گی۔ علم کلام میں بہت سے مسائل میں محض عقلی احتمال یعنی احتمال بعید(احتمال بلادلیل) معتبر ہے۔احتمال بعید کے سبب کفرکلامی کا حکم نہیں دیا جاتا ہے،لیکن کفر فقہی کا حکم ثابت ہوجاتا ہے۔ فقہائے کرام احتمال بعید یعنی احتمال بلا دلیل کوقبول نہیں فرماتے۔اسی طرح متکلمین احتمال بعید کی صورت میں ضلالت وگمرہی کا حکم دیتے ہیں، گر چہ کفر کلامی کا حکم نہیں دیتے،مثلاً کسی نے کسی ضروری دینی کا انکار نص (صریح متبین) کے طورپر کیا۔مفسر(صریح متعین)انکار نہیں ہے، پس یہاں عدم انکار کا احتمال بعید ہے۔

فقہائے کرام اس صورت میں کفرفقہی قطعی التزامی اجماعی کا حکم دیں گے،جیسا کہ اسماعیل دہلوی کے بیان حکم میں فقہائے کرا م کی اصطلاح کے مطابق ”الکو کبۃ الشہابیہ“ اور ”سل السیوف الہندیہ“میں رقم کیا گیا۔

متکلمین احتمال بعید کے سبب ضلالت وگمرہی کا حکم دیں گے،جیسا کہ ابن عبد الوہاب نجدی اور اسماعیل دہلوی کے بارے میں متکلمین اسلام نے گمراہ ہونے کا قول کیا۔

(7)اگر ہماری پیشانی میں کوئی زخم ہوجائے تو اس سے نجات پانے کے لیے آپریشن کرنا غلط نہیں۔اسی طرح کسی مسئلہ کی تغلیط الگ ہے اور تصحیح الگ ہے۔

امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے اسلاف کرام کے بیان کردہ بہت سے مسائل کی تصحیح فرمائی ہے۔(۱)القمع المبین لآمال المکذبین (۲)اجلی الاعلام ان الفتویٰ مطلقاعلی قول الامام، اور دیگر فتاویٰ ورسائل کو دیکھا جائے:وماتوفیقی الا باللہ العلی العظیم::والصلوٰۃوالسلام علٰی حبیبہ الکریم::واصحابہ وآلہ العظیم

About محمد نثار نظامی

Check Also

انسان: اللہ کی پسندیدہ ترین مخلوق

فوزیہ عرفان نوری انسان اللہ پاک کی بنائی ایک ایسی تخلیق ھے کہ جس پہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے