وعدہ پورا کرنا

ازقلم: عبدالحکیم،عبدالحکیم، رانچی

وعدہ یعنی ایسا کام جو ہم کسی کے کہنے پر کرنے کو کہیں کہ ہم کردیں گے وعدہ کہلاتا ہے اور اس کو پورا کرنا وعدہ کی پابندی کہلاتاھے
ہم ایک دوسرے سے جو وعدہ کرتے ہیں ہمیں انہیں پورا کرنا ہے
یقیناً ایسے وعدوں کی پابندی بہت ضروری ہے۔
اسلام میں وعدہ وفا کرنے کی سختی سے تاکید کی گئی ہے ۔

اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

وَأَوْفُواْ بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْؤُولًا ( اسراء 34)
اور تم وعدے کو پورا کرو بے شک وعدے کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

اور ارشاد فرمایا:

اور تم وعدہ کو پورا کرو جب تم وعدہ کرو۔

ایک جگہ ارشاد فرمایا:

اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں؟ اللہ کے ہاں یہ ناراضگی کے لحاظ سے بہت بڑی بات ہے کہ تم وہ بات کہو جو تم خود نہ کرو۔

رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات کے ذریعہ بھی ایفائے عہد کی اہمیت اور وعدہ خلافی کی برائی کو بیان فرمایا ہے:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس میں تین باتیں پائی جاتی ہوں وہ منافق ہے ،

1) جب بات کرے تو جھوٹ بولے،
2) وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے،
3) اگر امانت رکھی جائے تو خیانت کرے ۔
( بخاری و مسلم )
مسلم میں یہ الفاظ زیادہ ہیں خواہ وہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے اور خیال کرے کہ وہ مسلمان ہے۔

حضرت عبداللہ ابن عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
چار باتیں جس میں ہونگی وہ خالص منافق ہوگا اور جس میں کوئی ایک خصلت پائی جائے تو اس میں منافقت کی ایک خصلت ہوگی جب تک وہ اس کو ترک نہ کردے۔

1) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔
2) جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔
3) جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے۔
4) جب جھگڑا کرے توگالی گلوج پر اتر آئے۔

About ہماری آواز

Check Also

انسان: اللہ کی پسندیدہ ترین مخلوق

فوزیہ عرفان نوری انسان اللہ پاک کی بنائی ایک ایسی تخلیق ھے کہ جس پہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے