معبودان کفار اور شرعی احکام (قسط سوم)

تحریر : طارق انور مصباحی، کیرالہ

قسط اول تمہیدی بیان اور بحث اول وبحث دوم پر مشتمل ہے۔ قسط دوم میں بحث سوم،بحث چہارم وبحث پنجم ہے۔ قسط سوم میں بحث ششم ہے۔قسط سوم میں کفار کے قومی شعار ومذہبی شعار کی بحث ہے۔ عبادت کفاراور علامت کفر کابیان قسط چہارم میں ہے۔

بحث ششم:

کفار کے مذہبی اور قومی شعارکا بیان

کسی جماعت کے شعار کو اختیار کرنے کے سبب اس جماعت سے تشبہ ہوتا ہے۔
تشبہ کی دوقسمیں ہیں:(۱)لزومی (۲) التزامی۔تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔

اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیزنے رقم فرمایا:
”اقول:وباللہ التوفیق(میں اللہ تعالیٰ کی توفیق ہی سے کہتا ہوں: ت)اس جنس مسائل میں حق تحقیق وتحقیق حق یہ ہے کہ تشبہ دو وجہ پر ہے: التزامی ولزومی۔

التزامی یہ ہے کہ یہ شخص کسی قوم کے طرزووضع خاص اسی قصد سے اختیارکرے کہ ان کی سی صورت بنائے،ان سے مشابہت حاصل کرے،حقیقۃً تشبہ اسی کانام ہے:

فان معنی القصد والتکلف ملحوظ فیہ کما لایخفی(اس لیے کہ قصداورتکلف کے مفہوم کااس میں لحاظ رکھاگیاہے،جیساکہ پوشیدہ نہیں:ت)

اور لزومی یہ کہ اس کاقصد تومشابہت کانہیں،مگروہ وضع اس قوم کاشعارخاص ہورہی ہے کہ خواہی نخواہی مشابہت پیداہوگی۔التزامی میں قصد کی تین صورتیں ہیں:

اوّل: یہ کہ اس قوم کومحبوب ومرضی جان کر اُن سے مشابہت پسند کرے۔
یہ بات اگرمبتدع کے ساتھ ہو بدعت اور کفّار کے ساتھ معاذاللہ کفر۔
حدیث (من تشبہ بقوم فہو منھم)(جو کسی قوم سے مشابہت اختیارکرے تو وہ انہی میں سے شمارہوگا: ت)حقیقۃً صرف اسی صورت سے خاص ہے۔

غمزالعیون والبصائر میں ہے:(اتفق مشائخنا ان من رأی امرالکفارحسنا فقد کفر حتّٰی قالوا فی رجل قال:ترک الکلام عند اکل الطعام حسن من المجوس او ترک المضاجعۃ عندھم حال الحیض حسن فہوکافر)

(ہمارے مشائخ کرام کاا س پر اتفاق ہے کہ جو کوئی کافروں کے کسی کام کواچھا سمجھے تو وہ بلاشبہہ کافر ہو جاتاہے، یہاں تک کہ انہوں نے فرمایا کہ جوکوئی کھانا کھاتے وقت باتیں نہ کرنے کو اور حالت حیض میں عورت کے پاس نہ لیٹنے کو مجوسیوں اور آتش پرستوں کی اچھی عادت کہے تو وہ کافرہے:ت)

دوم: کسی غرض مقبول کی ضرورت سے اسے اختیارکرے۔ وہاں اس وضع کی شناعت اور اس غرض کی ضرورت کاموازنہ ہوگا۔اگرضرورت غالب ہوتو بقدرضرورت کاوقت ضرورت یہ تشبہ کفرکیا معنی، ممنوع بھی نہ ہو گا، جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مروی کہ بعض فتوحات میں منقول رومیوں کے لباس پہن کر بھیس بدل کر کام فرمایا، او ر اس ذریعہ سے کفار اشرار کی بھاری جماعتوں پرباذن اللہ غلبہ پایا۔

اسی طرح سلطان مرحوم صلاح الدین یوسف اناراللہ تعالیٰ برہانہ کے زمانے میں، جب کہ تمام کفار یورپ نے سخت شورش مچائی تھی، دوعالموں نے پادریوں کی وضع بناکر دورہ کیا اور اس آتش تعصب کوبجھادیا۔

خلاصہ میں ہے:(لوشد الزنار علٰی وسطہ ودخل دارالحرب لتخلیص الاساری لایکفر-ولودخل لاجل التجارۃ یکفر ذکرہ القاضی الامام ابوجعفر الاستروشنی)

(اگر کوئی شخص اپنی کمر میں زُنار باندھے او رقیدیوں کو چھڑانے کے لیے دارحرب میں داخل ہوتو کافر نہیں ہوگا،او راگر اس مدت میں تجارت کے لیے جائے توکافرہوجائے گا۔ امام ابو جعفر استروشنی نے اس کو ذکرکیاہے:ت)

ملتقط میں ہے:(اذا شد الزنار او اخذ الغل اولبس قلنسوۃ المجوس جادا اوھازلا یکفر-الا اذا فعل خدیعۃ فی الحرب)

(جب کسی شخص نے زُنار باندھا یاطوق لیا یا آتش پرستوں کی ٹوپی پہنی، خواہ سنجیدگی کے ساتھ یاہنسی مذاق کے طور پر تو کافر ہوگیا،مگرجنگ میں (دشمن کومغالطے میں ڈالنے کے لئے) بطورتدبیر اُکساکرے توکافرنہ ہوگا:ت)

منح الروض میں ہے:(ان اشد المسلم الزنار ودخل دار الحرب للتجارۃ کفر-ای لانہ تلبس بلباس کفر من غیر ضرورۃ شدیدۃ-ولا فائدہ مترتبۃ بخلاف من لبسھا لتخلیص الاساری علٰی ما تقدم)

(اگرمسلمان زنار باندھ کر دارالکفرمیں کاروبار کے لیے جائے توکافر ہوجائے گا، اس لیے کہ اس نے بغیر کسی شدید مجبوری کے اور بغیر کسی ترتب فائدہ کے لباس کفرپہنا(جو اس کے لیے روانہ تھا)بخلاف اس شخص کے جس نے قیدیوں کو آزاد کرانے کے لیے لباس کفر (برائے حیلہ)استعمال کیا،جیسا کہ پہلے ذکرہوا:ت)

سوم: نہ تو انہیں اچھاجانتا ہے نہ کوئی ضرورت شرعیہ اس پرحامل ہے،بلکہ کسی نفع دنیوی کے لئے یایوہیں بطورہزل واستہزا اس کامرتکب ہوا توحرام وممنوع ہونے میں شک نہیں۔

اور اگروہ وضع ان کفارکامذہبی دینی شعارہے جیسے زنّار،قشقہ،چُٹیا، چلیپا،تو علمانے اس صورت میں بھی حکم کفر دیا کماسمعت اٰنفا(جیسا کہ تم نے ابھی سنا:ت)،اور فی الواقع صورت استہزا میں حکم کفر ظاہرہے:کمالایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں:ت)

اور لزومی میں بھی حکم ممانعت ہے،جب کہ اکراہ وغیرہ مجبوریاں نہ ہوں جیسے انگریڑی منڈا،انگریزی ٹوپی،جاکٹ،پتلون،اُلٹاپردہ،اگرچہ یہ چیزیں کفار کی مذہبی نہیں،مگرآخر شعار ہیں تو ان سے بچنا واجب اور ارتکاب گناہ،ولہٰذا علمانے فسّاق کی وضع کے کپڑے، موزے سینے سے ممانعت فرمائی۔

فتاوٰی خانیہ میں ہے:(الاسکاف او الخیاط اذا استوجر علی خیاطۃ شیء من زی الفساق ویعطی لہ فی ذٰلک کثیر اجر لایستحب لہ ان یعمل لانہ اعانۃ علی المعصیۃ)

(موچی یادرزی فسّاق وفجّار کی وضع کے مطابق معمول سے زیادہ اُجرت پرلباس تیارکرے تو اس کے لیے یہ کام مستحب نہیں، اس لیے کہ یہ گناہ پر امداد واعانت ہے:ت)

مگر اس کے تحقق کو اس زمان ومکان میں ان کاشعار خاص ہونا قطعًا ضرور جس سے وہ پہچانے جاتے ہوں،اور ان میں اور ان کے غیر میں مشترک نہ ہو، ورنہ لزوم کا کیا محل۔ ہاں، وہ بات فی نفسہٖ شرعًا مذموم ہوئی تو اس وجہ سے ممنوع یامکروہ رہے گی، نہ کہ تشبہ کی راہ سے“۔(فتاوی رضویہ: جلد22:ص192-190-جامعہ نظامیہ لاہور)
(فتاویٰ رضویہ جلد نہم:حز اول: ص91-90-رضا اکیڈمی ممبئ)

قومی شعار ومذہبی شعارکی تشریح:

شعار اس امر کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعہ کسی جماعت کودوسری جماعتوں سے امتیازوتشخص حاصل ہوتا ہے،اور وہ جماعت دوسری جماعتوں سے ممتاز ہوجاتی ہے۔
کفار کے شعار میں بعض مذہبی شعار ہیں اور بعض قومی شعار ہیں۔ شعار کے ذریعہ اس جماعت کی پہچان ہوجاتی ہے کہ یہ کون سی جماعت ہے،اورجماعت کے ا فراد کی پہچان ہوجاتی ہے کہ یہ کس جماعت کا فرد ہے۔

بعض لباس،وضع اور رسوم ورواج کا تعلق طر ز معاشرت اورقومی سماج سے ہوتا ہے۔ ایسے امور قومی شعار کہلاتے ہیں، جیسے عہد ماضی میں انگریزی ٹوپی صرف انگریز پہنتے تھے۔ہاتھ جوڑ کر سلام کرنا ہنود کا طریقہ ہے۔کھاتے وقت چپ رہنا مجوسیوں کا طریقہ ہے۔

بعض وضع اور رسوم ورواج کا تعلق مذہب سے ہوتا ہے۔ اس کی بنیاد کوئی مذہبی عقید ہ یا مذہبی روایت ہوتی ہے،یا بانیان مذاہب کی یاد گار کے طورپر ان امور کو انجام دیا جاتا ہے، جیسے سکھوں کا اپنے ساتھ کرپان رکھنا۔نصاریٰ کا صلیب لٹکانا۔

نصاریٰ کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کوسولی دی گئی اور ان کی وفات ہوگئی۔یہ صلیب اسی سولی کی یاد گار ہے۔یہ عقیدہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

کفار کا مذہبی شعار کفر کومتضمن:

کفار کے مذہبی شعار میں کفر پایا جاتا ہے، کیوں کہ مذہبی شعاریہ متعین کرتا ہے کہ صاحب شعار یہودی،یا نصرانی یا مجوسی ہے۔ یہودی ونصرانی ومجوسی وغیرہ ہونا کفر ہے۔

کفارکا ہرمذہبی شعار ارشادالٰہی(ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ) (سورہ آل عمران:آیت85)کی مخالفت کومتضمن ہوتا ہے، کیوں کہ وہ مذہبی شعار مذہب غیر اسلام کو اختیار کرنے کی علامت ہوتا ہے، اور مذہب غیر اسلام کو اختیار کرنا کفر ہے۔

بعض مذہبی شعار میں مذکورہ عیب کے علاوہ دیگر ضروریات دین کی بھی مخالفت ہوتی ہے، مثلاً نصاریٰ کا مذہبی شعار صلیب لٹکاناہے۔اس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو سولی دی گئی۔ اس عقیدہ میں آیت قرآنیہ (وما قتلوہ وما صلبوہ) (سورہ نساء: آیت 157) کی صریح مخالفت ہے۔مذہبی شعار اسلام کی مخالفت یا اسلام کے کسی ضروری دینی کی مخالفت پر مشتمل ہوتا ہے،اس لیے مذہبی شعار کا حکم سخت ہے۔

کفار کے قومی شعار کی متعدد کیفیات

(1)کفارکابعض قومی شعار اسلامی اصول کے مطابق فی نفسہ جائز ہوتا ہے،مثلاً کورٹ، پتلون پہننے سے ستر پوشی ہوجاتی ہے،پس حکم شرع کی تکمیل ہوگئی، لیکن جس عہد میں یہ نصار یٰ کا خاص لباس تھا،اس وقت ناجائز ہونے کا فتویٰ تھا،کیوں کہ یہ نصاریٰ کا قومی شعار تھا۔اس کو پہننے سے نصاریٰ سے مشابہت ہوتی تھی،اسی مشابہت کے سبب عدم جواز کا فتویٰ تھا۔

(2) کفار کابعض قومی شعار اسلامی اصول کے اعتبارسے ناجائزو حرام ہوتاہے۔

اگرکفارکا قومی شعار فی نفسہ جائز ہو تو تشبہ بالکفارکی وجہ سے اس کو اختیار کرنا حرام و ناجائز ہے۔

اگر وہ فی نفسہ ناجائزوحرام ہو توتشبہ بالکفار کے سبب شناعت مزید بڑھ جاتی ہے۔

(3)جب کفارکے قومی شعار کی تحسین مقصود ہو،تب قومی شعار کو اختیار کرنا کفر ہو جاتا ہے، کیوں کہ کافر کے کسی فعل کی تحسین کفر ہے۔ کفار کے قومی شعار کوجب بطورتحسین اختیار نہ کرے،تب حکم کفر نہیں،لیکن شرعی ضرورت کے بغیراسے اپناناحرام وناجائز ہے۔

تشبہ بالکفار جس قدر خفیف ہوگا، اسی قدر حکم میں تخفیف ہوگی،مثلاً کورٹ پتلون پہنناگرچہ نصاریٰ کا قومی شعار تھا،لیکن دوسری قومیں بھی پہننے لگیں تو حکم میں تخفیف آگئی۔ جب یہ لباس بالکل عام ہوگیا کہ سب لوگ پہننے لگے تو حکم میں مزید تخفیف ہوگئی۔

فتاویٰ رضویہ کے منقولہ بالا اقتباس کی روشنی میں کفار کے مذہبی شعار وقومی شعار کے احکام کی تفصیل وتفہیم مندرجہ ذیل ہے۔حسب ضرورت دیگر عبارتیں بھی درج کی گئی ہیں۔

کفارکے قومی شعار کے احکام:

کفار کے قومی شعار کو اختیارکرنے کی پانچ صورتیں ہیں۔

پانچ صورتوں میں تشبہ التزامی کی تین صورتیں ہیں۔

(1)تشبہ التزامی کی پہلی صورت یہ ہے کہ کفار کے قومی شعار کو تحسین کی نیت سے اختیار کر ے۔یہ کفر ہے۔ کافر کے کسی خاص فعل کو اچھا سمجھنا کفر ہے،خواہ اسے اختیارکرے، یا نہ کرے۔

(2)تشبہ التزامی کی دوسری صورت یہ ہے کہ کسی شرعی ضرورت وحاجت کے سبب کفار کے قومی شعار کو اختیار کرے۔اس صورت میں ضرورت اور اس شعار کی شناعت کا موازنہ ہوگا۔ اگر ضرورت غالب ہوتو جواز کا حکم ہوگا۔

(3)تشبہ التزامی کی تیسری صورت یہ ہے کہ نہ اسے اچھا سمجھے،نہ کوئی دینی ضرورت و حاجت ہو،بلکہ دنیاوی نفع یا ہزل واستہزا ولہو ولعب کے طور پرکفار کے قومی شعار کو اختیار کرے تو یہ ناجائز وحرام ہے۔

(4) تشبہ التزامی نہ ہو،بلکہ لزومی ہو،یعنی شعار کفار سمجھ کر اسے اختیار نہ کرے توبھی ناجائز وممنوع ہے،کیوں کہ کفار سے مشابہت پالی گئی۔یہی مشابہت ممنوع ہے۔

(5)اگر جبرواکراہ کے سبب کفار کے قومی شعار کو اختیار کیا تو گناہ نہیں۔جبرواکراہ سے وہ جبر واکراہ مراد ہے جو شرعاً معتبر ہے۔جواکراہ شرعاً معتبرنہیں، اس کا اعتبار نہیں۔

کفارکے قومی شعارکو(۱)اچھا سمجھ کراختیا کیا توکفر (۲)بوجہ ضرورت اختیارکیا اور ضرورت غالب ہوتوجائز (۳)نفع دنیوی یا ہزل واستہزا کے طورپر اختیارکیاہوتو حرام (۴) تشبہ لزومی میں بھی عدم جوازکا حکم ہے(۵)جبرواکراہ کے سبب اختیار کیا توگناہ نہیں۔

کفار کے قومی شعار کی مذکورہ بالا پانچ صورتوں میں سے ایک صورت کفرکی ہے۔ ایک صورت جواز کی ہے۔ دوصورتیں عدم جواز کی ہیں۔جبر واکراہ کی صورت معاف ہے۔

قومی شعارمیں جواز ورخصت کی صورتیں

(1)اگر کفار کے قومی شعار کو کسی دینی ضرورت وحاجت کے سبب اختیار کیا تو دینی ضرورت وحاجت اور اس قومی شعارکی شناعت کا موازنہ ہوگا۔اگر ضرورت وحاجت غالب ہوتوجواز کا حکم ہوگا۔اگر ضرورت غالب نہ ہو، مثلاً اس کو اختیار کیے بغیر بھی کام آسانی کے ساتھ ہوسکتا ہے تو اسے اختیار کرنا جائز نہیں۔

سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ کے عہد میں دوعالموں نے پادریوں کا لباس پہن کر دورہ کیا۔ اگر دو عیسائیوں کو ہی اچھی اجرت دے کر پادری بنادیا جاتا تو بھی یہ فائدہ حاصل ہوسکتا تھا،لیکن یہ بھی خطرہ تھا کہ وہ عیسائی اپنی قوم سے مل کر اندرونی طورپر مسلمانوں کے خلاف سازش کردیں۔ ایسی صور ت میں مسلمانوں کا جانی ومالی نقصان ہوتا،پس ضرورت غالب ہوئی اور پادریوں کا لباس پہن کر دوعالموں نے دورہ کیا اور نصاریٰ کی سازش کو توڑ دیا۔

(2)اگر جبرواکراہ کے سبب کفار کے مذہبی شعار کو اختیار کیا تو گناہ نہیں۔جبرواکراہ سے وہ جبر واکراہ مراد ہے جو شرعاً معتبر ہے۔جواکراہ شرعاً معتبرنہیں، اس کا اعتبار نہیں۔

قومی شعار میں لزومی تشبہ کی مثال

(1)بھارت کے لوگ پیداہونے والے بچے کے سرپر چوٹی چھوڑدیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ بڑے پیرصاحب کی چوٹی ہے،اورایسی ہی مدارپیرصاحب کے نام کی چوٹی چھوڑتے ہیں،پھرمدت معہود کے بعد اسے پیرصاحب کی منت دے کر نہایت ادب کے ساتھ اپنی رسمیں پوری کرکے بچے کے بال منڈواتے ہیں۔بعض مسلمان بھی اسی طرح کر تے ہیں۔اس کا حکم مندرجہ ذیل ہے۔

اعلیٰ حضرت امام اہل سنت علیہ الرحمۃوالرضوان نے رقم فرمایا:”لڑکوں کے سرپر چوٹی رکھنی ناجا ئز، اورفعل مذکور رسوم ملعونہ کفار سے تشبہ ہے،جس سے احتراز لازم“۔
(فتاویٰ رضویہ جلد نہم:حصہ اول:ص54-رضا اکیڈمی ممبئ)

(2)بچوں کے سرپرکسی بزرگ کے نام کی چوٹی رکھناناجائز ہے۔

امام اہل سنت قدس سرہ نے رقم فرمایا:”مرد کے سرپرچوٹی رکھنا ویسے ہی حرام ہے۔

حضرت رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:(لَعَنَ اللّٰہُ المُشَبِّہَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ-وَ المُشَبِّہِینَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ)-رواہ الائمۃ احمد و البخار ی و ابو داؤدوالترمذی وابن ماجۃ عن ابن عباس رضی اللہ عنہما-وفیہ احادیث کثیرۃ بالغۃ حد التواتر۔

خصوصاً کسی کے نام کی چوٹی کہ رسوم کفارہنودسے ہے۔یونہی ڈوری،بدھی، کلاوہ بھی محض جہالت وبے اصل ہے۔(فتاویٰ رضویہ:جلد نہم: جزاول:ص211)

(3)امام اہل سنت قدس سرہ العزیزنے رقم فرمایا:”اور اگر وہ مقصود جو بعض جاہل عورتوں میں دستور ہے کہ بچے کے سرپر بعض اولیائے کرام کے نام کی چوٹی رکھتی ہیں،اور اس کی کچھ میعاد مقرر کرتی ہیں۔اس میعاد تک کتنے ہی بار بچے کا سرمنڈے، وہ چوٹی برقرار رکھتی ہیں،پھر میعاد گزار کر مزار پر لے جاکر وہ بال اتارتی ہیں تو یہ ضرور محض بے اصل اور بدعت ہے: واللہ تعالیٰ اعلم“۔(فتاویٰ افریقہ:ص 68)

توضیح:بعض مسلمان بھی اپنے چھوٹے بچوں کے سرپرلڑکیوں کی طرح چوٹی رکھتے ہیں،جیسے ہنود اپنے بچوں کے سرپر چوٹی رکھتے ہیں۔ہنود اپنے بتوں کے نام پر رکھتے ہیں اور مسلمان اولیائے کرام علیہم الرحمۃوالرضوان کے نام پر رکھتے ہیں، پھر خاص موقع پر اسے کٹواتے ہیں۔عورتوں کو بال بڑے رکھنے کا حکم ہے۔ مردوں کو عورتوں کی مشابہت ناجائز ہے،نیز اس فعل میں کفار کی ایک رسم سے بھی مشابہت ہے، اس لیے مزید شناعت بڑھ گئی، گرچہ یہاں کفارسے مشابہت مقصود نہیں،لیکن لزومی تشبہ موجود ہے۔

کفار کے مذہبی شعار کے احکام

کفار کے مذہبی شعار کو اختیارکرنے کی پانچ صورتیں ہیں۔
پانچ صورتوں میں تشبہ التزامی کی تین صورتیں ہیں۔

(1-2)مذہبی شعار میں تشبہ التزامی کی پہلی صورت اورتیسری صورت کفرہے۔

(الف)تشبہ التزامی کی پہلی صورت یہ ہے کہ کفار کے مذہبی شعار کو تحسین کی نیت سے اختیار کر ے۔یہ کفر ہے۔ کافر کے کسی خاص فعل کو اچھا سمجھنا کفر ہے،خواہ اسے اختیارکرے، یا نہ کرے۔

(ب)تشبہ التزامی کی تیسری صورت یہ ہے کہ نہ اسے اچھا سمجھے،نہ کوئی دینی ضرورت و حاجت ہو،بلکہ دنیاوی نفع یا ہزل واستہزا ولہو ولعب کے طور پرکفار کے مذہبی شعار کو اختیار کرے تو یہ بھی کفر ہے۔

امام اہل سنت امام احمدرضا قادری علیہ الرحمۃوالرضوان نے رقم فرمایا:”سوم: نہ تو انہیں اچھاجانتا ہے نہ کوئی ضرورت شرعیہ اس پرحامل ہے،بلکہ کسی نفع دنیوی کے لیے، یا یوہیں بطورہزل واستہزا اس کامرتکب ہوا توحرام وممنوع ہونے میں شک نہیں۔

اور اگروہ وضع ان کفارکامذہبی دینی شعارہے جیسے زنّار،قشقہ،چُٹیا، چلیپا،تو علمانے اس صورت میں بھی حکم کفر دیا کماسمعت اٰنفا(جیسا کہ تم نے ابھی سنا:ت)اور فی الواقع صورت استہزا میں حکم کفر ظاہرہے:کمالایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں:ت)“۔
(فتاوی رضویہ: جلد22:ص192-جامعہ نظامیہ لاہور)
(فتاویٰ رضویہ جلد نہم:حز اول: ص91-رضا اکیڈمی ممبئ)

(3)تشبہ التزامی کی دوسری صورت یہ ہے کہ کسی شرعی ضرورت وحاجت کے سبب کفار کے قومی شعار کو اختیار کرے۔اس صورت میں ضرورت اور اس شعار کی شناعت کا موازنہ ہوگا۔ اگر ضرورت غالب ہوتو جواز کا حکم ہوگا۔

(4) تشبہ التزامی نہ ہو،بلکہ لزومی ہو،یعنی شعار کفار سمجھ کر اسے اختیار نہ کرے توبھی ناجائز وممنوع ہے،کیوں کہ کفار سے مشابہت پالی گئی۔یہی مشابہت ممنوع ہے۔

(5)اگر جبرواکراہ کے سبب کفار کے مذہبی شعار کو اختیار کیا تو گناہ نہیں۔جبرواکراہ سے وہ جبر واکراہ مراد ہے جو شرعاً معتبر ہے۔جواکراہ شرعاً معتبرنہیں، اس کا اعتبار نہیں۔

کفارکے مذہبی شعارکو(۱)اچھا سمجھ کراختیا کیا توکفر (۲)بوجہ ضرورت اختیارکیا اور ضرورت غالب ہوتوجائز (۳)نفع دنیوی یا ہزل واستہزا کے طورپر اختیارکیاہوتو کفر (۴) تشبہ لزومی میں بھی عدم جوازکا حکم ہے(۵)جبرواکراہ کے سبب اختیار کیا توگناہ نہیں۔

کفار کے مذہبی شعار کی مذکورہ پانچ صورتوں میں سے دوصورت کفرکی ہے۔ ایک صورت جواز کی ہے۔ ایک صورت عدم جواز کی ہے۔جبر واکراہ کی صورت معاف ہے۔

مذہبی شعارمیں جوازورخصت کی صورتیں

(1)اگر کفار کے مذہبی شعار کو کسی دینی ضرورت وحاجت کے سبب اختیار کیا تو دینی ضرورت وحاجت اور اس شعارمذہبی کی شناعت کا موازنہ ہوگا۔اگر ضرورت وحاجت غالب ہوتوجواز کا حکم ہوگا۔

(2)اگر جبرواکراہ کے سبب کفار کے مذہبی شعار کو اختیار کیا تو گناہ نہیں۔جبرواکراہ سے وہ جبر واکراہ مراد ہے جو شرعاً معتبر ہے۔جواکراہ شرعاً معتبرنہیں، اس کا اعتبار نہیں۔

قومی شعار میں لزومی تشبہ کی مثال

صلیب پہننا نصاریٰ کا مذہبی شعار ہے۔کسی مسلمان کو یہ معلوم نہیں تھا۔اس نے اسے تعویذسمجھ کر گلے میں پہن لیا تو یہ ناجائز وحرام ہے۔

برصغیر کے علاوہ دیگر اقطار عالم میں جس مسلمان کومعلوم نہیں کہ قشقہ لگانا شعار ہنود ہے۔ اس نے ماتھے پر رنگ لگایا جو قشقہ کے مشابہ ہے تویہ تشبہ لزومی اورناجائز ہے۔

مذہبی شعاراورقومی شعار کے حکم میں فرق

تشبہ التزامی کی تیسری صورت میں قومی شعار اور مذہبی شعار کے حکم میں فرق ہے۔

اگرکفارکے قومی شعار کو دنیاوی نفع یاہزل واستہزاکے طورپر اختیار کیا تو حرام وناجائز ہے۔

اگر کفارکے مذہبی شعار کو دنیاوی نفع یاہزل واستہزاکے طورپر اختیار کیا تو یہ کفر ہے۔

امام اہل سنت امام احمدرضا قادری علیہ الرحمۃوالرضوان نے رقم فرمایا:”سوم: نہ تو انہیں اچھاجانتا ہے نہ کوئی ضرورت شرعیہ اس پرحامل ہے،بلکہ کسی نفع دنیوی کے لیے،یایوہیں بطورہزل واستہزا اس کامرتکب ہوا توحرام وممنوع ہونے میں شک نہیں۔

اور اگروہ وضع ان کفارکامذہبی دینی شعارہے جیسے زنّار،قشقہ،چُٹیا، چلیپا،تو علمانے اس صورت میں بھی حکم کفر دیا کماسمعت اٰنفا(جیسا کہ تم نے ابھی سنا:ت)اور فی الواقع صورت استہزا میں حکم کفر ظاہرہے:کمالایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں:ت)“۔
(فتاوی رضویہ: جلد22:ص192-جامعہ نظامیہ لاہور)
(فتاویٰ رضویہ جلد نہم:حز اول: ص91-رضا اکیڈمی ممبئ)

کب شعار کا حکم نافذنہیں ہوگا؟

ٌٌٌٌٌکسی قوم کے خاص مذہبی شعار کو دیگر قومیں اختیار نہیں کرتیں۔کسی جماعت کے قومی شعار کو کبھی دیگرقومیں بھی اختیار کرلیتی ہیں،کیوں کہ قومی شعار کا تعلق مذہب سے نہیں ہوتا، بلکہ رہن سہن،لباس ووضع،رسوم ورواج اور طرز معاشرت اورقومی سماج سے ہوتا ہے۔ جب کسی کافر قوم کا قومی شعار اس کے ساتھ خاص نہ رہے،بلکہ عام ہوجائے۔جس قوم کا وہ قومی شعارتھا،اس کے علاوہ دیگر قومیں بھی اسے اختیار کرلیں تو شعارکا حکم مرتفع ہوجاتا ہے۔

امام اہل سنت قد س سرہ القو ی نے رقم فرمایا:”مگر اس کے تحقق کو اس زمان ومکان میں ان کاشعار خاص ہونا قطعًا ضرور جس سے وہ پہچانے جاتے ہوں،اور ان میں اور ان کے غیر میں مشترک نہ ہو، ورنہ لزوم کا کیا محل۔ ہاں وہ بات فی نفسہٖ شرعًا مذموم ہوئی تو اس وجہ سے ممنوع یامکروہ رہے گی، نہ کہ تشبّہ کی راہ سے۔

امام قسطلانی نے مواہب لدنیہ میں دربارہ طیلسان کہ پوشش یہود تھی،فرماتے ہیں:

(اما ما ذکرہ ابن القیم من قصۃ الیہود فقال الحافظ ابن حجر:انما یصح الاستدلال بہ فی الوقت الذی تکون الطیالسۃ من شعارھم-وقد ارتفع ذٰلک فی ھذہ الازمنۃ فصار داخلا فی عموم المباح-وقد ذکرہ ابن عبدالسلام رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی امثلۃ البدعۃ المباحۃ)

(رہایہ کہ جوکچھ ابن قیم نے یہودیوں کاواقعہ بیان کیاہے تو اس بارے میں حافظ ابن حجر نے فرمایا کہ یہ استدلال اس وقت درست تھا، جب کہ مذکورہ چادر اُن کا(مذہبی)شعار ہواکرتی تھی، لیکن اس دَور میں یہ چیز ختم ہورہی ہے، لہٰذا اب یہ عموم مباح میں داخل ہے، چناں چہ علامہ ابن عبدالسلام رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو بدعت مباح کی مثالوں میں ذکر فرمایا ہے:ت)

امام اجل فقیہ النفس فخرالملۃ والدین قاضی خاں، پھر امام محمدمحمدمحمد ابن الحاج حلبی حلیہ شرح منیہ فصل مکروہات الصلوٰۃ،پھر علامہ زین بن نجیم مصری بحرالرائق،پھر علامہ محمد بن علی دمشقی درمختارمیں فرماتے ہیں:

(التشبہ باھل الکتاب لایکرہ فی کل شیء-فانا ناکل ونشرب کما یفعلون-ان الحرام التشبہ بھم فیما کان مذمومًا اوفیما یقصد بہ التشبہ)

(ہرچیز میں اہل کتاب سے مشابہت مکروہ نہیں جیسے کھانے پینے وغیرہ کے طور طریقے میں کوئی کراہت نہیں۔ان سے تشبہ ان کاموں میں حرام ہے جومذموم یعنی برے ہیں، یاجن میں مشابہت کاارادہ کیاجائے:ت)
(فتاوی رضویہ: جلد22:ص192-جامعہ نظامیہ لاہور)
(فتاویٰ رضویہ جلد نہم:حز اول: ص91-رضا اکیڈمی ممبئ)

جب کوئی امر فی نفسہ جائز ہو،لیکن وہ کسی کافرقوم کا قومی شعار بن جائے،اسی قوم کے ساتھ خاص ہوجائے، تب اس کو اختیار کرنا حرام و ناجائز ہے۔

جب وہ شعار نہ رہے،تب اس کو اختیار کرنا جائز ہے۔

اگر وہ امر فی نفسہ ناجائز ہے تو کسی قوم کا شعار ہو، یا نہ ہو۔اس کو اختیار کرنا ناجائزہی رہے گا۔کفار کے قومی شعار ہونے کے سبب مزید شناعت وقباحت بڑھ جائے گی۔

وضاحت:قسط چہارم میں کفارکی مذہبی عبادات،بتوں کی تعظیم وتکریم اور علامت کفر کی بحث ہے۔قسط اول وقسط دوم میں اس امر کی وضاحت ہے کہ غیر مومن معبودان کفار کی تعظیم وتوقیر میں حیثیتوں کافرق معتبر نہیں۔جس حیثیت سے بھی تعظیم ہو، وہ کفر ہی ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب والیہ المر جع والمآب

About ہماری آواز

Check Also

حضرت علامہ فضل حق خیرآبادی اور اسماعیل دہلوی

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ سوال اول: کیا حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی قدس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے