ملاقات کی بے اعتدالی

ازقلم: پٹیل عبد الرحمن مصباحی، گجرات (انڈیا)

ہم فکرِ رضا کے اس پہلو سے بھی واقف ہیں کہ ملّی ضرورت اور کفر کے خلاف تقویت کے لیے وقتی جزوی غیر اعتقادی معمولات کا راستہ موالات کے بغیر اختیار کیا جا سکتا ہے. جس کے جلوے ندوہ کی پہلی کانفرنس سے لے کر علی گڑھ کی نصابی کمیٹی تک بکھرے پڑے ہیں. یہ معمول حضرت حجۃ الاسلام بریلوی اور حضرت مجاہد ملت اڑیسوی کے احوال کا بھی جزوِ لاینفک رہا ہے. ہمارے اکابرین نے نہ تو کبھی مداہنت سے کام لیا ہے نہ ہی تنگ نظری کا مظاہرہ کیا ہے. بلکہ موقع، محل اور حَل کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیشہ محتاط، قابل عمل، ثمر آور اور بے ضرر؛ لائحہ عمل پیش کیا ہے. پھر اعتدال کے ساتھ اس پر عمل کر کے امت کو نفع بھی پہنچایا ہے. یقیناً دوسرے مکاتب فکر کے اصحابِ علم سے اکابرین کے بھی علمی و ملی تعلقات رہے ہیں مگر اپنے اعتقادی وقار اور مسلکی تصلّب کے ساتھ. گداگری و کاسہ لیسی کا یہ انداز کبھی کسی سنّی تو کجا کسی غیرت مند کا بھی نہیں رہا، جو آج کل سنیوں میں گھسے ہوئے کچھ کم ظرف مفاد پرست، شہرت پسند افراد نے بزعم خویش بہت باعلم اور ماہر تجربہ کار ہونے کی خوش فہمی میں اپنا رکھا ہے. فقہی فروعی اختلافات میں دوسروں کی رائے کا احترام کرتے ہوئے اپنے موقف میں شدت نہ برتنا اور اصولی و اعتقادی نزاع میں شدت کی حد تک تصلّب کا اظہار کرنا؛ یہی اصلِ اعتدال اور میانہ روی کا وسط ہے. دو میں سے کسی ایک کو بھی ترک کرنا اعتدال سے ہٹا کر افراط و تفریط میں مبتلا کر دے گا. وقت کی ستم ظریفی اور جدیدیت کے اثرات دیکھیے کہ استقامت رخصت ہو گئی، تصلّب معیوب ٹھہرا اور وسعت کے نام پر تساہل و مداہنت کو ہر دل عزیز سمجھا جا رہا ہے. طبیعت کا "خوش” اور چہرے کا "تر” ہونا شرعی توازن یا خوش اخلاقی نہیں بلکہ اللہ کے لیے محبت کے ساتھ اللہ کے لیے دشمنی اور اللہ کے لیے عطا کرنے کے ساتھ اللہ کے لیے منع کرنے کا بلند حوصلہ پیدا کرنا کمالِ ایمان ہے. یہ جو چند مسخرے؛ کامل ایمان والے اسلاف پر خندہ زن ہیں انہیں اپنے گریبان میں جھانک کر اپنے ایمان کا نقص تلاشنا چاہیے تاکہ خود خیر پائیں اور دوسرے شر سے محفوظ رہیں.
13.02.1443
20.09.2021

About ہماری آواز

Check Also

حضرت علامہ فضل حق خیرآبادی اور اسماعیل دہلوی

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ سوال اول: کیا حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی قدس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے