کچھ ماضی کے جھروکوں سے؛(قسط نمبر :1)

ازقلم::نازش المدنی مرادآبادی

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ وقت گزر جاتا ہے…..مگر اپنی یادوں کی سوغات چھوڑ جاتا ہے….. ہوتا کچھ یوں ہے کہ انسان اپنی میں گم ہو کر زندگی بسر کر رہا ہوتا ہے……اچانک اس کو ماضی سے وابستہ کچھ آثار نظر آتے ہیں….. اور وہ ماضی کے یادوں میں کھو جاتا ہے….. اور بس خیال ہی خیال میں وہ اس زمانہ میں واپس ہونا چاہتا ہے….. مگر حسرت کے سوا کچھ نہیں کر سکتا۔فقیر ہیچ مداں کے ماضی سے بھی چند اہم اور یادگار واقعات متعلق ہیں….. جو ذہن ودماغ میں بطریق احسن نقش ہیں……کل رات جب سونے کے لئے بستر پر لیٹا….. تو ماضی سے متعلق کچھ باتیں گردش کرنے لگیں…..سوچا کہ کیوں نا ان تمام احساسات اور واقعات کو منظر عام پر لا کر قارئین کی نذر مطالعہ کیا جائے…..یہ بات اس زمانہ کی ہے…..جب سیدی والد گرامی دام ظلہ العالی نے مکتب کی تعلیم لئے قریبی گاؤں(بھگت پور ٹانڈہ، ضلع مرادآباد) میں دار العلوم گلشن محمدی میں داخل کرایا….. خوش بختی کے معراج تو اس وقت ہوئی…… کہ جب معلوم ہوا کہ میرا انتخاب یادگار اسلاف ،صوفی باصفا، سعید ملت، استاذ العلماء حضرت مولانا حافظ وقاری سعید احمد سلامی ابراہیمی علیہ الرحمۃ والرضوان المعروف بڑے حافظ جی کی درس گاہ میں ہوا ہے…..خوشی کا باعث یہ بات بنی کہ حضرت وہ عظیم شخصیت تھی جن کو پورے علاقہ میں استاذ العلماء کی حیثیت حاصل تھی…. اور یہ حقیقت ہے کہ آج پورے علاقہ میں جو علم وعلماء کا فیضان نظر آ رہا ہے….. وہ حضرت حافظ صاحب قبلہ کی رہین منت ہے…… سینکڑوں علماء ومفتیان کرام اور حفاظ کے استاد ہیں….. بفضل اللہ تعالیٰ فقیر نے حضرت سے بغدادی قاعدہ کی تعلیم حاصل کی…..اور کچھ سورتوں کی مشق بھی کی…… حضرت حافظ صاحب قبلہ ایک انتہائی متقی وپرہیزگار شخصیت کے حامل تھے…. صاحب ترتیب تھے…..فنا فی الشیخ کی مرتبہ پر فائز تھے….. اپنے شیخ سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے…. سلسلہ نقشبندیہ میں قطب عالم شیخ المشائخ حضرت علامہ عبد السلام نقشبندی مجددی علیہ الرحمہ کے شہزادہ حضرت مخدوم المشائخ مرجع العلماء حضرت علامہ الشیخ ابراہیم نقشبندی مجددی قدس سرہ کے دست بافیض پر مرید تھے….. فقیر ایک مرتبہ حضرت سے ملاقات کے لئے گیا….. تو دوران گفتگو حضرت سے آپ کے مرشد برحق کے بابت سوال کیا…. تو حضرت فرمانے لگے وہ تو صاحب کشف اور دلوں کے حال جاننے والی شخصیت تھی…..پھر خود ہی ایک واقعہ بتانے لگے فرمایا: ایک مرتبہ میں اپنے شیخ کے ساتھ بھگت پور سے حضرت کے گاؤں بہادر گنج شریف جا رہا تھا….. رستہ میں دولپوری گاؤں سے نکل کر ڈھیلہ ندی پڑی….. جو بھر کر چل رہی میرے دل میں خیال آیا کہ یہ پھری ہوئی اس کو کس طرح پار کریں گے…..؟ بس خیال آنا تھا پیرو مرشد فرمانے لگے سعید ! فکر نہ کرو…..بس ایک کام کرو میرے پیچھے پیچھے چلتے رہو…… چنانچہ مرشد کے حکم کی اتباع کرتے ہوئے پیچھے پیچھے چلنے لگا….. جیسے ہی پیر ومرشد نے ندی میں قدم رکھا آناً فاناً پانی سے ایک راستہ بن گیا…. اور یوں میں نے پیرو مرشد کے ساتھ ندی کو پار کیا….. اور ہمیں پانی کا ایک قطرہ تک نہیں پہنچا….. اس واقعہ سے جہاں آپ کی کرامت معلوم ہوئی وہیں آپ کا کشف باطن کا بھی علم حاصل ہوا کہ حافظ صاحب کے فقط دل میں خیال آیا تھا…. اور آپ نے اس پریشانی کا مداوا بھی کر دیا۔
اسی طرح آپ سلطان الاولیاء حضرت سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ النورانی کے بھی انتہائی شیدا اور عاشق تھے…..اس کا اندازہ اس وقت ہوتا جب حضرت ہمارے غریب خانہ پر سالانہ عرس غوث اعظم کی تقریب پر تشریف لاتے اور خطاب فرماتے تو فقیر کا بارہا کا مشاہدہ جیسے ہی غوث پاک رضی الله عنہ کا نام مبارک آتا آپ کی آنکھیں نم ہو جاتی…..اور فرط محبت میں نعرہ غوثیت بلند کرتے۔
نمازوں کے آپ بہت سختی سے پابند تھے….. ہر نماز مسجد میں جاکر باجماعت ادا کرتے تھے….. حالانکہ ظاہری طور نابینا اور کمزور تھے مگر اس کے باوجود بھی نماز گھر ادا نہیں کرتے بلکہ مسجد میں ادائیگی کا التزام فرماتے…..حضرت حافظ صاحب قبلہ اگرچہ ظاہری آنکھوں سے نابینا تھے مگر نور باطنی بہت تیز تھی….. حضرت کا کوئی بھی شاگرد اگر جاکر سلام ومصافحہ کرتا……تو فوراً نام لے کے مخاطب ہوتے فقیر کا خود کا بارہا کا مشاہدہ ہے….. کہ جب بھی فقیر حضرت سے ملاقات کے لئے جاتا جیسے ہی سلام کرتا آواز سنتے ہی فوراً پہچان لیتے اور فرماتے "مولانا فراست کے صاحبزادہ غلام سبحانی ہو؟” (نازش مرادآبادی فقیر کا تخلص ہے)
گزشتہ دو سال قبل جب حضرت سے ملاقات کے لئے گیا….. تو معلوم ہوا کہ حضرت مسجد میں نماز عصر ادا کرنے گئے ہوئے ہیں….. مسجد میں گیا تو دیکھا کہ سارے نمازی چلیں گئے ہیں….. مگر حضرت نوافل اداکرنے میں مصروف ہیں….. تو فی الفور یہ حدیث قدسی ذہن میں گردش کرنے لگی جس میں فرمایا گیا:( عبدی یتقرب الیّ بالنوافل… إلخ) (بخارى)
یعنی میرا بندہ نوافل سے میرا قرب حاصل کرتا ہے۔
اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ علیہ الرحمہ اللہ کے مقرب بندے تھے۔
دوسری حدیث مبارکہ میں آتا ہے (سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ : الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ رَبِّهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ… إلخ) بخارى
ترجمہ: سات لوگ ایسے ہیں جو قیامت کے دن عرش کے سایہ تلے ہوں گے جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا منصف بادشاہ، وہ نوجوان جو جوانی میں اپنے رب کی عبادت میں لگ گیا ، اور وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہے۔
مختصر یہ کہ میں مسجد میں ایک طرف کھڑا انتظام کرنے لگا….. حضرت جب نماز سے فارغ ہوئے….. تو فقیر نے آگے بڑھ کر سلام ومصافحہ کیا….. ساتھ کچھ مٹھائی بھی لے گیا تھا….. حضرت کو پیش کی…… تو فرمانے لگے: بیٹا غلام سبحانی! مٹھائی تو میں کھاتا نہیں ہوں….. میں نے عرض کی حضورسنت کی نیت سے مختصر تناول فرما لیجیے….. تو حضرت نے کچھ تناول فرمایا….. پھر حضرت نے دریافت کیا کہ تعلیم کہاں تک پہنچی؟ تو عرض کیا حضور ابھی سادسہ میں ہوں (بس دعا فرما دیں کہ خیر وعافیت سے درس نظامی کی تکمیل ہو جاے) یہ سن کر حضرت دعا دینے لگے…..اور پھر برادر گرامی مولانا غلام جیلانی صاحب کے بارے میں دریافت کیا….. عرض کیا.. وہ بھی تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں….. سن کر بہت خوش ہوے اور انہیں بھی کافی دعاؤں سے نوازا….. پھر حضرت سے اجازت لے کر الٹے قدموں واپس ہوا…… مگر افسوس! خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ یہ بس آخری ملاقات ثابت ہوئی…… پھر اس کے بعد حضرت سے نہ مل سکا….. اور اگلے سال ہی حضرت کا وصال ہو گیا……علاقہ میں اتنا بڑا جنازہ میری نگاہوں نے شاید ہی دیکھا ہوا اور ایسا کیوں نا ہو…… کہ آپ سینکڑوں علماء ومفتیان کرام اور حفاظ کرام کے استاد تھے۔
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

About محمد نثار نظامی

Check Also

وعدہ پورا کرنا

ازقلم: عبدالحکیم،عبدالحکیم، رانچی وعدہ یعنی ایسا کام جو ہم کسی کے کہنے پر کرنے کو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے