شریعت مطہرہ کی راہ سے بھٹکے ہوئے منتظمین مدارس کے لئے ایک اہم پیغام

تحریر : محمدمصطفی رضا نوری امجدی

اس بات کو ذہن نشین کرلیں کہ مدارس اسلامیہ کی تشکیل چار عناصر سے ہوتی ہے:
مسلم عوام،
اداروں کی انتظامیہ ،
اساتذہ اور طلبہ،
اور ان سب کا رول اپنی اپنی جگہ پر ایک اہم حیثیت رکھتا ہے، اگر عوام کی طرف سے ان اداروں کی اعانت اور تقویت و حمایت نہ ہو، تو ظاہری اسباب کے اعتبار سے مدارس کا چلنا دشوار ہو جائے گا، اللہ کا شکر ہے کہ اس وقت ان مدارس کا انفراسٹرکچر سرکاری اسکولوں سے بہتر ہے اور مدارس کے دارالاقامہ کی سہولتوں کا معیار گورنمنٹ کے عصری تعلیمی اداروں کی بورڈنگ کے معیار سے بڑھ کر کے ہے، یہ سب عوامی تعاون کی وجہ سے ہے، یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمان اپنی بہت ساری کمزوریوں کے باوجود جتنا زیادہ اللہ کے دین کے لئے، اپنی قوم کے لئے، اسلام کی سربلندی و سرفرازی اوردینی شعائر کی حفاظت کے لئے خرچ کرتے ہیں، کوئی اور قوم اس میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی؛ اس لئے ان کا جس قدر شکر ادا کیا جائے کم ہے۔

اسی طرح مدرسہ کے ماحول میں منتظم کی حیثیت ”امیر” کی ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ چاہے وہ ناک کٹا حبشی غلام ہو، پھر بھی اس کی اطاعت کی جائے،(سنن ابو داؤد، حدیث نمبر: ۴۶۰۷) یعنی جس معیار کا ہونا چاہئے، اس معیار کا نہ ہو تب بھی اس کی اطاعت کی جائے، اور حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ اگر تم پر ایسے لوگ ذمہ دار بن کر آجائیں کہ تم دیکھو کہ وہ اپنا حق تم سے لیتے ہیں اور تمہارا حق نہیں دیتے ہیں، تو تم صبر سے کام لو، اور اس دن کا انتظار کرو جس دن اللہ کے سامنے وہ بھی حاضر ہوں گے اور تم بھی حاضر ہوگے، (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر: ۴۷۵۹)
یہ بڑی حکمت کی بات ہے ،برائی تو برائی ہے؛ مگر ذمہ دار کسی برائی کا ارتکاب کرے تو وہ اور بڑھی ہوئی برائی ہے؛ لیکن امت کو انتشار سے بچانا اور دین کے تحفظ کا جو نظم قائم ہو، اس کو بکھرنے سے محفوظ رکھنا نہی عن المنکر سے زیادہ اہم ہے۔

اسی طرح ناظم کی بھی بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ اساتذہ کی عزت نفس کا خیال رکھیں، ان کے ساتھ انصاف سے کام لیں، طلبہ کے ساتھ شفقت ومحبت کا معاملہ رکھیں، کئی جگہ مدرسہ کے ذمہ داران کا اساتذہ کے ساتھ ایسا سلوک ہوتا ہے کہ گویا وہ ان کے ذاتی خادم یا کارخانہ کے لیبر ہیں، اور طلبہ و اساتذہ کو تو گالی دینے سے بھی گریز نہیں کرتے؛ حالاں کہ ان کے اندر سب سے بڑھ کر تحمل ہونا چاہئے، اور جیسے اساتذہ انتظامیہ کی بہت ساری باتیں سنتے اور برداشت کرتے ہیں، اسی طرح ذمہ دار کا بھی فریضہ ہے کہ اگر مدرسہ کا کوئی مدرس یا کوئی کارکن جذبات میں آکر کوئی ایسی بات کہہ جائے جو نہیں کہنی چاہئے تو اس کو سہ لے اور نظر انداز کر دے، خودرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیہاتیوں کی کیسی کیسی باتوں کو سہہ جاتے تھے۔
*لکن ہاۓ افسوس آج کل کے ذمہ داران اپنے عہدے پر” کم” قائم ہے اور نیتاگیری پر ذیادہ توجہ دیتے ہیں حتی کہ بعض تو ایسے بھی ہیں کہ مدرسے کا اشیاء اصلیہ ہو یا اشیاء فرعیہ ہوں ان کو غیر محل میں استعمال سے بھی نہیں ہچکچاتے پھر اگر کسی نے اپنے دل میں اللہ و اس کے رسول ﷺ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے بولنے کی جرأت کرلی تو اب اس کے لئے خیر نہیں اب وہ مردود بارگاہ ہو جائے گا , اب اسے حاسد کہا جانے لگتا ہے، انہیں یہ نہیں معلوم ہے کہ مثبت ومفید مومن بھائی چارگی وہ ہے جو تقویٰ و پرہیز گاری کی بنیاد پر استوار ہو۔ یہ ایسا رابطہ ہے جو انسان کے افکار و خیالات ‘ اسکے قلب اور اس کی پوری زندگی کو تقویت پہنچاۓ۔ لکن افسوس ایسی فکر کون ذمہ دار رکھتا ہے، بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے مثلاً اگر کسی نے انکی ناجائز و حرام کاموں میں واہ واہی کی تو وہ اسے اپنا دوست شمار کرتے ہیں، اور جس نے انہیں تنبیہ کی تو وہ اس کو اپنا مخالف شمار کرتے ہیں جس کا منفی اثر مدرسہ اور اس کی تعلیمات پر پڑتا ہے ،
اللہ تعالی ایسے عقل رکھنے والوں کو ھدایت عطاء فرمائے-
*اپیل*
قوم کے ذمہ داران سے اپیل ہے کہ وہ جب بھی مدرسہ یا مسجد کے لیئے منتظمین منتخب کرے تو ان کے اندر یہ ضرور دیکھیں کہ وہ شریعت مطہرہ کا عالم ہے یا نہیں، وہ اپنی ذاتی زندگی شریعت کے مطابق گزارتا ہے یا نہیں، کیا وہ حلال و حرام، جائز و ناجائز میں تمیز کرتا ہے یا نہیں یہ ساری چیزیں ضرور دیکھیں۔

حدیث مبارکہ میں ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إِذَا اتُّخِذَ الْفَيئُ دُوَلًا وَالأَمَانَةُ مَغْنَمًا وَالزَّکَاةُ مَغْرَمًا وَتُعُلِّمَ لِغَيْرِ الدِّيْنِ وَأَطَاعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهٗ وَعَقَّ أُمَّهٗ وَأَدْنَی صَدِيْقَهٗ وَأَقْصَی أَبَاهٗ، وَظَھَرَتِ الأَصْوَاتُ فِي الْمَسَاجِدِ، وَسَادَ الْقَبِيْلَةَ فَاسِقُھُمْ وَکَانَ زَعِيْمُ الْقَوْمِ أَرْذَلَھُمْ، وَأُکْرِمَ الرَّجُلُ مَخَافَةَ شَرِّهٖ وَآیَاتٍ تَتَابَعُ کَنِظَامٍ بَالٍ قُطِعَ سِلْکُهٗ فَتَتَابَعَ۔
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب محصولات کو ذاتی دولت، امانت کو غنیمت اور زکوٰۃ کو تاوان سمجھا جانے لگے گا، غیر دینی کاموں کے لیے علم حاصل کیا جائے گا، مرد اپنی بیوی کی فرمانبرداری کرے گا اور اپنی ماں کی نافرمانی، اپنے دوست کو قریب کرے گا اور باپ کو دور، مسجدوں میں آوازیں بلند ہونے لگیں گی، قبیلے کا بدکار شخص اُن کا سردار بن بیٹھے گا اور ذلیل آدمی قوم کا لیڈر (یعنی حکمران) بن جائے گا اور آدمی کی عزت محض اُس کے شر سے بچنے کے لیے کی جائے گی پھر طرح طرح کے لگاتار عذابوں کا انتظار کرو۔ یہ نشانیاں یکے بعد دیگرے یوں ظاہر ہوں گی جس طرح کسی ہار کا دھاگہ ٹوٹ جانے سے گرتے موتیوں کا تانتا بندھ جاتا ہے۔

About محمد نثار نظامی

Check Also

وعدہ پورا کرنا

ازقلم: عبدالحکیم،عبدالحکیم، رانچی وعدہ یعنی ایسا کام جو ہم کسی کے کہنے پر کرنے کو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے