شاہ ولی اللہ اور "اَنْفَاسُ الْعارِفین”

تحریر: یٰسٓ اختر مصباحی
دارالقلم، دہلی

’’اَنفاسُ العارفین‘‘ مؤلَّفہ: شاہ ولی اللہ ،محدِّث دہلوی
علم و فضل ، تصوف و روحانیت ،تجربہ و مشاہدہ اور تعارف و تذکرۂ خانوادۂ ولی اللّٰھِی پر مشتمل
بہت سی معلومات وواقعات و حقائق و معارف و اَسرار سے معمور ایک خزانہ ہے جو شاہ ولی اللہ نے
اپنے اَکابر و اسلاف، بِالخصوص اپنے آبا و اَجداد کے تعلق سے قلمبند فرمائے ہیں۔
اس ’’انفاس العارفین‘‘ کے مطالعہ سے قارئین کو صحیح طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ
’’مسلکِ ولی اللّٰھی‘‘ اور ’’ فکرِ ولی اللّٰھی‘‘ کیا ہے؟
اور نتیجے کے طور پر ،انھیں یہ فیصلہ کرنا، بہت آسان ہو جاتا ہے کہ:
’’فکر و مسلکِ ولی اللّٰھی‘‘ کو اپنی شاطرانہ تحریروں اور حربوں کے ذریعہ
ایک مخصوص طبقے کے عُلماومؤ رخین نے مَسخ کرنے کی کتنی ناروا جسارت اور مذموم کوشش کی ہے۔
فتاویٰ ہندیہ (فتاویٰ عالمگیری ) کے اہم رکن، حضرت شاہ عبدالرحیم، محدِّث دہلوی کے دونوں فرزند ،شاہ ولی اللہ اور اہلُ اللہ اپنے والدِ محترم کی طرح بڑے عالم و فاضل تھے۔
اپنی اور اپنے بھائی کی ولادت سے قبل کا واقعہ ،بیان کرتے ہوئے
شاہ ولی اللہ،محدِّث دہلوی، رقم طراز ہیں:
’’حضرت والد ماجد (شاہ عبدالرحیم،دہلوی) فرمایا کرتے تھے کہ:
جب فرزندِ عزیز، صلاح الدین بیمار ہوا، اور ہم نے اس کی زندگی سے ہاتھ دھو لیے تومیں نے کفن خریدنے اورقبر کھودنے کے لئے کہہ دیا۔
اچانک میرے دل میں جوش آیا اور ایک کونے میں جا بیٹھا۔
حد سے زیادہ گڑگڑا کر دعا مانگی۔ فرشتے نے آکر اس کی زندگی اورصحت کی بشارت دی۔
اسی دم وہ چھینکا اور اس کی زندگی لوٹ آئی۔
(ص ۱۴۴۔ انفاس العارفین۔ مؤلَّفہ: شاہ ولی اللہ ،محدِّث دہلوی۔ اردو ترجمہ از سید محمد فاروق القادری۔ مطبوعہ :مکتبۃ الفلاح۔ دیوبند۔ ضلع سہارن پور، اترپردیش، انڈیا)
اپنے والد ماجد ،شاہ عبدالرحیم کے نئے نکاح اور اپنی ولادت کی ملنے والی بشارت کا ذکرکرتے ہوئے شاہ ولی اللہ ،محدِّث دہلوی ، تحریر فرماتے ہیں:
’’ حضرت والد ماجد (شاہ عبدالرحیم) جب ساٹھ سال کے ہوئے تو، ان پر منکشف ہوا کہ:
تقدیر کے فیصلے کے مطابق آپ کے ہاں ایک اور فرزند پیدا ہوگا۔
بعض خاص یارانِ طریقت سے یہ بھی سننے میں آیا کہ بشارت دی گئی تھی کہ:
وہ نَومولود ،علمی اور روحانی بلند مقامات کو پہنچے گا۔
چنانچہ آپ کے دل میں شادی کا خیال پیدا ہوا۔
جب مخدومی ،شیخ محمد نے یہ ماجراسنا تو وہ اس کوشش میں رہنے لگے کہ
یہ بچہ، ان کی لختِ جگر سے ہو۔ اس فقیر (ولی اللہ،دہلوی) نے بعض ثقہ لوگوں سے سُن رکھا ہے کہ:
جب اس شادی کی بات پکی ہوگئی تو بعض مخالفین اور منافقین نے کہا کہ:
اس عمر میں شادی، مناسب نہیں رہے گی۔
حضرت والد ماجد (شاہ عبدالرحیم،دہلوی ) نے ،ان کی باتیں سنیںاور فرمایا کہ:
میری عمر کا ابھی کافی حصہ باقی ہے اور لڑکے بھی پیدا ہوں گے۔
چنانچہ آپ اپنی اس شادی کے سترہ سال بعدتک زندہ رہے اور دو بچے بھی پیدا ہوئے۔
فقیر (ولی اللہ ،دہلوی) ابھی پیدا نہیں ہوا تھا کہ:
ایک رات، حضرت والد ماجد (شاہ عبدالرحیم،دہلوی) نمازِ تہجد پڑھ رہے تھے
اور میری والدہ ماجدہ بھی ان کے قریب ہی نمازِ تہجد میں مشغول تھیں۔
نوافل کے بعد حضرت والد ماجد نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور والدہ ،آمین کہتی رہیں۔ اسی اَثنا میں دو اور ہاتھ، ظاہر ہوئے۔
والد ماجد نے فرمایا :یہ دو ہاتھ ہمارے بیٹے کے ہیں جو پیدا ہوگا۔
اس کے بعد، یہ فقیر (ولی اللہ، دہلوی) پیدا ہوا، اور سات سال کی عمر میں نمازِ تہجد میں والدین کا ساتھی بنا۔ اور اسی خواب والی وضع میں ان دونوں کے درمیان ،دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔
وَھٰذا تاوِیلُ رُؤْیَایَٔ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَھَا رَبِِّی حَقّاً۔(ص ۱۴۵۔ اَنفاسُ ا لعارفین)
اپنے نام کے سلسلے میں شاہ ولی اللہ ،محدِّث دہلوی ،تحریر فرماتے ہیں:
والد ماجد نے فرمایا:ایک دفعہ، میں حضرت قطب الدین بختیار، کاکی،دہلوی کے مزارِمبارک کی زیارت کے لئے گیا۔ آپ کی روحِ مبارک ،ظاہر ہوئی اور اس نے مجھ سے فرمایا کہ:
تمہیں ایک فرزند پیدا ہوگا، اس کا نام ،قطب الدین احمد رکھنا۔
اس وقت میری زوجہ ، عمر کے اُس حصے میں پہنچ چکی تھیں
جس میں اولاد کا پیدا ہونا ،ممکن نہیں ہوتا ہے۔
میں نے سوچا کہ شاید اس سے مراد، بیٹے کا فرزند ،یعنی پوتا ہے۔
میرے اس وہم پر فوراً مطلع ہوگئے اور فرمایا:
میرا مقصد، یہ نہیں بلکہ فرزند(جس کی بشارت دی گئی ہے) خود تمھاری صُلب سے ہوگا۔
کچھ عرصہ بعد ،دوسرے عَقد کا خیال پیدا ہوا۔
اور اسی سے کاتبُ الحروف ،فقیر، ولی اللہ، دہلوی پیدا ہوا۔
میری پیدائش کے وقت، والد ماجد (شاہ عبدالرحیم، دہلوی) کے ذہن سے
یہ واقعہ اُتر گیا اس لئے انھوں نے ولی اللہ ،نام رکھ دیا۔
کچھ عرصہ بعد جب انھیں یہ واقعہ یاد آیاتو انھوں نے میرا نام ،قطب الدین احمد رکھا۔‘‘
(ص ۱۱۰۔انفاس العارفین ۔مؤلَّفہ: شاہ ولی اللہ ،محدِّث دہلوی۔ مطبوعہ: مکتبۃ الفلاح ،دیوبند)
جب آپ ابھی شکمِ مادر میں تھے، اُس وقت کا ایک واقعہ اور اپنے بھائی
شاہ اہلُ اللہ کی ولادت کی بشارت کا ذکر کرتے ہوئے آپ لکھتے ہیں:
نیز، یہ فقیر (ولی اللہ، دہلوی) ابھی ماں کے پیٹ میں تھا کہ:
اُس وقت ،حضرت والد ماجد نے ایک بِھکارن کو، آدھی روٹی، خیرات دی۔
وہ جانے لگی تو اسے واپس بلا کر، باقی آدھی روٹی بھی دے دی۔
اور فرمایا کہ :بچہ جو پیٹ میں ہے، کہہ رہا ہے کہ:
اللہ کی راہ میں پوری روٹی دینی چاہیے۔
ایک دن، جب یہ فقیر (ولی اللہ، دہلوی) ابھی بہت کمسن تھا
حضرت والد نے ’’اہلُ اللہ‘‘ کے نام سے کسی کو دو بار آوازدی۔
ایک آدمی نے پوچھا :جنابِ والا کس کو بُلا رہے ہیں؟
میری طرف، اشارہ کرکے فرمایا کہ: اہل اللہ، ا س کا بھائی ہے جو عنقریب پیدا ہوگا۔
اس کا نام، خود بخود ،میری زبان پر جاری ہوگیا۔ (ص ۱۴۵۔ انفاس العارفین)
شاہ عبدالرحیم ،محدِّث دہلوی کی زبانی ایک واقعہ ،شاہ ولی اللہ، محدِّث دہلوی
اس طرح ،تحریر کرتے ہیں:
حضرت والد ماجد (شاہ عبدالرحیم ،دہلوی) نے فرمایا کہ:
’’ ایک دن وہ بزرگ اور حضرت سیدصاحب، دونوں ،قرآن مجید کا دَور کر رہے تھے کہ
کچھ لوگ، عرب صورت ،سبز پوش ،گرو ہ در گروہ ،ظاہر ہوئے۔
ان کا سردار ،مسجد کے قریب کھڑا ہو کر، ان قاریوں کی تلاوت سننے لگا اور کہا:
بَارَکَ اللّٰہُ اَدَّیْتَ حَقَّ الْقُرآن۔(اللہ برکت دے، تلاوتِ قرآن کا خوب حق ادا کیا۔)
یہ کہہ کر واپس پلٹے ۔
ان بزرگ کی عادت تھی کہ تلاوتِ قرآن کے وقت آنکھوں کو
نیند کی سی حالت میں رکھتے تھے۔ کسی کی طرف بھی توجہ نہیں کرتے تھے۔
جب تلاوت کو آخر تک پہنچایا تو سید عبداللہ سے پوچھا کہ:
یہ کون بزرگ تھے جن کی ہیبت سے میرا دل کانپ اٹھا
مگر، عظمتِ قرآن کے سبب، میں اپنی جگہ سے اٹھ نہ سکا؟
سید صاحب نے کہا: قبلہ ! یہ اس وضع کے بزرگ تھے کہ جب ان کا سردار پہنچا
تو مجھ میں یہ طاقت نہ رہی کہ میں اپنی جگہ بیٹھا رہوں۔ مجبوراً اٹھا اور ان کی تعظیم بجا لایا۔
یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ اسی وضع قطع کا ایک اور آدمی آیا اور کہنے لگا کہ:
نبیِ اکرم صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّم،کَل، مجمعِ اصحاب میں اس جنگل کے رہنے والے حافظ کی تعریف و توصیف فرما رہے تھے اور ساتھ ہی فرما رہے تھے کہ اس کی قرأت بھی سنیں گے۔
کَل ،عَلیٰ الصَّباح ،ہم اُسے دیکھنے جائیںگے۔
اگر آئے تھے، تو کدھر کو گئے؟آپ تشریف لائے تھے کہ نہیں؟
ان دونوں بزرگوں نے جب یہ بات سنی تو دائیں بائیں دوڑے مگر کوئی نشان نہ پایا۔
(اللہ، ان دونوں کی قبروں پر رحمت کے پھول برسائے)
راقم الحروف (ولی اللہ ،دہلوی) کا گمان ہے کہ:
حضرت والد ماجد (شاہ عبدالرحیم، دہلوی) نے یہ بھی فرمایا تھا کہ:
اس واقعہ کے بعد ،مدتو ں اس جنگل سے خوشبو مہکتی رہی، جسے لوگ سونگھتے اور محسوس کرتے تھے۔
(ص ۴۱،۴۲۔ انفاس العارفین۔ مؤلَّفہ : شاہ ولی اللہ ،محدِّث دہلوی)
حضرت خواجہ ادریس ،سامانی کا حیرت انگیز واقعہ، بیان کرتے ہوئے
شاہ ولی اللہ،محدِّث دہلوی، تحریر فرماتے ہیں:
’’ حضرت والد ماجد (شاہ عبدالرحیم ،دہلوی) فرمایا کرتے تھے کہ:
ایک دفعہ ،حضرت خواجہ ادریس سامانی، حُجرے میں یادِ خدا میں مصروف تھے۔
ان کے اہلِ خانہ کی عادت تھی کہ:
ہر سال اسی حُجرے میں جانوروں کے لئے گھاس بھوسا ،وغیرہ، ذخیرہ کیا کرتے تھے۔
اتفاق سے اسی دَوران ،اہلِ خانہ نے ،اس میں گھاس ڈالنا شروع کی۔
اور انھیں ،حُجرے میں شیخ ادریس سامانی کی موجودگی کا کوئی علم نہ ہوسکا۔
حضرت شیخ بھی اپنی ہستی سے، اِس قدر بے خبر اور مَحو تھے کہ
انھیں بھی اپنے اوپر گھاس پڑنے کا احساس تک نہ ہوسکا۔
کچھ دیر بعد، شیخ صاحب کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔ مسجد میں بھی ڈھونڈا گیا
لیکن ،کہیں نہ ملے۔آنے جانے والوں سے پوچھا گیا۔ کچھ معلوم نہ ہوسکا۔
مایوس ہو کر تلاش و جستجو بھی چھوڑ دی گئی۔
کچھ ماہ بعد، جب چارہ ،باہر لانے کی ضرورت پڑی تو حُجرے کا دروازہ کھولا گیا ۔
اور گھاس، باہر نکالنے لگے۔
بِالآخر ،ایک دن، گھاس، اٹھانے والے کا ہاتھ، حضرت شیخ پر جا پڑا
تو وہ چونک گیا کہ یہاں کوئی آدمی ،موجود ہے۔
جب اچھی طرح ٹٹولا تو شیخ کو پہچا ن لیا۔
یہ سن کر لوگوں کا ہجوم ،اُمڈ پڑا، اور اُس وقت ،شیخ کو بھی حالتِ سُکر سے اِفاقہ ہوا۔
دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ نہ تو انھیں درازیِ مدت کا احساس رہا
نہ ہی ان کے جسم و جان پر کچھ نہ کھانے پینے سے کوئی اثر پڑا۔
یہ واقعہ ،عجیب و غریب واقعات میں سے ہے ۔وَاللّٰہُ اَعْلَم۔
(ص ۴۲۔ انفاسُ العارفین ۔مؤلَّفہ: شاہ ولی اللہ، محدِّث دہلوی )
سطحِ سمندر پر، سَیر کرنے کا ایک واقعہ، بیان کرتے ہوئے، شاہ ولی اللہ ،محدِّث دہلوی تحریرفرماتے ہیں:’’ حضرت خلیفہ، (ابوالقاسم، اکبرآبادی)سفرِ حجاز میں عموماً ،اپنے رُفقائے حجاز کو
مقامات و کراماتِ اولیاء اللہ سنایا کرتے تھے۔
چنانچہ ،ایک دفعہ، اولیاکے پانی پر چلنے اور دور دراز مقامات کو آناً فاناً طے کرنے کی بات چل پڑی، تو جہاز کے کپتان نے ،ان کرامات کا انکار کر دیا اور کہنے لگا کہ :
ایسے جھوٹ کے طومار، بہت سے سننے میں آتے ہیں، جن کی کوئی حقیقت نہیں۔
یہ سن کر، آپ کی غیرتِ ایمانی جاگ اُٹھی اور سمندر میں چھلانگ لگا دی۔
یہ دیکھ کر لوگوں نے کپتان کو ملامت کی اور وہ خود بھی اس بات پر نادم ہوا کہ میرے جھگڑے کی وجہ سے فقیر، ہلاک ہوا۔ اور رُفقائے خلیفہ بھی حضرت خلیفہ کے تصورِ مہجوری سے غمگین ہونے لگے۔
عین اسی وقت ،حضرت خلیفہ نے بلند آواز سے کہا کہ:
رنجیدہ نہ ہوں۔میں خیر و عافیت سے پانی کی سطح پر، سَیر کر رہا ہوں۔
یہ سن کر،تمام اہلِ جہاز اورکپتان نے آئندہ ،درویشوں سے گستاخی کرنے سے
توبہ کی ۔اورحلقۂ نیازمنداں میںشامل ہوگئے ۔
ان کے ُرجوع وتوبہ کے بعد،حضرت خلیفہ ابوالقاسم ،صحیح وسالم جہاز پرچڑھ آئے ۔
(ص ۷۷۔ انفاسُ العارفین ۔مؤلَّفہ: شاہ ولی اللہ، محدِّث دہلوی)
اصطلاحِ صوفیہ میں ’’غَیبت ‘‘ اُس کیفیت کو کہتے ہیں
جس میں، صوفیِ کامل، مخلوق سے غائب اور بارگاہِ اِلٰہی میں حاضر ہو۔
اِسی عالَمِ غَیبت کا ایک واقعہ، بیان کرتے ہوئے شاہ ولی اللہ،محدِّث دہلوی ،تحریر کرتے ہیں:
’’والدِ ماجد (شاہ عبدالرحیم ،دہلوی ) فرمایا کرتے تھے کہ:
ایک دن ،عصر کے وقت، میں مراقبے میں تھا کہ غَیبت کی کیفیت ، طاری ہوگئی۔
میرے لئے اس وقت کو، چالیس ہزار برس کے برابر ،وسیع کر دیاگیا۔
اور اس مدت میں آغازِ آفرینش سے روزِقیامت تک پیداہونے والی مخلوق کے احوال و آثار کو مجھ پر ،ظاہر کر دیا گیا۔
راقم الحروف (ولی اللہ، دہلوی) کا گمان ہے کہ:
آپ نے یہ کلمات ،بیان کرتے ہوئے یہ بھی فرمایاتھا کہ:
لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کے حروف کا فاصلہ، اتنے ہزار برس کا ہے۔ وَاللّٰہُ اَعْلمَ۔
(ص ۹۵۔ اَنفاس العارفین ۔مؤلَّفہ: شاہ ولی اللہ ،محدِّث دہلوی)
درود شریف کی برکت سے متعلق ،شاہ ولی اللہ، محدِّث دہلوی ،تحریر فرماتے ہیں:
’’یہ فقیر (ولی اللہ ،دہلوی) بچپن میں ہم عمر رشتہ دار بچوں کے ساتھ
باغ میں سیر و تفریح کے لئے چلا گیا۔ جب واپس آیا تو آپ (والد ماجد) نے فرمایا:
اے فلاں! آج کے دن تم نے کون سی ایسی چیز ،حاصل کی ہے جو تمہارے لئے سرمایہ و توشہ بنے؟
ابھی ابھی میں نے اس مختصر وقت میں اتنی مرتبہ ،درود پاک پڑھ لیا ہے۔
محض یہ بات سنتے ہی فقیر (ولی اللہ، دہلوی) کے دل سے باغات کی سیر کا شوق جاتا رہا اورپھر ایسا خیال کبھی نہیں آیا۔ (ص ۱۴۶۔ اَنفاس العارفین ۔مؤلَّفہ: شاہ ولی اللہ ،محدِّث دہلوی)
والد ماجدنے فرمایا کہ ایک دن، میں نے حضرت پیغمبر صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو دیکھا کہ :
حاضرین میں سے ہر شخص اپنی فہم و فراست کے مطابق
آپ کی بارگاہ میں درود پیش کر رہا ہے۔ میں نے بھی یہ درود شریف پیش کیا:
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ محمدِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَ آلِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ وَ بارِک وَسَلِّم۔
جب آپ نے سنا تو آپ کے چہرۂ مبارک سے بشاشت اور تازگی ،نمودار ہورہی تھی۔
(ص ۱۰۶۔ اَنفاس العارفین ۔مؤلَّفہ: شاہ ولی اللہ ،محدِّث دہلوی)
بارگاہِ رسالت میں پیش کردہ ایک مخلصانہ نیاز کی مقبولیت کا
روح پرور واقعہ ،بیان کرتے ہوئے شاہ ولی اللہ ،محدِّث دہلوی ،تحریر فرماتے ہیں:
والد ماجد نے فرمایا: ایک مرتبہ، اتفاقاً ،خزانۂ غیب سے کچھ میسر نہ آسکا کہ
میں کچھ طعام پکا کر آنحضرت صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی روحِ پُر فتوح کی نیاز دلا سکتا۔
لِھٰذا ،تھوڑے سے بُھنے ہوئے چَنے اور قَند پر، اِکتفا کرتے ہوئے
میں نے آپ کی نیاز دلوا دی۔
اُسی رات ،بچشمِ حقیقت ،میں نے دیکھا کہ:
اَنواع و اَقسام کے طعام، آنحضرت صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی
بارگاہ میں پیش کیے جا رہے ہیں۔
اسی دَوران ،وہ قَند اور چَنے بھی پیش کیے گئے ۔
انتہائی خوشی اور مسرت سے آپ نے وہ قبول فرمائے اور اپنی طرف لانے کا اشارہ فرمایا اورتھوڑا سا ،اس میں سے تناول فرما کر، باقی اصحاب میں تقسیم فرمادیا۔
کاتبُ الحروف (ولی اللہ ،دہلوی) کہتا ہے کہ:
اسی قسم کا واقعہ ،اگلے بزرگوں سے بھی روایت کیا جاسکتا ہے۔
مگر، یہ واقعہ، بِلا شبہ ،حضرت والد ماجد (شاہ عبدالرحیم ،دہلوی) کا ہے۔
ہو سکتا ہے کہ توارُد ہوا ہوا۔
(ص ۱۰۶،۱۰۷۔ اَنفاس العارفین ۔مؤلَّفہ: شاہ ولی اللہ ،محدِّث دہلوی۔
مکتبۃ الفلاح، دیوبند۔ ضلع سہارن پور ۔اترپردیش،انڈیا)
حالتِ خواب کے خوشبو دار زَردہ کو حالتِ بیداری میں محسوس و موجود ہونے کا
ایک روحانی واقعہ ،بیان کرتے ہوئے شاہ ولی اللہ ،محدِّث دہلوی ،تحریر فرماتے ہیں:
’’والد ماجد (شاہ عبدالرحیم، دہلوی) فرمایا کرتے تھے کہ:
ماہِ رمضان میں ایک دن ،میری نکسیر پھوٹ پڑی، تومجھ پرضعف ،طاری ہوگیا ۔
قریب تھا کہ میں کمزوری کی بِناپر،روزہ ،اِفطارکرلوں کہ:
صومِ رمضان کی فضیلت کے ضائع ہونے کا غم، لاحق ہوا۔
اسی غم میں قدرے غنودگی، طاری ہوئی، تورسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کو
خواب میں دیکھاکہ آپ نے مجھے، لذیذ اورخوشبودار زَردہ، مرحمت فرمایا ہے ۔
پھر،انتہائی خوش گوارٹھنڈا پانی بھی عطافرمایا ،جومیںنے سَیرہوکر پیا ۔
میں اس عالَمِ غُنُودگی سے نکلا، توبھوک اورپیاس، بالکل ختم ہوچکی تھی ۔
میرے ہاتھوںمیں ابھی تک، زَردہ کے زعفران کی خوشبو،موجودتھی ۔
عقیدت مندوںنے احتیاطاً ،میرے ہاتھ دھوکر،پانی محفوظ کرلیا ۔
اورتبرکاً ،اس سے ،روزہ، اِفطارکیا۔‘‘
(ص ۱۰۰۔ اَنفاس العارفین ۔مؤلَّفہ: شاہ ولی اللہ ،محدِّث دہلوی)
والد ماجد (شاہ عبدالرحیم ،دہلوی)فرمایا کرتے تھے کہ:
ابتدامیں،مَیںنے چاہاکہ دائمی روزہ، اختیار کروں۔
حضرت ختمی مرتبت عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام کی بارگاہ میں متوجہ ہوا۔تو،بچشمِ حقیقت دیکھا کہ:
رسول اللہصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے ،مجھے ،روٹی ،عطافرمائی ہے۔
حضرت ابوبکر صدیق ،رَضِیَ اللّٰہُ تَعالیٰ عَنْہٗ نے خوش طبعی کے طورپر فرمایا:
اَلْھَدَایَا مُشْتَرک۔ہدیہ ،مشترک ہوتا ہے۔‘‘
میں نے وہ روٹی، ان کی خدمت میں پیش کردی۔انھوںنے ایک ٹکڑا لے لیا۔
اسی و قت، حضرت عمر،رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہٗ نے فرمایا:اَلْھَدَایَا مُشْتَرک۔
میںنے پھر، روٹی انھیں پیش کردی۔انھوںنے بھی ایک ٹکڑا لے لیا۔
پھر،حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہٗ نے فرمایا:اَلْھَدَایَا مُشْتَرک۔
میں نے ،ان کی بارگاہ میں بھی روٹی پیش کردی۔انھوںنے بھی ایک ٹکڑا لے لیا۔
اسی دَوران، حضرت عثمان، رَضِی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہٗ نے فرمایا:اَلْھَدَایَا مُشْتَرک۔
میں نے عرض کی:اگر،روٹی ،اسی طرح ،تقسیم ہوتی رہی، تواِس درویش کوکیا حصہ ملے گا؟
آپ نے، اپنا ہاتھ ،روک لیا ۔
اس موقع پر،میں بیدارہوگیا ۔ایک عرصہ تک، میں غوروفکرکرتا رہا کہ:
حضرت ذُوالنُّورَین کی باری پر،حرفِ عُذر کہنے میں کیانکتہ، پوشیدہ تھا؟
بِالآخر ،معلوم ہواکہ:
مثالی صورتوں میںایسے اُمور اوروقائع کی مثالوں سے رابطہ، مُراد ہوتا ہے۔
جیساکہ حضرت ابوبکر صدیق سے طریقۂ نقشبندیہ کا تعلق ہے ۔حضرت عمرتک ہمارا شجرۂ نَسب پہنچتا ہے۔ اورحضرت علی کی ذاتِ گرامی کے ساتھ، والد ہ کی طرف سے، ہمارے نسب اوراصل کا تعلق ہے۔ اورطریقۂ نقشبندیہ ،نیز ،دیگر سَلاسِلِ صوفیہ بھی انھیں کی ذاتِ گرامی تک پہنچتے ہیں۔
اوربعض واقعات میں،آں جناب کی ذاتِ گرامی سے ہم نے فیوض بھی حاصل کیے ہیں۔
تو،یہ معاملہ، ان اصحابِ ثلٰثہ کی ذاتِ گرامی تک محددو رکھنا،ضروری تھا۔
جب کہ حضرت عثمان ذُوالنُّورَ یں کے ساتھ ،ان وُجوہ واَسباب میں سے
کوئی ایک بھی موجود،نہیں ہے ۔‘‘وَاللّٰہُ اَعْلَم۔
(ص۹۹، ۱۰۰۔ اَنفاس العارفین ۔مؤلَّفہ: شاہ ولی اللہ ،محدِّث دہلوی)
پیغمبرِ اسلام صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے موئے مبارک کا ایمان افروز واقعہ بیان کرتے ہوئے، شاہ ولی اللہ، محدِّث دہلوی، تحریر فرماتے ہیں:
والد ماجد (شاہ عبدالرحیم ،دہلوی) نے فرمایا کہ:
ایک بار،مجھے بخار نے آلیا اور بیماری نے طول پکڑا ۔
یہاں تک کہ میں ،زندگی سے مایوس ہوگیا۔
اسی دَوران ،مجھ پر غنودگی، طاری ہوئی تو میں نے دیکھا کہ :
حضرت شیخ عبدالعزیز (شکربار ،دہلوی)سامنے ،موجود ہیں اور فرما رہے ہیں:
بیٹے ! حضرت پیغمبرصَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّم تیری بیمار پُرسی کو تشریف لا رہے ہیں۔
شاید ،تمھاری پائتیں کی طرف سے تشریف لائیں اس لئے چارپائی کو اس طرح رہنا چاہیے کہ:
حضور کی طرف تمھارے پائوں نہ ہوں۔‘‘
یہ سن کر مجھے کچھ ،اِفاقہ ہوا۔
کچھ قوتِ گویائی نہیں تھی، حاضرین نے میرے اشارے پر، چارپائی کا رُخ پھیر دیا۔
اسی وقت ،آنحضرت صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمتشریف فرما ہوئے اور ارشاد فرمایا:
میرے بیٹے ! کیا حال ہے؟
میں (اس شانِ شفقت و رَحمتِ عیادت کو دیکھ کر )فرطِ طَرب سے رونے لگا۔
سرکار ( صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسلَّم)نے ،مجھے اپنی آغوش میں لے لیا۔
میر اچہرہ، آپ کے سینۂ مبارکہ سے لگاہوا تھا۔
اور میرے اشکوں سے آپ کا پیراہنِ مبارک ، تَر ہوگیا۔
جب یہ کیفیت ،کم ہوئی، تو مجھے خیال آیا کہ:
کاش ! سرکار، مجھے، مُوئے مبارک،عطا فرمادیں۔‘‘
اس خیال پر مطَّلع ہوکر آپ نے ،ریشِ مبارک پر ہاتھ پھیرا ۔
اور مُوئے مبارک مجھے عطا فرمائے۔
میںنے بیدار ہو کر ،وہ مُوئے مبارک اپنے تکیہ کے نیچے پائے۔
بخار اُتر گیا تھا، مگر کمزوری، باقی تھی، جو چند روز میں دور ہوگئی۔
والد ماجد ،شاہ عبدالرحیم نے، ان میں سے ایک مُوئے مبارک مجھے عطا فرمادیا تھا۔
اوردوسرا ،شاہ اہلُ اللہ کو مرحمت فرمایا۔
اس سلسلے میں یہ کلمات بھی ارشاد فرمائے تھے کہ:
ان دونوں بالوں کے خواص میں سے ایک یہ بھی ہے کہ:
آپس میں گتھے رہتے ہیں۔ مگر، جب درود پڑھا جائے تو جُدا جُدا کھڑے ہوجاتے ہیں۔
دوسرے یہ کہ ایک مرتبہ، تاثیرِ تبرکات کے مُنکروں میں سے تین آدمیوں نے امتحان لینا چاہا۔
میں اس بے ادبی پر ،راضی نہ ہوا۔ مگر، جب مباحثے نے طول پکڑا
تو کچھ عزیز، ان مقدس بالوں کو سورج کے سامنے لے گئے۔
اسی وقت ،بادل کا ٹکڑا ،ظاہر ہوا۔
حالاں کہ سورج بہت گرم تھا اور بادلوں کا موسم بھی نہ تھا۔
یہ واقعہ دیکھ کر، مُنکروں میں سے ایک نے توبہ کی۔
اور دوسرے نے کہا: یہ اتفاقی امر ہے۔
عزیز، ،دوسری مرتبہ لے گئے تو دوبارہ، بادل کا ٹکڑا ،ظاہر ہوا۔
اس پر، دوسرے مُنکر نے بھی توبہ کرلی۔ مگر، تیسرے مُنکر نے کہا: یہ تو اتفاقی بات تھی۔
یہ سُن کر ،تیسری بار، موئے مقدس کو سورج کے سامنے لے گئے۔
سہ بارہ، بادل کا ٹکڑا، ظاہر ہوا۔ اس پر تیسرا مُنکر بھی توبہ کرنے والوں میں شامل ہوگیا۔
آپ (شاہ عبدالرحیم ،دہلوی) نے یہ بھی فرمایا۔
ایک روز، یہ موئے مبارک ،زیارت کے لئے باہر لے آیا۔ بہت بڑا مجمع تھا۔
ہر چند، صندوقِ تبرک کا تالا کھولنے کی کوشش کی گئی، لیکن نہ کُھلا۔
اپنے دل کی طرف، متوجہ ہوا، تو معلوم ہوا کہ
فلاں آدمی ،ناپاک ہے۔ جس کی ناپاکی ،کی شامت کے سبب ،یہ نعمت ،میسر نہیں آرہی ہے۔
عیب پوشی کرتے ہوئے میں نے سب کو تجدیدِ طہارت کا حکم دیا تو وہ ناپاک آدمی بھی مجمع سے چلا گیا اور اسی وقت بڑی آسانی سے تالا کُھل گیا۔ اورہم سب نے زیارت کی۔
حضرت والد ماجد (شاہ عبدالرحیم ،دہلوی) نے، آخری عمر میں جب تبرکات ،تقسیم فرمائے تو،ان دونوں بالوں میں سے ایک ،کاتبُ الحروف ( ولی اللہ، دہلوی) کو عنایت فرمایا۔
جس پر، پروردگارِ عالَم کا شکر ہے۔
(ص ۱۰۴،۱۰۵۔ انفاسُ العارفین۔ مؤلّفہ: شاہ ولی اللہ، محدِّث دہلوی۔
مکتبۃُ الفلاح، دیوبند۔ ضلع سہارن پور ۔اترپردیش، انڈیا)
غوثِ اعظم،سیدنا الشیخ عبدالقادر جیلانی رَضِیَ اللّٰہُ تَعالیٰ عَنْہٗکے
ایک جُبۂ مبارکہ سے متعلق، شاہ عبدالرحیم، دہلوی کا بیان کردہ ایک واقعہ ،بیان کرتے ہوئے
شاہ ولی اللہ، محدِّث دہلوی ،تحریر فرماتے ہیں:
والد ماجد (شاہ عبدالرحیم، دہلوی) فرمایا کرتے تھے کہ:
ایک دن ،میرے دل میں ایک بات ڈالی گئی جس کا اِجمال یہ ہے کہ:
آج، تجھے ایک نعمت ملے گی ۔
میں، سیر وتفریح کے خیال سے باہرنکل کر شہر کے بعض مقامات سے گذرا۔
تودل نے گواہی دی کہ: تیرا مطلوب ،یہیں ہے۔
میں نے ،لوگوںسے پوچھا کہ :یہاں ،کوئی درویش، یا۔فاضل ہے ؟
جواب ملاکہ:ہاں! فلاں درویش ،یہاں رہتا ہے ۔
میں ،اس کی زیارت کو پہنچا،تووہ کہنے لگاکہ:
حضرت غوثِ اعظم کا جُبَّہ، تبرکاً ،مجھ تک پہنچا ہے۔ اورآج رات مجھے حکم دیا گیا ہے کہ:
آج کے دن، جوشخص بھی، سب سے پہلے ،میرے سامنے آئے
میں یہ جُبَّہ مبارکہ اسے دے دوں۔میں نے ، جُبَّہ ،اس درویش سے لے لیا ۔
اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔(ص ۹۸۔ اَنفاسُ العارفین ۔مؤلَّفہ: شاہ ولی اللہ، محدِّث دہلوی)
اپنے جَدِّ مادری (نانا) حضرت شیخ محمد،پُھلتی کے تذکرہ میں ختمِ خواجگان کا
ایک جگہ ،ذکر آیا ہے ،جو آپ کے اَجداد و اَسلاف کے معمولات میں شامل ہے۔
شاہ ولی اللہ، محدِّث دہلوی ،تحریر فرماتے ہیں:
’’کفّارِ مانکیان نے، اپنا ایک جَتَّھہ بنا رکھا تھا، جو، اکثر، اس علاقے کے شہروں کو، لوٹا کرتا تھا۔
بستی والے ،بہت پریشان ہوئے۔ اور آپ کے حضور ،دعا کے لئے درخواست کی۔
آپ نے فرمایا: اس سے پہلے تو جس چیز کی طرف چاہتا ،اپنی قوتِ تصرُّف کو متوجہ کردیا کرتا تھا۔ اب، تو، ہمت و اِرادہ بھی باقی نہیں، جو کسی چیز سے متعلق ہو۔
مگر، حکمِ خداوندی کے تحت، اس کے اَسمائے گرامی سے ،تمسُّک، ضرور کرنا چاہیے۔‘‘
یہ کہہ کر، آپ ’’ختمِ خواجگان‘‘ میں مشغول ہوگئے۔
اور فراغت کے بعد فرمانے لگے:
دعا، قبول ہو گئی ہے۔ حق سُبْحٰنَہٗ وَتَعَالیٰ نے
اس قومِ کفَّار کو ہماری طرف آنے سے روک دیاہے۔‘‘
چند ہی روز گذرے تھے کہ ویسا ہی ہوا۔
(ص ۳۷۰۔ اَنفاس العارفین۔ مؤلَّفہ :شاہ ولی اللہ، محدِّث دہلوی)
حضرت خواجہ خورد، فرزند و خلیفہ حضرت خواجہ محمد عبدالباقی، باقی بِاللہ، دہلوی
اور اپنے والد ماجد، شاہ عبدالرحیم ،دہلوی کی ایک ملاقات کے واقعہ سے نسبت و اِرادت کے ادب و احترام کا، بخوبی، اظہار ہوتا ہے، جس کا ذکر، شاہ ولی اللہ، محدِّث دہلوی نے، اس طرح کیا ہے:
والد ماجد(شاہ عبدالرحیم، دہلوی) نے فرمایا:
ایک دن، خواجہ خور داپنے اَصحاب واَحباب میں بیٹھے ہوئے تھے۔
خود، پلنگ پرتشریف فرماتھے۔
اورباقی لوگ، چٹائی پربیٹھے تھے۔اس موقع پر،میں بھی خدمت میں جاپہنچا۔
آپ نے میری ،حد سے زیادہ، تعظیم وتکریم فرمائی۔خود،پلنگ کے پائنتی کو،ہوبیٹھے ۔
اورمجھے صدرنشین بنایا۔ہرچند،میں نے معذرت چاہی ،مگر،نہ مانے ۔
اس معاملے میں، اہلِ مجلس کے چہرے، متغیَّر ہوگئے ۔
ان کے فرزند ،خواجہ رحمت اللہ کھڑے ہوئے اورعرض کرنے لگے کہ:
مجلس میں،ان سے بھی زیادہ مُعمَّر اورلائقِ تعظیم لوگ بیٹھے ہیں۔
آخر، ان میں کیا خصوصیت ہے ،جوآپ اس قدر اِنکساری سے پیش آرہے ہیں؟
حضرت خواجہ خوردنے فرمایا:
میں، یہ اس لئے کررہاہوں کہ تم سلوک کا مشاہدہ کرسکو اورمیری طرح، ان سے پیش آتے رہو۔
جب میں، ان کے جَدِّ مادری، حضرت شیخ رفیع الدین محمدکے دولت خانے پر
حاضری دیتاتھا تو ،وہ، میرے ساتھ ،اسی طرح، سلوک فرماتے تھے۔
حالاںکہ وہ میرے استاذ تھے۔ اورمیں نے، ان سے فیوض، حاصل کیے تھے ۔
جب، شیخ رفیع الدین محمد،ہمارے پیشوا،خواجہ محمدباقی بِاللہ قُدِّ س سِرُّہٗ کی
خدمت میں آتے تھے ،تووہ بھی، ان کے ساتھ، قریب قریب یہی سلوک کرتے تھے۔
اگرچہ، شیخ رفیع الدین محمد، حضرت خواجہ کے خُلَفا میں سے تھے ۔
مگر،چوںکہ ابتدائے سلوک میں، حضرت شیخ قطبُ العالَم کی
خدمت میں رہ کر کچھ کتابیں پڑھی تھیں اورفوائدِ علمی، حاصل کیے تھے
لِھٰذا، ہمیں بھی، یہی سلوک ،رَوارکھنا چاہیے۔‘‘
(ص ۶۰۔ انفاس العارفین۔ مؤلَّفہ: شاہ ولی اللہ ،محدِّث دہلوی)
غوثِ اعظم، سیدناالشیخ عبدالقادر جیلانی اور عطائے رسول، حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، و خواجہ بہاء الدین نقشبند،وَغَیرھُم عَلَیْھِمُ الرَّحْمۃُ وَ الرِّضوان سے شاہ عبدالرحیم ،دہلوی کی نسبت و اِکتسابِ فیض کے تعلق سے
شاہ ولی اللہ، محدِّث دہلوی، تحریر فرماتے ہیں:
والد ماجد (شاہ عبدالرحیم ،دہلوی) نے فرمایا کہ:
ایک بار، مجھے اولیاء اللہ کے سَلاسِل ،اس طرح ،مشاہدہ کرائے گئے کہ :
گویا،ایک وسیع بازارہے ،جس میں خوبصورت پُختہ دوکانیں ہیں۔
اور ہردوکان میں صاحبِ سلسلہ بزرگ اپنے اپنے خُلَفا اورمعتقدین کے ساتھ، فروکش ہیں۔
میں ،سب بزرگوں کی زیارت کرتاہوا بازارسے گذرتا گیا۔
یہاں تک کہ حضرت غوثِ اعظم کی دوکان پرپہنچا اورآپ کی مجلسِ مبارک میں بیٹھ گیا۔
اس وقت اَلْاَعْیَانُ مَاشَمَّتْ رَائِحَۃَ الْوجُود پر،بحث ہورہی تھی۔
حاضرین میں سے ہرشخص اپنی فہم وفراست کے مطابق اس کے معانی، بیان کررہاتھا۔ اپنی باری پر،میںنے بھی اس کا مفہوم ،بیان کیا۔
حضرت غوثِ اعظم نے میری تشریح پر،خوش ہوکرفرمایا:
غرضِ آں بے چارہ ،ہمیں بود۔ (اس بے چارے کی مُراد یہی تھی)
اِس واقعہ کوایک عرصہ گذرگیا ۔لیکن، فارسی زبان میںاداکیے ہوئے
آپ کے کلمات ابھی تک میرے ذہن میں محفوظ ہیں۔
اس کے بعدآپ اس مجلس سے اٹھے اورمیراہاتھ پکڑکرخلوت میں لے گئے ۔
اورفرمانے لگے:کیا،تمہارے دل میں میری طرف سے کوئی کھٹکا ہے ؟
میں نے عرض کی :ہاں! تمام صاحبِ سلسلہ بزرگوں نے
مجھے ،بِلاواسطہ ،اجازت وخلافت، عطافرمائی ہے ۔سِوَا آپ کے۔
آپ نے فرمایا:میرے خُلفاسے تم نے اجازت، حاصل کرلی ہے ۔
گویا،بِلاواسطہ ،مجھ سے کسبِ فیض کرلیاہے ۔کیوں کہ میرے خُلفا اورمَیں، مَعْنیً ایک ہیں۔
میں نے عرض کی:یہ درست ہے، لیکن، بِلاواسطہ فیض میں ایک خاص لطف ولذت ہے ۔
اس پر،ارشاد فرمایا:اچھا، میں نے بھی تم کواجازت دی۔
میرے طریقے پرلوگوں کوارشاد وسلوک کی تعلیم دو۔
جب ،اَشغال کی نوبت آئی، توفرمایا:
تم نے ابتدائی ،درمیانی اورانتہائی، تینوں اَشغال کررکھے ہیں۔مزید کی ضرورت نہیں۔‘‘
پھر،آپ نے میرے دل پرتوجہ ڈالی اورخاص نسبت، عنایت فرمائی۔
اس کے بعد،میں آگے روانہ ہوا ،اَورسلاسل کی سَیر کرتا رہا۔
اس دَوران، میںنے بے شمارحقائق وعجائب دیکھے ۔
آخرمیں عرش کے زیرِ سایہ پہنچا ۔میں نے دیکھا کہ :
ایک سلسلہ، عرش کے ساتھ، معلَّق ہے۔
اورحضرت خواجہ نقشبند، اس کوتھامے ہوئے حالتِ اِستغراق میں ہیں۔
میںنے محسوس کیا کہ آپ کے اِستغراق کی وجہ، یہ ہے کہ:
آپ کے خُلفا (زندہ ہوں،یامرحوم) میں مخلوق کی طرف، توجہ کی ریاضت ومشقت زیادہ ہے۔ اورحضرت غوثِ اعظم رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کی نسبت کی وسعت
’’لطیفۂ نفس‘‘ میں،روحانی تربیت اسی اعتبار سے ظہورپذیر ہوتی ہے ۔
اسی طرح، قدیم صوفیۂ کرام کی نسبت ’’لطیفۂ نفس‘‘ میں زیادہ ہے۔
اسی بنا پر، قدیم صوفیۂ کرام کے یہاں سخت مشکل ریاضتیں ،پیش آتی ہیں ۔فَتَدَبَّرْ ۔
(ص ۱۰۸۔ انفاس العارفین۔ مؤلَّفہ : شاہ ولی اللہ، محدِّث دہلوی)
’’والد ماجد (شاہ عبدالرحیم ،دہلوی) نے فرمایا :
ایک بار،مَیں،حضرت خواجہ قطب الدین (بختیار،کاکی ،دہلوی)کے
مزارِ مبارک کی زیارت کے لئے گیا ۔یکایک ،میرے دل میں خیال پیداہواکہ:
میری گنہ گار آنکھیں اوروجود، اس قابل نہیں کہ اس مقدس بارگاہ میں حاضری دیں۔
اس خیال کے آتے ہی مزارِمبارک سے متصل چبوترے پر،رُک گیا۔
اسی دَوران آپ کی روحانیت ،جلوہ گرہوئی اورمجھے حکم دیاکہ :آگے آؤ۔
میں ،دوتین قدم آگے بڑھا ۔اسی اثنا میں، مَیںنے دیکھاکہ:
آسمان سے چارفرشتے ایک تخت اٹھائے ہوئے آپ کی قبرِ مبارک کے قریب اُترے۔
معلوم ہواکہ اس تخت پرحضرت خوا جہ نقشبندہیں۔
قِرَانُ السَّعْدَین ہوا۔دونوں شیوخ نے خلوت میں ،راز ونیاز کی باتیںکیں۔
اس کے بعد، حسبِ سابق، فرشتے ،تخت اٹھا کر ،روانہ ہوگئے۔
اورحضرت خواجہ قطب الدین، میری طرف ،متوجہ ہوکرفرمانے لگے کہ :نزدیک آؤ۔
میں ،دوتین قدم اورآگے بڑھا۔
آپ ،باربار ،نزدیک آنے کے متعلق فرماتے رہے اورمیں آہستہ آہستہ ،قریب ہوتاگیا ۔
یہاں تک کہ آپ کے بہت قریب آگیا ۔اِلیٰ آخِرِہٖ۔
(ص ۱۰۹۔ ۱۱۰۔ اَنفاسُ العارفین۔ مؤلَّفہ: شاہ ولی اللہ، محدِّث دہلوی )
اہتمام و مداومتِ صلوٰۃ کا ایک روحانی واقعہ، نہایت حیرت انگیز
اور باعثِ ترغیب و تشویقِ صلوٰۃ ہے کہ:
والد ماجد (شاہ عبدالرحیم، دہلوی) نے فرمایا
ایک مرتبہ، میں نے، شیخ نصیرالدین ،چراغ دہلی کوخواب میں دیکھا کہ:
وضو فرمارہے ہیں اورنماز کی تیاری کررہے ہیں۔‘‘
میں نے پوچھا کہ:یہ تو،عالَمِ (آخرت )تکلیف (عمل ) نہیں ہے۔
یہاں پر،وضواورنماز کی کیا حکمت ہے ؟
آپ نے ارشادفرمایا: چوں کہ دنیامیںاکثروقت ،ان اُمور کی انجام دہی میں گذراہے
اس لئے ان میں لذت ،محسوس ہوتی ہے ۔یہاں پر،ان کی ادائیگی
کسی فریضے کے طور پر نہیں، بلکہ لطف ولذت کی خاطر ہے ۔
نماز کے بعد،اَرواحِ اَولیا، جمع ہوئیں اوران کے درمیان ،گفتگو،شروع ہوگئی۔
حضرت شیخ نصیر الدین ،چراغ دہلی نے ،ارشاد فرمایا کہ:
تم بھی ہماری محفل میں شامل ہوجاؤ۔
میں نے ،اس مقدس مجلس میں جانے سے گریزکیا۔
اس پر،آپ نے فرمایا:ہماری مجلس ،عام مجالس کی طرح ،نہیں ہے ۔
چنانچہ، میں حاضر ہوگیا اوراس مجلس میںوَجد بھی دیکھا گیا۔‘‘
(ص ۱۱۱۔اَنفاسُ العارفین۔ مؤلَّفہ: شاہ ولی اللہ، محدِّث دہلوی )
شاہ عبدالرحیم ،دہلوی کے ایامِ تعلیم کا ایک عجیب و غریب واقعہ
شیخ سعدیؔ شیرازی (مؤلّفِ گلستاں و بوستاں) سے متعلق ہے۔
جس کا ذکر کرتے ہوئے شاہ ولی اللہ، محدِّث دہلوی ،تحریر فرماتے ہیں:
’’والد ماجد (شاہ عبدالرحیم، دہلوی) نے فرمایا:
اکبر آباد میں، میرزا،زاہد، ہَروِی سے تعلیم کے دَوران
ایک دفعہ، درس سے واپسی پرایک لمبے کوچے سے گذر ہوا۔
اس وقت، میں ،خوب ذوق میں سعدیؔ شیرازی کے یہ اشعار، گنگنا رہاتھا:
جُز، یادِدوست، ہرچہ کُنی، عمرضائع است
جُز، ِسرِّ عشق، ہرچہ بخوانی، بَطالَتْ است
سعدیؔ، بشوے لوحِ دل از نقشِ غیرِحق
عِلمے کہ رَہ بحق ننماید ،جہالت است
اتفاق کی بات کہ چوتھا مصرع ،میرے ذہن سے اُترگیا تھا۔
ہرچند، ذہن پر،زوردیا ،لیکن،یادنہ آیا۔
اس تارکے ٹوٹنے سے میرے دل میںسخت اضطراب اوربے ذوقی کی کیفیت پیداہوئی کہ :
اچانک ایک فقیر منش ،ملیح چہرہ،دراز زُلف،پیرمَرد ،نمودار ہوا۔اوراس نے مجھے لقمہ دیا۔ ع
عِلمے کہ رَہ بحق ننماید جہالت است
میں نے کہا:جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرَالْجَزَائِ ۔آپ نے مجھے ،کتنی پریشانی سے نجات دلائی ہے۔
اورمیں نے، ان کی خدمت میں ،پان، پیش کیا۔انھوںنے مسکراتے ہوئے فرمایا:
یہ بھولا ہوا مصرع ،یاددلانے کی مزدوری ہے ؟
میں نے عرض کیاکہ: نہیں ۔یہ توبطور ہدیہ اورشکریہ ،پیش کررہاہوں ۔
اس پر،انھوںنے فرمایا : میں، پان، نہیں استعمال کرتا۔
میں نے عرض کیا: پان کے استعمال میں کوئی شرعی پابندی ہے ،یا طریقت کی رکاوٹ ؟
اگر، ایسی کوئی بات ہے ،تومجھے بتائیے۔تاکہ میں بھی اس سے اِحتراز کروں۔
انھوںنے فرمایا:ایسی کوئی بات نہیں۔البتہ ،میں ،پان نہیں کھایاکرتا۔
پھر،فرمایا:مجھے ،جلدی جاناچاہیے۔میں نے کہا:میں بھی جلدی چلوںگا۔
انھوںنے فرمایا:میں، جلد ترجانا چاہتاہوں۔
یہ کہہ کر، انھوںنے قدم اٹھایا اورکوچے کے آخرمیں رکھا۔
میں نے جان لیاکہ یہ کسی اہلُ اللہ کی روحِ مبارکہ ہے، جوانسانی شکل میں جلوہ گرہے۔
میں نے آواز دی کہ: اپنانام توبتاتے جائیے، تاکہ فاتحہ پڑھ لیا کروں ۔
فرمایا:فقیر کو،سعدیؔ کہتے ہیں۔‘‘
(ص ۱۱۱۔۱۱۲۔اَنفاسُ العارفین۔ مؤلَّفہ: شاہ ولی اللہ، محدِّث دہلوی )
مندرجہ ذیل واقعہ بھی جہاں، حیرت انگیز ہے، وہیں، باعثِ ہدایت بھی ہے۔
’’والد ماجد (شاہ عبدالرحیم ،دہلوی)نے فرمایا:
ایک دفعہ، رات کے وقت، سَیر کرتا ہوا،مَیںایک بہت خوب صورت مقبرہ میں پہنچا۔
تھوڑی دیر،وہاں ،میں ٹھہرارہا۔اسی اثنا میں میرے دل میں خیال آیاکہ:
اِس جگہ، اِس وقت میرے علاوہ کوئی بھی شخص، ذکرِالٰہی میں مصروف ،نہیں ہے ۔‘‘
ا س خیال کے آتے ہی ایک کوزہ پشت معمر شخص، ظاہرہوا۔
اوراس نے پنجابی زبان میں گانا ،شروع کیا ۔اس کے گیت کا مفہوم یہ تھا:
دوست کے دیدار کی آرزو،مجھ پرغالب آگئی ہے۔‘‘
میں اس کے نغمے سے متأثرہوکر ،اس کی طرف بڑھا ۔
میں،جوں جوں، اس کے نزدیک ہورہاتھا ،وہ، اسی قدرمجھ سے دورہوتا جارہاتھا۔
پھر،اس نے کہا:تمھار اخیال، یہ ہے کہ اس مقام پرتمھارے علاوہ، کوئی ذاکر،نہیں ہے ۔
میں نے جواب دیا : میرایہ خیال، زندوں کے بارے میں تھا۔‘‘
اس پر،اس نے کہا : اس وقت ،توتم نے مطلق تصورکیا تھا ۔اب، تخصیص کررہے ہو۔‘‘
اس کے بعد،وہ ،غائب ہوگیا۔‘‘
(ص ۱۱۳۔اَنفاسُ العارفین۔ مؤلَّفہ: شاہ ولی اللہ، محدِّث دہلوی )
اپنے جّدِّ مادری (نانا ) شیخ محمد، پُھلَتی کے تذکرہ میں شاہ ولی اللہ، محدِّث دہلوی لکھتے ہیں:
’’حضرت شیخ محمد، جب ،اِس دنیا سے رخصت ہوئے
تو، حضرت والدِ بزرگوار (شاہ عبد الرحیم، دہلوی)نے
ان کے مزار پر بیٹھ کر حاضرین کو ،ذِکر بِالْجَھْرکا حکم دیا۔
اس مجلسِ ذکر کے بعد آپ نے فرمایا کہ:
حضرت شیخ محمد کی روح نے میرے سامنے ،ظاہر ہو کر کہا:ـ
’’میں، چاہتا ہوں کہ اپنے جسم سمیت ،آپ کے پاس آئوں۔
کیوں کہ خدا نے مجھے ،یہ طاقت، عطا کر رکھی ہے ۔مگر، یہ بات، مصلحت کے خلاف تھی۔‘‘
(ص ۳۶۵۔اَنفاسُ العارفین۔ مؤلَّفہ: شاہ ولی اللہ، محدِّث دہلوی )
’’والدماجد (شاہ عبدالرحیم، دہلوی)نے فرمایا:
’’شیخ بایزید، اللہ گو‘‘نے ،حَرمین کی زیارت کا قصد کیا ۔
آپ کی معیت میں بہت سے ضعیفُ العمر بچے اورعورتیں بھی تیارہوگئیں ۔
حالاں کہ زادِ راہ کا کوئی انتظام ،نہ تھا۔
برادرِ گرامی اورمیں نے متفقہ طورپر ،ارادہ کیا کہ انھیں واپس لایاجائے ۔
جب ہم، تغلق آباد (دہلی)پہنچے ،تودن ، بہت گرم ہوچکا تھا۔
ہم لوگ ایک سایہ داردرخت کے نیچے ،آرام کی غرض سے بیٹھ گئے۔
اس دوران ،تمام اَحباب سوگئے ۔
اورمیں ،اکیلا، ان کے سامان کی حفاظت کے لئے جاگتارہا۔اپنے آپ کو بیدار رکھنے کے لئے میں نے قرآن مجید کی تلاوت، شروع کردی۔چند سورتیں ،تلاوت کرکے ،میں خاموش ہوگیا۔
اچانک، قریبی قبورمیں سے ایک صاحبِ قبر، مجھ سے مخاطِب ہواکہ:
قرآنِ مجید کے حیات بخش نغمات سننے کے لئے مدت سے ترس رہاہوں۔
اگر،کچھ وقت ،تلاوت کریں، تواحسان مندہوںگا۔‘‘
میں کچھ اورتلاوت کرکے، پھرخاموش ہوگیا۔
صاحبِ قبرنے مزید اِستدعاکی۔میں نے پھرپڑھا۔
میرے چپ ہونے پر،اس نے تیسری مرتبہ، درخواست کی۔
میں نے، اس دفعہ بھی چندآیاتِ قرآن کی تلاوت کی ۔اِلیٰ آخِرِہٖ۔
(ص ۱۱۴۔اَنفاسُ العارفین۔ مؤلَّفہ: شاہ ولی اللہ، محدِّث دہلوی )
والد ماجد(شاہ عبدالرحیم ،دہلوی) نے فرمایا:
میرے والد، وجیہ الدین شہید اپنی شہادت کے بعد کبھی کبھی ظاہری شکل و صورت میں مجسم ہو کر میرے پاس تشریف لایا کرتے تھے۔ اور حال و مستقبل کی خبریں سنایا کرتے تھے۔
ایک مرتبہ، مخدومی، برادرِ گرامی کی دختر’’کریمہ‘‘ بیمارہوگئی ۔اس کی بیماری نے طول پکڑا۔ انھیںایام میں، تنِ تنہا ،میں اپنے حُجر ے میں سورہاتھا کہ اچانک ،والد شہید، تشریف لائے ۔
اور فرمانے لگے:میں ،چاہتا ہوں کہ ’’کریمہ‘‘ کوایک نظردیکھ لوں۔
لیکن ،اس وقت، گھرمیں بہت سی مَستورات آئی ہوئی ہیں۔
ان کی موجودگی میں وہاںجانا، طبیعت پرگراں گذررہا ہے۔
تم، ان مَستورات کوایک طرف کردو۔تاکہ میں ’’کریمہ ‘‘کودیکھ لوں۔
چوں کہ اس وقت، ان مَستورات کو،وہاں سے اٹھانا ،خلافِ مصلحت تھا
اس لئے میں نے، ان کے ،اور’’کریمہ ‘‘کے درمیان ،پردہ لٹکا دیا۔
اس کے بعدوہ، اس طرح، ظاہر ہوئے کہ
’’کریمہ ‘‘ اورمیرے علاوہ ،انھیں اورکوئی نہیں دیکھ رہا تھا۔
’’کریمہ ‘‘نے، انھیں پہچان لیا۔اورکہا:
عجیب بات ہے ۔لوگ تو،اِن کوشہید کہتے ہیں۔حالاں کہ یہ زندہ ہیں۔‘‘
فرمانے لگے :بیٹی! اس بات کوچھوڑو۔تم نے بیماری میں کافی تکلیف، برداشت کی ہے۔ اِنْ شَائَ اللّٰہُ،کَل، صبح کی اذان کے وقت ،تمھیں مکمل نجات مل جائے گی۔‘‘
یہ بات فرماکر اٹھے اوردروازے کے راستے سے باہر نکلے ۔میں بھی ان کے پیچھے ،روانہ ہوا۔
فرمایا: تم ٹھہر و۔اورپھر،غائب ہوگئے ۔
دوسرے روز، فجرکے وقت’’کریمہ‘‘ کی روح، پرواز کرگئی ۔
اوراس نے، ہرقسم کی تکلیف سے نجات ،حاصل کرلی۔‘‘
(ص ۱۱۶۔اَنفاسُ العارفین۔ مؤلَّفہ: شاہ ولی اللہ، محدِّث دہلوی )
میرے والد ماجد، شاہ عبدالرحیم ،دہلوی فرمایا کرتے تھے کہ:
مجھے آغازِ کار میں شیخ رفیع الدین محمد کے مزارِ مبارک کے ساتھ، موانست و رغبت پیدا ہو گئی تھی۔
چنانچہ، میں ،وہاں جاکر، ان کے مزار کو مرکزِ توجہ بنایا کرتا تھا۔
اکثر و بیشتر، غیبت کا ایسا حال، طاری ہوتا کہ مجھے سردی و گرمی کے احساس سے بھی بے نیاز کردیتا تھا۔(ص ۳۶۔اَنفاسُ العارفین۔ مؤلَّفہ: شاہ ولی اللہ، محدِّث دہلوی )
حضرت والد ماجد( شاہ عبدالرحیم، دہلوی )نے فرمایا کہ:
میں اندازاً، بارہ تیرہ برس کا تھا کہ
حضرت زکریا عَلیٰ نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام کو مجسم سامنے دیکھا۔
انھوں نے ،ذکرِ اسمِ ذات (اللہ) کی تلقین فرمائی۔
قوتِ نبوت کے سبب، ان کی اس تلقین نے ،اس قدر تاثیر دکھائی کہ
اس عمر میں تحصیلِ علم کی مشغولیت اور قِلّتِ توجہ کے باوجود، برکاتِ ذکر
اس انداز میں ظہور پذیر ہوئیں کہ کامل اور قوِیُّ الطلب طالبانِ حق سے دیکھنے میں نہیں آئیں۔
(ص ۳۸۔اَنفاسُ العارفین۔ مؤلَّفہ: شاہ ولی اللہ، محدِّث دہلوی )
بزرگوں کے یومِ وصال کے موقع پر منعقد ہونے والی تقریباتِ عرس کے سلسلے میں
شاہ ولی اللہ ، محدِّث دہلوی ،تحریر فرماتے ہیں:
حضرت والد ماجد (شاہ عبدالرحیم، دہلوی )فرمایا کرتے تھے کہ:
میںنے خواجہ بیرنگ کے ایک ایسے خلیفہ کو دیکھا جو ضعیف العمری کے باوجود تابناک چہرے والے اور انتہائی جلیل القدر بزرگ تھے۔
آپ، شیخی کے نام سے مشہور تھے۔ تقریبِ عرس مناتے تھے۔
چھ سات سال کی عمر میں کئی دفعہ، ان کے عرس میں شامل ہوا۔
راقم الحروف (ولی اللہ، دہلوی) کہتا ہے کہ
اس جلیل القدر مردِ بزرگ کا نام، شیخ نعمت اللہ تھا۔ اور وہ شیخ الاسلام ،خواجہ عبد اللہ، انصاری کی اولاد میں سے تھے۔ مگر، عُرفِ عام میں وہ، شیخی کے نام سے مشہور تھے۔
جب شیخ نعمت اللہ، خواجہ بیرنگ کے پاس پہنچے تو انھوں نے ،ان پر بے حد لطف و کرم فرمایا۔ حضرت شیخی نے ۱۰۶۷ھ میں رحلت فرمائی۔
(ص ۸۳۔اَنفاسُ العارفین۔ مؤلَّفہ: شاہ ولی اللہ، محدِّث دہلوی )
’’ حضرت خواجہ خورد ( فرزند و خلیفہ، حضرت خواجہ محمد عبدالباقی ،باقی بِاللہ، دہلوی) کبھی کبھی، حضرت خواجہ محمد باقی بِاللہ کا عرس بھی کیا کرتے تھے۔
ہم نے، بارہا دیکھا کہ کوئی شخص ان کے سامنے آکر کہتا کہ:
حضرت! چاول میرے ذمے۔ دوسرا آکر کہہ رہا ہے کہ حضور! گوشت میرے ذمے۔
ایک اور حاضر ہو کر کہہ رہا ہے کہ فلاں قوال، میں لا رہا ہوں۔
اسی طرح ،دوسرے انتظامات بھی ہو جاتے۔
حضرت خواجہ خورد، اس دَوران کوئی تکلف نہیں برتتے تھے۔
(ص ۶۵۔اَنفاسُ العارفین۔ مؤلَّفہ: شاہ ولی اللہ، محدِّث دہلوی ۔اردو ترجمہ از سید محمد فاروق القادری مکتبۃ الفلاح، دیوبند، ضلع سہارن پور،یوپی۔ انڈیا)
کتب و رسائلِ ولی اللّٰھِی ،بِالخصوص اَنفاسُ العارفین کے ورق ورق سے
یہ حقیقت ،روزِ روشن کی طرح، واضح ہے کہ:
شاہ ولی اللہ، محدِّث دہلوی، آپ کے آباواَجداد ،آپ کے اسلاف و اکابرِ ہند
یہ سب کے سب ، سنّی حنفی صوفی تھے۔
اسی طرح آپ کے سبھی اساتذہ و شیوخِ حرمین طیبین بھی سنی صوفی تھے۔
اس کے ساتھ ہی یہ حقیقت بھی عالَم آشکار ہے کہ:
شاہ ولی اللہ، محدِّث دہلوی کے فرزند و تلمیذ وجانشین، شاہ عبدالعزیز ،محدِّث دہلوی
اور آپ کے خلیفۂ اعظم، شاہ محمد عاشق پُھلَتی(مؤلِّفِ اَلْقَولُ الْجَلِی فِی ذکرِ آثارِ الْولِی) بھی نہ صرف،یہ کہ سنّی حنفی تھے، بلکہ ان کے عظیم پیشوا ،اور سرخیل و قافلہ سالار بھی تھے۔
فَالْحَمْدُ عَلیٰ ذَالِکَ۔

About ہماری آواز

Check Also

جاوید اختر بھارتی کی تحریر "چڑھنے لگا نشہ پھر حسب نسب کا!۔۔۔” کا تنقیدی جائزہ (آخری قسط)

ازقلم: محمد فیضان رضا علیمی ، سیتامڑھیمدیر اعلیٰ: سہ ماہی پیامِ بصیرتfaizanrazarazvi78692 @gmail.com گذشتہ سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے