سب اُن سے جلنے والوں کے گل ہوگئے چراغ (قسط:1)

ازقلم: اے رضویہ، ممبئی

سوال
جو حضور سیدی سرکار اعلیٰ حضرت کو نہیں مانتا … پر اُس کا سارا عمل مسلکِ اہلسنت سے ہے… تو کیا محض اعلیٰ حضرت کو نہ ماننے کی وجہہ سے کیا اُس پر کسی طرح کا شرعی حکم نافذ کیا جاسکتا ہے..؟

جواب:
نائب رسول اعظم مجدد اعظم قطب الارشاد حجتہ اللہ فی الاردحین الشاہ امام احمد رضا قادری فاضل بریلوی رضی الله تعالی عنہ کو کس حیثیت سے وہ نہیں مانتا؟

1: عالمِ دین ہونے کی حیثیت سے؟؟ یا از راہِ حسد بلا وجہہ بغض عناد رکھتا ہے…

2: ولی ہونے کی حیثیت سے؟؟

3: مجدد ہونے کی حیثیت سے؟؟؟ یا

4: پھر ردِّ بد مذہباً کرنی کی وجہہ سے کے اعلیٰ حضرت نے گستاخانہ رسالت اور بد مذہبوں کو کافر و مرتد کا زبردست رد کیا ہے؟؟؟

جواب نمبر 1
اگر وہ عالمِ دین ہونے کی وجہ سے سرکارِ اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالی عنہ کو نہیں مانتا ھیکہ اللہ تعالیٰ نے اُنھیں علمِ دین سے مالامال فرمایا ہے. یا اعلیٰ حضرت کو اسی لئے بُرا کہتا ھیکہ وہ عالم ہیں تو یہ صریح "کفر” ہے…..
"جو لوگ صحیح العقیدہ اور صحیح العمل عالمِ دین کی مخالفت کرتے ہیں وہ حقیقت میں حاکمِ شرح اور نائبِ رسولﷺ کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ ان کی ہلاکت کا سبب بنے گا۔
حدیث شریف میں سرکار اقدسﷺ نے فرمایا کہ:
"عالم بنو. یا اُس سے علم حاصل کرنے والا بنو. یا اُسکی بات سننے والا بنو یا، اُس سے محبت کرنے والا بنو اور پانچواں مت بنو کے ہلاک ہوجاؤ گے.”
(تفسیر کبیر، ویلم 1 پیج:282)

اور اگر حسد کی وجہہ سے بِلا وجہ عالم سے بغض و عناد اور اُسکی تحقیر و توہین کرتے ہیں تو اُن لوگوں کے کفر کا اندیشہ ہے۔
حضرت علامہ امام راضی تحریر فرماتے ہیں کے؛ "جس نے عالمِ دین کو حقیر (ذلیل) سمجھا اُس نے اپنے دین کو ہلاک کردیا…”
(تفسیر کبیر، ولیم ، 1، پیج: 283)

اور اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں کے ..”عالم دین سے بلا وجہ بغض و عناد رکھنے میں بھی "خوفِ کفر” ہے اگرچہ انانت نہ کرے..”
(فتویٰ رضویہ، ولیم 10،پیج:571)

اور تحریر فرماتے ہیں کے؛ اگر عالم دین کو اس لئے برا کہتا ہے کے وہ عالم دین ہے جب تو صریح کافر ہے۔

اور اگر بے وجہ علم اُسکی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی کسی دنیاوی خسومت کے باعث برا کہتا ہے، گالی دیتا ہے، تحقیر کرتا ہے، تو وہ سخت فاسق و فاجر ہے۔

اور اگر بے سبب رنج رکھتا ہے تو مریض القلب خبیث الباطل ہے. اور اسکے کفر کا اندیشہ ہے.. "
(فتویٰ فیض الرسول، ولیم: 2 پیج:667)

اس کے علاوہ بہت ساری وعیدیں ہیں عالمِ دین کی تحقیر و توہین کرنے میں یا برا بھلا کہنے پر.. اور جب ایک عالمِ دین کو برا کہنے پر اسقدر وعیدیں ہیں تو وہ عالم جس نے ہزاروں کو عالم بنایا، جس نے ہزاروں عالموں کو راہ ہدایت دکھایا
"عالم ہی صرف کہنا کب شان ہے تمہاری…
تم نے جانے کتنے عالم بنادیئے ہیں.”

اس کا عالم کیا ہوگا اِس کی روشنی میں اب وہ توہین کرنے والا اپنا محاسبہ کرلے…

مضمون جاری……دوسری قسط

About ہماری آواز

Check Also

منقبت درشان اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی علیہ الرحمہ

نتیجہ فکر: محمد تحسین رضاقادریاستاذ دارالعلوم ضیائے مصطفیٰ کانپور یوپیموبائل نمبر ٩٨٣٨٠٩٩٧٨٦ راستہ بھٹکے ہوؤں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے