اہم خبریںبین الاقوامی

اگلے سال یوم جمہوریہ کی تقریب میں مہمان خصوصی ہوں گے برطانوی وزیراعظم

نئی دہلی، ہماری آواز: 15دسمبر(پریس ریلیز) اگلے سال یوم جمہوریہ کی تقریب میں برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن مہمان خصوصی کے طورپر شام ہوں گے ہندوستان کے چار روزہ دورے پر آئے برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈومنک راب نے وزیر خارجہ سبرمنیم جے شنکر کے ساتھ یہاں دوطرفہ میٹنگ میں یہ اطلاع دی۔میٹنگ میں ہندوستان اور برطانیہ نے کووڈ کے بعد کی دنیا میں اپنی دوطرفہ استراتجک شراکت داری کو اور اونچائی پر لے جانے کےلئے پانچ نکاتی ایجنڈا طے کیا اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف تشویش کا اشتراک کیا۔
میٹنگ کے بعد مسٹر ڈومنک راب نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ برطانوی وزیراعظم مسٹر جانسن نے اگلے سال یوم جمہوریہ کی تقریب میں مہمان خصوصی کے طورپر شامل ہونے کی ہندوستان کی اپیل کو قبول کرلیا ہے ۔برطانیہ وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کے وزیراعظم مسٹر جانسن نے وزیراعظم نریندر مودی کو اگلے سال ہونے والے جی -7 کے چوٹی کانفرنس میں برطانیہ آنے کی دعوت دی ہے اور مسٹر جانسن نے اگلے سال 26 جنوری کو نئی دہلی میں یوم جمہوریہ کی تقریب میں مہمان خصوصی بننے پر اتفاق ظاہر کیا ہے جو ہمارے لئے ایک بڑا اعزاز ہے۔
یوم جمہوریہ کی اہم تقریب میں بچور مہمان خصوصی مسٹر جانسن کے آنی کی منظوری پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر جے شنکر نے کہا کہ یوم جمہوریہ پریڈ میں مسٹر جانسن کا آنا ہمارے دو طرفہ تعلقات میں ایک نئے دور کی شروعات کا ایک اہم اشارہ ہوگا۔
ڈاکٹر جے شنکر نے کہا کہ کووڈ 19 کی وبا کے دور میں کسی وزیرخارجہ کے اس پہلے دو طرفہ دورے میں آج کی میٹنگ ہندوستان اور برطانیہ کی استراتجج شراکت داری کو نئی اونچائی پر لے جانے کے بارے میں تبادلہ خیال ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پانچ اہم موضوعات – لوگوں کے درمیان رابطہ بڑھانے ،کاروبار اور خوشحالی، تحفظ اور حفاظت، ماحولیاتی تبدیلی اور صحت پر توجہ مرکوز کی ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ میٹنگ میں اس کے علاوہ ہم نے افغانستان کے حالات کا جائزہ لیا اوربحر الکاہل خطے کے تعلق اور مغربی ایشیا کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کی وجہ سے پیدا چیلنج پر تشویش کا اظہار کیا۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button