ایڈیٹر کے قلم سےحدیث پاک

بہترین امت

اللہ رب العزت نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے اس دنیا میں بھیجا اور انسانی آبادی کا آغاز ہوا تب سے اللہ تعالی نے بہت سی امتوں کو پیدا فرمایا اور ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی مثلاً بنی اسرائیل کو اپنے وقت کا بہترین امت قرار دیا جس کا تذکرہ قرآن مقدس میں یوں ہے واذكروا نعمتي التي انعمت عليكم وانى فضلتكم على العالمين جميعا [البقره:١٣٢] امت محمدیہ سے پیشتر دنیا کی افضل ترین امت ہونے کا خطاب بنی اسرائیل کو حاصل تھا اللہ رب العزت نے انہیں دین و دنیا کی بہت سی نعمتوں سے سرفراز کیا تھا جو اس سے قبل کسی دوسری قوم کو میسر نہ آئیں، مگر انہوں نے معصیت الہی کا ارتکاب کر کے وہ اعزاز گنوا دیا۔ پھر اللہ رب العزت نے امت محمدیہ کو اس دنیا میں بھیجا اور انہیں بہترین امت کے لقب سے نوازا ۔ قرآن حکیم نے جس کا بیان یوں کیا كنتم خير امة اخرجت للناس ﴾ [ال عمران: 110] تم لوگوں کی طرف بھیجی گئی بہترین امت ہو جس کی تفسیر فرماتے ہوئے آقائے دو عالمﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ سترہویں (بہترین) امت ہو یعنی تم سے پہلے انہتر (69) امتیں گزر چکی ہیں جو بہترین امت تھیں مگر تم ان سبھی سے زیادہ بہتر ہو اور اللہ کے نزدیک ان سب سے زیادہ معزز و مکرم ہو۔

ترجمہ: حضرت بہترین حکیم اپنے والد اور وہ ان کے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم نے کو اس آیت كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ المُنكَرِ كى تفسیر میں فرماتے ہوئے سنا "تم لوگ ستر امتوں کو پورا کرنے والے ہو۔ اور اللہ کے نزدیک ان سب میں بہتر اور معزز ہو۔”

ہم بہترین امت کیوں؟
اللہ رب العزت نے اس امت کو بہترین امت قرار دیا کیوں کہ سیامت دوسروں کو بھلائی کا حکم دیتی ہے اور برائی سے روکتی ہے۔ یہ وہ وصف ہے جو دیگر امتوں کو حاصل نہ تھا لہذا امت محمدیہ کے ہر ایک فرد پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنا ضروری ہے کہ یہی اس امت کو دیگر امتوں سے ممتاز کرتی ہے۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

12 تبصرے

  1. استاذ الحفاظ حضرت حافظ وقاری نور الحسن صاحب قبلہ علیہ الرحمہ کی رحلت اہلسنت والجماعت کے لیے بہت بڑا خسارہ ہےآپ مدرسہ سعید العلوم یکماڈیپو لچھمی پور کے پرانے اساتذہ میں سے تھے بلکہ آپ نے سعیدالعلوم کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی تھی اس کے ترقی میں آپ کا اہم کردار رہا آپ نہایت ہی خلیق ملنسار اور مخلص تھے علماء نواز اور خاموش مزاج تھے آپ مہینوں سے زیر علاج تھے آخر کار آج آپ کا وقت موعود آگیا اور آپ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ابھی کچھ دنوں پہلے ہی آپ سے ملاقات ہو ئی تھی غم کے اس گھڑی میں ہم انکے اہل خانہ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں دعاہے کہ مولی تعالیٰ آپ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اور آپ کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین بحرمت سید المرسلین
    سوگوار
    محمد طاہر القادری مصباحی نظامی شیخ الحدیث دارالعلوم اہل سنت غوثیہ نظامیہ حسنی بستی

  2. انّاللّٰه وانّاالیه راجعون
    اللّٰہ وحدہ لاشریک اپنے خصوصی فضل سے حضرت حافظ وقاری انوارالحسن یارعلوی کی مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطافرمائے،جملہ پسماندگان(اہل خانہ،احباب، تلامذہ اور سبھی اقرباء ومتعلقین)کو صبرجمیل واجر جزیل مرحمت فرمائے!
    آپ مدرسہ عربیہ سعیدالعلوم کے سینئر اور قدیم استاذ تھے،طبعت میں عجزوانکسار اور بہت ہی شریف النفس اور اعلیٰ اخلاق وکردار کے مالک تھے-
    کئ مہینوں سے بیمار تھے-
    پرودرگار ان کے بچوں اوراہل خانہ پر اپناخصوصی فضل فرمائے-
    آمین بجاہ سیّدالمرسلین(صلّی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم)

  3. استاذ الحفاظ حضرت حافظ وقاری انوار الحسن صا حب قبلہ استاذ دارالعلوم سعید العلوم یکماڈپو کا ہمارے درمیان سے رخصت ہونا اہل سنت والجماعت خصو صا سعید العلوم کا عظیم خسارہ ہے موصوف خلیق ملنسار منکسر المزاج تھے مولی تعالی اپنے حبیب کے صدقے قاری صاحب قبلہ کی مغفرت فرمائے اور کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اور اہل خانہ و اراکین ادارہ کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین
    تحسین رضا عزیزی کاشانہ ابو الفیض منہدوپار ضلع سنت کبیر نگر

  4. یہ جان کر بےحد تکلیف ہوئی کہ حضرت حافظ وقاری انوارالحسن صاحب قبلہ یارعلوی استاذ دارالعلوم سعیدالعلوم لکشمی پور کا انتقال ہو گیا ہے مرحوم بڑے ہی خلیق اور ملنسار تھے جب بھی ملاقات ہوتی بڑے ہی خندہ پیشانی کے ساتھ ملتے بڑے ہی خاموش طبع بس اپنے سے ہی کام یقین نہین ہورہا ہے اتنا بڑا سانحہ ہو جائیگا مگر مشیت ربانی اس پر کسی کا چارہ نہیں اللہ رب العزت اپنے حبیب کے صدقے مین مرحوم کے گناہوں کی مغفرت فرما کر اپنے جوار رحمت مین جگہ عنایت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے غم کی اس گھڑی مین ہم اہل خانہ کے ساتھ ہین
    عبداللہ عارف صدیقی
    شہرت گڑھ ضلع سدھارتھ نگر یوپی

  5. اللہ تعالی اپنے حبیب علیہ السلام کے طفیل حافظ و قاری انوار الحسن یار علوی صاحب کے گناہوں کی مغفرت فرماۓ اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے اشاعت علم دین کا بہتر صلہ قبر وحشر میں عطا کرے۔آمین
    سوگوار:صاحب علی یارعلوی
    دار العلوم امام احمد رضا بندیشر پور، سدھارتھ نگر یو.پی.

  6. اللہ رب العزت اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں حضرت حافظ و قاری انوارالحسن یار علوی مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین
    شریک غم (مولانا) نظام الدین نوری
    پرنسپل انجمن اسلامیہ سیرت النبی مدرسہ عربیہ اہلسنت قصبہ بانسی ضلع سدھارتھ نگر

  7. إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
    حضرت حافظ وقاری انوار الحسن صاحب یارعلوی استاذ جامعہ عربیہ سعیدالعلوم لکشمی پورکے انتقال پر ملال سے اساتذہ کرام خاص کر میرا ذہن ماٶوف ہوگیا ہے مرحوم بہت ہی محبتی ملنسار اخلاق مند پاکیزہ ذہنیت اور بہت ساری خوبیوں کے مالک تھے ایسا کہاں سے لاٶں تجھ سا کہوں جسے
    رب قدیر مرحوم کی مغفرت فرماکر غریق رحمت ونور فرماۓ
    اور پسماندگان ووابستگان کو صبر جمیل اور اجر جزیل عطا فرماۓ آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ
    شریک غم: اظہار احمد فیضی
    خادم دارالعلوم اہلسنت یار علویہ فیض الرسول نوڈہوا سکھوانی مہراج گنج 9936757210

  8. انا للہ وانا الیہ راجعون
    مولا ئے کریم اپنے حبیب صلی اللہ علیہ علیہ وسلم کے طفیل قاری انوار الحسن صاحب یارعلوی کی مغفرت فرماکر ان کے درجات کو بلند فرمائے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق بخشے۔ آمین بجاہ سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
    شریک غم: عبدالقدوس یارعلوی فیضی
    الجامعۃ الغوثیہ للبنات نائگاؤں مہاراشٹرا

  9. انا للہ وانا الیہ راجعون
    اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صدقے میں حضرت حافظ وقاری انوارالحسن یارعلوی کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے اورگھروالوں کوصبرجمیل عطا فرمائے۔آمین
    شریک غم حافظ آفتاب عالم عثمانی

جواب دیں

Back to top button