افغان لڑکیوں کو اسکول واپس آنا چاہیے: حامد کرزئی

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

واشنگٹن ۔25 جنوری۔ ایم  این این۔
سابق افغان صدر حامد کرزئی  نے کہا ہے کہ افغان لڑکیوں کو مارچ  سکول دوبارہ کھلنے پر اسکولوں میں جانے کی اجازت ہونی چاہیے۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی نے کہا کہ انہوں نے لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم کے اہم مسئلے پر اپنے پُر عزم موقف کا اعادہ کیا۔ کرزئی نے امریکی نیوز نیٹ ورک   سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ "کوئی عذر نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی عذر ہونا چاہیے۔ کوئی بہانہ قابل فہم یا قبول نہیں ہے۔ ملک کی لڑکیوں کو سکول واپس آنا چاہیے۔” "خواتین کو کام پر واپس آنا چاہیے۔ ہمارا مذہب اس کی اجازت دیتا ہے۔  خواتین کے بنیادی اصولوں یا حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا ےہ بھی کہا ملک کو بہتر طریقے سے چلانے  کے مدعے  پر  کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے۔  سابق افغان صدر حامد  کرزائی کایہ بیان  ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ناروے کے دارالحکومت میں افغانستان کی تقدیر سے متعلق وسیع مسائل پر بات چیت جاری ہے۔ افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں طالبان کے ایک وفد نے پیر کو اوسلو میں مغربی ممالک کے سفیروں سے ملاقات کی ہے ۔ اس سے قبل طالبان کے وفد نے سول سوسائٹی کے ارکان سے بھی ملاقاتیں کیں جن کی حمایت کرزئی نے  کی تھی۔ سابق افغان صدر نے کہا کہ "ہمیں ناروے میں افغانوں کے درمیان طالبان حکومت کے نمائندوں اور سول سوسائٹی کے ارکان کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں پر خوشی ہے۔ ہم نے کچھ بہت تعمیری بات چیت کی تھی ۔کرزئی نے کہا کہ دو سرگرمیوں کا ایک متوازی ٹریک ایک ہی وقت میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا، "ہمیں… اس مارچ میں لڑکیوں کے لیے سکول کھولنے کے ساتھ آگے بڑھ کر، ایک آئین بنا کر، دیگر تمام افغانوں کی رائے اور خواہشات کو شامل کر کے ایک مستحکم اور پرامن افغانستان کے لیے کام شروع کرنا چاہیے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

مخدمی گلشن کی لائبریری

"مخدومی گلشن کی لائبریری میں طلبہ نصف شب تک محو مطالعہ رہتے ہیں.” ازقلم: خلیل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔