ملکی خبریں

اب تو 2020 ’عام الحزن‘ ہی کہلائے گا: مصباحی

نئی دہلی: 20 دسمبر (امجدی) جامعہ ملیہ اسلامیہ (جے ایم آئی) کے ریسرچ اسکالر اور مختلف طلبہ کی جانب سے جے ایم آئی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے سابق رجسٹرار اور محکمہ پولیس میں اعلیٰ عہدوں پر فائز آئی پی ایس۔اے ڈی جی بھوپال ایس ایم افضل کے سانحۂ ارتحال پر منعقدہ تعزیتی اجلاس میں زین العابدین مصباحی نے کہا،’ یوں تو رواں سال نے بڑے ستم ڈھائے ہیں۔ انتہاء اس وقت ہوئی جب ایس ایم افضل کے سانحۂ ارتحال کی خبر آئی‘ یقیناً اب تو2020 ’عام الحزن‘ ہی کہلائے گا‘۔شعبہ تعلیم کے طالب عالم جناب مصباحی نے کہا کہ آزاد ہندوستان میں شاید ہی کسی آئی پی ایس افسر کو اس قدر مقبولیت ملی ہو۔ یہ ان کے بلند اخلاق کا مظہر ہے کہ ایک طرف اگر وہ حکومت اور سینیئر افسران کے  جتنے محبوب نظر تھے تو دوسری جانب ہر کسی کی مدد کرنے میں پیش پیش رہنے کی وجہ سے وہ اپنے ماتحتوں اور عوام میں بھی اتنے ہی محبوب و مقبول تھے‘۔اس موقع پر نظامت کا فریضہ انجام دیتے وقت ضیاء الرحمٰن امجدی نے کہا،’حکومت، افسران، ماتحتوں اور عوام میں یکساں مقبول ہونا نہایت مشکل ہے۔ اس قدر خوش اخلاق اور متوازن ہونا‘ یہ ایس ایم افضل قادری کا ہی کمال ہے۔ اور ایسا کیوں نہ ہو؛ ان کی پیدائش معروف خانوادہ برکاتیہ میں ہوئی اور ان کی تربیت پاکیزہ ماحول میں خانقاہ مارہرہ کے سجادہ نشین اور ان کے والد سید مصطفیٰ حیدر حسن ’احسن العلماء‘ نے کی تھی جو اپنے وقت کے ممتاز سماجی، روحانی اور دینی عبقری شخصیت تھے۔تعزیتی اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ مبین احمد جامعی نے منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔ اجلاس کا اختتام ریسرچ اسکالر جناب مدثر اشرفی کی دعا پر ہوا۔اس موقع پر جے ایم آئی کے ریسرچ اسکالر غلام غوث جامعی، رضاء الحق امجدی، ظفریاب مصباحی، احمد شکیل مصباحی، رضاء الدین مصباحی اور دیگر طلبہ و عوام موجود تھے۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button