حضور خواجہ غریب نواز طریقۂ تبلیغ اسلام

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)
ازشرف قلم خادم محمدسلیم رضا رضوی برکاتی بریلوی ارشدی رکن اعلیٰ
آل انڈیاتحریک تحفظ سنیت (ٹی ٹی ایس) درگاہ اعلیٰ بریلی شریف یوپی

مبسملاوحامداومصلیاومسلما

خواجئہ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
کبھی محروم نہیں مانگنے والا تیرا
پھرمجھے اپنا درپاک دکھادے پیارے
آنکھیں پرنور ہوں پھر دیکھ کے جلوہ تیرا
محی دیں غوث ہیں اور خواجہ معین الدین ہے
اے حسن کیوں نہ ہو محفوظ عقیدہ تیرا

(ذوقِ نعت سرکار استادزمن)

احبابِ اہلسنت وحامیانِ مسلک اعلیٰ حضرت!

عرصہ دراز سے ہندوستان اللہ رب العزت کےنیک بندوں کی توجہ کامرکزرہا ہے مختلف ادوارمیں یکے بعد دیگرے بے شماراولیا۶ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نےہندوستان کا رخ کیا اور لوگوں کونہ صرف دین اسلام کی تبلیغ دین کی دعوت دی بلکہ کفروشرک کی تاریکیوں میں بھٹکنے والے انت گنت غیرمسلموں کو اللہ رب العزت کی واحدانیت اورپیارے آقاﷺ کی رسالت سے آگاہ کر کے انہیں داٸراہ اسلام میں داخل فرمایا سیدالاولیا۶تاج الاصفیا۶وارث النبیﷺ عطاۓرسول ﷺ الشاہ سلطان الھندحضرت سیدنا خواجہ غریب نوازسیدنا معین الدین حسن سنجری چشتی اجمیری رحمة اللہ علیہ کا شماربھی انھیں بزرگوں میں سے ہوتاہیے آپ رحمتہ اللہ علیہ چھٹی صدی ہجری میں ہندوستان تشریف لاٸے اور ایک عظیم الشان روحانی وسماجی انقلاب کا باعث بنے حتٰی کہ ہندوستان کاظالم وجابرحکمران بھی آپ کی شخصیت سے مرعوب و مانوس ہوکرتاٸب ہوا اور عقیدت مندوں میں شامل ہوگیا آٸی ئے سرکار خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کی مبارک زندگی کے حسین پہلوٸوں کو ملاحظہ کریں آپ کی ولادت باسعادت
حضرت خواجہ غریب نواز سیدنا معین الدین حسن سنجری چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ ٦٣٧ھجری بمطابق 1142عیسوی سجستان یاسیستان کے علاقہ سنجر میں پیداہوۓ
(اقتباس الانوارص 345)
نام وسلسلہ ونسب
آپ رحمتہ اللہ علیہ کا اسم گرامی حسن ہیے اور آپ نجیب الطرفین حسنی وحسینی سیدہیں آپ کے القاب بہت زیادہ ہیں مگر مشہورومعروف القاب حضرت معین الدین حسن خواجہ غریب نواز سلطان الھندوارث النبی ﷺ اورعطاۓرسول ﷺ وغیرہ ان میں شامل ہیں آپ کا سلسلہ نسب حضرت سیدنامعین الدین حسن بن سیدغیاث الدین حسن بن سیدنانجم الدین طاہربن سیدناعبدالعزیزہے
(والدین کریمین)
آپ رحمتہ اللہ علیہ کےوالد ماجد جناب حضرت سیدنا غیاث الدین رحمتہ اللہ علیہ جن کا شمار سنجرکے امرارٶسا میں ہوتاتھا انتہاٸی متقی وپرہیزگاراورصاحب کشف وکرامت بزرگ تھے
نیزآپ رحمتہ اللہ تعالی علیہ کی والدہ ماجدہ کا نام جنابہ حضرت اُمُّ الورٰی بیوی ماہ نور فاطمہ رحمتہ اللہ علیہا آپ بڑی متقیہ عبادت گزار خواتین میں سے ھیں اکثر اوقات عبادت وریاضت میں مشغول رہاکرتی تھیں آپ نیک سیرت خاتون تھیں آپ فرماتی ہیں جس وقت میرے شکم پاک میں میرے معین الدین آۓ اس وقت سے آدھی رات سے اللہ کا ذکرسنا کرتی تھی یعنی میں تعجب میں پڑھ گٸی کہ یہ آواز کہاں سے آرہی ہےنیند سے بیدارہوکراِدھر اُدھر دیکھتی کوٸی نظرنہیں آتاتومعلوم ہوا میرے پیٹ میں جوبچہ ہےوہ اللہ والاہے اوراللہ کا ذکرکررہاہے یہ آپ کی شان تھی جب سیدناخواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ تعالی علیہ پندرہ سال کی عمرکوپہونچےتوآپ کے والد محترم کا وصال ہوگیا اناللہ واناالیہ رجعون وراثت میں ایک باغ اورایک پن چکی ملی آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اسی کو ذریعہ معاش بنالیا اورخودہی نگہبانی کرتے تھے اور درختوں کی آبیاری فرماتے تھے ایک روزحضرت سیدناخواجہ معین الدین حسن سنجری رحمتہ اللہ تعالی علیہ باغ میں پودوں کو پانی دےرہےتھے کہ اچانک ایک مجزوب بزرگ حضرت سیدنا ابراھیم قندوزی رحمتہ اللہ تعالی علیہ باغ میں تشریف لاۓجوں ہی حضرت خواجہ غریب نوازرحمتہ اللہ علیہ کی نظراللہ رب العزت کے اس مقبول بندے پرپڑھی فورًادوڑے سلام کرکے دست بوسی کی اورنہایت ادب واحترام کےساتھ درخت کےساۓ میں بٹھادیاپھران سےعاجزی وانکساری کےشرف ملاقات خاطروتواضع کی اورتازہ انگورکاایک خوشہ پیش کیا اللہ رب العزت کےاس ولی کواس نوجوان باغبان کا اندازہ بھاگیاخوش ہو کرکھلی تل یاسرسوں کاپھول کاایک ٹکڑاچباکرآپ رحمتہ اللہ تعالی علیہ کے منہ میں ڈال دیاکھلی کاٹکڑاجوں ہی گلے سے نیچے اترا آپ رحمتہ اللہ تعالی علیہ کی دل کی کیفیت یکدم بدل گٸی اور آپ کا دل دنیا کی محبت سے اچاٹ ہوگیا پھرآپ نے باغ اور پن چکی اور سارا سازوسامان بیچ کر اس کی قیمت فقر او مساکین میں تقسیم کردی اورحصول علم دین اسلام کی خاطر راہ خدا کے مسافر بن گۓ اس مبارک آپ کے مبارک طریقہ سے پتہ چلا ہمارے کوٸی بزرگ یا استادیاپیرماں باپ آجاٸیں توہمیں انکی تعظیم وتوقیر کےلٸےکھڑاہوجاناچاہیے انہیں عزت واحترام کے ساتھ بٹھاناچاہیے
(حصول علم کےلٸےآپ کا رخت سفر)
حضرت سیدناخواجہ معین الدین حسن چشتی رحمتہ اللہ تعالی علیہ نے(15) سال کی عمرمیں حصول علم کے لٸے سفر اختیارکیا اورسمرقندمیں حضرت سیدنامولانا شرف الدین علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں حاضرہوکر با قاعدہ علم دین کا آغاز کیا پہلے پہل قرآن پاک کا حفظ کیا اوربعدازاں انہی سے دیگر علوم حاصل کٸے مگر جیسےجیسے علم دین سیکھتےگۓ ذوق علم بڑھتاگیا چنانچہ علم کی پیاس بجھانے کے لٸے بخارا کا رخ کیا اورشہرہ آفاق عالم دین مولانا حسام الدین بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے سامنے زانوۓتلمز تہ کیا اور پھر انھیں کی شفقتوں کےساۓ میں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے تھوڑےہی عرصے میں تمام علوم کی تکمیل کرلی اس طرح آپ نے مجموعی طورپرتقریباًپانچ سال سمرقندبخارامیں حصول علم کے لٸے قیام فرمایا (طالب مطلوب کے درپر
اس عرصے میں علوم ظاہری کی تکمیل تو ہوچکی تھی مگرجس تڑپ کی وجہ سے گھربار کوخیربادکہاتھااس کی تسکین ابھی باقی تھی چنانچہ کسی ایسے طبیب حاذق(ماہر)کی تلاش میں نکل کھڑےہوۓجو درد دل کی دوا کرسکے مرشد کامل کی جستجو میں بخارا سےحجازکا رخت سفرباندھا راستہ میں جب نیشاپورصوبہ خراسان ایران کے نواحی علاقے ہارون سے گزرہوا اورمردقلندرقطب وقت حضرت عثمان ہارونی چشتی رحمتہ اللہ تعالی علیہ کا شُہرَہ سناتوفورًاحاضرخدمت ہوۓاوران کے دست حق پرس ت پربیعت کرکےسلسلہ چشتیہ میں داخل ہوگۓ
بارگاہ الٰہی میں مقبولیت
ایک بار حج کے موقع پرحضرت سیدنا عثمان ہارونی رحمتہ اللہ علیہ نے میزابِ رحمت کےنیچے آپ کا ہاتھ پکڑ کر بارگاہ الٰھی میں دعاکی اے میرے مولیٰ میرے معین الدین حسن رحمتہ اللہ علیہ کواپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمالے غیب سے آواز آٸی معین الدین ہمارادوست ہےہم نےاسےقبول کیا سبحان اللہ
(بارگاہ رسالت سےہندوستان کی سلطانی:
بارگاہ رسالت میں خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کےمرتبےکااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہےکہ ایک مرتبہ حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی کومدینہ شریف کی حاضری نصیب ہوٸی توآپ نے نہایت ادب واحترام کےساتھ یوں درودوسلام پڑھاالصلاة والسلام علیک یاسیدالمرسلین وخاتم النّبیّن ﷺ اس پرروزہ مقدس سےآوازآٸی وعلیکم السلام یاقطب المشاٸخ نیزحضرت معین الدین حسن چشتی رحمتہ اللہ علیہ کوہندوستان کی سلطانی بھی بارگاہ رسالت ماٰب ﷺ ہی سے عطاہوٸی:
(خوف ناک جادوگرصفحہ نمبر2پر رقمطرازہیں) سلسلہ چشتیہ کےعظیم پیشواحضرت خواجہ معین الدن حسن چشتی رحمتہ اللہ تعالی علیہ کومدینہ منورہ زادھااللہ شرفاوتعظیما کی حاضری کےموقع پرسیدالمرسلین خاتم النبین ﷺکی طرف سے یہ بشارت ملی اےمعین الدین توہمارےدین کامعین یعنی دین کامددگار ہیے تجھےہندوستان کی ولایت عطاکی اجمیر جاتیرےوجود یعنی تیری تبلیغ سے بے دینی دور ہوگی اوراسلام رونق پزیر ہوگا(اللہ کےخاص بندےعبدہ ص510) تغیر سلطان الھندکاسفرہند
آپ رحمتہ اللہ تعالی علیہ اس بشارت کےبعدہندوستان روانہ ہوۓ اور سمر قند بخارا عروس البلاد بغدادشریف نیشاپور تبریز اوش اصفہان سبزوار خراسان خرقان استر آباد بلخ اور غزنی وغیرہ سےہوتےہوۓہندوستان کے مشہور شہر
اجمیرشریف صوبہ راجستھان پہونچے اوراس پورےسفرمیں آپ نے سینکڑوں اولیا۶اللہ اوراکابرین امت سےملاقات کی چنانچہ بغدادمعلی میں حضرت سیدناغوث اعظم محی الدین سیدشیخ عبدالقادرجیلانی رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضرہوۓاورپانچ ماہ تک بارگاہ غوثیہ سے اکتساب فیض کیا حاکم سبزوار کی توبہ سفرکے دوران جب حضرت سیدناخواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ کاگزرعلاقہ سبزوارصوبہ خراسان رضوی ایران سےہوا توآپ نےوہاں ایک باغ میں قیام فرمایاجس کے وسط میں ایک خوشنماحوض تھا یہ باغ حاکم سبزوار کاتھاجوبہت ہی ظالم تھااور یہ ایک بدمزہب شخص تھا اس کامعمول تھا کہ جب بھی باغ میں آتاتوشراب پیتا اور نشے میں چور ہوکر خوب شورمچاتا آپ رحمتہ اللہ نےحوض سے وضو کیا اور نوافل ادا کرنے لگے محافظوں نےآپ کواپنےحاکم کی سخت گیری کاحال عرض کیا اوردرخواست کی کہ آپ یہاں سے تشریف لےجاٸیں کہیں حاکم کوپتہ نہ چل جاۓ اوروہ آپ کو کوٸی نقصان پہنچادے آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایااللہ رب العزت میراحافظ وناصرنگہبان ومددگار ہے اسی دوران حاکم باغ باغ میں داخل ہوا اورسیدھاحوض کی طرف آیا اپنی عیش وعشرت کی جگہ پراجنبی درویش کودیکھا آگ بگولا ہوگیااوراس سےپہلے وہ آپ سےکچھ کہتا آپ رحمتہ اللہ تعالی علیہ نے ایک نظرایسی ڈالی اوراس کی کایاپلٹ دی حاکم وقت باغ کا مالک آپ رحمتہ اللہ علیہ کی نظرجلالت کی تاب نہ لاسکا اوربےہوش ہوکرزمین پرگرپڑاخادموں نےمنھ پرپانی کےچھینٹے مارےجوں ہی ہوش آیا فورًا آپ رحمتہ اللہ علیہ کے قدموں میں گرکربدمزہبیت اورگناہوں سےتاٸب ہوگیا اورآپ کےدست مبارک پربیعت ہوگیا نگاہ ولی میں یہ تاسیر دیکھی بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی پیرومرشدحضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کی انفرادی کوشش اور دین اسلامی کی تبلیغ سےاس نے ظلم وجورسے جمع کی ہوٸی ساری دولت اصل مالکوں کو لوٹادی اورآپ رحمتہ اللہ علیہ کی صحبت کوپکڑ لیا اورآپ رحمتہ اللہ علیہ نے کچھ عرصے میں اسےفیوض باطنی سےمالامال کرکےخلافت عطافرماٸی اوروہاں سےآپ رخصت ہو گۓ اللہ رب العزت نے قرآن مقدس میں ارشادفرما یا ہے یٰااَیُّھَاالَّذِینَ اٰمَنُوااتَّقُواللّٰہ وَکُونُو مَعَ الصّٰدِقِینَ
ترجمہ کنزالایمان : اے ایمان والواللہ سےڈرواورسچوں کے سات ہو اٰیت ١١٩سورہ توبہ صفحہ ٣٧٨تفسیرصادق الایمان مخلص ہیں رسول ﷺکی اخلاص کےساتھ تصدیق کرتےہیں سعیدبن جبیرکاقول ہےکہ صادقین سےحضرت ابوبکرصدیق وعمررضی اللہ عنھمامرادہیں ابن جریرکہتےہیں کہ مہاجرین حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنھمانےفرمایاکہ وہ لوگ جن کی نیتیں ثابت رہیں اورقلب واعمال مستقیم اوروہ اخلاص کےساتھ غزوہ تبوک میں حاضرہوۓ مسٸلہ اس اٰیت سےیہ ثابت ہواکہ اجماع حجت ہے کیونکہ صادقین کےساتھ رہنے کاحکم فرمایا اس سے ان کا قول کا قبول کرنا لازم آتاہے یہ ہی وہ لوگ ہیں جو اپنی مرادکو پہونچے اللہ والوں میں میرے خواجہ غریب نوازرحمتہ اللہ علیہ بھی شامل حال ہیں
سبحان اللہ میرے غریب نواز حضرت معین الدین حسن چشتی اجمیری رحمتہ اللہ تعالی علیہ حضرت داتاگنج لاہوری رحمتہ اللہ علیہ کےمزارمقدس پرآپ کی حاضری کا پرکیف منظر آپ نے حضرت داتاگنج بخش سیدعلی احمدہجویری رحمتہ اللہ علیہ کے مزارمقدس پرنہ صرف حاضری دی بلکہ مراقبہ بھی فرمایا اورحضرت سیدناداتاگنج بخش ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کا خصوصی فیض حاصل کیا مزار پر انوار سے ہوتےوقت داتاگنج بخش ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کابیان اس شعرکے ذریعے فرمایا گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا ناقصاں را پیر کامل کاملاں را رہنما یعنی گنج بخش رحمتہ اللہ تعالی علیہ کا فیض سارے عالم پر جاری ہے اور آپ نور خدا کے مظہر ہیں آپ کا مقام یہ ہے کہ راہ طریقت میں جوناقص ہیں ان کے لٸے پیر کامل اورخودپیرکامل ہیں ان کے لٸے بھی راہنماہیں
(اللہ کےخاص بندےعبدہ ص511)

آپ کی تلاوت قرآن اورشب بیداری کاعالم یہ تھا
آپ حضرت سیدناخواجہ غریب نوازمعین الدین حسن چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کا معمول تھا کہ ساری ساری رات عبادت الٰہی میں مصروف رہتے حتیٰ کہ عشا۶ کی نماز کے وضو سےنمازفجراداکرتے اورقرآن پاک کی تلاوت سے اس قدرشغف تھا کہ دن میں دوقرآن پاک ختم فرمالیاکرتےتھے اوردوران سفربھی قرآن پاک کی تلاوت جاری رہتی تھی اورآپ کے بارے میں یہ بھی منقول ہےکہ سات روزبعد دوڈھاٸی تولہ وزن کے برابر روٹی پانی میں بھگو کر کھایا کرتے یہ ہی ہے اللہ والوں کا کھانا آپ کالباس مبارک اورسادگی وہ ظاہری زیب وآراٸش کےبجاٸے باطن کی صفاٸی پرزوردیتےہیں حضرت خواجہ غریب نوازرحمتہ اللہ علیہ کےلباس مبارک میں بھی انتہادرجے کی سادگی نظرآتی تھی آپ کا لباس صرف دوچادروں پر مشتمل ہوتااوراس میں بھی کٸ کٸ پیوندلگے ہوتے گویالباس سے بھی سنت مصطفی ﷺ سے بھی بے پناہ محبت تھی نیزپیوندلگانےمیں بھی اس قدرسادگی اختیارکرتےکہ جس رنگ کا کپڑامیسرہوتااسی کوشرف بخش دیتےآپ کو اپنے مریدوں کی فکر اتنی رہتی جس طرح سے اپنےبچوں سے محبت ہواکرتی ہے ایک بار آپ مکہ مکرمہ کی نوربارفضاٶں میں مراقبہ کررہےتھےکہ ہاتف غیب سےآواز آٸی مانگ کیا مانگتا ہے ہم تجھ سے بہت خوش ہیں آپ نے ارشادفرمایا کہ یا الٰہی میرے تمام مریدوں کوبخشدے جواب آیا بخشدیا عرض کی میرے مولٰی میرےتمام مریدجنت میں جب تک نہ چلےجاٸیں میں جنت میں قدم نہیں رکھوں گا
آپ کی چندملفوظات:آپ کی بارگاہ میں ہروقت عقیدت مندوں کا ہجوم رہتا جن کی ظاہری وباطنی اصلاح کےلٸےملفوظات کاسلسلہ جاری رہتا آپ فرماتے ہیں جو بندہ رات کو باطہارت سوتاہے، فرشتےگواہ رہتےہیں اورصبح کو اللہ رب العزت سےعرض کرتےہیں اے اللہ اسے بخشدےیہ باطہارت سویاتھا مزیدآپ فرماتےہیں نمازایک راز کی بات ہے جوبندہ اپنے پرور دگار سےکہتاہےچنانچہ حدیث پاک میں آیاہے اِنَّ المُصََلّی یُناَجِی رَبَّہ یعنی نمازپڑھنےوالااپنےپروردگارسےرازکی بات کہتاہے.آپ فرماتےہیں جوقسم کھاتاہے وہ اپنےگھرکوویران کرتاہے اس کے گھر کی برکت ختم ہوجاتی ہے آپ فرماتے ہیں
اور جو بندہ مصیبت زدوں کی مدد کرتاہے ان کا خیال رکھتا ہے بھوکوں کو کھانا کھلانا کپڑا پہنانا یہ سب باتیں اللہ کےنزدیک ایسا مقام رکھتی ہیں وہ بندہ اللہ کامحبوب ہوجاتا ہے اورنیکوں کی صحبت نیک کام سے بہتر ہے اوربرےلوگوں کی صحبت بدی کرنے سے بدتر ہے آپ فرماتے ہیں خداکادوست وہ ہے جس میں یہ تین باتیں پاٸی جاٸیں سخاوت دریا جیسی، شفقت آفتاب کی طرح اورتواضع زمین کی مانند،
آپ رحمتہ اللہ علیہ کا وصال شریف کی شب بعض بزرگوں نےخواب میں دیکھا اللہ رب العزت کےمحبوب جناب شافعہ یوم النشور حضورﷺکو یہ فرماتے سنا کہ میرے دین اسلام کا مددگار حسن سنجری آرہا ہے میں اپنےمعین الدین حسن رحمتہ اللہ علیہ کےاستقبال کےلٸےآیاہوں آپ (6)رجب المرجب 633ھ بمطابق (16) مارچ 1236 ۶ بروزپیرفجرکےوقت آپ کےمحبّین انتظارمیں تھے کہ جناب پیرومرشدنمازپڑھاٸیں گے مگرافسوس ان کاانتظارکرنا بے سود رہا کافی دیر گزر جانے کے بعدجب حضرت خواجہ غریب نوازرحمتہ اللہ علیہ کےحجرےشریف کادروازہ کھول دیاگیاتوغم کاسمندراُمنڈ پڑا کہ آپ وصال فرماچکےہیں دیکھنےوالوں نے یہ حیرت انگیزروحانی منظراپنی آنکھوں سےدیکھاکہ آپ کی نورانی پیشانی پریہ عبارت نقش تھی حبیب اللہ مات فی حب اللہ یعنی اللہ عزوجل کامحبوب بندہ محبت الہی میں وصال کرگیا اناللہ واناالیہ رٰجعون
اقتباس الانوار،ص376
مزارمقدس اورعرس مبارک سلطان الھندخواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کا مشھورشھراجمیرشریف (صوبہ راجستھان شمالی ہندی)میں جہاں ہرسال آپ کا عرس مبارک رجب المرجب کو نہایت تزک واحتشام کے ساتھ منایاجاتاہے اور اسی تاریخ کی نسبت سےعرس مبارک کو ،چھٹی شریف،بھی کہاجاتاہے اس عرس میں ملک وبیرون ملک سے ہزاروں افراد بڑےجوش و جزبے سے شرکت کرکےخواجہ غریب نوازرحمتہ اللہ علیہ سےاپنی عقیدت کا اظہارکرتےہیں حضرت امام اہلسنت مجدد دین وملت الشاہ مولانااحمدرضاخان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ ارشادفرماتےہیں حضرت خواجہ غریب نوازرحمتہ اللہ تعالی علیہ کےمزارمقدس سے بہت کچھ فیوض وبرکات حاصل ہوتے ہیں مزیدآپ ارشادفرماتےہیں مولانا برکات احمدصاحب مرحوم جومیرےپیربھاٸی اورمیرےوالدماجد رحمتہ اللہ علیہ کےشاگردتھےانہوں نےمجھ سے بیان کیا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک غیر مسلم جس کے سرپیر تک پھوڑے تھے اللہ عزوجل ہی جانتاہے کہ کس قدرتھے ٹھیک دوپر کوآتااوردرگاہ شریف کے سامنے گرم کنکروں اور پتھروں پر لوٹتا اور کہتا خواجہ اگن یعنی اےخواجہ غریب نوازرحمتہ اللہ علیہ جلن لگی ہے،تیسرےروزمیں نے دیکھا کہ بالکل اچھا ہوگیا ہے سبحان اللہ یہ ہے اللہ والوں کی شان
ماخوذاللہ کےخاص بندےعبدہ،ص521ملخصا
اللہ رب العزت سے دعاہےکہ ہم سب کو ان بزرگان دین کے طریقہ پرچلنےکی توفیق عطا فرماۓ آمین بجاہ سیدالمرسلین ﷺ۔۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

یا غریب نواز

ازقلم: سلمان رضا فریدی صدیقی مصباحیمسقط عمان0096899633908 نشانِ جرأتِ شیرِ خدا غریب نوازہمارے حامی و …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔