مسلم خواتین کی نیلامی (بُلی بائ ایپ)

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)
تحریر: تسنیم فردوس
نئی دہلی 110025

عورت ہوں مگر صورتِ کہسار کھڑی ہوں
اک سچ کے تحفظ کے لیے سب سے لڑی ہوں

آج اس دور میں جس کو سائنس اور ٹکنالوجی کا دور کہا جاتا ہے۔ عورتوں کی برتری کا دور کہا جاتا ہے۔ اس دور میں جہاں چہار جانب عورتوں کے تعلق سے گفتگو کی جاتی ہے۔۔ خواتین ہر مجلس اور ہر ایوان کی موضوعِ گفتگو ہیں۔ تمام مذاہب نے خواتین کو ایک الگ اہمیت عطا کی ہے۔ خواتین جو پاک دامنی کی مثال ہے۔ وہی خواتین آج ہر محفل کی موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ آج خواتین کی حالت بد سے بد تر ہو گئ ہے۔ ایک لڑکی ایک عورت کو اپنی عزت وناموس بچانے کے لئے اپنی آواز بلند کرنی پڑ رہی ہے۔وہ عورت جس کے قدموں تلے جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ آج اس جنت بے حرمتی اس سماج میں کھلے عام ہو رہی ہے۔ حالانکہ نبی نوع انسان کی تاریخ میں ایک صَالح معاشرے کی تعمیر و تشکیل اور اسکے ارتقاء کے ضمن میں خواتین نے ہمیشہ ایک مثبت کردار ادا کیا ہے۔ خواتین کو بے عزت کرنے کی جو مہم بعض بے شرم اور بے غیرت لوگوں نے شروع کر رکھی ہے، اس نے ایک بار پھر نۓ سال کے آغاز کے ساتھ منظرِ عام پر آئی۔ "بلی بائ ایپ” کے نام سے ایک ایپ نے اپنے ہاتھ پاؤں تیزی سے پھیلانے شروع کۓ۔ چھ ماہ قبل "سلی ڈیلز” کے نام سے ایک ایپ نے خواتین کو بے عزت کرنے کا کام شروع کیا تھا، جس پر مہذب سماج نے کافی احتجاج درج کرایا تھا۔۔۔ اور وہ ایپ بلاک کر دیا گیا تھا۔ ایک سال کے بعد "بلی بائ ” کے نام سے نیا ایپ شرارت پسندوں نے لانج کیا ہے، جسمیں صرف مسلم خواتین کو جو سماج میں با وقار حیثیت کی حامل ہیں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایپ کے اوپر لکھا ہے "یور بُلی بائ آف دی ڈے” اور پھر اس خاتون کی تصویر سامنے آتی ہے۔ اور اس کی قیمت لگانے کو کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک طرح سے نیلامی کی بولی لگائی جاتی ہے۔ اس ایپلیکیشن میں ان خواتین کی تصاویر پوسٹ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر فعال کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ اس پر بھدّے اور غلط قسم کے تبصرے ڈالے جاتے تھے۔ ایسی تصویریں اس ایپ پر لوڈ ہیں جس سے مسلم خواتین کو بے عزت کر سکیں۔ "سلی ڈیلز کی طرح اس ایپ میں بھی کسی کو اصل میں فروخت نہیں کیا جا رہا تھا بلکہ ان مسلم خواتین کو حراس اور رسوا کیا جا رہا تھا۔ ” سُلی اور بُلی بائ "دونوں ہندی کے الفاظ مسلمان خواتین کے لئے توہین آمیز اور طنزیہ انداز میں استعمال کۓ جاتے ہیں۔
معروف مسلم صحافیوں اور کارکنان کی تصاویر” بُلی بائ ایپ پر ان کی اجازت کے بغیر اپلوڈ کی گئی تھیں اور انھیں ایک جعلی نیلامی میں "فروخت کیا جا رہا تھا۔ خواتین کی شکایات کے بعد پولیس نے کم سے از کم تین ریاستوں میں بُلی بائ ایپ کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ اس ایپ میں سو سے زائد با اثر مسلم خواتین کی تصاویر پوسٹ کی گئی تھی۔
سوشل میڈیا پر ان تصاویر کو اپلوڈ کرنے کے لئے چار ٹوئٹر اکاونٹ استعمال کۓ گۓ تھے۔ ان میں سے تین اکاونٹ ایک خاتون چلا رہی تھی۔
نۓ سال پر انڈیا میں متعدد خواتین کو” بُلی بائ یا بُلی ڈیلز” کے تحت نشانہ بنایا گیا جو کہ "سلی ڈیلز” کا ہی ایک روپ ہے۔
سلی ڈیلز کیا ہے؟ گذشتہ بقر عید کے موقعہ پر انڈیا کے سوشل میڈیا پر متعدد خواتین کی تصاویر کے ساتھ ایک اوپن سورس ایپ بنائی گئی جس کا نام "سُلی فارسیل ” رکھا گیا۔ سُلی ایک توہین آمیز اصطلاح ہے جو مسلم خواتین کے لئے استعمال کی گئی۔ اس ایپ میں استعمال ہونے والی مسلمان خواتین کی معلومات ٹوئٹر سے لی گئی۔ اس میں ۸۰ سے زائد خواتین کی تصاویر ان کے نام اور ٹوئٹر ہینڈلز دۓ گۓ تھے۔ اس اوپن سروس ایپ کو” گٹ ہب” پر تیار کیا گیا تھا۔ جو انٹرنیٹ ہوسٹنگ کمپنی ہے تاہم بعد میں اسے گٹ ہب نے ہٹا دیا تھا۔
اس ایپ کے اوپری حصے میں لکھا تھا،” فائنڈ یور سلی ڈیل ” اس پر کلک کرنے پر ایک مسلمان خاتون کی تصویر، نام اور ٹوئٹر ہینڈل کی تفصیلات صارفین سے شئیر کی جا رہی تھیں۔
اسی طرح اب "بُلی ڈیلز یا بُلی بائ ” سامنے آئی ہے۔ جسمیں ایپ کے اوپر لکھا تھا "یور بلی بائ آف دی ڈے” اور پھر اس خاتون کا ٹوئٹر ہینڈل اور تصویر دی گئی تھی۔ مسلم خواتین کی نیلامی بار بار کی جا رہی ہے۔ اس ایپ نے سائبر کرائم کو بھی اپنی طرف متوجہ کردیا ہے۔ اتنی زیادہ ہمت ایپ بنانے والوں میں اس لئے آئی کہ "سُلی ڈیلز” میں گزشتہ جولائی میں جو معاملے درج ہوۓ تھے اس پر دہلی اور یوپی پولیس نے کوئی کاروائی نہیں کی۔ "بُلی بائ” پر مہیلا آیوگ کے تنبیہ کرنے پر دہلی پولیس نے کام شروع کر دیا، ممبئی سائبر پولیس نے بلی بائ ایپ کے اصل دماغ اٹھارہ سال کی شویتا سنگھ کو اتراکھنڈ سے گرفتار کر لیا ہے، ایک اور شخص اس کا نام وشال کمار جھا ہے اور وہ انجینئرنگ کا طالبِ علم ہے اس معاملے میں ایک بندے کی گرفتاری آسام سے ہوئی ہے، اس طرح اس معاملے میں شامل پانچ میں سے تین پولیس کی گرفت میں آچکے ہیں۔
"بُلی بائ ایپ” کو متحرک رکھنے کے لئے تین فرضی اکاؤنٹ کا استعمال کیا جا رہا تھا، ان میں سے ایک اکاؤنٹ سکھوں کے خالصہ کے نام سے بنایا گیا تھا۔
"بُلی بائ ایپ” کو مسلم خواتین کو نفسیاتی طور پر کمزور کرنے اور ان کی سر گرمیوں کو ختم کرنے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاکہ وہ حکومت کے خلاف کوئی بات سوشل میڈیا پر نہ رکھ سکیں، اور سیاست میں اپنی حصہ داری ادا کرنے سے دور رہیں۔ اس ایپ کا اثر دیکھنے میں آنے لگا ہے، کئی درجن مسلم خواتین نے اس واقعہ کے بعد اپنا اکاؤنٹ ختم کر لیا ہے اور سوشل میڈیا سے ترکِ تعلق کر لیا ہے۔
دوسری جانب گرفتار شدہ وشال کمار اور یہ خاتون ایک دوسرے کو جانتے ہیں اور وشال کمار اس خاتون کا معاون ہے۔ اس سارے معاملے کی اہم ملزمہ کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ وہی سوشل میڈیا اور واٹس اپ یونیورسٹی میں یہ خبر وائرل کر دی گئی کہ بنگلور نوجوان کا نام "محمد وش ال الدین” ہے۔ جبکہ اس کا اصل نام وشال کمار ہے۔
اس سے یہ ظاہر کرنا مقصد تھا کہ اس معاملے کے ذمہ دار خود مسلمان ہیں۔ تاکہ معاملے کی سنگینی کو کم کیا جا سکے اور دنیا کے سامنے یہ ظاہر ہو کہ یہ سازش خود مسلمانوں نے تیار کی تھی!
پوری دنیا اور پورا ملک کورونا وباء اور اومیکرون سے پریشان اور خوف ذدہ ہیں۔ ایسے دور میں بھی ملک میں مذہبی فرقہ پرستی اور زہر افشانی کا سلسلہ الگ جاری ہے۔
گزشتہ چند سال سے ایک مخصوص ذہن کی پیداوار اور مخصوص نسل کے زہریلے گروپس کا معمول بن کر رہ گیا ہے کہ ان کی جانب سے روزانہ صبح سے رات تک اور پھر رات سے صبح تک مذہبِ اسلام کے خلاف سوشل میڈیا پر زہر افشانی اور نفرت انگیز مہم جاری رہتی ہے!
یکم جنوری کو یہ "بُلی بائ ایپ” منظرِ عام پر آیا تھا۔ جسمیں ملک کی نامور مسلم خواتین، بشمول صحافی، سماجی جہد کار، طالبات اور دیگر شعبہ جات سے وابستہ شخصیات کی تصاویر کو انتہائی نازیبا اور ناقابلِ قبول الفاظ کے ساتھ شیئر کی گئیں۔ جہاں کھلے عام ان کی بولیاں لگائی گئیں۔
اسکے بعد بالخصوص ان مسلم خواتین اور لڑکیوں کو نشانہ بنایا گیا جو کہ این۔ آر۔ سی اور سی اے اے کے خلاف مہم میں آگے تھیں اور سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف چلائی جانے والی مہم کی مخالفت کرتی ہیں۔ ان میں حیدرآباد کی دو خواتین بھی شامل ہیں۔ جنھوں نے پولیس میں شکایت درج کروائی ہے۔ ٹوئٹر کے علاوہ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر بڑی تعداد میں صارفین نے اس ایپ کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ان کے خلاف کارروائی کی جاۓ۔
اس ایپ کا مقصد نشانہ بنائی گئی خواتین کی توہین کرنا اور انھیں دھمکانا تھا۔ ان میں بہت سی خواتین سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہی ہیں۔ غور طلب ہے کہ سیکڑوں مسلم خواتین کی اجازت کے بغیر ان کی تصویروں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی اور انھیں بلی بائ ایپ پر نیلامی کے لئے اپلوڈ کر دیا گیا۔
ایک سوال ذہن میں یہ بھی آتا ہے کہ ملک کی مضبوط ترین سو سے زائد خواتین کی شکایت پر جب پولیس کو حرکت میں آنے میں اتنا وقت لگ گیا تو ان معصوم اور بے سہارا خواتین کا کیا ہوتا ہوگا جن کے منہ میں نہ تو زبان ہوتی ہے اور نہ ہی قلم میں ہمت۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پولیس میں ان حادثات کی اف۔ آئی۔ آر درج کروانا ایک بہت ہی مشکل کام ہوتا ہے۔ خصوصاََ اس خاتون یا طلبہ کے لئے جوایک شریف مسلم گھرانے سے تعلق رکھتی ہو۔ اور کسی چھوٹے قصبہ یا چھوٹے شہر سے تعلق رکھتی ہو۔اور اس کو انٹرنیٹ کے زریعے بلیک میل یا بے عزت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک ایسا” کرمنل کمپلین” نظام بنایا جائے جس سے خواتین آسانی سے اپنی شکایت درج کرا سکیں۔ کیونکہ پولیس سے شکایت کرنے کا نظام مشکل نہیں ہوگا تو یقیناً سائبر کرائم اور انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرنے والوں کے حوصلے اتنے بلند ہی نہیں ہونگے۔
ہمارے سماج میں سائبر کرائم اور اس سے تحفظ کو لے کر بیداری پیدا کرنا اشد ضروری ہے، خصوصاً نوجوان لڑکیوں اور خواتین میں تاکہ ان کی معصومیت یا سماج میں بدنام ہونے کے خوف کا فائدہ نا اٹھایا جاسکے۔
یہ معاملہ کسی ایک شخص کا نہیں پوری جماعت کا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ پولیس کو اس گینگ کا قلعہ قمع کرکے ایسی سزا دینی چاہیے کہ آئندہ کوئی اس قسم کی فحش حرکت کرنے کی ہمت نہیں جٹا پاۓ، تبھی ان خواتین کے ساتھ انصاف ہو پاۓ گا۔
آخیر میں یہی گزارش ہے آپ سبھی سے خواتین کی عزت کیجئے۔، احترام کیجئے، آج کی بچی کل کی ماں بنتی ہے تو عزت و احترام صرف ماں کا ہی نہیں ہر خاتون کا ہونا چاہیئے۔

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہما اکبر آفرین

محترمہ ہما اکبر آفرین صاحبہ گورکھ پور(یو۔پی۔) کے قدیم ترین قصبہ گولا بازار سے تعلق رکھنے والی بہترین قلم کار ہیں۔ فی الحال موصوفہ ہماری آواز کے گوشہ خواتین و اطفال میں ایڈیٹر ہیں۔ ہماری آواز

Check Also

جہیز کا سدباب نہ ہوا تو یقیناً یہ چنگاری شعلہ بن جائے گی

تحریر: افتخار احمد قادری برکاتی سچ پوچھئے تو جہیز ایک بہت ہی خوش نما لفظ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔