مسکان خان کی جرأت و ہمت کو سلام!

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)
تحریر : محمد ہاشم اعظمی مصباحی
نوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یوپی انڈیا

گذشتہ تقریباً ڈیڑھ ماہ سے ریاست کرناٹک کے کئی کالجوں میں حجاب پر طلبہ اور انتظامیہ کے درمیان اختلاف چل رہا ہے اور اب تو یہ اختلاف ایک مہم کی شکل میں ملک کی دوسری ریاستوں میں بھی داخل ہوچکا ہے سیاسی جماعتوں کی کوکھ سے جنم لینے والا یہ مدعا حالیہ پانچ ریاستوں میں چل رہے الیکشن کے پیش نظر سراپا منصوبہ بند سازش کا نتیجہ ہے لیکن گذشتہ دنوں اس میں نئی چیز یہ دیکھنے میں آئی کہ اکثریتی طبقے کی جانب سے حجاب کا مقابلہ زعفرانی شالوں سے کیا جا رہا ہے جو سماج کے مذہبی خطوط پر منقسم ہونے کا غماز ہے۔ 8 فروری کو کرناٹک کے ضلع منڈیا میں واقع پی ای ایس کالج آف آرٹس سائنس اینڈ کامرس کی طالبہ مسکان خان بنت محمد حسین خان کو کالج کے احاطے میں برقع پہنے داخل ہونے پر سینکڑوں سماج دشمن بھگوا دھاری غنڈوں نے پوری قوت کے ساتھ روکنے کی کوشش کی اور زعفرانی شالیں لہراتے ہوئے جے سری رام کے نعرے لگانے لگے اس تناظر میں انڈین صحافی نویدیتا نرنجن کمار کی جانب سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں ایم جی ایم کالج کے طلبا کو زعفرانی شالیں اٹھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ نودیتا کے مطابق مبینہ طور پر ہندوتوا تنظمیوں نے یہ شالیں تقسیم کی ہیں اور انہیں کی سرپرستی میں یہ مذموم حرکت کی گئی ہے لیکن مسکان خان کی جرآت و بے باکی اور دینی غیرت و حمیت کو سلام کہ ایسی کشیدہ صورتحال میں بھی اس نے تن تنہا نفرتی ہجوم کا عزیمت استقامت کے ساتھ مقابلہ کیا اور دشمنانِ اسلام کے نرغے میں بھی ’اللہ اکبر‘ کا جوابی نعرہ بلند کیا یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر اتنی تیزی سے وائرل ہوا کہ منٹوں میں ٹرینڈ کرنے لگا لوگ اس بہادر طالبہ کو ’شیرنی‘ کا خطاب دینے کے ساتھ اس کی ہمت و جرآت کو بھی داد دے رہے ہیں۔ نامہ نگاروں نے مسکان سے پوچھا کہ اتنی بڑی تعداد میں ہراساں کرنے والوں نے جب آپ کو گھیر لیا تب بھی آپ خوفزدہ نہیں ہوئیں؟ تو اس بے باک، جری اور بہادر لڑکی نے جواب میں کہا کہ میں بالکل خوفزدہ نہیں ہوئی میں نے بغیر کسی خوف کے ’اللہ اکبر‘ کے نعروں سے اس زعفرانی بھیڑیوں کا جواب دیا اس لئے کہ آئین ہند میری حمایت میں ہے میں اب بھی عدالتی حکم کا انتظار کر رہی ہوں اور حکم کی تعمیل کر رہی ہوں۔ میرے کالج کے پرنسپل، پروفیسرز اور تمام اہل کاروں نے بھی میری حمایت و حفاظت کی ہے اور ابھی تک پولیس سے لے کر باقی سبھی لوگ مجھے آ کر بتا رہے ہیں کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں، باکل پریشان نہیں ہونا۔
واضح رہے کہ مسکان کو ہراساں کرنے والوں کی اکثریت باہر سے آئی تھی صرف 10 فیصد کالج کے طلبا ان میں شامل تھے مسکان کے مطابق حجاب ہماری مسلم خواتین کی شناخت کا حصہ ہے اس لئے ہم حجاب کے لیے اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔
حجاب کے حوالے سے مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا دونوں پر گرما گرم مباحثہ جاری ہے حزب اختلاف کے لیڈر راہل گاندھی نے گذشتہ روز ٹویٹ کیا کہ "طالبات کے حجاب کو تعلیم کے درمیان لانا بیٹیوں کے مستقبل پر ڈاکہ زنی ہے” مشہور صحافی رعنا ایوب نے لکھا ’حجاب پہنے ایک عورت کے خلاف ہزاروں سنگھی‘۔ وزیرِاعظم نریندر مودی کو ٹیگ کرکے رعنا ایوب پوچھتی ہیں ’میں سمجھتی تھی آپ خواتین کی آزادی کے حامی ہیں اور انھیں تعلیم دینا چاہتے ہیں لیکن آپ کا کھوکھلا ثابت ہوا مجھے امید ہے دنیا اس نفرت کو دیکھ رہی ہو گی جو اس ملک نے مسلمان عورتوں کے خلاف برپا کر رکھی ہے۔ ماہرِ طبعیات اور ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر ڈاکٹر این سی آستھانہ کہتے ہیں کہ انگریزی زبان میں اس کی مذمت کرنے کے لیے الفاظ بھی کم ہیں۔ وہ بھگوا دھاریوں سے پوچھتے ہیں کہ ’چاہے وہ اکیلی لڑکی ہو یا اس کے ساتھ کوئی ہو، آپ ایک لڑکی کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ آپ حکومت یا کالج کے خلاف احتجاج کریں، ایک اکیلی لڑکی پر جملے کستے ہوئے اسے ہراساں کیوں کر رہے ہیں؟.‘
یاد رہے کہ 28 دسمبر2021 کو اُڑپی کے ایک سرکاری پی یو کالج سے حجاب مخالف مہم کا آغاز ہوا تھا جہاں کی 6 طالبات کو حجاب پہننے کی پاداش میں کلاس روم سے باہر نکال دیا گیا تھا جس کی وجہ سے مذکورہ طالبات سراپا احتجاج بن گئیں ان میں سے ایک طالبہ 31 جنوری 2022 کو کرناٹک ہائی کورٹ سے رجوع ہوئی جس کی سماعت کورٹ میں جاری ہے مزے کی بات یہ ہے کہ کرناٹک ہائی کورٹ میں اس مسلم طالبہ کی یہ عرضی اکثریتی طبقہ کے ہی ایڈوکیٹ شتھابیش شیوانا،ارناو اے باگلواڑی اور ابھیشیک جناردھن کے ذریعہ دائر کی گئی ہے.
میرے بھائیو! مسکان بھی کسی مرد مجاہد کی بیٹی ہے یہ بھی کسی غیرت مند بھائی کی بہن ہے ہاں ہاں یہ بھی کسی باکردار ماں کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا چین ہے واقعی ابھی غیرت مسلم زندہ ہے جو کفر کا منہ توڑ سکتی ہے اور دشمنان اسلام کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکارتے ہوئے زبان حال سے یہ کہتے ہوئے نظر آ سکتی ہیں کہ”یہ بازی عشق کی بازی ہے یہ بازی تم ہی ہارو گے” مذکورہ واقعہ سوئے ہوئے مسلمانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کیلئے کافی ہے کہ ایک عورت ذات ہو کر اتنی دلیر ہے اور تم مرد ہو کر اس عورت جتنے بھی جرأت مند نہ بن سکے جرأت و بہادری کس چیز کا نام ہے یہ درس اس بہن کو دیکھ کر ہی سیکھ لو یاد رکھو جس معاشرے کی عورتیں ایسی دلیر ہوں تو پھر مردوں کا کیا عالم ہوگا!!! کیا شان ہے مسکان جیسی باغیرت بہن کی جس نے اپنے ایمان کی طاقت سے فضاء میں نعرۂ تکبیر بلند کیا اور کفر کو نادم و شرمندہ کردیا اللہ کریم اس بہن کی حفاظت فرمائے شریروں کے شر اور ظالموں کے ظلم سے محفوظ و مامون فرمائے یقیناً بھگوا بھیڑیوں کے سامنے بنتِ اسلام کا "نعرۂ تکبیر” صرف جرأت و استقامت کا استعارہ ہی نہیں بلکہ امت مسلمہ کیلئے نہضت و قیام کی عملی دعوت بھی ہے۔

یہ کلی بھی اس گُلستانِ خزاں منظر میں تھی
ایسی چنگاری بھی یا رب، اپنی خاکستر میں تھی!

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

’’خواتین ادب تاریخ و تنقید‘‘ نسائی ادب کی تفہیم میں اہم اضافہ

تبصرہ نگار : ابو شحمہ انصاریلکھنؤ بیورو چیف ،نوائے جنگ برطانیہ نسائی ادب پر ڈاکٹر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔