ملکی خبریں

تحریک فروغ اسلام کا چار رکنی وفد آج صبح پہنچا تریپورہ، ضلع ادے پور و اطراف کا دورہ کیا

بتاریخ 2 نومبر تریپورہ کی راجدھانی اگرتلا ایئرپورٹ صبح 8 بجے جب راقم الحروف, بھیونڈی سے جناب مدثر صاحب اور ہمارے ہمراہ دہلی سے تحریک کے نیشنل سیکریٹری و لیگل ایڈوائزر جناب احسان الحق رضوی صاحب اگرتلا ایئرپورٹ پہنچے تو بانئ تحریک فروغ اسلام پیر طریقت اولاد حضرت عثمان غنی خلیفۂ حضور تاج الشریعہ حضرت قمر غنی عثمانی قادری چشتی صاحب قبلہ سے ایئرپورٹ پر ملاقات ہوئی جو جھارکھنڈ و بنگال کے دوروں کو ملتوی کرکے کولکاتہ سے تشریف لائے تھے۔اگرتلا کے ایک سنی صحیح العقیدہ امام صاحب سے بانئ تحریک نے پہلے ہی رابطہ کیا تھا جن سے بانئ تحریک کی پہلی ملاقات بریلی شریف میں 2017میں عرس رضوی کے موقع پر ہوئی تھی۔ جن کا مختصر تعارف پیش کرنا ضروری ہے اس خطہ کیلئے۔ حضرت مولانانذرالاسلام قادری رضوی جو حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے دامن سے ۲ض2016 میں دوسری مرتبہ عرس رضوی میں وابستہ ہوئے۔ موصوف کے بنگلہ دیش کے مشفق استاذ گرامی کے حکم پر اعلٰی حضرت کی بارگاہ میں حاضری کیلئے پہلی بار 2013 میں حاضر ہوئے۔اور دوسری مرتبہ حاضری میں دامن اختر رضا مل گیا۔
بہر حال حضرت نے جو گاڑی بک کی تھی اس کے ذریعے اگرتلا میں ایک ہوٹل میں پہنچے اور فریش ہوکر اپنے مقصد کیلئے روانہ ہوگئے۔ سب سے پہلے ہم لوگ اودے پور ضلع ٹاؤن میں مولانا نذرالاسلام صاحب کے قریبی رشتہ دار کے گھر پہنچے اور اودے پور کے حالات دریافت کیے تو انھوں نے کہا الحمدللہ ہمارے اودے پور شہر میں کوئی ناخوشگوار معاملہ پیش نہیں آیا مگر ریلی یہاں بھی نکالی گئی۔ پھر انہوں نے بتایا یہاں سے 15 کلومیٹر کی دوری پر ایک جگہ درگاہ بازار کے قریب میں ایک گاؤں کی مسجد جلائی گئی ہے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ وہ مسجد گاؤں کے ایک مالدار شخص کے احاطے میں قائم تھی۔ جس کی تعمیر مکمل ٹین کے پترے پر تھی جسے نا معلوم افراد نے غالبا پیٹرول ڈال کر آگ لگایا تھا رات کے 1 بجے سے 2 بجے کے درمیان آگ کے شعلے جب بلند ہوئے تو لوگ اپنے گھروں سے باہر آئے۔ اور آگ بجھانے کی کوشش کی, جن کے احاطے میں مسجد تھی ان کے گھر بیٹھ کر تفصیلی حالات معلوم کیے گئے تو انہوں نے بتایا کہ رات میں ہمیں پتہ ہی نہیں چلا کہ کس نے آگ لگایا اور کب لگایا۔ ہم نے ان سے ان کا نام پوچھا تو انہوں نے اپنا نام رحمت علی بتایا اور اپنے بڑے بیٹے کیطرف اشارہ کرکے بتایا کہ اس کا نام راکیش میاں ہے۔ اتنا سننے کے بعد ہم سب ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھتے رہے۔ بہرحال پھر احسان الحق رضوی نے کہا کہ بھارت میں بہت سے ایسے علاقے موجود ہیں جہاں پر خوف اور دہشت کیوجہ سے اس طرح نام لوگ رکھتے ہیں۔ رحمت علی صاحب نے ایک کام یہ اچھا کیا تھا کہ انہوں نے پر تھانہ ککرآبان میں ایف ،آئی ،آر حادثے کے دوسرے دن ہی درج کروائی تھی جس میں نا معلوم افراد کے خلاف ایف ، آئی، آر، درج کی گئی تھی۔ ایف ،آئی، آر کی ایک کاپی ہم نے لے لی اور رحمت علی صاحب کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ ہر حال میں آگے بڑھنا ہے کسی طرح بھی پولیس کے دباؤ میں نہیں آنا ہے۔ ہم نے انہیں کے گھر پر ظہر ادا کی بعد نماز ظہر ککرابان پولیس اسٹیشن پہنچے اور وہاں کے آفیسر انچارج سے اس کیس کے تعلق سے تفصیلی گفتگو کی انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ہم اپنی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔اور اس پر نتیجہ نکال کر جلد ہی کچھ کریں گے، اس کیس کو تب تک ہم کلوز نہیں کرینگے جب تک کسی لوجکل کنکلوزن تک نہیں پہنچا دیتے۔ اس پر احسان الحق رضوی صاحب نے آفیسر سے ایک سوال کیا کہ کیا یہاں پر بھی ویشوہندو پریشد، بجرنگ دل سنگھٹن کے لوگ ہیں۔۔۔۔۔۔؟ آفیسر نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہاں ان سنگٹھن کے لوگ نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ یہ کیس تریپورہ کا سب سے پہلا کیس 20 اکتوبر کی رات کا ہے۔ باقی جگہوں پر جو حادثات ہوئے وہ ۲۱ اکتوبر کو متعدد شہروں میں آرگنائز ریلی کے ذریعے کرائے گئے۔
بعدۂ نماز عصر ایک ستر سالہ قدیم مسجد میں ادا کی گئی جو دیکھنے سے اہلسنت کی مسجد لگ رہی تھی مگر وہاں بھی وہابیوں کا قبضہ تھا۔ یہاں کی عوام اکثروبیشتر معمولات اہلسنت پر ہے جیسا کے اب تک جن لوگوں سے ملاقات ہوئی انکے بیانات سے یہی ظاہر ہے۔ مگر ۹۰ فیصد مساجد میں وہابیہ، دیابنہ، کے امام ہیں۔ سنی علما و مشائخ کا دورہ آن علاقوں میں نہ ہونے کی وجہ سے سنیت کا کوئ کام نہ ہو سکا۔ اگرتلا قیام گاہ پر واپسی کے وقت راستے پر مغرب ادا کرنے کیلئے ایک مسجد دکھی، گاڑی روک کر ہم لوگ اترے ہی تھے دیکھا چند نوجوان بائکوں سے کفریہ نعرے لگاتے ہوۓ مسجد کے سامنے سے گزرے جب کہ مسجد کے باہر ہی پیراملٹری و پولیس کے جوان تعینات تھے، جلدی جلدی ہم سبھی نے نماز مغرب ادا کی۔ اس مسجد کا نام نوشر مسجد تھا۔ ایک بوڑھا شخص مسجد میں تنہا تلاوت کر رہا تھا۔ بانئ تحریک فروغ اسلام نے اس سے پوچھا کے کیا اس مسجد میں بھی کچھ ہوا تھا۔ تو اس بوڑھے نے بتایا ہاں یہاں بھی صحن میں گھس کر اندرونی حصے میں آگ لگایا تھا جس سے چٹایاں وغیرہ جل گئیں تھیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ پولیس والوں نے مجھے پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا کہ یہاں ایسا ہوگا۔ اس لئے مجھے مسجد کے ارکان اپنے گھر لے گئے تھے۔ ان واقعات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دہشتگردوں کی ہمتیں کتنی بڑھی ہوئی ہیں۔
آج تاخیر سے نکلنے کی وجہ سے ایک ضلع کے علاقوں کا ہی دورہ ہو سکا کا ان شاء اللہ کل صبح ضلع پانی ساگر کے علاقے کا دورہ کیا جائے گا۔ آپ حضرات سے دعاؤں کی درخواست ہے۔

ازقلم: محمد آصف رضا برکاتی
جنرل سیکریٹری امام احمد رضا دارالافتاء اینڈ ایجوکیشنل ٹرسٹ و قومی نائب صدر تحریک فروغ اسلام، دہلی

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button