نتیجۂ فکر: سلمان رضا فریدی مصباحی، مسقط عمان
انا کی دُھن میں جو یہ حکمران لگتا ہے
مٹے گا اِس کا بھی نام ونشان ، لگتا ہے
گلوں پہ سخت مصیبت ہے اور یہ ہے خاموش
چمن کے بغض میں خود باغبان لگتا ہے
ہے اقتدار کی مستی میں وقت کا حاکم
نشہ اتاریں گے اس کا کسان ، لگتا ہے
مجھے تو سچ کی حمایت میں بولنا ہے سدا
لگا کرے جو کوئ بدگمان لگتا ہے
نظر وسیع کرو ! پھر سمجھ میں آئے گا
دھواں ہے ، یہ جو تمہیں آسمان لگتا ہے
یہ وقت وقت کی ہے بات ، کھیت کو دیکھو
کبھی ہے گیہوں ، کبھی اُس میں دھان لگتا ہے
خوشی کی دائمی منزل ہے راہِ صبر کے بعد
اَلَم کی حد سے ، شفا کا مکان لگتا ہے
الٰہی بخش دے میرے وطن کو شادابی
بجھا بجھا مرا ہندوستان لگتا ہے
فریدی تیرا قلم، وقت کا ہے آئینہ
زبانِ حال کا تو ، ترجمان لگتا ہے