سیاست و حالات حاضرہ

ہندو راشٹرا اور بھارتی مسلمان

تحریر: طارق انور مصباحی

ہندو راشٹر کا معنی برہمن راشٹر ہے۔برہمن راشٹر میں منو اسمرتی کے قوانین نافذ العمل ہوں گے,گرچہ دنیاوی حکومتوں اور اقوام متحدہ کو دکھلانے کے لئے بھارتی دستور کا نام ونشان زندہ رکھا جائے گا,لیکن دستور ہند اور ملکی اصول وقوانین کی من پسند تشریح کچھ مشکل نہیں۔

حکومتی سطح پر ہندو راشٹر کا باضابطہ اعلان ہونا مشکل ہے,کیوں کہ دنیا کے ممالک کی جانب سے مختلف قسم کے اعتراضات ہوں گے,لہذا غیر سرکاری ہندو تنظیموں کی طرف سے ہندو راشٹر کا اعلان مسلسل جاری رہے گا اور حکومت خاموش رہے گی۔سب سے پہلے قوم مسلم کو مغلوب ومقہور کیا جائے گا اور یہ سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔اسی درمیان مول نواسی اقوام(ایس سی,ایس ٹی,بی سی)پر بھی شکنجہ کستا جائے گا۔

امت مسلمہ اپنے مذہبی رہنماؤں سے بہت کچھ امید رکھتی ہے اور سچی حقیقت یہ ہے کہ مذہبی رہنماؤں کے پاس اس مسئلہ کے حل کی نہ قوت ہے,نہ ہی قوی ومستحکم جانکاری ہے کہ کس طرح اس بلائے عظیم سے امت مسلمہ کو نجات دلائی جائے۔

سیکولر پارٹیوں کے لیڈروں کا حال یہ ہے کہ وہ جس پارٹی کی قوت وحکومت دیکھتے ہیں,اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔سیکولر پارٹیاں بھی فرقہ پرست پارٹیوں کے ساتھ مل کر مرکز میں اور مختلف ریاستوں میں حکومت سازی کر چکی ہیں۔ابھی مہاراشٹر میں شیو سینا کے ساتھ کانگریس پارٹی بھی حکومت میں شریک ہے۔

مسلم دانشوروں کو اس مسئلہ کے حل کی مستحکم ومضبوط کوشش کرنی چاہئے۔بھارت میں چند مسلم سیاسی پارٹیاں ہیں,جن کے پاس محدود قوت ہے اور ان کی ترقی کی راہیں بھی مسدود نظر آتی ہیں۔

بھارت کا سیاسی مستقبل کیسا ہو گا۔یہ بتانا مشکل ہے۔اگر 2024میں بھی بی جے پی مرکز میں برسراقتدار آتی ہے تو ملکی حالات کیسے ہوں گے۔یہ ابھی بتانا مشکل ہے۔قوم مسلم کو کچلنے کی سازش وکوشش جاری ہے۔ہمیں جاگنا چاہئے اور ہوش مندی کے ساتھ غور وفکر کرنا چاہئے۔امید کہ اللہ تعالی کوئی سبیل ظاہر فرما دے۔