اہل بیت

دنیا کو آج پھر ہے ضرورت حسین کی

جرأتِ اظہار: نعیم الدین فیضی برکاتی
[email protected]
(مضمون نگار دارالعلوم غریب نواز (کٹنی) کے پرنسپل اور ’ہماری آواز ‘کے اعزازی ایڈیٹر ہیں)

اسلام امن وسلامتی کا مذہب ہے۔یہ اپنے ماننے والوں کو احترام انسانیت،بھائی چارگی،عدل و انصاف اور اظہار رائے کی آزادی کی تعلیم دیتا ہے۔ظلم و بربریت،فتنہ و فساد اور قتل وغارت گری جیسے سنگین جرائم سے سختی کے ساتھ منع کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن حکیم میں ارشاد فرماتا ہے:
اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا ہے۔(قرآن)
اور ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور نہ ہی جان بوجھ کر حق کو چھپاؤ۔(قرآن)
حدیث پاک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ:اللہ تعالیٰ کو انصاف کرنے والا حاکم سب سے زیادہ پسند ہے اور ظلم کرنے والا حاکم سب سے زیادہ ناپسند ہے۔(حدیث)
مذکورہ آیات اور حدیث کی پس منظر میں اگر آپ اس دنیا میںآنے والی ساری حکومتوں اور تحریکوں کا جائزہ لیں تو نتیجہ یہ سامنے آئے گا کہ اس خاک دان گیتی پر بہت ساری حکومتیں قائم ہوئیں اور ان گنت تحریکیں معرض وجود میں آئیں۔مگر جن کی بنیادیں عدل و انصاف،امن و سلامتی اور اخوت ومحبت کے مبنی اصولوں پر قائم ہوئیں ان کا نام جیسے کل زندہ تھا ویسے آج بھی زندہ و جاوید ہے اور ہر جگہ ان کا ذکر، خیر کے ساتھ کیا جارہا ہے۔کربلا بھی انہی تحریکوں میں سے ایک اہم تحریک ہے،جس کا بنیادی مقصد پوری دنیا میں امن وچین،عدل وانصاف اور عادلانہ نظام حکومت قائم کرنا،لوگوں کو ان کے حقوق دلانا،ظلم وتشدداورفتنہ وفساد کو ختم کرکے پوری دنیا کو بھائی چارگی اور انسانیت نوازی کی طرف بلانا ،حق کی اطاعت اور باطل کے سامنے نہ جھکنا ہے۔اگر صاف اور سادہ لفظوں میں بیان کیا جائے تو کربلا تحریک کا مقصد تمام اچھائیوں کا حکم دینا اور جملہ برائیوںسے روکنا ہے۔ اور جن تحریکوںکی بنیادیں ظلم وستم اور فتنہ و فساد کی اینٹوں اور گاروں سے تیار کی گئیں ان کا نام ونشان چند دنوں کے بعدسوائے چند سیاہ دھبوں کے باقی نہیں رہا۔یزیدیت بھی ایک ایسی ہی تحریک کا نام ہے جس کا مقصدریاستی دہشت گردی،ظلم وبربریت اور آمرانہ اور ظالمانہ نظام کو قائم کرنا تھا۔

یزید کون تھا؟
یزید، صحابی رسول حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا ہے۔خاندان بنی امیہ کا وہ بد بخت انسان ہے جس کی پیشانی پر نواسہ رسول حضرت امام حسین کے قتل کا سیاہ داغ ہے،جس کی وجہ سے اس پر ہر زمانے میں لوگ ملامت کرتے رہے ہیں اور رہتی دنیا تک کرتے رہیں گے۔ یزید بہت بد اخلاق،فاسق وفاجر،شرابی بدکار، ظالم و جابر اور بہت ہی بے ادب انسان تھا۔اس نے اقتدار پانے کے بعدزمین میں فتنہ و فساد پھیلایا،حرمین طیبین بالخصوص کعبہ اور مدینہ شریف کی سخت بے حرمتیاں کیں،مسجد نبوی میں گھوڑے بندھوائے جس کی وجہ سے نجاست منبر اطہر پر پڑے،تین دن تک مسجد نبوی میں اذان و نماز نہیں ہوئی،ہزاروں صحابہ کرام اور تابعین عظام کو ناحق شہید کروایا۔کعبہ شریف پر پتھر پھینکے اور غلاف شریف پھاڑ کر جلایا۔مدینہ کی پاکدامن عورتوں کو اپنے خبیث لشکر پر تین دن تک حلال رکھا۔
انہیں ساری بد اعمالیوں اور ذلیل حرکات کی وجہ سے امام حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا ۔ کیوں کہ آپ کابیعت کرنادراصل ایک ظالم وجابر،بدکرداراورآمرحکمراں کو ریاستی دہشت گردی کی اجازت دینا تھا۔اسی لیے امام عالی مقام نے ظالم یزیدی حکومت کے خلاف نعرہ حق بلند کیا اور ریاست کو دہشت گردی سے پاک کرنے ،حرمین شریفین کے تقدس کو پامال ہونے سے بچانے اور عورتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کربلا کا سفر اختیار کیا۔ جہاں آپ نے اپنے کنبہ اور ساتھیوں سمیت خود کو بھی راہ حق میں قربان کر دیا مگر باطل کے سامنے سر جھکا نا گوارہ نہ کیا ۔
یزید حضرت امام حسین رضی اللہ سے بیعت کا طالب تھا جب کہ اس کے موقع پرست حواری اس بات کے متمنی تھے کہ ان کے عیش و طرب کا چلن اسلام میں احکامات کی شکل میں داخل ہو جائے۔ ایسے بھیانک اور پریشان کن حالات میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ تمام صعوبتوں،پریشانیوں اور قربانیوں کو اپنے ذہن و خیال میں تازہ رکھتے ہوئے احیائے اسلام کے لئے ہر قسم کی تگ و دو کا بیڑہ اٹھایا۔دس محرم کو بظاہر بد بخت یزیدامام عالی مقام کو شہید کر کے کامیاب ہو گیا،اورحضرت امام حسین اپنے ساتھیوں سمیت شہادت کا مقام و مرتبہ پاکر ابدی حیات کواختیار فرما کر اپنے محبوب حقیقی سے جا ملے۔ لیکن یزیدپلید ہمیشہ کیلئے نہ صرف فنا ہو گیا بلکہ وہ اور اس کے تمام حواری بھی اپنے تمام تر نظریات و افکار و اعمال سمیت ختم ہو گئے۔ باطل کی بیعت سے اسلام میں جو بدعت کا چلن پیدا ہونا تھا وہ ہمیشہ کیلئے ختم ہو گیا۔
حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنہوں نے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی خصوصی توجہ،نگرانی اور محبت میں تربیت پائی تھی، نے اپنے نانا کی تمام تر محبتوں کا حق میدان کربلا میں اسلام کے لیے اپنے اور اپنے ساتھیوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ادا کر دیا۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی چشم بینا میں زندگی اور موت کی اصل حقیقت بہت واضح تھی۔ اسلام اور اعلیٰ ترین نظریات کی حفاظت کیلئے جو اقدام آپ نے اٹھایا اس کے آنے والے زمانوں میں ہونے والے اثرات کا بھی آپ کو کماحقہ پتہ تھا۔ اس لیے آپ آخری لمحوں تک یزید کی فوج کو اپنی بار بار پہچان کراتے رہے۔ بہت مرتبہ فرمایا کہ میں حسین ہوں، آخری نبی کا نواسہ، علی حیدر کرار کا بیٹا،فاطمہ الزہرا کا لخت جگرہوں۔ لیکن وہ ناعاقبت اندیش آپ کی شان سے ناواقف ہی رہے۔ شیطان کا نمائندہ بن کر انہوں نے چراغ مصطفوی کو بجھانے کی بظاہر اپنی کوشش تو بھرپور کی،مگر وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے۔ آپ اپنی عظیم قربانی کی وجہ سے ہمیشہ کیلئے زندہ وجاوید ہو گئے۔ آج یزید کا نام لینے والا کوئی نہیں۔ ہر طرف حسین ہی حسین کا نعرہ لگ ہے اور حسین کے چرچے ہو رہے ہیں۔
امام حسین نے یہ عظیم قربانی اس لیے دی تاکہ احترام انسانیت کا تحفظ ہو سکے۔اسلام کے نظام مشاورت وجمہوریت کو دوام ملے۔مظلوموں کو قیامت تک ظالموں کے خلاف آواز بلند کرنے کاحوصلہ نصیب ہو۔لوگوں کو دوسروں کے حقوق کے لیے لڑنے کا درس ملے۔ظلم و جبر پر مبنی نظام کے خلاف آزادی کے متوا لوں کو اٹھ کھڑا ہو نے کا جذبہ ملے۔
امام حسین رضی اللہ عنہ صرف دین اسلام ہی کے علم بردار اور رہنما نہ تھے بلکہ عدل وانصاف،مساوات انسانی، حریت وآزادی اور انسانی اقدار و جمہوریت کے محافظ بھی تھے ۔انہوں نے ریاستی جبر وتشدد اور آمرانہ ذہنیت کے خلاف علم جہادبلند کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ حسین کا نام صرف ایک فرقہ یا قوم تک محدود نہیں رہا بلکہ پوری دنیا کے انسان امام حسین رضی اللہ عنہ کے تذکرہ کو اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔کیوں کہ حسین صرف ایک قوم کے نمائندے نہیں تھے بلکہ حسین حق کا نمائندہ، سچائی کی علامت،عدل وانصاف کا پیکر اور انسانی اقدار وحرمت کے محافظ کا نام ہے۔امام حسین امن پسندی کے نمائندے تھے اور یزید انسانیت دشمنی اوردہشت گردی کا نمائندہ تھا۔ امام حسین نے ہمیں
اپنے اعمال و کردار سے امن وسلامتی،آپس میں محبت ومروت کے ساتھ بھائی چارہ کی راہ پر چلنا سکھایااور معاشرے اور سماج سے دہشت گردی،انتہا پسندی اور ظلم وستم کو ختم کرکے ایک ایسی ریاست کا قیام کیا جہاں انسانی اقدارو حقوق کاتحفظ ہو سکے۔
لیکن بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے ہم اپنے آپ کو عاشق حسین کہتے اور لکھتے ہیں مگرکیا ہمارے اعمال حسینی کردار وتعلیمات سے میل کھاتے ہیں؟ہم رات ودن محبت حسین کا دعویٰ کرتے ہیں مگر کیا ہم نے خلاف شرع چیزوں سے بچنے اور شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کی ؟ میرے عزیزواور بھائیو !ہم امام حسین کے سچے عاشق اسی وقت کہلائیںگے جب ہم اسلامی تعلیمات پرسختی کے ساتھ کار بند اور انسانی قدروں کے محافظ ہو ں گے ۔ اگرآج بھی ہم سچے حسینی ہو جا ئیں اور آپ کے اخلاق تعلیمات کو حرز جاں بناکرحسینی مشن پر کام کرنا شروع کر دیں تو آج بھی پوری دنیا سے عریانی وفحاشی،جھوٹ غیبت،ڈاکہ زنی اور آبرو ریزی،آمریت اور ڈکٹیٹر شپ،کرپشن اور بے راہ روی،دہشت گردی اور ظلم و ستم بالخصوص باطل کی اشاعت اور حق سے چشم پوشی جیسے سنگین جرائم خود بخود ختم ہو جائیںگے اور پوری دنیا میں امن و اماں اور محبت واخوت کی فضا قائم کی ہو جا ئے گی۔

چھائی ہوئیں ہیں کفرکی تاریکیاں تمام
دنیا کو آج پھر ہے ضرورت حسین کی

نعیم الدین فیضی برکاتی

جناب مولانا نعیم الدین فیضی برکاتی صاحب بھارت کے ایک مشہور و معروف قلم کار ہیں۔ صوبہ اترپردیش کے ضلع مہراج گنج سے تعلق رکھنے والے موصوف ہماری آواز کے اعزازی ایڈیٹر ہیں۔ ہماری آواز

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button