قومی ترانہیوم آزادی و یوم جمہوریہ

نظمِ یومِ آزادی

نہ کیوں کر جشن تیرا ہم منائیں یومِ آزادی
یہ ناممکن ہےتجھکو بھول جائیں یومِ آزادی

تری یادوں کی شمع اب تلک ہے قلب میں روشن
گوارہ یہ نہیں اس کو بجھائیں یومِ آزادی

لہو سے ہند کو اپنے مسلمانوں نے جب سینچا
کوئی طاقت نہیں پھر جومٹائیں یومِ آزادی

پرستارِ وطن ہر مذہب و ملت کے تھے شامل
یہ سچ ہےپھراسےکیوں نہ بتائیں یومِ آزادی

ملی بھارت کو آزادی مسلمانوں کے بل بوتے
تو ان کا ذکر بھی لازم ہے لائیں یومِ آزادی

ہمیں ٹیپو و فضلِ حق،و اشفاق و حمید،حسرت
تو اب کیسی وفاداری دکھائیں یومِ آزادی

لٹادی ہم نےسب کچھ پھربھی غدارِوطن ٹھہرے
ہےاب حالت خودی کی کیا سنائیں یومِ آزادی

ہے ہر ذرہ و خاکِ ہند میں خوں قومِ مسلم کا
توحق پھرکیوں نہ ہم اپناجتائیں یومِ آزادی

تجھےملتی نہ یہ شہرت نہ تحسین و خراج اتنی
جوملتی ہیں تجھےاس دم دعائیں یومِ آزادی

تحفظ میں وطن کےجودیئےہیں جاں امیرؔعاصی
انہیں بھی یاد کرکے ہم منائیں یومِ آزادی

از قلم۔۔۔۔۔۔✍️ عاصی محمد امیر حسن امجدی رضوی’ خادم الافتا و التدریس:الجامعة الصابریہ الرضویہ پریم نگر نگرہ جھانسی یوپی

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button