صحابہ کرام

حضرت عمر ؓ کا زہد و قناعت،حکمرانوں کے لیے اسباق (3)

تحریر: نور حسین افضل
اسلامک اسکالر، مصنف، کالم نویس
صدر: پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (مشرق وسطی)
[email protected]

جب انسان دنیا کا طالب ہو جاتا ہے، اس کے ایمان و یقین میں کمزوری پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہے، دنیا طلبی اور حرص تمام بد اخلاقیوں کی بنیاد ہے، حضرت عمر ؓ کو اس سے طبعی نفرت تھی، یہاں تک کہ خود ان کے ہم مرتبہ معاصرین کو اعتراف تھا کہ حضرت عمر ؓ زہد و قناعت کے میدان میں سب سے آگے ہیں، حضرت طلحہ ؓ کا بیان ہے، قدامتِ اسلام اور ہجرت کے لحاظ سے بہت سے لوگوں کو عمر ؓ بن الخطاب پر فوقیت حاصل ہے، لیکن زہد وقناعت میں کوئی ان کا ہم ثر نہیں، صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عمر ؓ کو کچھ دینا چاہتے تو وہ عرض کرتے کہ مجھ سے زیادہ حاجت مند لوگ موجود ہیں جو اس عطیہ کے زیادہ مستحق ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے کہ اس کو لے لو، پھر تمہیں اختیار ہے کہ اپنے پاس رکھو یا صدقہ کر دو، انسان کو اگر بے طلب مل جائے تو لے لیناچاہیے۔
(ابوداؤد، کتاب الزکوٰۃ، باب فی الاستغفاف)
حضرت عمر ؓ نے نرم اور ملائم کپڑا کبھی زیب تن نہیں فرمایا، بدن پر بارہ بارہ پیوند کا کرتا، سرپر پھٹا ہوا عمامہ اور پاؤں میں پھٹی ہوئی جوتیاں ہوتی تھیں، اسی حالت میں وہ قیصر وکسریٰ کے سفیروں سے ملتے تھے، اور وفود کو باریاب کرتے تھے، مسلمانوں کو شرم آتی تھی، مگر عجز وانکساری اور زہد و تقوی کے شہنشاہ کے آگے کون زبان کھول سکتا تھا، ایک دفعہ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ نے فرمایا، امیرالمومنین اب اللّٰہ تعالی نے حالات بہتر کر دیے ہیں، بادشاہوں کے سفراء اور عرب کے وفود آتے رہتے ہیں، اس لیے آپ کو اپنے طرز معاشرت میں تغیر کرنا چاہیے، حضرت عمر ؓ نے فرمایا، افسوس تم دونوں امہات المومنین ہوکر مجھے دنیا طلبی کی ترغیب دیتی ہو، عائشہؓ!تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حالت کو بھول گئیں کہ تمہارے گھر میں صرف ایک کپڑا تھا جس کو دن کو بچھاتے اور رات کو اوڑھتے تھے، حفصہؓ! تم کو یاد نہیں ہے کہ ایک دفعہ تم نے فرش کو کپڑا دہرا کر کے بچھا دیا تھا، اس کی نرمی کے باعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر سوتے رہے۔ بلال ؓ نے اذان دی تو آنکھ کھلی۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے یہ ارشاد نہیں فرمایا تھا۔ یاحفصۃ ماذا ضعت ثنیت المھاد حتی ذھب بی النوم الی الصباح مالی وللدنیا ومالی شغلتمو نی بین الفراش ترجمہ: اے حفصہ ؓ تم نے یہ کیا کیا، فرش کو دہرا کر دیا کہ میں صبح تک سوتا رہا مجھے دنیاوی راحت سے کیا تعلق ہے؟ اور فرش کی نرمی کی وجہ سے تو نے مجھے غافل کر دیا۔” (کنز العمال، 6/350)
ایک دفعہ گزی کا کرتا ایک شخص کو دھونے اور پیوند لگانے کے لیے دیا، اس نے اس کے ساتھ ایک نرم کپڑے کا کرتا پیش کیا، حضرت عمر ؓ نے اس کو واپس کر دیا اور اپنا کرتا لے کر کہا اس میں پسینہ خوب جذب ہوتا ہے۔ (کنز العمال، 6/346)
کپڑا عموماً گرمی میں بنواتے تھے اور پھٹ جاتا تو پیوند لگاتے چلے جاتے، حضرت حفصہ ؓ نے اس کے متعلق گفتگو کی تو فرمایا، مسلمانوں کے مال میں اس سے زیادہ تصرف نہیں کرسکتا،
(کنز العمال، 6/332)
یہ مضمون بہت زیادہ دلچسپ، عام فہم اور دل پر اثر انداز ہونے والا ہے، اس لیے اس کی دوسری اور تیسری قسم بھی پیش کی جائے گی۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button