صحابہ کرام

حضرت عمر ؓ کا استغنا و قناعت،حکمرانوں کے لیے اسباق (4)

تحریر: نور حسین افضل
اسلامک اسکالر، مصنف، کالم نویس
صدر: پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (مشرق وسطی)
[email protected]

حضرت عمر ؓ ایک بار دیر تک گھر میں رہے، باہر آئے تو لوگ انتظار کررہے تھے، معلوم ہوا کہ پہننے کو کپڑے نہ تھے، اس لیے ان ہی کپڑوں کو دھوکر سوکھنے کیلئے ڈالدیا تھا، خشک ہوئے تو وہی پہن کر باہر نکلے۔ غذا بھی عموماً نہایت سادہ ہوتی تھی، معمولاً روٹی اور روغن زیتون دسترخوان پر ہوتا تھا، روی گیہوں کی ہوتی تھی، لیکن آٹا چھانا نہیں جاتا تھا، مہمان یا سفراء آتے، تو کھانے میں ان کو تکلیف ہوتی تھی، کیونکہ وہ ایسی سادی اور معمولی غذا کے عادی نہیں ہوتے تھے۔
حفص بن ابی العاص ؓ اکثر کھانے کے وقت موجود ہوتے تھے، لیکن شریک نہیں ہوتے تھے، ایک بار حضرت عمر ؓ نے وجہ پوچھی، تو کہا کہ آپ کے دسترخوان پر ایسی سادہ اور معمولی غذا ہوتی ہے کہ ہم لوگ اپنے لذیذ اور نفیس کھانوں پر اس کو ترجیح نہیں دے سکتے، حضرت عمر ؓ نے کہا، کیا تم یہ سمجھتے ہوکہ میں قیمتی اور لذیذ کھانا کھانے کی قدرت نہیں رکھتا؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر قیامت کا خوف نہ ہوتا تو میں بھی تم لوگوں کی طرح دنیاوی عیش وعشرت کا دلدادہ ہوتا۔ (کنز العمال، 6/346)
حضرت عمر ؓ ہر شخص کو اپنی طرح زہد اور سادگی کی حالت میں دیکھنا چاہتے تھے، وقتاً فوقتاً اپنے عمال اور حکام کو ہدایت کرتے رہتے تھے کہ رومیوں اور عجمیوں کی طرز معاشرت نہ اختیار کریں، سفر شام میں جب انہوں نے افسروں کو اس وضع میں دیکھا کہ بدن پر حریر و دیبا کے پر تکلف قبائیں ہیں اور وہ اپنی زرق برق پوشاک اور ظاہری شان وشوکت سے عجمی معلوم ہوتے ہیں، تو آپؓ کو اس قدر غصہ آیا کہ گھوڑے سے اتر پڑے، اور سنگریزے اٹھا کر ان پر پھینکے، اور فرمایا کہ اس قدر جلد تم نے عجمی عادتیں اخیتار کر لیں، اسی طرح ایک دفعہ ایک شخص جس کو انہوں نے یمن کا عامل مقرر کیا تھا، اس صورت سے ملنے آیا کہ لباس فاخرہ زیب تن کیے ہوئے تھا، اور بالوں میں خوب تیل لگایا ہوا تھا، اس وضع کو دیکھ کر حضرت عمر ؓ نہایت ناراض ہوئے اور وہ کپڑے تبدیل کروا کے عام کپڑے پہنائے۔ احنف بن قیس ایک جماعت کے ساتھ عراق کی ایک مہم پر روانہ کیے گئے، وہ وہاں سے کامیاب ہوکر تزک واحتشام کے ساتھ واپس آئے، تو حضرت عمر ؓ نے ان کے زرق برق پوشاک دیکھ کر منہ پھیر لیا، وہ لوگ امیر المومنین کو برہم دیکھ کر دربار سے اٹھ آئے اور عرب کی سادہ پوشاک زیب تن کرکے پھر حاضر خدمت ہوئے، حضرت عمر ؓ اس لباس میں دیکھ کر بہت خوش ہوئے، اور فرداً فرداً ہر ایک سے بغل گیر ہوئے۔ قناعت کا یہ حال تھا کہ اپنے زمانہ خلافت میں چند برس تک مسلمانوں کے مال سے ایک ایک سکہ تک نہیں لیا، حالانکہ فقروفاقہ سے حالت تباہ تھی، صحابہ کرام ؓ نے ان کی عسرت اور تنگدستی کو دیکھ کر اس قدر تنخواہ مقرر کردی جو معمولی خوراک اور لباس کے لیے کافی ہو لیکن شہنشاہ قناعت نے اس شرط پر قبول کی، کہ جب تک ضرورت ہے لوں گا، اور جب میری مالی حالت درست ہو جائے گی، تو کچھ نہیں لوں گا، آپ ؓ فرمایا کرتے تھے کہ میرا حق مسلمانوں کے مال میں اسی قدر ہے جس قدر یتیم کے مال میں ولی کا ہوتا ہے۔
(کنزالعمال ج 6 : 330)
اللہ تعالی اس گوہر نایاب پر اپنی شایان شان رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے، آمین یا رب العالمین۔ (جاری ہے)

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button