نظم

بابری مسجد کی یاد میں

اک روز مرے خواب کی تعبیر تو ہوگی
اے بابری مسجد تری تعمیر تو ہوگی

حق کو نہ دبا پائے تھے کل قیصر و کسریٰ
حق آج بھی غالب ہے، یہ غالب ہی رہے گا
مٹ جائیں گے جو بابری مسجد کے ہیں اعدا
اک روز مسلمانوں کی تنصیر تو ہوگی
اے بابری مسجد تری تعمیر تو ہوگی

کس کو نہیں معلوم کہ وہ گھر تھا خدا کا
وہ خانۂ معبود تھا وہ در تھا خدا کا
جو شخص وہاں جاتا تھا نوکر تھا خدا کا
ظالم! ترے ہر ظلم کی تعزیر تو ہوگی
اے بابری مسجد تری تعمیر تو ہوگی

تاریخ بتاتی ہے کہ ظالم کو فنا ہے
آباد وہی شخص ہے جو رب کا بنا ہے
سب خاک میں مل جائے گی جو تیری انا ہے
اس ارضِ خدا داد کی تطہیر تو ہوگی
اے بابری مسجد تری تعمیر تو ہوگی

اس ملک کی پہچان تھی وہ بابری مسجد
اور جانِ مسلمان تھی وہ بابری مسجد
توقیر ِ ثنا خوان تھی وہ بابری مسجد
اُس شہر ستم کار کی تسخیر تو ہوگی
اے بابری مسجد تری تعمیر تو ہوگی

پھر بند نظر آئیں گی شیطاں کی دکانیں
کچھ بول نہیں پائیں گی کل ان کی زبانیں
گونجیں گی وہیں بابری مسجد کی اذانیں
تاریک گلستان میں تنویر تو ہوگی
اے بابری مسجد تری تعمیر تو ہوگی

اُس خانۂ رب کے لیے کتنوں کی گئی جاں
اک روز تو رنگ لائے گا یہ خونِ شہیداں
اللہ کے گھر کا تو ہے اللہ نگہباں
اظہرؔ ترے اشعار کی تفسیر تو ہوگی
اے بابری مسجد تری تعمیر تو ہوگی

ازقلم: آفتاب اظہرؔ صدیقی
کشن گنج، بہار
6/ دسمبر 2022ء

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button