تاریخ کے دریچوں سے

بابری مسجد! ہم پھر سے اذان دیں گے

ازقلم: مجیب الرحمٰن ثقافی

آج یعنی 6 دسمبر ہندوستان کی تاریخ کا سیاہ دن تھا جس دن بابری مسجد کو شہید کیا گیا تھا اور یہ ہندوستان کے جمہوریت ہونے پر ایک داغ لگا دیا ۔ ہندوستان ایک ڈیموکریسی ملک ہے یہاں سبھی کو اپنے مذہب کے حساب سے جینے کی آزادی ہیں ۔ لیکن اس دن ہندوستان کی کچھ نفرت وادی تنظیم اور فرقہ پرست لوگ مل کر بابری مسجد کو شہید کر دیے–

لیکن ہم مسلمانوں کے دلوں میں وہ مسجد تھی اور قیامت تک رہے گی ۔ اور انشاء اللہ ہم لوگ پھر سے بابری مسجد میں نماز ادا کریں گے یہ میری سبھی لوگوں سے گزارش ہے کی اس دن کو یاد رکھیں

اور لوگوں کو بھی بتائیں کہ جئےسیارام والوں نے مسجد کا تالا کھولوایا تھا اور جئے شری رام والوں نے بابری مسجد کو شہید کر دیا۔

حکومت اس وقت کانگریس کی تھی راجنیتی فائدے کے لیے کام دونوں نے کیا اور بھارتیے اتہاس/تاریخ کا ایک سنہرا پنہ شہید کر دیا۔

بابری مسجد کی سنگ بنیاد مغل سلطنت کے سالار میر باقی نے 1528ء میں رکھا تھا

لیکن سبھوں نے تو ظلم کیا ہی اخیر میں امید تھی سپریم کورٹ سے کہ ہمیں انصاف ملیگی کیونکہ مسجد میری ہے اس نے بھی ظلم کرنے میں کوئ کمی نہیں چھوڑی 9 نومبر 2019 کو ہندوستانی عدالت عظمی یعنی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے تعلق سے اپنا حتمی فیصلہ سنادیا، سپریم کورٹ کے جج رنجن گوگوئ نے اسے ہندو توا کے حوالے سونپ دیا،

عدالت عظمی نے بھگوا آتنکیوں کے حق میں فیصلہ دے کر ہندوستان کے آئین کا گلا گھونٹا ہے

ظلم کی ٹہنی زیادہ دیر نہیں ٹکتی بیت المقدس کو 1099ء میں صلیبیوں نے قبضہ کیا تھا لیکن ایک مرد مجاہد جس کا نام صلاح الدین ایوبی ہے اپنی جدو جہد سے 1187ء میں بیت المقدس کو ان ظالموں کے چنگل سے آزاد کرایا دوسری مسجد ترکی کی آیاسوفیا ہے 1931 میں سے یہاں پہ بھی نماز سے پابندی لگائ گئی تھی اور 11 جولائی 2020 تک ایسا ہی رہا تھا لیکن بحمدہ تعالی رجب طیب ایردوان کی منظوری سے مسجد آیا سوفیا کو دوبارہ نماز کے لیے تیار کیا گیا بعدہ 24 جولائی 2020 بروز جمعہ 86 سال بعد اس جگہ پر دوبارہ نماز جمعہ ادا کی گئی اسی طرح بابری مسجد کو ہم سے 1992ء میں چھینا گیا حکومت کے بلبوتے پر انشاء اللہ ہم بھی ایک نہ ایک دن ضرور بابری مسجد کو ان آتنکیوں کے چنگل سے آزاد کرائینگے اور نماز ادا کرینگے

تو نے بخشے ہیں جو آزار وہ کہاں رکھوں گا
اے گرے گنبد و مینار کہاں رکھوں گا
اپنے بچوں سے ہر اک ظلم چھپالوں گا مگر
چھ دسمبر تیرے اخبار کہاں رکھوں گا

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button