نظم

6 دسمبر؛ حمایتِ حق کے لیےتجدیدِ عہد کا دن

ملے گی ہم کو اک دن کامیابی، بابری مسجد
کہ ہم پائیں گے تیری ہمرکابی ، بابری مسجد

تری بنیاد کے سارے نشاں معلوم ہیں ہم کو
رہیں گے کر کے تیری بازیابی بابری مسجد

اذاں گونجےگی ان شاء اللہ پھر تیرے مناروں سے
یقینا ہوگی اک دن فتحیابی ، بابری مسجد

تری مٹّی گواہی دے گی اہلِ حق کے سجدوں کی
جبیں کو ہوگی تجھ سے فیضیابی ، بابری مسجد

عداوت کی یہ ساری دھول ہم تجھ سےہٹائیں گے
بنے گا تیرا چہرہ آفتابی ، بابری مسجد

ترے دشمن ، ترے غدّار جل کر خاک ہوجائیں
نظر اک ڈال دے اُن پر عِتابی بابری مسجد

اُٹھیں اور ساتھ نکلیں تو درِ مقصود مل جاے
قیادت پر مگر حالت ہے خوابی، بابری مسجد!

سزا پائیں گے ، ظلم وجبر کے جتنے مُربّی ہیں
ضرور آۓ گا دَورِ احتسابی ، بابری مسجد

تری تعمیر، اہل حق کی خوشیاں لے کے آئے گی
ابھی تو کیفیت ہے اضطرابی ، بابری مسجد

لہٗو روتی ہیں آنکھیں اور لبوں پر یہ دعائیں ہیں
کہ لوٹ آئے تری عزت مَاٰبی، بابری مسجد

فریدی نے بھی تھاما ہے عَلَم تیری حمایت کا
نہ ٹھہرے گا سفر یہ انقلابی بابری مسجد


ازقلم: سلمان رضا فریدی صدیقی مصباحی بارہ بنکوی، مسقط عمان

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button