خواتین امت

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کے کم سنی نکاح کا تحقیقی تجزیہ۔۔۔

از قلم۔۔۔۔محمد ابرار احمد علیمی
استاذ۔۔۔ دارالعلوم غوثیہ ضیاء القرآن۔کرلا ممبئی۔۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کم سنی میں نکاح فرمایا اور پھر ان کی والدہ حضرت ام رومان رضی اللہ تعالی عنہا نے تین سال بعد 9/ سال کی عمر میں رخصتی کردی اس پر بعض لوگوں سے اعتراضات اور شکوک و شبہات کوئی نئے نہیں ہیں، بلکہ ماضی بعید سے ہی وقوع پذیر ہوتے رہیں ہیں۔علمائے کرام اور محققین نے جوابات بھی دیے، دلائل کے انبار بھی لگائے، نیز سرکارکی یہ سنت نوع بنی انسانی کے لئے سود مند ہے یہ ثابت بھی کیے ۔تاہم ذیل کی سطروں میں ایک ترتیب کے ساتھ جواب دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔امید ہے کہ جواب میں تحقیق و تجزیہ کے جو پہلو سامنے آئیں گے اس سے ذہنی غبار دھول جائے گا اور ذہن کا مطلع بالکل صاف اور واضح ہو جائے گا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی قوم میں مبعوث ہوئے تھے جو تہذیب و تمدن کی ابتدائی درجے میں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد اللہ تعالی نے صرف یہی کام نہیں کیا تھا کہ ان کے عقائد و خیالات درست کریں،بلکہ یہ خدمت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد تھی کہ ان کا طرز زندگی، بودوباش اور رہن سہن ٹھیک و درست فرمائیں۔ان کو انسان بناءیں،انہیں شائستہ اخلاق،پاکیزہ معاشرت، مہذب تمدن، نیک معاملات اور عمدہ آداب کی تعلیم دیں۔یہ مقصد محض وعظ و تلقین اور قیل و قال سے پورا نہیں ہوسکتا تھا۔ 23/ سال کی مختصر مدت حیات میں ایک پوری قوم کو وحشت کے بہت نیچے مقام سے اٹھا کر تہذیب کے بلند ترین مرتبہ تک پہنچانا اس طرح ممکن نہیں تھا محض مخصوص اوقات میں ان کو بلا کر کچھ زبانی ہدایات دی جائیں۔ اس کے لیے ضرورت تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنی زندگی میں ان کے سامنے انسانیت کا ایک مکمل ترین نمونہ پیش کریں اور ان کو پورا پورا موقع دیں کہ اس نمونہ کو دیکھیں اور اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق بنائیں۔۔

چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ یہ آپ صلی اللہ وسلم کا انتہائی ایثار تھا کہ زندگی کے ہر شعبہ کو قوم کی تعلیم کے لیے عام کر دیا، اپنی کسی چیز کو بھی پرائیویٹ اور مخصوص نہ رکھا یہاں تک کہ ان معاملات کو بھی نہ چھپایا جنہیں دنیا میں کوئی شخص عوام کے لئے کھول دینے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا غیر معمولی ایثار اس لیے کیا تھا کہ رہتی دنیا تک کے لیے لوگوں کو بہترین نمونہ اور عمدہ نظیر مل سکے۔

اسی اندرونی اور خانگی حالات دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد نکاح فرمایا، تاکہ آپ کی نجی زندگی کے تمام حالات نہایت وثوق اور اعتماد کے ساتھ دنیا کے سامنے آ جائیں اور ایک کثیر جماعت کی روایت کے بعد کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہ رہے، اور شریعت کے وہ احکام و مسائل جو عورتوں سے متعلق ہیں اور مردوں سے بیان کرنے میں حیاء اور حجاب مانع ہوتا ہے،ایسے احکام شرعیہ کی تبلیغ ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن کے ذریعے ہو جائے۔۔۔۔

تنہائی کی اضطراب، مصیبتوں کے ہجوم،اور ستمگاروں کے تلاطم میں ساتھ دینے والی آپ صلی اللہ وسلم کی غمگساری بیوی ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کا دس رمضان نبوت میں انتقال ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار سال بعد یہ ضروری سمجھا کہ آپ کے حرم میں کوئی ایسی چھوٹی عمر کی خاتون داخل ہوں جنہوں نے اپنی آنکھ اسلامی ماحول ہی میں کھولی ہوں اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے میں رہ کر پروان چڑھیں،تا کہ ان کی تعلیم و تربیت ہر لحاظ سے مکمل اور مثالی طریقہ پر ہو اور مسلمان عورتوں اور مردوں میں اسلامی تعلیمات پھیلانے کا مؤثر ترین ذریعہ بن سکے تو اس کے لیے مشیت الہی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کو منتخب فرمایا اورشوال تین ہجرت النبوت مطابق 20 مئی کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ہوا۔اس وقت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر جمہور علماء کے یہاں چھ سال تھی، اور تین سال بعد جب وہ نو سال کی ہو چکی تو ان کی والدہ محترمہ حضرت ام رو مان رضی اللہ تعالی عنہا نے آثار و قرائن سے یہ اطمینان حاصل کرلیا تھا کہ وہ اب اس عمر کو پہنچ چکی ہیں کہ رخصتی کی جا سکتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روانہ فرمایا اور اس طرح رخصتی کا عمل انجام پایا۔۔۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کے والدین کا گھر تو پہلے سے ہی نور اسلام سے منور تھا، عالم طفولیت میں ہی انہیں کاشانہ نبوت تک پہنچا دیا گیا تاکہ ان کے سادہ لوح دل پر اسلامی تعلیم کا گہرا نقش مرتسم ہو جائے، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی اس نو عمری میں کتاب وسنت کے علوم میں گہری بصیرت حاصل کی، اسوہ حسنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال و ارشادات کا بہت بڑا ذخیرہ اپنے ذہن میں محفوظ رکھا، اور درس و تدریس کے ذریعے اسے پوری امت کے حوالے کردیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے 2210 احادیث مروی ہیں۔

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی نسبت قابل وثوق ذرائع سے معلوم ہے کہ ان کی جسمانی قوی بہت بہتر تھی، اور اس میں قوت نشوونما بہت زیادہ تھی، ایک تو خود عرب کی گرم آب وہوا میں عورتوں کے غیر معمولی نشوونما کی صلاحیت ہے ۔ تو دوسرے یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جس طرح ممتاز اشخاص کے دماغی و ذھنی قوی میں ترقی کے غیر معمولی استمداد ہوتی ہے اسی طرح قدو قامت میں بھی بالیدگی کی خاص صلاحیت ہوتی ہے۔اسی لیے بہت تھوڑی عمر میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا میں وہ صلاحیت پیدا ہو گئی تھی جو شوہر کے پاس جانے کے لئے ایک عورت میں ضروری ہوتی ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کے طبعی حالات تو ایسے تھے ہی مزید ان کی والدہ محترمہ نے ان کے لیے ایسی باتوں کا بھی خاص اہتمام کیا تھا جو ان کے جسمانی نشوونما پانے میں ممد اور معاون ثابت ہوتی ہے۔

چنانچہ ابو داؤد، ابن ماجہ میں خود حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا بیان مذکورہے کہ” میری والدہ نے میری جسمانی ترقی کے لئے بہترے تدبیریں کیں، آخر ایک تدبیر سے خاطر خواہ فائدہ ہوا اور اور میرے جسمانی حالات میں بہترین انقلاب پیدا ہوگئی”۔ اس کے ساتھ اس نکتہ کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے رخصتی کا تقاضا کیا جاتا،خود ان کی والدہ نے خدمت اقدس میں بھیجا تھا، اور دنیا جانتی ہے کی کوئی ماں اپنی بیٹی کی دشمن نہیں ہوتی،بلکہ لڑکیاں سب سے زیادہ اپنی ماں ہی کی عزیز اور محبوب ہوتی ہیں۔اس لئے ناممکن اور محال ہے کی انہوں نے ازدواجی تعلقات قائم کرنے کی صلاحیت و اہمیت سے پہلے ہی ان کی رخصتی کردیا ہو۔

اور اگر ہر طرح کی ذھنی عصیبت و جانبداری سے باہر نکل کر عدل و انصاف کے تناظر میں تاریخ کا مطالعہ کریں تو آ پ پر عیاں ہوگا کہ نہایت مستند طریقے سے ثابت ہے کہ عرب میں بعض لڑکیاں نو برس میں ماں اور اٹھارہ برس کی عمر میں نانی بن گئیں ہیں۔اس ترقی یافتہ دور میں تو یورپ و امریکہ وغیرہ ممالک میں سات و نو سال کی عمر میں لڑکیوں کا ماں بننا عام بات ہو گئی ہے۔خود ہمارے ملک ہندوستان میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ وکٹوریہ ہسپتال دہلی میں سات سال کی لڑکی نے ایک بچہ جنا ہے۔ جب ہندوستان جیسے معتدل اور متوسط ماحول و آب و ہوا والے ملک میں سات برس کی لڑکی میں یہ استعداد پیدا ہوسکتی ہے تو عرب کے گرم آب و ہوا والے ملک میں نو سال کی لڑکی میں اس صلاحیت کا پیدا ہو جانا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی لڑکی ام کلثوم کا نکاح عروہ ابن زبیر،عروہ ابن زبیر نے اپنی بھتیجی کا نکاح اپنے بھتیجے سے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی بیوی نے اپنی لڑکی کا نکاح ابن مسیب سے کم سنی میں کیا۔ان حضرات کا اپنی لڑکیوں کا نکاح کمسنی میں کر دینا بھی اس بات کی ٹھوس دلیل ہے کہ اس وقت بہت معمولی عمر میں ہی بعض لڑکیوں میں شادی و خلوت کی صلاحیت پیدا ہو جایا کرتی تھی،تو اگر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی رخصتی نو سال کی عمر میں ہوئی تو اس میں تعجب کیا؟؟

اللّٰہ کریم کے بارگاہ اقدس میں عرض ہے کہ اللہ معترضین و معاندین کو فکر سلیم و ہدایت عظیم عطا فرمائے ۔۔ آمین یا رب العالمین۔۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button