تعلیمگوشہ اطفال

حروف اور بچے

تحریر: ام ھشام، ممبئی

تعلیم و تربیت کے معاملے میں اکثریت کو دیکھا ہے کہ جب بچے تین سے چار سال کے ہوتے ہیں تو ان کی اس عمر سے فائدہ اٹھانے کی بجائے والدین مکمل طور سے نظر انداز کرتے ہیں۔”ابھی تو چھوٹے ہیں سیکھتے سیکھتے ان کو سب آجایے گا۔اسکول جائیں گے تو سیکھ لیں گے۔بچہ ابھی پہلی دوسری میں ہے ابھی تو عمر پڑی ہے سیکھنے کو“ کچھ اس طرح کی باتیں ہمیشہ سننے میں آتی ہیں۔پھر ہوتا یہ ہے کہ بچے بڑی جماعتوں میں چلے جاتے ہیں لیکن انہیں تب بھی کسی ایک زبان کو ہی پڑھنے، سنانے میں مہارت حاصل نہیں ہو پاتی۔بلکہ بسا اوقات اپنے نصابی اسباق کو بھی ایسے بچے درست ڈھنگ سے نہ پڑھ پاتے نہ ہی یاد کر پاتے ہیں۔
در اصل بچوں کی یہ بنیادی اشد کمزوری ایک دن یا کچھ مہینوں کی غفلت کا خمیازہ نہیں ہوتی،بلکہ اوائل عمری میں موزوں طریقہ تدریس کا نہ ہونا ان بچوں کو پہلی جماعت سے لے کر اعلیٰ جماعتوں تک مسلسل کئی ایک سطحوں پر کمزور بناتا چلا جاتا ہے۔
آئیے سمجھ لیتے ہیں کس طرح چار سے،چھ سال کی عمر۔۔۔یہ عمر اپنے اندر ایک حیرت انگیز اور ناقابل تسخیر،جوش و ولولہ رکھتی ہے۔تخلیقی صلاحیتوں کی کاشت کاری کے لیے یہ سب سے زر خیز وقت ہوتا ہے۔آپ سکھاتے جائیں بچہ سیکھتا جائے گا۔آپ سکھاتے سکھاتے تھک جائیں گے لیکن بچہ پھر بھی آپ سے ”ھل من مزید“ کا تقاضا کرتا رہے گا۔ہر پل بچہ کچھ نہ کچھ سیکھتے رہنا چاہتا ہے۔
ایک صحت مند، اوسط ذہن کا بچہ بیک وقت پانچ الگ الگ زبانوں کو سیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔مگر والدین اور اساتذہ اس عمر کو نظر انداز کر جاتے ہیں۔پھر شکوہ کناں بھی ہوتے ہیں کہ ہمارے بچے کو READINGنہیں آتی اس لیے ہر امتحان میں اس کے نمبرات کم آتے ہیں۔
اس سلسلے کی سب سے کامیاب ترکیب یہ ہے کہ پِری پرائمری یعنی ابتدائیہ میں بچے حروف تہجی بڑی تفصیل سے سیکھیں۔اور پھر اول جماعت کے ختم ہوتے ہوتے یہ بچے آسان اسباق کو روانی سے پڑھنے کے قابل ہوجائیں۔
بچے سیکھیں گے کیسے؟آپ کو سکھانا ہوگا،مسلسل بنا اکتائے ان بچوں پر سخت محنت اور توجہ دینی ہوگی۔کیوں کہ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب بچوں کی حروف کے ساتھ شناسائی ہوتی ہے درست طریقہ کار سے بچوں کو حروف کی شکل کی شناخت،مختلف و متفر ق صوتیات پر بھی توجہ دلائی جائے تو ایک الہام کی طرح یہ سارے حروف بچوں کے دل و دماغ پر ثبت ہوجاتے ہیں۔اور بچے پھر پڑھنے کی کوشش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
ان کے ساتھ لگ کر دن بھر ان کے اردگرد کی چیزوں کے نام انہی سے پڑھوانا بھی ایک بہترین طریقہ ہے۔جو زبان بچے کو سکھائی جارہی ہو کوشش کی جائے کہ اسی زبان کا زیادہ استعمال ہو۔ اور بیک وقت اگر دو لسانی مشقیں ہوں تو پھر ہر نئی چیز کا معنیٰ دونوں زبانوں میں بتایا جائے۔
یہ ایمان رکھنے والی بات ہے کہ آپ کی یہ چھ مہینے اور سال بھر کی محنت ان شا ء اللہ آپ کے بچے کو زندگی بھر کی روانی دیتا ہے۔اور آپ کی یہ مسلسل کوشش ہی ان کی کامیابی کی کلید ہے۔
بچے ان حروف و الفاظ سے کھیلتے ہیں،ان کی دلچسپی عروج پر ہوتی ہے کہ اس قدر کہ نہاتا ہوا بچہ بھی آکر پوچھنے لگتا ہے کہ صابن ”ص“ سے آتا ہے یا ”س“
سے چونکہ ہر وقت حروف تہجی ان کے دل و دماغ میں رقص کررہے ہوتے ہیں۔یعنی کچھ نہ کچھ سیکھنا اور بولتے رہنا اور الگ الگ آوازوں میں فرق کرنا۔
ایک المیہ یہ ہے کہ اتنے اہم موڑ پر والدین نے نرسریز اور اسکولوں پر تکیہ کیا ہوتا ہے۔جب کہ یہ آرام کا نہیں کام کا وقت ہوتا ہے۔آج اسکولوں میں تعلیم نہیں فقط نصاب تھمایا جاتا ہے۔اور اسی نصاب کی آپ سے منہ مانگی قیمت وصولی جاتی ہے۔اس لیے خود اپنے بچوں کی فکر کریں۔ان کے ان بیش قیمت ایام کو کسی قیمت ضائع نہ ہونے دیں۔
میرے خیال سے اس عمر میں پڑھنا،سیکھنا اور سکھانا ایک چیلنج ہے۔والدین کو احساس کمتری سے باہر نکل کر خود اپنے بچوں کا معاون بننا چاہئے اور اس چیلنج کو قبول کرنا چاہیے۔
یہاں لکھنے سے پہلے اس تکنیک کومیں سالوں سے بروئے کار لارہی ہوں۔کبھی طلباء کے ساتھ تو کبھی خود اپنے بچوں کے ساتھ۔ ابتدائیہ میں زیر تعلیم میری بچی بیک وقت چار زبانیں سیکھ رہی ہے الحمدللہ۔عربی اور انگریزی میں روانی ہے کیونکہ دن بھر ان کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔اردو اور ہندی کی مشقوں میں سلسلہ جوڑ حروف تک پہنچا ہے۔
لہٰذا چھوٹے بچوں کے سر پرست اس عمر کے بچوں کو ہر گز بھی کم نہ سمجھیں۔موبائل اور ٹی وی کی دنیا سے باہر لاکر ان کے ساتھ عملی مشق کریں کروائیں۔انہیں چھوٹا بچہ سمجھنے کی غلطی ہر گز نہ کریں۔ ان کے ان قیمتی ایام کو ضائع کرنے اور ہونے سے بچائیں۔اور اپنے بچوں کے سنہرے مستقبل کی راہیں ہموار کریں۔اپنے بچوں سے باربار بات کریں،بلکہ دن بھر ان سے کسی نہ کسی موضوع پر بات کرتے رہیں۔تاکہ وہ نئے لفظوں کو بھی روز مرہ کی بول چال میں سیاق و سباق کے ساتھ آسانی سے سمجھ سکیں۔کچھ الفاظ لے کر ان کی چھوٹی چھوٹی کہانیاں ذہن میں مرتب کرلی جائیں۔اور بچوں کو باتوں ہی باتوں میں یہی کہانیاں سنائی جائیں۔
پھر آپ ان شاء اللہ ان سب کے نتائج دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔بچہ الفاظ پہچانے گا بھی،پڑھے گا بھی،سمجھے گا بھی اور عبارت پر بھی اس کی اچھی گرفت ہوجائے گی۔
در اصل حروف اور ہمارے بچے،دونوں ہی ناتواں سے ہوتے ہیں۔انہیں ساتھ کردیا جائے تو ایک بڑی طاقت تیار ہوسکتی ہے۔

نوٹ :مضمون نگار عالمہ،داعیہ اور صحافیہ بھی ہیں۔ملک و بیرون ملک کے اخبارات،مجلات اور کئی ویب پورٹلز پر ان کے مضامین نشر ہوتے رہتے ہیں۔

ہما اکبر آفرین

محترمہ ہما اکبر آفرین صاحبہ گورکھ پور(یو۔پی۔) کے قدیم ترین قصبہ گولا بازار سے تعلق رکھنے والی بہترین قلم کار ہیں۔ فی الحال موصوفہ ہماری آواز کے گوشہ خواتین و اطفال میں ایڈیٹر ہیں۔ ہماری آواز

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button