صحابہ کرام

حضرت عمر ؓ کی قرآن و سنت اور فقہی خدمات

ازقلم: نور حسین افضل
اسلامک اسکالر، مصنف، کالم نویس
صدر: پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (مشرق وسطی)

حضرت عمر ؓ کے بڑے مقاصد میں مسلمانوں کی مذہبی تعلیم اور شعار اسلامی کی ترویج تھی، اس کے متعلق حضرت عمر ؓ کے مساعی کا سلسلہ حضرت ابوبکر ؓ ہی کے عہد سے شروع ہوچکا تھا، قرآن مجید جو دین اسلام کی اساس ہے، حضرت عمر ؓ ہی کے اصرار پر کتابی صورت میں عہد صدیقی میں مرتب کیا گیا، اس کے بعد انہوں نے اپنے عہد خلافت میں اس کے درس وتدریس کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے، معلمین، حفاظ اور مؤذن کی تنخواہیں مقرر کیں، حضرت عبادہ بن الصامت ، حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابو الدردا رضی اللہ عنھم اجمعین کو جو حفاظ قرآن اور کبار صحابہ میں سے تھے، قرآن مجید کی تعلیم دینے کے لیے ملک شام میں روانہ ہوئے۔ (کنز العمال ج1 : 281)
قرآن مجید کو صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنے اور پڑھانے کے لیے سرکاری احکام روانہ کیے، غرض حضرت عمر ؓ کی مساعی جمیلہ سے قرآن کی تعلیم ایسی عام ہو گئی تھی، کہ ناظرہ خوانوں کا تو شمار ہی نہیں، حفاظ کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی تھی، حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے ایک خط کے جواب میں لکھا تھا کہ صرف میری فوج میں تین سو حفاظ ہیں. (کنز العمال ج1 : 217)
اسلام کی اساس میں قرآن کے بعد حدیث کا رتبہ ہے، حضرت عمر ؓ نے اس کے متعلق جو خدمات انجام دیں ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو نقل کرواکر حکام کے پاس روانہ کیا، تاکہ عام طور پر اس کی اشاعت ہو، مشاہیر صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین کو مختلف ممالک میں حدیث کی تعلیم کے لیے بھیجا، چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کو ایک جماعت کے ساتھ کوفہ روانہ کیا، عبد اللہ بن مغفل، عمران بن حسین اور معقل بن یسار رضی اللہ عنھم اجمعین کو بصرہ بھیجا، حضرت عبادہ بن الصامت ؓ اور حضرت ابوالدردا ؓ کو شام روانہ کیا، (ازالۃ الخلفاء ج 2 : 6)
اگرچہ محدثین کے نزدیک تمام صحابہ عدول ہیں، لیکن حضرت عمر ؓ اس نکتہ سے واقف تھے کہ جو چیزیں خصائص بشری ہیں، ان سے کوئی زمانہ مستثنیٰ نہیں ہوسکتا، چنانچہ انہوں نے روایت قبول کرنے میں نہایت چھان بین اوراحتیاط سے کام لیا، ایک دفعہ آپ کسی کام میں مشغول تھے، حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ آئے اور تین دفعہ سلام کرکے واپس چلے گئے، حضرت عمر ؓ کام سے فارغ ہوئے تو حضرت ابو موسیٰ ؓ کو بلا کر دریافت کیا کہ تم واپس کیوں چلے گئے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تین دفعہ اجازت مانگو اگر اس پر بھی نہ ملے تو واپس چلے جاؤ، حضرت عمر ؓ نے فرمایا، اس روایت کا ثبوت دو ورنہ میں تمہیں سزا دو گا، (مسلم باب الاستیذان)
حضرت ابوموسیٰ ؓ نے حضرت سعید ؓ کو شہادت میں پیش کیا، اسی طرح سقط یعنی کسی عورت کا حمل ضائع کر دینے کے مسئلہ میں حضرت مغیرہ ؓ نے حدیث روایت کی تو حضرت عمر ؓ نے شہادت طلب کی جب محمد بن مسلمہ ؓ نے تصدیق کی تو انہوں نے تسلیم کیا،
(تذکرۃ الحفاظ ج1 تذکرہ عمر)
اسی طرح حضرت عباس ؓ کے ایک مقدمہ میں ایک حدیث پیش کی گئی تو حضرت عمر ؓ نے تائید ثبوت طلب کیا، جب صحابہ کرام نے تصدیق کی تو فرمایا مجھ کو تم سے بدگمانی نہ تھی، بلکہ اپنا اطمینان مقصود تھا۔
(تذکرۃ الحفاظ ج1 تذکرہ عمر)
حدیث کے بعد فقہ کا درجہ ہے، حضرت عمر ؓ خود اپنے خطبوں اورتقاریر میں مسائل فقہیہ بیان کرتے تھے، اور دور دراز ممالک کے حکام فقہی مسائل لکھ کر بھیجتے تھے، مختلف فیہ مسائل کو صحابہ کرام ؓ کے مجمع میں پیش کر کے حل کرواتے تھے، اضلاع میں عمال اور افسروں کی تقرری میں عالم اور فقیہ ہونے کا خاص خیال رکھا جاتا تھا، تمام ممالک محروسہ میں فقہاء کرام مقرر کیے تھے، جو قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کی تعلیم دیتے تھے، ابن جوزی تحریر فرماتے ہیں ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے فقہاء کرام کی اچھی تنخواہیں مقرر کی تھیں، اس سے پہلے فقہا اور معلمین کو تنخواہ دینے کا رواج نہ تھا، غرض یہ کہ فاروق اعظم ؓ کے عہد میں مذہبی تعلیم کا ایک مرتب اور منظم سلسلہ قائم ہو گیا تھا۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت عمر ؓ قرآن و حدیث اور مسائل فقہ میں کتنا احتیاط برتتے تھے، آپ ؓ کی دیگر خدمات میں قرآن و سنت اور فقہی خدمات ایک مسلمہ حقیقت ہیں، اللہ تعالی آپ کو اس کا اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button