فقہ وفتاویمذہبی مضامین

مصارف زکوٰۃ

ازقلم: ریاض فردوسی۔9968012976

بلاشبہ صدقات توفقیروں اور مسکینوں اوران پرکام کرنے والوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں اُلفت ڈالنی مقصودہے اورگردنوں کے چھڑانے میں اورتاوان بھرنے والوں اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور مسافروں کے لیے ہیں،یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض ہے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا،کمال
حکمت والاہے(سورہ آیت۔60)

نبی اکرم ؐ نے بھی حجۃالوداع کے موقعہ پر ارشاد فر مایا۔لو گواللہ سے ڈرتے رہو پانچ وقت کی نماز پڑہو رمضان کے روزے رکھو اور اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا کر و۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو لو گ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے نماز قائم کی زکوٰۃ ادا کی اللہ تعالیٰ انہیں اجر سے نوازے گا اور ان پر کوئی خوف نہیں ہو گا اور نہ ہی وہ غمگین ہو ں گے ”زکوٰۃ امیر مسلمانوں سے لے کر فقیر مسلمانوں میں تقسیم کی جا ئے گی“ نبی اکرمؐ کے پا س ایک آدمی آیا اور (زکوٰۃ) صدقے کے مال کا سوال کیا تو نبی اکرم ؐ نے فرمایا ”زکوٰۃ کے بارے اللہ تعالیٰ کسی نبی اور غیر نبی کے حکم پر راضی نہیں ہوئے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے بارے میں خود حکم فرمایا اور زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان فرمائے ہیں اگر تو ان آٹھ میں سے ہے تو تجھے تیر احق دے دیتا ہو ں“۔

ایمان والوں کو چاہیے کہ وہ اپنے صدقات درج ذیل لوگوں میں خرچ کریں ۔
•1۔فقراء
•2۔مساکین
•3۔عاملین یعنی صدقات وصول کرنے والے
•4۔کمزور ایمان والوں کی تالیف قلوب کے لئے
•5۔غلاموں کو آزاد کرانے میں
•6۔قرضداروں کے قرضہ کی ادائیگی میں
•7۔الله تعالیٰ کے راستہ میں
•8۔مسافروں کی امداد

مصارف زکوۃ!

فقیر وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ مال ہے، مگر اتنا نہیں کہ نصاب کو پہنچ جائے۔

مسکین وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو، یہاں تک کہ وہ کھانے اور بدن چھپانے کے لیے بھی لوگوں سے سوال کا محتاج ہو۔

عامل وہ ہے جسے بادشاہِ اسلام نے زکاۃ اور عشر وصول کرنے کے لیے مقرر کیا ہو، اس کو بھی زکاۃ دی جا سکتی ہے۔

رِقاب سے مراد ہے غلامی سے گردن رہا کرانا، لیکن اب نہ غلام ہیں اور نہ اس مدّ میں اس رقم کے صرف کرنے کی نوبت آتی ہے۔

غارم سے مراد مَدیون (مقروض) ہے یعنی اس پر اتنا قرض ہو کہ اسے نکالنے کے بعد نصاب باقی نہ رہے۔

فی سبیل اللہ کے معنی ہیں راہِ خدا میں خرچ کرنا، اس کی چند صورتیں ہیں مثلاً کوئی شخص محتاج ہے کہ جہاد میں جانا چاہتا ہے اور اس کے پاس رقم نہیں تو اس کو زکاۃ دے سکتے ہیں۔

ابن السبیل سے مراد مسافر ہے، مسافر کے پاس اگر مال ختم ہو جائے تو اس کو بھی زکاۃ کی رقم دی جا سکتی ہے اگرچہ اس کے پاس اس کے اپنے وطن میں مال موجود ہو۔

اگر کسی شخص کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابر ضرورت سے زیادہ سامان نہیں ہے، نہ ہی سونا، چاندی اور نقدی کی اتنی مقدار موجود ہے کہ جس کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاند کی قیمت کے برابر ہو، اور نہ ہی وہ ہاشمی یعنی سید/ عباسی ہیں) تو اس کے لیے زکوٰۃ لینا جائز ہے(

اسلامی حکومت کا ایک اہم کام یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے اموال ظاہرہ کی زکوٰۃ جمع کر کے مستحقین میں تقسیم کرے۔ اس غرض کے لئے جو اہل کار مقرر کئے جائیں، ان کی تنخواہ یا وظیفہ بھی زکوٰۃسے دیا جا سکتا ہے۔
اس سے مراد وہ نو مسلم ہیں جو ضرورت مند ہوں، اور اس بات کی ضرورت محسوس کی جائے کہ ان کو اسلام پر جمے رکھنے کے لئے ان کی دلداری کی جانی چاہئے، اصطلاح میں ایسے لوگوں کو ’’مؤلفۃ القلوب‘‘ کہا جاتا ہے۔
جس زمانے میں غلامی کا رواج تھا، اس دور میں بعض غلاموں کے آقا ان سے یہ کہہ دیتے تھے کہ اگر تم اتنی رقم لا کر ہمیں دے دو تو تم آزاد ہو۔ ایسے غلاموں کو بھی آزادی حاصل کرنے کے لئے زکوٰۃ کا مال دیا جا سکتا تھا۔اس سے مراد وہ مقروض لوگ ہیں جن پر اتنا قرضہ ہو کہ ان کے اثاثے قرضے کی ادائیگی کے لئے کافی نہ ہوں، یا اگر وہ اپنے سارے اثاثے قرض میں دے دیں تو ان کے پاس نصاب، یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر مال باقی نہ رہے۔
’’اللہ کے راستے‘‘ کا لفظ قرآنِ کریم میں اکثر جہاد کے لئے استعمال ہوا ہے۔ لہٰذا اس سے مراد وہ شخص ہے جو جہاد پر جانا چاہتا ہو، لیکن اس کے پاس سواری وغیرہ نہ ہو۔ بعض دوسرے حاجت مند لوگوں کو بھی فقہاء نے اس حکم میں شامل کیا ہے، مثلا جس شخص پر حج فرض ہوچکا ہو، لیکن اب اس کے پاس اتنے پیسے نہ رہے ہوں کہ وہ حج کرسکے۔
’’مسافر‘‘ سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس چاہے اپنے وطن میں نصاب کے برابر مال موجود ہو، لیکن سفر میں اس کے پاس اتنے پیسے نہ رہے ہوں جن سے وہ اپنی سفر کی ضروریات پوری کر کے واپس وطن جا سکے۔ مصارفِ زکاۃ ميں اصل (دليل)اللہ تَعَالٰی کا فرمان ہے، زکوٰۃ تو انہيں لوگوں کے لئے ہے محتاج اور نرے نادار (کنزالايمان) ، تو يہ آٹھ مصارف ہيں اور ان مصارف سے اَلْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ، يعنی، جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے، ساقط ہوگيا کيونکہ اللہ تَعَالٰی نے اسلام کو عزّت بخشی اور ان لوگوں سے غنی فرماديا اور اسی پر اجماع ہے۔ فقير وہ ہے جس کے پاس ادنی چيز ہو اور مسکين وہ ہے جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔

زکوٰۃ فطرہ نکل جانے سے لوگوں کے مال اور دل پاک وصاف ہوتے ہيں جيسے ميل نکل جانے سے جسم يا کپڑا، رب تَعَالٰی فرماتا ہے: (خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا) ترجمہ: ان کے مال ميں سے زکوٰۃ تحصيل کرو جس سے تم انہيں ستھرا اور پاکيزہ کردو التوبۃ:9 / 103 لہٰذا يہ مسلمانوں کا دھوون ہے”۔

(حوالہ جات۔بدائع الصنائع 2 : 43۔ فتاویٰ عالمگیری 188 تفسیر کبیر 107 طبع ایران۔ احکام القرآن للحبصاص 3 : 122۔ روح المعانی 15 : 120۔ ۔ ۔ ہدایہ : 163۔الجامع الاحکام القرآن للقرطبی 7 : 157۔بدائع الصنائع 2 : 44 ۔ ۔ ۔ فتح القدیر 2 : 204 ۔ ۔ ۔ تفسیر کبیر 16 : 115۔فتاویٰ عالمگیری، 1 : 190)

ان لوگوں کو زکوۃ دینا منع ہے!
اپنی اصل یعنی ماں، باپ، دادی، نانا، نانی وغیرہ جن کی اولاد میں یہ ہے اوراپنی اولاد بیٹا، بیٹی، پوتا پوتی، نواسہ نواسی وغیرہ کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔ عورت شوہر کو اور شوہر عورت کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا۔ جو شخص مالکِ نصاب ہو اور نصاب حاجتِ اصیلہّ سے فارغ ، ایسے کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ غنی مرد کے نابالغ بچے کو بھی زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔ بنی ہاشم کو بھی زکوٰۃ نہیں دے سکتے، نہ غیرا نہیں دے سکے نہ ایک ہاشمی دوسرے ہاشمی کو۔ ذمّی کافر کو بھی زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔(درمختار وغیرہ عامۂ کتب)
جن لوگوں کو زکوٰۃ دینا ناجائز ہے انہیں اور بھی کوئی صدقۂ واجبہ مثلاً نذر، کفارہ اور صدقۂ فطر دینا جائز نہیں ، عیدالفطر کے موقع پر شہروں میں قرب وجوار کے ہند و صدقہ فطر وصول کرنے گلیوں گلیوں ، محلوں محلوں میں مانگتے پھرتے ہیں انہیں ہر گز صدقۂ فطرنہ دیا جائے اور کسی ناواقفی کے باعث دے دیا تو پھر دوبارہ ادا کیا جائے۔زکوٰۃ وغیرہ صدقات میں افضل یہ ہے کہ اوّلاً اپنے بھائی بہنوں کو دے پھر ان کی اولاد کو، پھر ماموں اور خالہ کو، پھر ان کی اولاد کی، پھر ذوی الارحام یعنی رشتہ والوں کو، پھر پڑوسیوں کو پھر اپنے شہر یا گاؤں کے رہنے والوں کو ۔ (عالمگیری) حدیث میںہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اے اُمّتِ محمد ! قسم ہے اس کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کے صدقہ کو قبول نہیں فرماتا جس کے رشتہ دار اس کے سلوک کرنے کے محتاج ہوں اور یہ غیروں کو دے ، قسم ہے کہ اس کی جس سے دستِ قدرت میں میری جان ہے، اللہ تعالیٰ اس کی طرف قیامت کے دن نظر نہ فرمائے گا‘‘۔ (ردالمحتار) بلکہ عزیزوں کو دینے میں دوگناثواب ہے۔دور حاضر میں حسب ضرورت لڑکی کے نکاح کی مدد کے لۓ دینا افضل ہے۔
رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :
لَيْسَ الْمِسْکِينُ الَّذِي يَطُوفُ عَلَی النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَلَکِنْ الْمِسْکِينُ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًی يُغْنِيهِ وَلَا يُفْطَنُ بِهِ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ وَلَا يَقُومُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ
مسکین وہ نہیں جو لوگوں کے پاس گھومتا رہے اور دو لقمہ یا ایک کھجور کی امید میں ادھر ادھر گھومتا پھرے بلکہ مسکین وہ شخص ہے جسے اتنی دولت نہ ملے کہ اسے بے پرواہ بنائے اور اس کا حال بھی کسی کو معلوم نہ ہو کہ اس کو خیرات دے اور نہ وہ اٹھ کر مانگتا پھرتا ہے(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1421 کتاب الزکوٰۃ۔و صحیح مسلم ۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب المسکین الذی لایجد غنی)
گویا فقیر اور مسکین میں فرق یہ ہے کہ فقیر وہ ہے جو لوگوں سے سوال کرتا پھرے اور مسکین وہ ہے جو احتیاج کے باوجود چھپا رہے اور سوال کرنے سے پرہیز کرے۔
جسے ہمارے ہاں سفید پوش کہا جاتا ہے۔اگر کوئ لڑکی یا اس کے والد غریب مستحق زکوٰة ہوں یعنی ان کے پاس سونا چاندی نقدی سامان تجارت اور حاجت اصلیہ سے زائد سامان اتنی مقدارمیں نہ ہوں کہ ان کی مالیت نصاب ساڑھ باون تولہ یا اس سے زیادہ چاندی کی قیمت کو پہنچ جائے تولڑکی یا اس کے والد کو زکوٰة کی رقم دینا جائز ہوگا۔لڑکی غریب ومستحق زکوة ہے، یعنی: صاحب نصاب اور سید نہیں ہے تو زکوة کے پیسوں سے اس کی شادی کا سامان خرید کر اسے دے سکتے ہیں، لیکن صاحب نصاب ہونے سے پہلے پہلے ، اور جب وہ صاحب نصاب ہوجائے گی تو اسے زکوة کے پیسوں سے مزید کوئی سامان خرید کر دینا درست نہ ہوگا۔ اور اگر اس کے لیے زکوة کے پیسوں سے سامان خرید کر رکھیں گے، ابھی اسے مالک نہیں بنائیں گے تو جب مالک بنائیں گے، اس وقت اس کے صاحب نصاب ہونے نہ ہونے کا اعتبار ہوگا اور زکوة کی ادائیگی بھی اسی وقت ہوگی۔ اگر اس کے ماں باپ غریب ومستحق زکوة ہوں تو انھیں زکوة دے سکتے ہیں ورنہ نہیں، قال اللہ تعالی: إنما الصدقات للفقراء والمساکین الآیة (سورہ توبہ آیت: 60) ، ولا إلی غني یملک قدر نصاب فارغ عن حاجتہ الأصلیة من أي مال کان الخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکاة، باب المصرف،3:295، 296، ط: مکتبة زکریا دیوبند)
لڑکی مستحقِ زکات ہے یعنی اس کی ملکیت میں اس کی ضرورتِ اصلیہ سے زائد نصاب (یعنی ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) کے برابر رقم نہیں ہے ، اور نہ ہی اس قدر ضرورت سے زائد سامان ہے کہ جس کی مالیت نصاب کے برابر بنتی ہے اور نہ ہی وہ سید ، ہاشمی ہے تو اس کے لیے زکاۃ لینا جائز ہے، اور اس کو زکات دینے سے زکات ادا ہوجائے گی، اگر اس کے پاس کچھ زیور اور ضرورت سے زائد کچھ نقدی ہو تو اگر دونوں کی قیمت ملاکر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر بنتی ہے تو اس کو زکات دینا جائز نہیں ہے، اگر اس سے کم قیمت بنتی ہے اس کو زکات دینا جائز ہوگا۔ نیز زکات کی ادائیگی صحیح ہونے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ مستحق کا مالک بناکر رقم یا چیز حوالہ کی جائے۔

لہذا لڑکی اگر مستحق زکات ہے تو اسے زکات کی رقم یا جہیز یا سونا وغیرہ مالک بناکر دے دیا جائے یا اگر اس کے والدین زکات کے مستحق ہیں تو انہیں زکات کی رقم مالک بناکر دے دے پھر وہ اپنی بیٹی کے شادی کے اخراجات پورے کرلیں۔شادی کے وہ اخراجات جن میں کسی مستحق کو مالک بنانا نہ پایا جائے، (مثلاً ہال وغیرہ کی بکنگ یا کھانے کے اخراجات کی ادائیگی) ان مدات میں از خود رقم صرف کرنے سے زکات ادا نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی صحیح ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ مستحق کو مالک بنا کر رقم یا چیز حوالہ کی جائے، لہذا اگر لڑکی مستحقِ زکوۃ ہے تو اسے زکوۃ کی رقم یا جہیز وغیرہ مالک بنا کر دے دیا جائے یا اگر اس کے والدین زکوۃ کے مستحق ہیں تو انہیں زکوۃ کی رقم مالک بنا کر دے دی جائے، پھر وہ اپنی بیٹی کی شادی کے اخراجات پورا کرلیں یا کسی اور مصرف میں خرچ کر لیں۔
شادی کے وہ اخراجات جن میں کسی مستحق کو مالک نہ بنایا جائے، (مثلاً: ہال وغیرہ کی بکنگ یا کھانے کے اخراجات کی ادائیگی) ان مدات میں از خود رقم صرف کرنے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی، بلکہ لڑکی یا اس کی طرف سے بنائے گے وکیل کو قبضہ دینا ضروری ہوگا۔کما فی الھندیۃ:

(الباب الأول في تفسيرها وصفتها وشرائطها)
أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله – تعالى – هذا في الشرع كذا في التبيين

(ج: 1، ص: 170، ط: دار الفکر)

وفی الشامیۃ:

ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر

(ج: 2، ص: 244، ط: دار الفکر)

وفی بدائع الصنائع:

وأما الذي يرجع إلى المؤدى إليه فأنواع: منها أن يكون فقيرا فلا يجوز صرف الزكاة إلى الغني إلا أن يكون عاملا عليها لقوله تعالى {إنما الصدقات للفقراء والمساكين والعاملين عليها والمؤلفة قلوبهم وفي الرقاب والغارمين وفي سبيل الله وابن السبيل} [التوبة: ٦٠] جعل الله تعالى الصدقات للأصناف المذكورين بحرف اللام وأنه للاختصاص فيقتضي اختصاصهم باستحقاقها

(ج: 2، ص: 43، ط: دار الکتب العلمیہ)
” فتاوی عالمگیری” میں ہے:

"لايجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصاباً أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضاً للتجارة أو لغير التجارة فاضلاً عن حاجته في جميع السنة، هكذا في الزاهدي، والشرط أن يكون فاضلاً عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان، كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحاً مكتسباً، كذا في الزاهدي. …….ولا يدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب، كذا في الهداية. ويجوز الدفع إلى من عداهم من بني هاشم كذرية أبي لهب؛ لأنهم لم يناصروا النبي صلى الله عليه وسلم، كذا في السراج الوهاج. هذا في الواجبات كالزكاة والنذر والعشر والكفارة، فأما التطوع فيجوز الصرف إليهم، كذا في الكافي”. (1/189، باب المصرف، کتاب الزکاة، ط: رشیدیه) فقط واللہ اعلم

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button