خانوادۂ رضاعقائد و نظریاتفقہ وفتاوی

امام احمد رضا قادری بریلوی اور ترک موالات کا درست مفہوم المحجۃالموتمنہ کی روشنی میں


اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام امن وامان، عدل وانصاف اور محبت و رواداری کا دین ہے. رنگ ونسل ذات برادری خواہ وہ عربی ہو یا عجمی سب کے ساتھ جائز اصولوں کے تحت معتدل تعلقات کے جواز کا قائل ہے. لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم اسلام کےدشمن کفار و مشرکین سے دوستی کر بیٹھیں.ان کو اپنا راز دار بنا لیں.اپنے دین وایمان اور آخرت کا سودا کرلیں.کفر و ارتداد کے نجس پیکر میں خود کو جھونک دیں اوراپنی خودی سے غافل ہو جائیں.
یہ ساری باتیں میں اس لیے بھی لکھ رہا ہوں کہ اس وقت کےروح فرسا حالات آپ پر مخفی نہیں.
آزاد خیال مسلمانوں نے کفر وایمان کی تمیز کھو دیا ہے اور ایک بڑا طبقہ کفارومشرکین سے دوستی کرنےاور ناجائز محبت کے آڑ میں کفر و ارتداد کی بھینٹ چڑھ رہا ہے.
مسلم لڑکے تو کم اب لڑکیاں زیادہ غیر مسلم لڑکوں سے( خواہ پہل جدھر سے بھی ہو )دوستی کے نام پرتعلقات قائم کررہی ہیں. ناجائز محبت کے نام پر خفیہ ملاقات، رسم و راہ، ہوٹل، پارک اوراسکول کالج تک صرف محدود نہیں بلکہ یہ ناجائز حرام محبت گھر کی فصیلوں کو پھاند کر چور دروازے سے گھس جاتی ہے.طرفہ یہ کہ والدین بروقت اس پر کوئی ایکشن بھی نہیں لیتے اور لیں بھی کیوں؟ آزاد فکر روشن خیال لبرل ہیں نا. اسلام تو برائے نام ہے .دعوی مسلمانی کااور دور دور تک اسلام سے کوئی علاقہ نہیں. انجام یہ ہوتاہے کہ عزت بھی گئی دین بھی گیا ایمان بھی گیا اور نوبت ایں جا رسید کہ جان بھی گئی.
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
ا ےکاش اگر ہمارا رشتہ قرآن اور حدیث سے مربوط ہوتا تو یہ ذلت جو باعث ذلت ہے اور سبب نار جحیم ہے ہم اس کے فریب میں ہر گز نہ آتے.
نہ کھلتے راز سر بستہ نہ رسوائیاں ہوتی
جو دوستی اورمحبت مسلمان عورتوں کے لیےمسلمان مردوں سے جائز نہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کفار و مشرکین، ﷲ عزوجل اوررسول ﷺ کے دشمنوں کے ساتھ جائز ہوجاے
الولاء والبراء یہ دو معروف اصطلاحیں ہیں
مطلب ﷲ عزوجل کے دوستوں سے دوستی اور اس کے دشمنوں سے دشمنی الحب للہ والبغض للہ یہ واجب ہے اس کے بغیر ایمان متصور نہیں
اور یہ بھی سچ ہے کہ اسلام غیر مسلموں سے پرامن تعلقات کے قیام وفروغ سے نہیں روکتا مسلمان ہونے کی حیثیت سے جہاں مسلمانوں کے حقوق کا خیال رکھنا ضروری ہے وہیں اپنے ملک شہر، گاوں،سماج اورپڑوس کے غیر مسلموں کے ساتھ بہتر سلوک اور ان کے حقوق کو یقینی بنانے پر زور دیتا ہے خاص کر ذمی مستامن اور معاہد جیسے ہندوستان کہ یہاں کے آئین میں یہ بات شامل ہے کہ یہاں ہندو مسلم سکھ عیسائی سمیت دیگر تمام قوموں کے درمیان ایک معاہدہ ہے کہ یہ ایک دوسرے کی جان و مال کو اذیت نہیں پہونچا سکتے قانوناً سب کو مساویانہ زندگی گذر بسر کرنے کا حق ہے اس معاہدہ کے تحت اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں حالاں کہ موجودہ صورت حال اس کے برعکس ہے یہاں کی دوسری بڑی اکثریت مسلمان آئے دن ظلم تعدی جبر و استحصال اور ماب لنچنگ اجتماعی گنڈہ گردی کا شکار ہورہی ہے.ملک عزیز کی زمین مسلمانوں پر تنگ کی جارہی ہے اور اب جیساکہ میں نے اوپر ذکر کیا نوجوان مسلم لڑکیوں کو یرغمال بناکر کفر و ارتداد کا گھناونا کھیل کھیلا جارہا ہے.
ایسے موقع سے وقت کے عظیم عالم ربانی مجدد اعظم امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان جنہوں نے ہر شعبہ حیات میں امت مسلمہ کی رہ نمائی کی ہے آج ضرورت ہے دین وایمان کی محافظت کے لیے ان کی کتابوں سے استفادہ کریں اور ان کی روح بخش قلمی شہ پاروں کی روشنی میں قرآن وحدیث کو سمجھیں یقین جانیں کہ معاشرہ میں انقلاب آےگا.صالحیت ضرورغالب آئے گی.
آئیے اعلیٰ حضرت قادری بریلوی کا رسالہ”المحجۃ الموتمنہ” کی روشنی میں موالات کفار و مشرکین سے دوستی اور معاملت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں
قارئین المحجۃ الموتمنہ دراصل دو استفتاکے جواب میں ایک تحقیقی فتویٰ اورعلمی گوہر نایاب ہے. آزادی سے قبل 1920میں گاندھی جی کے ایما پر ایک تحریک ترک موالات چلائی گئی تھی.اس تحریک کا مقصد یہ تھا کہ خاص انگریزوں سے ترک موالات میں سب ایک ہوجائیں اور قرآن میں جو ترک موالات کا حکم دیا گیا ہے اس سے کفار و مشرکین مستثنیٰ ہیں ہندو مسلم ایک قومی نظریہ کے فروغ واستحکام کے نام پر اپنی سیاست چمکائی جارہی تھی اور مسلمانوں کے وجود اور ان کے جسم وجان پر اپنی سیاسی عمارت قائم کرنے کی تگ ودو میں مذہبی لبادہ اوڑھ کر بعض مسلم دانشور بھی مجرمانہ کردار اداکررہے تھے اس وقت کا کیا تھا آپ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالی عنہ کی زبانی پڑھیں:
”ترکِ معاملت کو ترک موالات بناکر قرآن عظیم کی آیتیں کہ ترک موالات میں ہیں سوجھیں مگر فتوائے مسٹر گاندھی سے ان سب میں استثنائے مشرکین کی پچر لگالی کہ آیتیں اگرچہ عام ہیں مگر ہندووں کے بارے میں نہیں ہندو تو ہادیان اسلام ہیں آیتیں صرف نصاری کے بارے میں ہیں نہ کل نصاری فقط انگریز اور انگریز بھی کل تک اس کے مورد نہ تھے حالت حاضرہ سے ہوئے ؛
ایسی ترمیم شریعت و تغیر احکام وتبدیل اسلام کا نام خیر خواہی اسلام رکھا ہے ترک موالات کفار میں قرآن عظیم نے ایک دو دس بیس جگہ تاکید شدید پر اکتفا نہ فرمائی بلکہ بکثرت جابجا کان کھول کھول کر تعلیم حق سنائی اور اس پر بھی تنبیہ فرمادی کہ؛ قد بیّنا لکم الاٰیات لعلکم تعقلون (سورۃ آل عمران آیۃ ۱۷)
ہم نے تمہارے لیے آیتیں صاف کھول دی ہیں اگر تمہیں عقل ہو
مگر توبہ کہاں عقل اور کہاں کان یہ سب تو وداد ہنود پر قربان لاجرم ان سب سے ہندووں کا استثنا کرنے کے لیے بڑے بڑے آزاد لیڈروں نے قرآن عظیم میں تحریفیں کیں آیات میں پیوند جوڑے پیش خویش واحد قہار کو اصلاحیں دیں ان کی تفصیل گزارش ہوتو دفتر طویل نگارش ہو“
انہیں سارے مفاسد اور تخاریب کے سبب جوکہ ایمان کے لیے سم قاتل ہیں اما احمد رضانے اس تحریک کی مخالفت فرمائی. لیکن کوئی بدگمانی کا شکار نہ ہوں کہ آپ علیہ الرحمہ ترک موالات کے قائل نہ تھے یا پھر برٹش گورمنٹ کے حامی تھے نہیں ہرگز نہیں آپ ان کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کریں تو روز روشن کی طرح آپ پر یہ آشکارا ہو جا ےگا کہ وہ انگریز حکومت سے اس قدر متنفر تھے کہ لفافے پر ہمیشہ ٹکٹ الٹا لگاتے اور برملا فرماتے کہ میں نے جارج پنجم کا سر نیچے کردیا تحریک ترک موالات کے حامی موالات محمد علی اور مولانا شوکت علی یہ دونوں اعلیٰ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی تحریک میں شمولیت کی دعوت دی تو آپ نے صاف صاف فرمایا مولانا میری اور آپ کی سیاست میں فرق ہے کہ ہندو مسلم اتحاد کے حامی ہیں میں مخالف ہوں اس جواب سے علی برادران ناراض ہوئے تو آپ نے تالیف قلب کے لیے مکرر فرمایا مولانا میں ملکی آزادی کا مخالف نہیں ہندو مسلم اتحاد کا مخالف ہوں (اعلیٰ حضرت کی مذہبی سیاسی خدمات مطبوعہ عرفات شمارہ اپریل 1970 بحوالہ فاضل بریلوی اور ترک موالات)
آپ علیہ الرحمہ بھی ترک موالات کے قائل تھے لیکن کسی قوم کی استثنا کیے بغیر انگریز سے نفرت و عداوت کی آڑ میں دوسرے کفار و مشرکین سے ایسی محبت کے قائل نہ تھے کہ کفر و شرک حق وباطل صحیح وغلط اور حلال وحرام کے سارے امتیازات یکسر ختم ہو جائیں اور آنے والی نسلوں کو دوستی کے نام پر کفر و شرک ارتداد و انحراف اور دین بیزاری کی کھلی چھوٹ مل جائے. کفار ومشرکین کا استثنا اور اپنے من سے ارشاد ربانی کا رخ کسی خاص قوم کی جانب موڑ دینا اور کفار کی غلامی کا طوق اپنی گردنوں میں ڈال کر اسلامی شعار مساجد کی حرمت کو پامال کرنا اور پھر ان کے مذہبی شعار کو اپنانا یہ سارا کچھ اس زمانے میں ہورہا تھا اور آج بھی ہورہا ہےجو کہ نقلاً وعقلاً کسی بھی صورت میں درست نہیں یہ قرآن عظیم میں معنوی تحریف اور من گھڑت تاویلات ہیں.اسلام وکفر کے نظریات کبھی ایک نہیں ہوسکتے لوگوں نے ایک کرنے چکر میں کیا کیا فتنہ سامانیاں کیں!
ہندوستان کے دور اکبری میں بھی ہندو مسلم اتحاد کے نام پر کفر و ضلالت کی ایسی مذموم فضا ہموار ہوئی تھی اور کفر وایمان کا فرق مٹا جارہا تھا تو اس دور میں امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی قدس سرہ نے دو قومی نظریہ کا احیا فرماکر کفر و شرک کے گرد و غبار سے امت کو نکالا تھا
اور بعینہ یہی صورت جب چودہویں صدی ہجری میں ابھر کرآئی اور اچھے اچھے پڑھے لکھے لوگ اپنے دین وایمان کا سودا کرنے لگے تو ایسے موقع سے مجدد اعظم امام احمد رضا قادری بریلوی نے پھر سے دنیا کو دو قومی نظریہ کا سبق پڑھایا
اورقرآن حکیم کے روشن دلائل احادیث مبارکہ کے واضح شواہد ائمہ فقہا کےتابناک ارشادات کی روشنی میں "المحجۃ الموتمنہ” تحریر فرمایا اور ترک موالات ایک قومی نظریہ کے قائلین کو اپنے انجام تک پہنچایا اور امت مسلمہ کی رہ نمائی کرتے ہوئے مسلم اور غیر مسلم کے درمیان باہمی تعلقاتِ کو بحال رکھنے کا ایک درمیانی راستہ تحریر فرمایا.
تعلقات کی بنیادی دو قسم ہیں:
(۱) معاملات: معاملات کہتے ہیں جس کا تعلق امور دنیا سے ہو لیکن شرعی دائرہ میں ہو جیسے خرید و فروخت لین دین قرض ادھار نقد وغیرہ
(۲) موالات: موالات یہ ولاء ولی سے مشتق ہے اس کے معنی قربت ،محبت، دوستی اورقلبی وابستگی کے ہیں.
معاملات اور موالات کے احکام:
معاملت مجرد سوائے مرتدین ہر کافر سے جائز ہے جبکہ اس میں اعانت کفر و معصیت نہ ہو نہ اضرار اسلام وشریعت ہو ورنہ ایسی معاملت مسلم سے بھی حرام چہ جائیکہ کافر قال تعالیٰ عزوجل وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪ گناہ ظلم پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو (المحجۃ الموتمنہ)
خلاصہ یہ ہے: کہ مجرد معاملت ہر کافر سے جائز ہےخواہ وہ کسی دھرم کا پیروکار ہو اعانت کفر و معصیت پر مدد مطلب ان کے کفریہ شرکیہ افعال واعمال پر مدد نہ ہو اور معاملت میں اسلام کو ضرر نقصان نہ پہونچے ایسی معاملت جس میں گناہ اور ظلم پر مدد ہو یہ مسلمانوں سے بھی ناجائز ہے جیساکہ بہت سے مسلمان کفار کے تہوار اور مذہبی مراسم میں شریک ہوتے اور اور مبارک بادیاں پیش کرتے ہیں اور بہت سے مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کو شراب جوا چوری زنا رشوت سود بیاز اور ظلم و زیادتی پر ابھارتے ہیں یہ سب شرعا مذموم اور ناجائز ہیں.
موالات کا حکم:
موالات مطلقاً ہر کافراور ہر مشرک سے حرام ہے اگرچہ ذمی مطیع اسلام ہو اگرچہ اپنا باپ یا بیٹا یا بھائی یا قریب ہو.
لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْؕ
تو نہ پائے گا ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں ﷲ اور قیامت پر کہ دوستی کریں ﷲ ورسول کے مخالفوں سے اگرچہ وہ ان کے باپ بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں(سورہ مجادلہ، آیت:۲۲)
امام احمدرضا فرماتے ہیں تحقیق مقام یہ ہے کہ موالات کی دوقسمیں ہیں:
اول حقیقیہ: جس کا ادنیٰ رکن یعنی میلان قلب ہے پھر وداد پھر اتحاد پھر اپنی خواہش سے بے خوف واقع انقلاب پھر تبتل یہ بجمیع وجوہ ہر کافر سے مطلقاً ہر حال میں حرام ہے قال تعالیٰ وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ظالموں کی طرف میل نہ کرو کہ تمہیں آگ چھوئے (سورہ ھود آیت:۱۱۳)
مگر میل طبعی جیسے ماں باپ اولاد یازن حسینہ کی طرف کہ جس طرح بے اختیار ہو زیر حکم نہیں پھر بھی اس تصور سے کہ یہ ﷲ ورسول کے دشمن ہیں ان سے دوستی حرام ہے.
دوم موالات صوریہ: کہ دل اس کی طرف اصلا مائل نہ ہو مگر برتاو وہ کرے جو بظاہر محبت و میلان کا پتہ دیتا ہو یہ بحالت ضرورت و بمجبوری صرف بقدر ضرورت و مجبوری مطلقا جائز ہے قال تعالیٰ: اِلَّاۤ اَنۡ تَتَّقُوۡا مِنۡہُمۡ تُقٰىۃً
مگر یہ کہ تمہیں ان سے پورا واقعی خوف ہو (سورۃ آل عمران ۲۸)
امام اہلسنت اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے رقم طراز ہیں :بقدر ضرورت یہ کہ مثلاً صرف عدم اظہار عداوت میں کام نکلتا ہو تو اسی قدر پر اکتفا کرے اور اظہار محبت کی ضرورت ہوتو حتی الامکان پہلو دار بات کہے صریح کی اجازت نہیں اور بے اس کے نجات نہ ملے اور قلب ایمان پر مطمئن ہوتو اس کی بھی رخصت اور اب بھی ترک عزیمت
ایک دوسرے مقام پر آپ لکھتے ہیں
””حتی کہ صوریہ کو بھی شرع مطہر نے حقیقیہ کے حکم میں رکھا قال تعالیٰ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّۚ(سورہ ممتحنہ آیت: ۱)
اے ایمان والو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ تم تو ان کی طرف محبت کی نگاہ ڈالتے ہو اور وہ اس حق سے کفر کررہے ہیں جو تمہارے پاس آیا“
آگے فرماتے ہیں“یہ موالات قطعا حقیقیہ نہ تھی کہ نزول کریمہ در بارہ سیدنا حاطب بن بلتعہ احد اصحاب البدر رضی ﷲ تعالیٰ عنہم ہے کمال فی صحیح البخاری ومسلم.
تفسیر علامہ ابو السعود میں ہے:
فیہ زجر شدید للمومنین عن اظہار صورۃ الموالاۃ وان لم تکن موالاۃ فی الحقیقیہ
اس آیۃ کریمہ میں مسلمانوں کو سخت جھڑکی ہے اس بات سے کہ کافروں سے وہ بات کریں جو بظاہر محبت ہو اگر چہ حقیقت میں دوستی نہ ہو
مگر صوریہ ضروریہ خصوصا باکراہ قال تعالیٰ:
اِلَّاۤ اَنۡ تَتَّقُوۡا مِنۡہُمۡ تُقٰىۃً
مگر یہ کہ تمہیں ان سے پورا واقعی خوف ہو (سورۃ آل عمران ۲۸)
قال تعالیٰ: اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَىٕنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ (سورۃ نحل آیت:۱۰۶) مگر وہ جو مجبور کیا جائے اوراس کا دل ایمان پر مطمئن ہو“۔
المختصر تفصیل مطلوب ہو تو آپ المحجۃ الموتمنہ کا مطالعہ کریں! امام احمد رضا کی مومنانہ عارفانہ فراست فقہی بصیرت محدثانہ عظمت تفسیری مہارت صائب فکر ونظر طرز استدلال اور درجنوں کتب تفسیر حدیث وفقہ کے حوالے دیکھ کر آپ ایمانی حلاوت محسوس کریں گے اور اپنے اس محسن کو خراج عقیدت پیش کرنے پر مجبور ہوں گے اگر بروقت انہوں نے اس پر قلم نہ اٹھایا ہوتا تو آج من کل الوجوہ کفر وایمان کا ادغام ہوگیا ہوتا اس لیے بھی کہ ترک موالات کے نام پر انگریزوں سے دشمنی اور ھنود سےدوستی یہ دورخی ذہنیت کا انجام کیا ہوتا ہمارے اسلاف مجاہدین کی قربانیوں کے نتیجہ میں انگریز تو ملک چھوڑ کر بھاگ گیا لیکن ان کا دوست آج بھی اکثریت میں ہے اور آئین و دستور کی پرواہ کیے بغیر دوستی کے دم بھرنے والوں کا جینا دوبھر کررکھا ہے غلامانہ زندگی گذارنے پر مجبور کررہا ہے اور دوسری جانب ہماری نسل دوستی کے نام پرکفر و ارتداد کو گلے مل رہی ہیں. یہ سب ترک موالات کے غلط مفہوم اور قرآن میں معنوی تحریف کے اثرات ہیں ائے کاش اگر موالات کے حقیقی مفہوم سے قوم کو روشناس کرایا جاتا اور مجردمعاملت کی ترغیب دی جاتی تو آج حال یہ نہیں ہوتا جو ہم اور آپ دیکھ رہے ہیں
لیکن باوجود کفر و ارتداد ظلم و جبر اور ناجائزو حرام تعلقات کے طوفان بلا خیزی میں بھی جو کچھ اسلامی رمق باقی ہے تو
یہ سب امام احمد رضا فاضل بریلوی اور ان کے معاصر علمائے کی تحریر وتقریر اور قربانیوں کے مثبت اثرات ہیں. قارئین: یاد رکھیں کفار و مشرکین سے موالات یعنی دوستی کی کوئی صورت نہیں ان کو اپنا راز دار بنانا ان کے کفر پر راضی ہونا ان کے شعار کو اپنانا اس پر مبارک باد پیش کرنا ان کو اپنے آپ پر ترجیح دینا ان کی مشابہت اختیار کرنا لڑکیوں کا ان کے لڑکوں سے اور لڑکوں کا ان کی لڑکیوں سے محبت تعلق یہ سب بہر صورت ناجائز وحرام ہیں. بعض صورتوں میں مردوں کے لیے رخصت ہے لیکن عزیمت کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہر حال میں باطل کے سامنے استقامت فی الدین کا مظاہرہ کریں.
اور اپنے عقائد ونظریات پر ڈٹے رہیں
اور اس کے لیے انبیاء و رسل علیھم الصلوۃ والسلام صحابہ تابعین حسنین کریمین شہدائے کربلا رضوان ﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی اور پھر اعلیٰ حضرت امام احمدرضا فاضل بریلوی سمیت تمام صالحین بزرگان دین کی حیات کے تابندہ نقوش اور ان کی استقامت عزیمت ہمارے لیے بہتر مثال ہیں۔

ازقلم: صابر رضا محب القادری نعیمی
القلم فاونڈیشن، پٹنہ

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button