تحقیق و ترجمہخانوادۂ رضا

کلام اعلیٰ حضرت کی عمدہ تشریح بزبان اقدس حضور رئیس ملت دام ظلہ علینا

آج سے تقریباً پچیس سال قبل کی بات ہے جب اشرفی رضوی اختلاف زوروں پر تھا،
عرس نبیرگان غوث اعظم سرکار شاہ میراں حضرت پیر میراں سید علی وسید ولی رضی الله تعالٰی عنہما (کھمبات شریف گجرات انڈیا) میں شرکت فرمانے کیلئے ملک و بیرون ملک کے مختلف گوشوں سے علماء ومشائخ آ ئے ہوئے تھے عرس کے ایک دن قبل کا یہ واقعہ ہے کہ خانقاہ اشرفیہ میرانیہ میں کئی اہل علم جمع تھے نصف سے زائد رات گزر چکی تھی شیخ طریقت حضور رئیس ملت آرام فرما رہے تھے اسی وقت حضور مفتی اعظم ہند کے ایک مرید آگئے باقی موجود تمام حضرات اشرفی تھے چنانچہ ان لوگوں نے اعلی حضرت اس شعر

کاش محشر میں جب ان کی آمد ہو اور

بھیجیں سب ان کی شوکت پہ لاکھوں سلام

پر بحث شروع کر دی اس طور پر کہ جب بروز حشر سرکار دوعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی آمد حتمی ویقینی ہے
جیسا کہ برادر اعلی حضرت استاد زمن علامہ حسن رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ایک کلام میں بیان فرمایا ہے

فقط اتنا سبب ہے انعقادِ بزمِ محشر کا

کہ ان کی شان محبوبی دکھائی جانے والی ہے

تو اعلی حضرت نے کاش کیوں لگایا؟کیا آپ کو یقین نہیں تھا ؟

اور پھر آپ نے فرمایا بھیجیں سب ان کی شوکت پہ لاکھوں سلام

سب سے مراد کون ؟ کیا دیوبندی وہابی بھی شامل ہیں ؟

اسی طرح بحث جاری تھی اور بات بہت آگے بڑھ گئی قریب تھا کہ لوگ گستاخی کر بیٹھیں
اس وقت شیخ طریقت حضور رئیس ملت گہری نیند میں تھے
اچانک جھٹکے سے بیدار ہو گئے اور ارشاد فرمایا کہ آپ لوگ کس کے کلام پر بحث کر رہے ہیں کیا معلوم نہیں کہ ان کے کلام کا ہر شعر کلام الہی یا حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی ترجمانی کرتا ہے مجھ سے سنو اعلیٰ حضرت نے کاش کیوں لگایا
آپ نے کاش لگا کر بتا دیا کہ اللہ کے فرمان میں اب تبدیلی نہیں ہوسکتی ٫٫لا تبديل لكلمات الله،،
اور میدان محشر کی منظر کشی فرمائی ہے کہ جب میدان محشر میں اولین و آخرین سب جمع ہوں گے اس وقت خدائے قہار وجبار کے حکم سے سب کی زبانوں پر تالے ہوں گے چاہتے ہوئے بھی بول نہ سکیں گے اور اس وقت حکم الٰہی سے جسم کے باقی اعضاء واجزاء خودی کے خلاف گواہی دیں گے۔

جو رضوی صاحب تھے ان سے فرمایا کہ قاری صاحب آپ کیوں نہیں آیت کریمہ پڑھ کر جواب دے دیتے وہ کہنے لگے حضور مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ کون سی آیت کریمہ پڑھوں
تب حضور رئیس ملت نے فرمایا کہ میدان محشر میں جب لوگوں کی زبانوں پر تالے ہوں گے۔
اتنا اشارہ ملتے ہی قاری صاحب مچل گئے اور سورہ یاسین شریف کی آیت کریمہ پڑھنے لگے

اليوم نختم على أفواههم وتكلمنا أيديهم وتشهد أرجلهم بما كانوا يكسبون
ترجمہ:آج ہم ان کے مونہوں پر مہر کر دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پاؤں ان کے کیئے کی گواہی دیں گے۔

حضور رئیس ملت نے فرمایا کہ سنو یہ اعلی حضرت ہیں ان کی ہر ایک بات اعلی ہے اسی لئے ہر کسی کو آسانی سے سمجھ میں نہیں آتی ۔

سورہ یاسین شریف کی اس آیت کریمہ کو بغور پڑھئیے اور اعلی حضرت کا شعر دیکھیئے کہ کاش کیوں لگایا اور بھیجیں سب سے مراد کون ؟تو ان شاءاللہ آسانی سے سمجھ میں آجائیگا۔

میں آپ حضرات کو آسانی سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں

در اصل اعلیٰ حضرت کو معلوم تھا کہ میدان محشرمیں سب کی زبانوں پر تالے ہوں گے اور آپ کے پیش نظر یہ آیت کریمہ ,,الیوم نختم على أفواههم،، تھی اور آپ کو یہ بھی معلوم تھا کہ محشر میں زبانوں پر تالے ہوں گے یہ پروردگار عالم کا اٹل فیصلہ ہے اور اس کے فیصلے وحکم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی اسی بناپر اس شعر میں کاش لگایا اور رب کے حضور التجا کی
کہ اے پروردگار عالم یہ تیرا بندہ جانتا کہ محشرِ میں سب کی زبانوں پر تالے ہوں گے اے کاش ایسا ہو تا کہ یہ تیرا بندہ جو تیرے فضل سے تادم حیات تیرے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ ناز میں درود وسلام کا نذرانہ پیش کرتا رہا
اے رب کائنات کاش ایسا ہو تا کہ جب میدان محشرمیں تیرے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا جلوہ تاباں سامنے ہو تو میری زبان پر تالا نہ ہو اور میں اسوقت اپنی زبان سے درود وسلام پیش کرسکوں
اور دوسرے مصرعے میں آپ نے فرمایا کہ بھیجیں سب اس سے مراد کون تو اس کا جواب یہ ہے کہ سب سے مراد جسم کے تمام اعضاء جو بروز حشر خودی کے خلاف گواہی دیں گے اے کاش ایسا ہو تا کہ زبان کے ساتھ میرے جسم کے ہر عضو صلوة وسلام پیش کرسکیں

ازقلم: مھدی حسن نظامی علیمی میرانی
صدر المدرسین: جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button