عقائد و نظریات

یہودیت اور اس کے عقائد!

تحریر: ریاض فردوسی۔9968012976

اورجب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے پختہ عہدلیاجنہیں کتاب دی گئی کہ تم اس کتاب کو لوگوں کے سامنے ضروربیان کرتے رہوگے اورتم اس کو نہیں چھپاؤ گے توانہوں نے اس عہد کواپنی پشتوں کے پیچھے ڈال دیااوراس کے بدلے انہوں نے بہت تھوڑی قیمت لے لی، سو کتنابُراہے جس کووہ خرید رہے ہیں!(سورہ آل عمران۔آیت۔187)

انہیں یہ تو یاد رہ گیا کہ بعض پیغمبروں کو آگ میں جلنے والی قربانی بطور نشان کے دی گئی تھی ، مگر یہ یاد نہ رہا کہ اللہ نے اپنی کتاب ان کے سپرد کرتے وقت ان سے کیا عہد لیا تھا اور کس خدمت عظمٰی کی ذمہ داری ان پر ڈالی تھی ۔
یہاں جس عہد کا ذکر کیا گیا ہے اس کا ذکر جگہ جگہ بائیبل میں آتا ہے ۔ خصوصاً کتاب استثناء میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جو آخری تقریر نقل کی گئی ہے ، اس میں تو وہ بار بار بنی اسرائیل سے عہد لیتے ہیں کہ جو احکام میں نے تم کو پہنچائے ہیں ، انہیں اپنے دل پر نقش کرنا ، اپنی آئندہ نسلوں کو سکھانا ، گھر بیٹھے اور راہ چلتے اور لیٹتے اور اٹھتے ، ہر وقت ان کا چرچا کرنا،اپنے گھر کی چوکھٹوں پر اور اپنے پھاٹکوں پر ان کو لکھ دینا( 6 : 4 ۔ 9 )پھر اپنی آخری وصیت میں انھوں نے تاکید کی کہ فلسطین کی سرحد میں داخل ہونے کے بعد پہلا کام یہ کرنا کہ کوہ عیبال پر بڑے بڑے پتھر نصب کر کے توراة کے احکام ان پر کندہ کر دینا( 27 : 2 ۔ 4 ) نیز بنی لاوی کو توراة کا ایک نسخہ دے کر ہدایت فرمائی کہ ہر ساتویں برس عید خیام کے موقع پر قوم کے مردوں ، عورتوں ، بچوں سب کو جگہ جگہ جمع کر کے یہ پوری کتاب لفظ بلفظ ان کو سناتے رہنا ۔ لیکن اس پر بھی کتاب اللہ سے بنی اسرائیل کی غفلت رفتہ رفتہ یہاں تک بڑھی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سات سو برس بعد ہیکل سلیمانی کے سجادہ نشین ، اور یروشلم کے یہودی فرماں روا تک کو یہ معلوم نہ تھا کہ ان کے ہاں توراة نامی بھی کوئی کتاب موجود ہے( 2 ۔ سلاطین 22 ۔ 8 ۔ 13)
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو لایاگیا، جنہوں نے زنا کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہاری کتاب تورات میں اس کی سزا کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے علماء نے ( اس کی سزا) چہرہ کو سیاہ کرنا اور گدھے پر الٹا سوار کرنا تجویز کی ہوئی ہے۔ اس پر سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ! ان سے توریت منگوائیے۔ جب توریت لائی گئی تو ان میں سے ایک نے رجم والی آیت پر اپنا ہاتھ رکھ لیا اور اس سے آگے اور پیچھے کی آیتیں پڑھنے لگا۔سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ اپنا ہاتھ ہٹاؤ( اور جب اس نے اپنا ہاتھ ہٹایا تو) آیت رجم اس کے ہاتھ کے نیچے تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے متعلق حکم دیا اور انہیں رجم کردیاگیا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنھما نے بیان کیا کہ انہیں بلاط(مسجد نبوی کے قریب ایک جگہ) میں رجم کیاگیا۔ میں نے دیکھا کہ یہودی عورت کو مرد بچانے کے لیے اس پر جھک جھک پڑتا تھا(صحیح البخاری،حدیث نمبر،6819)
حضرت یعقوب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اسرائیل یعنی خدا کا پہلوان کا لقب دیا۔ آپ کے بارہ بیٹے پیدا ہوئے اور ان بارہ بیٹوں سے آگے نسل چلی اور 12قبیلے بنے۔ ان بارہ قبیلوں کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے۔کتاب اللہ میں جہاں جہاں حضرت یعقوب کی نسل کی طرف اشارہ مقصود ہے وہاں تو بنی اسرائیل کا لفظ استعمال کیا ہے اور جہاں ان لوگوں کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے،جو چھوٹے پیرو اور مکار ہیں، جو اپنے آپ کوسیدناموسیٰ کلیم اللہ کے پیرو کہتے تھے، اور کہتے ہیں وہاں یہودی یا ھود کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد ان کا لڑکا (رحبعام) ایک دنیا دارآدمی تھا اس کی تخت نشینی پر بنی اسرائیل کے سردار اس کے پاس ملنے آئے اور اس سے قانون میں بعض نرمیاں کرنے کی درخواست کی اس پر اس نے اپنے نوجوان دوستوں کے مشورہ سے انہیں سخت جواب دیا اور دھتکار کر دربار سے رخصت کر دیا۔ اس پر بنی اسرائیل کے بارہ قبائل میں سے دس کے سرداروں نے دربار سے باہر نکلتے ہی بغاوت کا فیصلہ کرلیا اور رحبعام بن سلیمان سے باغی ہوگئے اور رحبعام کے ماتحت صرف یہود کا علاقہ (جسے اب فلسطین کہتے ہیں) اور یہودہ اور بنیامین دو قبیلوں کے آدمی رہ گئے۔اس بغاوت کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسرائیلیوں کی دو حکومتیں ہوگئیں۔ ایک اس وجہ سے کہ حضرت داؤد یہودہ قبیلے میں سے تھے اور یہودی کے علاقے میں رہتے تھے یہودیہ کہلائی اس میں یہود اور بنیامین قبائل کے افراد شامل تھے اور دوسری اس وجہ سے کہ اسرائیل کے اکثر قبائل اس میں شامل تھے اسرائیل کی حکومت کہلائی۔
اس اختلاف کے بعد اسرائیل کی حکومت متواتر بت پرستی کی طرف راغب ہوتی گئی اور تورات کے علماء اسے چھوڑ کر یہودیوں کی طرف بھاگ آئے اور موسوی مذہب کا گڑھ یہودی حکومت بن گئی ۔۔۔ چنانچہ پہلے تو اسرائیل کی حکومت کے باشندوں اور یہودی حکومت کے باشندوں میں فرق کرنے کے لئے یہودیہ کے باشندوں کو یہودی کہا جانے لگا لیکن جوں جوں مذہبی اختلاف کی خلیج بڑھتی گئی یہودی کا لفظ مقام رہائش کو بتانے کی بجائے مذہب کو بتانے کے لئے استعمال ہونے لگا اور عزیر اور نحمیاہ دونبیوں کے ذریعے جب یہودیہ دوبارہ بسایا گیا اور مذہب موسوی کی بھاگ ڈور کلی طور پر یہودہ کے لوگوں کے ہاتھ میں آگئی تو یہودی کا لفظ نسلی امتیاز یا مقامی رہائش کے معنوں سے بالکل الگ ہوکر مذہب موسوی کے پیرو کے معنوں میں استعمال ہونے لگا۔

یہود: دین موسوی کے پیرو یعنی موسی علیہ السلام کی امت۔
شریعت کی اصطلاح میں یہودی وہ لوگ کہلاتے ہیں،جو حضرت موسی علی نبینا وعلیہ الصلاة والسلام پر ایمان رکھتے تھے اور ان پر جو کتاب نازل ہوئی،اس کے مطابق عمل کرتے تھے۔یہ مذہب محرف ومنسوخ ہوچکا ہے اور یہودی علما نے تورات میں بھی بے پناہ تحریفات کردی ہیں ، اب اس کی صحیح تفصیلات جاننا مشکل ہے؛ البتہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام آسمانی مذاہب بنیادی عقائد میں متفق ہوتے ہیں، جیسے: اللہ تعالی ربوبیت اور وحدانیت کا عقیدہ، رسالت کا عقیدہ اور بعث بعد الموت کا عقیدہ وغیرہ، قرآن کریم کی مختلف سورتوں اور آیات میں یہودیوں کے سلسلہ میں ضروری تفصیلات موجود ہے۔یہودی اپنے نسلی تفاخر اور اپنی قوم میں انبیاء اور سلاطین کی کثیر تعداد سے اتنے غرور و تکبر میں مبتلا ہوگئے کہ جہاں ایک وقت میں دنیا کی افضل ترین قوم شمار ہوتے تھے، غرور و تکبر کی وجہ سے خدا کی نظر سے اتنے زیادہ گرے کہ ان پر قرآن کریم کی زبان میں ”مغضوب“ لفظ کا اطلاق ہونے لگا حتی کہ ان میں رائج بدعات ولادینیت خدا فراموشی بلکہ الٰہی مخالفت قتل انبیاء کے ارتکاب وغیرہ اعمال قبیحہ ذلیلہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے کلام پاک میں سورہ اعراف آیت 167 میں ارشاد فرمایا!
اور جب آپ کے رب نے صاف اعلان کردیا کہ وہ اُن پرقیامت کے دن تک ضرور ایسے لوگ بھیجتا رہے گاجواُن کوبدترین عذاب چکھاتے رہیں گے،بلاشبہ آپ کا رب یقیناجلدسزادینے والاہے اوریقیناوہ بے حدبخشنے والا، نہایت رحم والاہے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا ہے کہ قیامت تک یہودیوں کے لئے ذلت اور غلامی مقدر کر دی گئی ہے۔ (تفسیر کبیر، الاعراف، تحت الآیۃ: 167، 5 / 393)

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،آپ کے رب عَزَّوَجَلَّنے یہودیوں کے آباء واَجداد کو ان کے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی زبان سے یہ خبر دی تھی کہ اللہ تعالیٰ قیامت تک یہودیوں پر ایسے افراد مُسلَّط کرتا رہے گا جو انہیں ذلت اور غلامی کا مزہ چکھاتے رہیں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر بخت نصر، سنجاریب، اور رومی عیسائی بادشاہوں کو مسلط فرمایا جو اپنے اپنے زمانوں میں یہودیوں کو سخت ایذائیں پہنچاتےرہے(خازن،الاعراف،تحت الآیۃ:167،2/ 152) پھر مسلمان سَلاطین ان پر مقرر ہوئے، پھر انگریزوں کی غلامی میں رہے،قریب کے دور میں جرمنی میں ہٹلر نے انہیں چن چن کر قتل کیا اور اپنے ملک سے نکال دیا۔ یہودیوں کی حرکتیں ہی ایسی ہیں کہ کوئی سلطنت انہیں اپنے ملک میں رکھنے پر آمادہ نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میں بھی کسی سلطنت نے اجتماعی طور پر انہیں اپنے ملک میں نہ رکھا بلکہ انہیں فلسطین میں آباد کیا اور یہیں سے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کی بڑی تباہی کا آغاز ہوگا۔

یہود کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ واقعی ہر تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ان پر کوئی نہ کوئی جابر مسلط ہوتا رہا ہے جس نے ان کو اپنا محکوم بناکر طرح طرح کی تکلیفیں پہچائیں، البتہ ظاہر ہے کہ ہزاروں سال کی تاریخ میں ایسے وقفے بھی آتے رہے جن میں وہ خوش حال رہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آگے خود یہ فرمایا ہے کہ ہم نے ان کو اچھے اور برے حالات سے آزمایا جس سے واضح ہے کہ ان پر خوش حالی کے دور بھی آتے رہے ہیں مگر مجموعی تاریخ کے مقابلے میں وہ کم ہیں۔

یہود کی وجہ تسمیہ کٸ وجہ بیان کی ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ:یہ لفظ ھود سے بنا ہے اور ھود کے معنی ہیں رہبری کرنا مخبری کرنا ،یہ بادشاہ وقت کو انبیائے کرام کی خبر دے کر انہیں قتل کراتے تھے اس لیے یہ لقب غضب ملا(بحوالہ تفسیر کبیر و روح البیان)
ان کے عقائد نہایت گندے ہو چکے تھے حق تعالی کو جسم مانتے تھے انبیاء کرام پر تہمت لگاتے تھے موسی علیہ السلام پر ہارون علیہ السلام کے قتل کی تہمت، حضرت مریم کو زنا کی تہمت، حضرت داؤد علیہ السلام کو اوریا کے قتل کی تہمت ،حضرت سلیمان علیہ السلام کو جادوگری کی تہمت لگائی انہوں نے تورات کو بدلا حضور علیہ السلام کی نعت کی آیتوں کو صاف بگاڑ دیا۔یہ یہودی نبی کو محض ایلچی مانتے تھے یعنی اس کی قدر رب کے نزدیک زیادہ نہیں فقط قاصد اور چٹھی رساں سی ہے(تفسیر نعیمی جلد اول صفحہ نمبر 408 بحوالہ تفسیر عزیزی)

یہودیوں کا عقائد!
یہودیت حالاں کہ شیما (Adonai Elahun Adonai Achud) آڈونائی ہمارا معبود ہے اور آدونائی ایک ہے۔) پر زور دیتی ہے لیکن یہودیت کے بعض طبقات حضرت عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں جیساکہ قرآن کریم کی سورہ توبہ کی آیت ”وقالت الیہود عزیر ابن اللّٰہ“ سے ثابت ہے۔ اور حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی کی تحقیق کے مطابق اسرائیل کے وجود1948/ سے پہلے فلسطین میں یہود کا ایک طبقہ حضرت عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا مانتا تھا،اس کی واضح دلیل یہ کہ یہودیت میں اہم ترین کتاب تورات ہے اور اس کے بعد تلمود کا مرتبہ ہے(بائبل مختلف تراجم اور خاص طور پر (Bible in the Making) کا مصنف G. M. Gregor سیکڑوں تحریفات کی نشاندہی کرتا ہے۔یہودیوں کاہر طبقہ تقریباً تلمود کی اتباع کرتاہے،اور اسی کے نظریات کومانتاہے۔یہودی مذہب حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر عہد نامہ قدیم کے سب سے آخری نبی ملیکی علیہ السلام تک ہی سب نبیوں پر ایمان لانے کے لیے اصرار کرتا ہے لیکن حضرت زکریا، یحییٰ، عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے لیے بالکل مصر نہیں بلکہ ایک یہودی کے لیے ان جلیل القدر انبیاء پر ایمان لانا بالکل ضروری نہیں(عہد نامہ قدیم)
یہودیوں کے عقیدے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا فرمایا اور ساتویں دن آرام کیا اور یہی سبت (آرام) آج بھی یہود کا ہر ہفتہ کا سب سے اہم تیوہار ہے(کتاب تخلیق: باب:20)
یہودیت نے تقریباً ہر ایک نبی کو داغدار بنادیا ہے۔ (کتاب تخلیق حضرت آدم، ابراہیم، یعقوب کے واقعات – کتاب سلاطین: اول دوم حضرت داؤد، حضرت سلیمان وغیرہ کے واقعات،یہودیت حضرت لوط علیہ السلام کو نعوذ باللہ ایک زانی کے بطور پیش کرتا ہے،کتاب تخلیق باب : 14-19،یہودیت اسحاق علیہ السلام کو تو بنی اسرائیل کا جد امجد سمجھتی ہے اور نہایت ہی عزت و تکریم بخشتی ہے لیکن حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بہت ہی برے اور بھدے الفاظ سے یاد کرتی ہے جیسا کہ توریت کی کتاب تخلیق سے ثابت ہے کہ اس کا ہاتھ ہر ایک شخص کے خلاف اور ہر ایک شخص کا ہاتھ اس کے خلاف یعنی گویا نعوذ باللہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو عداوت کا ایک نمونہ بناکر پیش کردیا ہے،حتی لونڈی زادہ تک کہا،معاذ اللہ(کتاب تخلیق,یہودیت حضرت اسحق علیہ السلام کو ذبیح اللہ مانتی ہے۔کتاب تخلیق، باب:22،یہودیت حضرت اسحق علیہ السلام کو اکلوتا بیٹا مانتی ہے۔حضرت داؤد اور سلیمان علیہما السلام کو یہودیت صرف سلاطین مانتی ہے اور انبیاء و رسل کی فہرست سے خارج کرتی ہے۔کتاب سلاطین اول، دوم،حضرت سلیمان علیہ السلام کو ہدایت کا نمونہ نہیں مانتی ان کو صرف ایک بادشاہ تسلیم کرتی ہے، گناہوں سے پاک بھی نہیں مانتی،کفر و سحر اور بت پرستی کا الزام آپ پر لگاتی ہے(سلاطین دوم،
یہودیوں کو اللہ نے من و سلویٰ دیا پھر بھی شکر گزاری کے دروازے میں داخل نہ ہوئے اور کفرانِ نعمت کرنے لگے ۔لہذا حضرت موسی علیہ السلام سے کہتے تھے:اے موسی! ہم ہرگز اس کے لئے تیار نہیں کہ ایک ہی قسم کی غذا پر اکتفا کریں اپنے خدا سے دعا کرو کہ ہمارت لئے زمین سے اگنے والی سبزیوں میں سے جیسے ککڑی، لہسن، مسور اور پیاز اگائے ۔موسی علیہ السلام نے ان سے کہا: کیا بہتر غذا کے بدلے پست کا انتخاب کرتے ہو (اب اگر ایسا ہی ہے تو کوشش کرو او راس بیابان سے نکل ) کسی شہر میں داخل ہو جاؤ کیونکہ جو کچھ تم چاہتے ہو وہ تو وہیں میسر ہو سکتا ہے،سورہ البقرہ۔آیت۔57۔58)
سورۂ مائدہ میں ہے کہ، بنی اسرائیل نے جہاد کے حکم کی نافرمانی کی،جس کی پاداش میں انہیں صحرائے سینا میں مقید کردیا گیا۔
یعنی جزیرہ نمائے سینا میں جہاں دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ تمہیں میسّر نہ تھی ، ہم نے ابر سے تمہارے بچاؤ کا انتظام کیا ۔ اس موقع پر خیال رہے کہ بنی اسرائیل لاکھوں کی تعداد میں مصر سے نکل کر آئے تھے اور سینا کے علاقے میں مکانات کا تو کیا ذکر ، سر چھپانے کے لیے ان کے پاس خیمے تک نہ تھے ۔ اس زمانے میں اگر خدا کی طرف سے ایک مدّت تک آسمان کو اَبر آلود نہ رکھا جاتا ، تو یہ قوم دھوپ سے ہلاک ہو جاتی۔”مَنّ و سَلْویٰ” وہ قدرتی غذائیں تھیں ، جو اس مہاجرت کے زمانے میں ان لوگوں کو چالیس برس تک مسلسل ملتی رہیں ۔ «مَنّ» دھنیے کے بیج جیسی ایک چیز تھی ، جو اوس کی طرح گرتی اور زمین پر جم جاتی تھی ۔ اور «سَلْویٰ» بٹیر کی قسم کے پرندے تھے ۔ خدا کے فضل سے ان کی اتنی کثرت تھی کہ ایک پوری کی پوری قوم محض انہی غذاؤں پر زندگی بسر کرتی رہی اور اسے فاقہ کشی کی مصیبت نہ اٹھانی پڑی ، حالانکہ آج کسی نہایت متمدّن ملک میں بھی اگر چند لاکھ مہاجر یکایک آ پڑیں ، تو ان کی خوراک کا انتظام مشکل ہو جاتا ہے ۔ ("مَنّ”اور "سَلْویٰ” کی تفصیلی کیفیّت کے لیے ملاحظہ ہو :بائیبل ، کتاب خروج ، باب 16‌۔ گنتی ، «باب 11 ، آیت 9-7 و 32-31 و یشوع ، باب 5- آیت 12،ان تمام نعمتوں کے باوجود یہودیوں نے ہر بار صرف کفران نعمت ہی کیاہے۔
یہودیت اصلاً نسلی مذہب ہے بنی اسرائیل کے علاوہ عامة کسی اور شخص کا یہودی بننا یا ہونا مشکل ہے۔ تاریخ میں مشکل سے ایک دو واقعات ملتے ہیں۔ مثلاً یمن میں ذونواز یہودی بادشاہ کے زمانے میں کچھ لوگ یہودی بنے(M.J)
یہودیت میں میت کو یروشلم (بیت المقدس) کے رخ پر لٹایا جاتا ہے۔
یہودیت میں صرف تین وقت کی نماز فجر، ظہر، مغرب واجب ہے۔نماز میں یروشلم (ہیکل سلیمانی) کی طرف رخ کرنا لازمی ہے(کتاب دانیال)
نماز کی جماعت میں کم سے کم 11 آدمی لازم ہیں(M.J.)
یہودی موت کا نام سن کر یہ کہتا ہے: قاضی صادق بابرکت ہو "Blessed be the true juged” یہودی موت کے نام سے ہی گھبراتا ہے حتی کہ جب موت آتی ہے تو مرنے والے کو اس کا نام بدل کر پکارنا شروع کردیتے ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ دنیا ہی کو اصل سمجھتے ہیں اور ہزاروں سال جینا چاہتے ہیں(M.J.54,56)
(جیسا کہ البقرہ آیت:96 میں ہے، اورآپ انہیں لوگوں میں سب سے زیادہ زندگی پر حریص پاؤگے اوران لوگوں سے بھی جنہوں نے شرک کیا۔ان کاہرایک یہ چاہتا ہے کہ کاش اسے ہزاربرس کی عمردے دی جائے حالانکہ وہ اُسے عذاب سے بچانے والی نہیں یہ کہ اسے لمبی عمردی جائے اوراللہ تعالیٰ خوب دیکھنے والاہے جو وہ عمل کرتے ہیں)
اصل میں "عَلیٰ حَیٰوۃٍ” کا لفظ ارشاد ہوا ہے ، جس کے معنی ہیں کسی نہ کسی طرح کی زندگی ۔ یعنی انہیں محض زندگی کی حرص ہے ، خواہ وہ کسی طرح کی زندگی ہو ، عزّت اور شرافت کی ہو یا ذلّت اور کمینہ پن کی ہو۔

آخر میں!
یہ تنبیہات بنی اسرائیل کو تقریباً آٹھویں صدی قبل مسیح سے مسلسل کی جا رہی تھی ۔ چنانچہ یہودیوں کے مجموعہ کتب مقدسہ میں یسعیاہ اور یرمیاہ اور ان کے بعد آنے والے انبیاء کی تمام کتابیں اسی تنبیہ پر مشتمل ہیں ۔ پھر یہی تنبیہ مسیح علیہ السلام نے انہیں کی ، جیسا کہ اناجیل میں ان کی متعدد تقریروں سے ظاہر ہے ۔ آخر میں قرآن نے اس کی توثیق کی ۔ اب یہ بات قرآن اور اس سے پہلے صحیفوں کی صداقت پر ایک بین شہادت ہے کہ اس وقت سے لے کر آج تک تاریخ میں کوئی دور ایسا نہیں گزرا ہے جس میں یہودی قوم دنیا میں کہیں نہ کہیں روندی اور پامال نہ کی جاتی رہی ہو۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button