عقائد و نظریات

اہل کتاب ان کے نقض عہد اور نتائج!

تحریر: ریاض فردوسی ۔9968012976

ایک سوال؟
اللہ کا دھتکارا ہوا یہودی آج اللہ کے نام لیواؤں کو دھتکار رہا ہے۔۔کیوں ؟ اسے یہ قوت کس نے دی ؟

جب نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے اس وقت اہل کتاب یثرب میں موجود تھے، وہ جزیرہ نما عرب میں دوسرے مقامات میں بھی موجود تھے، وہ لوگ جزیرہ نما عرب کے گرد و نواح میں بھی موجود تھے، یہ لوگ خیبر، فدک، وادی القریٰ، تیمہ میں آباد تھے، بنو قینقاع یثرب میں آباد تھے ، بنو نضیر اور بنو قریضہ یثرب کے باہر آباد تھے۔
یہ لوگ یعنی یہود رسالت مآب ﷺ کی دعوت اور انذار کے مخاطبین ہیں،اب یہ لوگ اگر ایمان قبول نہیں کرتے تو اس کے دو نتیجے نکلے گیں ایک یا تو یہ منکرین ہونگیں اور یا تو منکرین سے بڑھکر معاندین ہونگیں،جب رسالت مآب ﷺ یہاں تشریف لائے تو آپ نے اہل کتاب کے ساتھ ایک معاہدہ کیا اور یہ معاہدہ سیرت ابن ہشام جلد دوم میں موجود ہے:
"یہ کہ یہودی اپنا خرچ اٹھائیں گے اور مسلمان اپنا خرچ،اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکاء حملہ آور کے مقابلہ میں ایک دوسرے کی مدد کے پابند ہوں گے،اور یہ کہ وہ خلوص کے ساتھ ایک دوسرے کی خیر خواہی کریں گے اور ان کے درمیان نیکی و حق رسانی کا تعلق ہوگا نہ کہ گناہ اور زیادتی کا،اور یہ کہ کوئی اپنے حلیف کے ساتھ زیادتی نہیں کرے گا،اور یہ کہ مظلوم کی حمایت کی جائے گی،اور یہ کہ جب تک جنگ رہے یہودی مسلمانوں کے ساتھ مل کر اس کے مصارف اٹھائیں گے، اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکاء پر یثرب میں کسی نوعیت کا فتنہ و فساد کرنا حرام ہے،اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکاء کے درمیان اگر کوئی ایسا قضیہ یا اختلاف رونما ہو جس سے فساد کا خطرہ ہو تو اس کا فیصلہ اللہ کے قانون کے مطابق محمد رسول اللہ کریں گے،اور یہ کہ قریش اور اس کے حامیوں کو پناہ نہیں دی جائے گی اور یہ کہ یثرب پر جو بھی حملہ آور ہو اس کے مقابلے میں شرکاء معاہدہ ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔
ہر فریق اپنی جانب کے علاقے کی مدافعت کا ذمہ دار ہوگا(ابن ہشام،ج2،ص۔147 تا 150)

یہ ایک قطعی اور واضح معاہدہ تھا،جس کی شرائط یہودیوں نے خود قبول کی تھیں،لیکن بہت جلدی انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف معاندانہ روش کا اظہار شروع کردیا اور ان کا عناد روز بروز سخت سے سخت تر ہوتا چلا گیا۔سورہ الحشر کے شان نزول اور تعارف میں تقریباً تمام مفسرین اور محدثین نے اس بات کو درج کیا ہے۔
” ان وجوہ سے انہوں نے حضور کی مخالفت کو اپنا قومی نصب العین بنا لیا۔آپ کو زک دینے کے لیے کوئی چال،کوئی تدبیر اور کوئی ہتھکنڈا استعمال کرنے میں ان کو ذرہ برابر تامل نہ تھا۔ وہ آپ کے خلاف طرح طرح کی جھوٹی باتیں پھیلاتے تھے تاکہ لوگ آپ سے بد گمان ہوجائیں۔ اسلام قبول کرنے والوں کے دلوں میں ہر قسم کے شکوک و شبہات اور وسوسے ڈالتے تھے تاکہ وہ اس دین سے بر گشتہ ہوجائیں۔ خود جھوٹ موٹ کا اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہوجاتے تھے تاکہ لوگوں میں اسلام اور رسول ﷺ کے خلاف زیادہ سے زیادہ غلط فہمیاں پھیلائی جاسکیں۔ فتنے بر پا کرنے کے لیے منافقین سے ساز باز کرتے تھے۔ہر اس شخص اور گروہ اور قبیلے سے رابطہ پیدا کرتے تھے،جو اسلام کا دشمن ہوتا تھا۔مسلمانوں کے اندر پھوٹ ڈالنے اور ان کو آپس میں لڑا دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے تھے۔اوس اور خزرج کے لوگ خاص طور پر ان کے ہدف تھے،جن سے ان کےمدت ہائے دراز کے تعلقات چلے آرہے تھے۔جنگ بعاث کے تذکرے چھیڑ چھیڑ کر وہ ان کو پرانی دشمنیاں یاد دلانے کی کوشش کرتے تھے تاکہ ان کے درمیان پھر ایک دفعہ تلوار چل جائے اور اخوت کا وہ رشتہ تار تار ہوجائے جس میں اسلام نے ان کو باندھ دیا تھا۔
مسلمانوں کو مالی حیثیت سے تنگ کرنے کے لیے بھی وہ ہر قسم کی دھاندلیاں کرتے تھے۔ جن لوگوں سے ان کا پہلے سے لین دین تھا،ان میں سے جونہی کوئی شخص اسلام قبول کرتا وہ اس کو نقصان پہنچانے کے درپے ہوجاتے تھے۔اگر اس سے کچھ لینا ہوتا تو تقاضے کر کر کے اس کے ناک میں دم کردیتے، اور اگر اسے کچھ دینا ہوتا تو اس کی رقم مار کھاتے تھے اور علانیہ کہتے تھے کہ جب ہم نے تم سے معاملہ کیا تھا اس وقت تمہارا دین کچھ اور تھا،اب چونکہ تم نے اپنا دین بدل دیا ہے،اس لیے ہم پر تمہارا کوئی حق باقی نہیں ہے۔
معاہدے کے خلاف یہ کھلی کھلی معاندانہ روش تو جنگ بدر سے پہلے ہی وہ اختیار کرچکے تھے۔مگر جب بدر میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو قریش پر فتح مبین حاصل ہوئی تو وہ تلملا اٹھے اور ان کے بغض کی آگ اور زیادہ بھڑک اٹھی۔
اس جنگ سے وہ یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ قریش کی طاقت سے ٹکرا کر مسلمانوں کا خاتمہ ہوجائے گا۔اسی لیے انہوں نے فتح اسلام کی خبر پہنچنے سے پہلے مدینے میں یہ افواہیں اڑانی شروع کردی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ شہید ہوگئے،اور مسلمانوں کو شکست فاش ہوئی،اور اب ابوجہل کی قیادت میں قریش کا لشکر مدینے کی طرف بڑھا چلا آ رہا ہے،لیکن جب نتیجہ ان کی امیدوں اور تمناؤں کے خلاف نکلا تو وہ غم اور غصے کے مارے پھٹ پڑے۔
بنی نضیر کا سردار کعب بن اشرف چیخ اٹھا کہ "خدا کی قسم اگر محمد نے ان اشراف عرب کو قتل کردیا ہے تو زمین کا پیٹ ہمارے لیے اس کی پیٹھ سے زیادہ بہتر ہے”۔پھر وہ مکہ پہنچا اور بدر میں جو سرداران قریش مارے گئے تھے ان کے نہایت اشتعال انگیز مرثیے کہہ کر مکہ والوں کو انتقام پر اکسایا۔پھر مدینہ واپس آ کر اس نے اپنے دل کی جلن نکالنے کے لیے ایسی غزلیں کہنی شروع کیں جن میں مسلمان شرفاء کے ساتھ عشق کیا گیا تھا۔آخر کار اس کی شرارتوں سے تنگ آ کر رسول اللہ ﷺ نے ربیع الاول 3 ھ میں محمد بن مسلمہ انصاری کو بھیج کر اسے قتل کرا دیا(ابن سعد،ابن ہشام،تاریخ طبری)

بنی قینقاع کا مدینہ سے اخراج!

یہودیوں کا پہلا قبیلہ جس نے اجتماعی طور پر جنگ بدر کے بعد کھلم کھلا اپنا معاہدہ توڑ دیا،بنی قینقاع تھا،یہ لوگ خود شہر مدینہ کے اندر ایک محلہ میں آباد تھے اور چونکہ یہ سنار، لوہار اور ظروف ساز تھے،اس لیے ان کے بازار میں اہل مدینہ کثرت سے جانا آنا پڑتا تھاخاص طور پر عورتوں کو۔ان کو اپنی شجاعت پر بڑا ناز تھا۔آہن گر ہونے کی وجہ سے ان کا بچہ بچہ مسلح تھا۔سات سو مردان جنگی ان کے اندر موجود تھے،اور ان کو اس بات کا بھی زعم تھا کہ قبیلہ خزرج سے ان کے پرانے حلیفانہ تعلقات تھے اور خزرج کا سردار عبداللہ بن ابی ان کا پشتی بان تھا۔بدر کے واقعہ سے یہ اس قدر مشتعل ہوئے کہ انہوں نے اپنے بازار میں آنے جانے والے مسلمانوں کو ستانا،اور خاص طور پر ان کی عورتوں کو چھیڑنا شروع کردیا۔رفتہ رفتہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک روز ان کے بازار میں ایک مسلمان عورت کو بر سر عام برہنہ کردیا گیا۔اس پر سخت جھگڑا ہوا اور ہنگامے میں ایک مسلمان اور ایک یہودی قتل ہوگیا۔جب حالات اس حد کو پہنچ گئے تو رسول اللہ ﷺ ان کے محلہ میں تشریف لے گئے اور ان کو جمع کر کے آپ نے ان کو راہ راست پر آنے کی تلقین فرمائی،مگر انہوں نے جواب دیا ” اے محمد، تم نے شاید ہمیں بھی قریش سمجھا ہے ؟ وہ لڑنا نہیں جانتے تھے، اس لیے تم نے انہیں مار لیا۔ہم سے سابقہ پیش آئے گا تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ مرد کیسے ہوتے ہیں۔ ” یہ گویا صاف صاف اعلان جنگ تھا۔آخر کار رسول اللہ ﷺ نے شوال(اور بروایت بعض ذی القعدہ) 2 ھ کے آخر میں ان کے محلہ کا محاصرہ کرلیا۔صرف پندرہ روز ہی یہ محاصرہ رہا تھا کہ انہوں نے ہتھیار ڈال دیے اور ان کے تمام قابل جنگ آدمی باندھ لیے گئے۔ اب عبداللہ بن ابی ان کی حمایت کے لیے اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے سخت اصرار کیا کہ آپ انہیں معاف کردیں۔ مچناچہ حضور نے اس کی درخواست قبول کر کے یہ فیصلہ فرما دیا کہ بنی قینقاع اپنا سب مال، اسلحہ اور آلات صنعت چھوڑ کر مدینہ سے نکل جائیں(ابن سعد، ابن ہشام،تاریخ طبری)

بنی نضیر کا مدینہ سے اخراج!

ان دو سخت اقدامات(یعنی بنی قینقاع کے اخراج اور کعب بن اشرف کے قتل) سے کچھ مدت تک یہودی اتنے خوف زدہ رہے کہ انہیں کوئی مزید شرارت کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔مگر اس کے بعد شوال 3 ھ میں قریش کے لوگ جنگ بدر کا بدلہ لینے کے لیے بڑی تیاریوں کے ساتھ مدینہ پر چڑھ کر آئے،اور ان یہودیوں نے دیکھا کہ قریش کی تین ہزار فوج کے مقابلہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صرف ایک ہزار آدمی لڑنے کے لیے نکلے ہیں،اور ان میں سے بھی تین سو منافقین الگ ہو کر پلٹ آئے ہیں، تو انہوں نے معاہدے کی پہلی اور صریح خلاف ورزی اس طرح کی کہ مدینہ کی مدافعت میں آپ کے ساتھ شریک نہ ہوئے، حالانکہ وہ اس کے پابند تھے۔ پھر جب معرکہ احد میں مسلمانوں کو نقصان عظیم پہنچا تو ان کی جرأتیں اور بڑھ گئیں،یہاں تک کہ بنی نضیر نے رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کے لیے باقاعدہ ایک سازش کی جو عین وقت پر ناکام ہوگئی اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ بئر معونہ کے سانحہ(صفر 4 ھ) کے بعد عمرو بن امیہ ضمری نے انتقامی کارروائی کے طور پر غلطی سے بنی عامر کے دو آدمیوں کو قتل کردیا جو دراصل ایک معاہلہ قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے مگر عمرو نے ان کو دشمن قبیلہ کے آدمی سمجھ لیا تھا۔ اس غلطی کی وجہ سے ان کا خون بہا مسلمانوں پر واجب آگیا تھا،اور چونکہ بنی عامر کے ساتھ معاہدے میں بنی نضیر بھی شریک تھے،اس لیے رسول اللہ ﷺ چند صحابہ کے ساتھ خود ان کی بستی میں تشریف لے گئے تاکہ خون بہا کی ادائیگی میں ان کو بھی شرکت کی دعوت دیں۔وہاں انہوں نے آپ کو چکنی چپڑی باتوں میں لگایا اور اندر ہی اندر یہ سازش کی کہ ایک شخص اس مکان کی چھت پر سے آپ ﷺ کے اوپر ایک بھاری پتھر گرا دے جس کی دیوار کے سائے میں آپ تشریف فرما تھے۔مگر قبل اس کے کہ وہ اپنی اس تدبیر پر عمل کرتے،اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو بر وقت خبردار کردیا،اور آپ ﷺ فوراً وہاں سے اٹھ کر مدینہ واپس تشریف لے آئے۔
اب ان کے ساتھ کسی رعایت کا سوال باقی نہ رہا۔حضور ﷺ نے ان کو بلا تاخیر یہ الٹی میٹم بھیج دیا کہ تم نے جو غداری کرنی چاہی تھی وہ میرے علم میں آگئی ہے۔لہٰذا دس دن کے اندر مدینہ سے نکل جاؤ،اس کے بعد اگر تم یہاں ٹھہرے رہے تو جو شخص بھی تمہاری بستی میں پایا جائے گا۔اس کی گردن مار دی جائے گی۔دوسری طرف عبداللہ بن ابی نے ان کو پیغام بھیجا کہ میں دو ہزار آدمیوں سے تمہاری مدد کروں گا،
بنی قریظہ اور بنی غطفان بھی تمہاری مدد کو آئیں گے،تم ڈٹ جاؤ اور ہرگز اپنی جگہ نہ چھوڑو۔
اس جھوٹے بھروسے پر انہوں نے حضور کے الٹی میٹم کا یہ جواب دیا کہ ہم یہاں سے نہیں نکلیں گے،آپ سے جو کچھ ہو سکے کر لیجیے۔اس پر ربیع الاول 4 ھ میں رسول اللہ ﷺ نے ان کا محاصرہ کرلیا،اور صرف چند روز کے محاصرہ کے بعد(جس کی مدت بعض روایات میں چھ دن اور بعض میں پندرہ دن آئی ہے) وہ اس شرط پر مدینہ چھوڑ دینے کے لیے راضی ہوگئے کہ اسلحہ کے سوا جو کچھ بھی وہ اپنے اونٹوں پر لاد کرلے جاسکیں گے لے جائیں گے۔ اس طرح یہودیوں کے اس دوسرے شریر قبیلے سے مدینہ کی سر زمین خالی کرالی گئی۔ ان میں سے صرف دو آدمی مسلمان ہو کر یہاں ٹھہر گئے۔ باقی شام اور خیبر کی طرف نکل گئے۔

بنی قریظہ کے ساتھ معاملہ!

سورہ سورہ احزاب کے تعارف میں مفسرین لکھتے ہیں!
"خندق سے پلٹ کر جب حضور ﷺ گھر پہنچے تو ظہر کے وقت جبرئیل علیہ السلام نے آ کر حکم سنایا کہ ابھی ہتھیار نہ کھولے جائیں،بنی قریظہ کا معاملہ باقی ہے،ان سے بھی اسی وقت نمٹ لینا چاہئے۔یہ حکم پاتے ہی حضور ﷺ نے فوراً اعلان فرمایا کہ "جو کوئی سمع وطاعت پر قائم ہو وہ عصر کی نماز اس وقت تک نہ پڑھے جب تک دیار بنی قریظہ پر نہ پہنچ جائے”
اس اعلان کے ساتھ ہی آپ ﷺ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو ایک دستے کے ساتھ مقدمۃ الجیش کے طور پر بنی قریظہ کی طرف روانہ کردیا۔وہ جب وہاں پہنچے تو یہودیوں نے کوٹھوں پر چڑھ کر نبی ﷺ اور مسلمانوں پر گالیوں کی بوچھاڑ کردی،لیکن یہ بدزبانی ان کو اس جرم عظیم کے خمیازے سے کیسے بچا سکتی تھی کہ انہوں نے عین لڑائی کے وقت معاہدہ توڑ ڈالا اور حملہ آوروں سے مل کر مدینے کی پوری آبادی کو ہلاکت کے خطرے میں مبتلا کردیا۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دستے کو دیکھ کر وہ سمجھے تھے کہ یہ محض دھمکانے آئے ہیں،لیکن جب حضور ﷺ کی قیادت میں پورا اسلامی لشکر وہاں پہنچ گیا اور ان کی بستی کا محاصرہ کرلیا گیا تو ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔محاصرہ کی شدت کو وہ دو تین ہفتوں سے زیادہ برداشت نہ کرسکے اور آخر کار انہوں نے اس شرط پر اپنے آپ کو نبی ﷺ کے حوالے کردیا کہ وہ قبیلہ اوس کے سردار حضرت سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ان کے حق میں جو فیصلہ بھی کردیں گے اسے فریقین مان لیں گے۔انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو اس امید پر حکم بنایا تھا کہ زمانۂ جاہلیت میں اوس اور بنی قریظہ کے درمیان جو حلیفانہ تعلقات مدتوں سے چلے آ رہے تھے وہ ان کا لحاظ کریں گے اور انہیں بھی اسی طرح مدینہ سے نکل جانے دیں گے جس طرح پہلے بنی قَیْنقُاع اور بنی النضیر کو نکل جانے دیا گیا تھا۔خود قبیلۂ اَوس کے لوگ بھی حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے تقاضا کر رہے تھے کہ اپنے حلیفوں کے ساتھ نرمی برتیں۔ لیکن حضرت سعد رضی اللہ عنہ ابھی بھی دیکھ چکے تھے کہ پہلے جن دو یہودی قبیلوں کو مدینہ سے نکل جانے کا موقع دیا تھا وہ کس طرح سارے گرد و پیش کے قبائل کو بھڑکا کر مدینے پر دس بارہ ہزار کا لشکر چڑھا لائے تھے۔اور یہ معاملہ بھی ان کی سامنے تھا کہ اس آخری یہودی قبیلے نے عین بیرونی حملے کے موقع پر بد عہدی کر کے اہل مدینہ کو تباہ کردینے کا کیا سامان کیا تھا۔اس لیے انہوں نے فیصلہ دیا کہ بنی قریظہ کے تمام مرد قتل کردیے جائیں،عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے،اور ان کی تمام املاک مسلمانوں میں تقسیم کردی جائیں۔اس فیصلے پر عمل کیا گیا اور جب بنی قریظہ کی گڑھیوں میں مسلمان داخل ہوئے تو انہیں پتہ چلا کہ جنگ احزاب میں حصہ لینے کے لیے ان غداروں نے پندرہ سو تلواریں، تین سو زرہیں،دو ہزار نیزے اور پندرہ سو ڈھالیں فراہم کی تھیں۔اگر اللہ کی تائید مسلمانوں کے شامل حال نہ ہوتی تو یہ سارا جنگی سامان عین وقت مدینہ پر عقب سے حملہ کرنے کے لیے استعمال ہوتا جبکہ مشرکین یکبارگی خندق پار کر کے ٹوٹ پڑنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔اس انکشاف کے بعد تو اس امر میں شک کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہ رہی کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کے معاملہ میں جو فیصلہ دیا وہ بالکل حق تھا۔”
ان وجوہات سے بھی اللہ تعالی نے اس وقت مسلمانوں کو یہودیوں اور نصرانیوں اور مشرکوں سے دوستی رکھنے سے منع فرمایا۔

آخر میں!

دیکھو!تم لوگ ہی ان سے محبت کرتے ہواوروہ تم سے محبت نہیں رکھتے حالانکہ تم ساری کتابوں پرایمان رکھتے ہواورجب وہ تم سے ملتے ہیں توکہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اورجب اکیلے ہوتے ہیں توتم پرغصے سے اُنگلیاں چباتے ہیں،آپ کہہ دیں اپنے غصے ہی سے تم مرجاؤ،بلاشبہ اللہ تعالیٰ دلوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے(سورہ آل عمران۔آیت۔119)

اوریہودنے کہاکہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بندھاہواہے،ہاتھ تواُنہی کے باندھے گئے ہیں اور اِس کی وجہ سے جوانہوں نے کہااُن پرلعنت کی گئی ،بلکہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں،وہ جیسے چاہتاہے خرچ کرتاہے اورجو آپ کے رب کی جناب سے آپ پرنازل کیا گیاہے وہ اُن میں سے اکثریت کی سرکشی اورکفرمیں یقینااضافہ کردے گا اورہم نے اُن کے درمیان قیامت کے دن تک بغض وعداوت ڈال دی ہے جب بھی وہ لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ تعالیٰ اُسے بجھادیتاہے اوروہ زمین میں فسادکی کوششیں کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ فسادکرنے والوں سے محبت نہیں کرتا(سورہ المائدہ۔آیت۔64)

حدثنا موسى بن عبد الرحمن الكندي، حدثنا زيد بن الحباب، اخبرنا سفيان الثوري، عن ابي الزبير، عن جابر، عن عمر بن الخطاب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ” لئن عشت إن شاء الله، لاخرجن اليهود والنصارى من جزيرة العرب "
عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں زندہ رہا تو ان شاءاللہ جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو نکال باہر کر دوں گا“
تخریج الحدیث(صحیح مسلم/الجہاد 21 (1767)، سنن ابی داود/ الخراج والإمارة 28 (3030)، (تحفة الأشراف: 10419)، و مسند احمد (1/32) (صحیح)
جزیرہ عرب وہ حصہ ہے جسے بحر ہند، بحر احمر، بحر شام و دجلہ اور فرات نے احاطہٰ کر رکھا ہے، یا طول کے لحاظ سے عدن ابین کے درمیان سے لے کر اطراف شام تک کا علاقہ اور عرض کے اعتبار سے جدہ سے لے کر آبادی عراق کے اطراف تک کا علاقہ، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش تھی کہ جزیرہ عرب سے کافروں اور یہود و نصاری کو باہر نکال دیں، آپ کی زندگی میں اس پر پوری طرح عمل نہ کیا جا سکا، لیکن عمر رضی الله عنہ نے اپنے دور خلافت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خواہش کو کہ عرب میں دو دین نہ رہیں یہودیوں اور عیسائیوں کو جزیرہ عرب سے جلا وطن کر دیا۔قال الشيخ الألباني: صحيح انظر ما قبله (1605)
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا ابو عاصم، وعبد الرزاق، قالا: اخبرنا ابن جريج، قال: اخبرني ابو الزبير، انه سمع جابر بن عبد الله، يقول: اخبرني عمر بن الخطاب، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ” لاخرجن اليهود والنصارى من جزيرة العرب، فلا اترك فيها إلا مسلما "، قال ابو عيسى: هذا حديث حسن صحيح.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میں جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو ضرور نکالوں گا اور اس میں صرف مسلمان کو باقی رکھوں گا“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تخریج الحدیث:انظر ما قبلہ (صحیح)
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (1134)، صحيح أبي داؤد

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button