نبی کریمﷺ

شانِ حبیب رحمٰن بزبانِ قرآن

اللہ پاک نے ہمارے پیارے نبی، مکی مدنی، محمدِ عربی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تمام مخلوق سے زیادہ انعامات دے کر اپنی خاص مہربانیوں سے مشرف کیا اور قرآنِ کریم میں ربِّ کریم نے مختلف مقامات پر مختلف القابات کے ساتھ اپنے حبیب، حبیبِ لبیب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعریف فرمائی ہے، چنانچہ

٭سورۂ فتح آیت نمبر 29 میں آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مُحَمَّدٌ رَّسُول اللہ فرمایا۔

٭تو سورۂ اٰلِ عِمْرَان آیت نمبر 33 میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ”مصطفیٰ“ قرار دیا گیا۔

٭سورۂ اٰلِ عِمْرَان آیت نمبر 179 میں ”مجتبیٰ“ فرمایا۔

٭تو سورۂ جنّ آیت نمبر 27 میں آپ کو ”مرتضیٰ“ کے لقب سے یاد کیا گیا۔

٭سورۂ بَنِی اِسْرائیل آیت نمبر 1 میں "عبدِ کامل” فرمایا۔

٭تو سورۂ مائِدَہ آیت نمبر 15 میں آپ کو ”نور“ فرمایا گیا ۔

٭سورۂ نِسَاء آیت نمبر 174 میں ”بُرہان(یعنی واضح دلیل )“

٭تو سورۂ اَحْزَاب آیت نمبر 40 میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ والسَّلَام کو ”خَاتمُ النَّبِیِّیْن“ فرمایا گیا۔

٭سورۂ اَحْزَاب آیت نمبر 45 میں شاہد یعنی ”حاضر و ناظر“، ”سراجِ مُنیر“(یعنی چمکتا ہوا سورج) اورداعی اِلَی اللہ(یعنی اللہ پاک کی طرف بُلانےوالا) فرمایا گیا۔

٭سورۂ یٰس آیت نمبر 1 میں آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ”یٰس“

٭تو سورۂ طٰہٰ آیت نمبر 1 میں طٰہٰ فرمایا گیا۔

٭سورۂ بقرہ آیت نمبر 119 میں بشیر (خوشخبری سنانے والا) اور ”نذیر“(ڈر سنانے والا) فرمایا گیا ہے۔

٭سورہ مُزّمّل آیت نمبر 1 میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ والسَّلَام کو ”مُزَّمِّل“

٭ تو سورۂ مُدّثّر آیت نمبر 1 میں مُدَّثِّر فرمایا گیا ہے ۔

٭سورۂ اٰلِ عمران آیت نمبر 164 میں اللہ پاک نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ والسَّلَام کو مومنوں پر اپنا ”احسان“ قرار دیا۔

٭تو سورۂ انبیاء آیت نمبر 160 میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ و السَّلَام کو تمام عالمین کیلئے ”رَحْمَت“ قرار دیا۔

٭سورۂ قلم آیت نمبر 4 میں آپ کو ”صاحبِ خُلْقِ عظیم“ فرمایا

تو سورۂ بَنِی اِسْرائیل آیت نمبر 1 میں صاحبِ معراج فرمایا گیا۔

٭سورۂ بَقَرہ آیت نمبر 33 میں ”دُعائے ابراہیمی“ اور سورۂ صَفّ آیت نمبر 6 میں ”بشارتِ عیسیٰ“ فرمایا گیا۔

٭سورۂ کوثَر آیت نمبر 1 میں ”صاحبِ کوثر“

٭تو سورۂ بَنیِ اسرائیل آیت نمبر 79 میں ”صاحبِ مقامِ محمود“ قرار دیا گیا۔

اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کیا ہی خوب فرماتے ہیں:

اللہ کی سر تا بقدم شان ہیں یہ

اِن سا نہیں انسان وہ انسان ہیں یہ

قرآن تو ایمان بتاتا ہے انہیں

اور ایمان یہ کہتا ہے مری جان ہیں یہ

دعاگو ودعاجو
محمد لقمان ابن معین الدین سمناکے شافعی
خادم تدریس مدرسہ عربیہ نورالعلوم راجہ پور

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button