ربیع الاولمذہبی مضامین

میلاد کیا ہے ؟؟ کچھ شبہات اور جوابات

میلاد اصل مولاد تھا ماقبل مکسور کی وجہ سے یاء سے تبدیل ہوئی ہمچوں میعاد مصدر ہے۔ یعنی بچہ جننا حضورﷺ کی ولادت کی نسبت سے اصطلاح میں یہی لفظ استعمال ہونے لگا۔نیز میلاد کے اصطلاحی معنی حضورﷺ کی ولادت کی خوشی میں آپ کے معجزات اور مجالس صوری (معنی مجلس میں خوبصورت جلسہ) بیان کرنا۔

اور سرکار اعظمﷺ نے خود میلاد منایا‘ حدیث: حضرت ابو قتادہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بارگاہ رسالتﷺ میں عرض کی گئی یا رسول ﷲﷺ آپ پیر کا روزہ کیوں رکھتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا۔ اسی دن میں پیدا ہوا‘ اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی (بحوالہ: صحیح مسلم)

اسی طرح حدیث: بیہقی اور طبرانی شریف میں ہے کہ سرکار اعظمﷺ نے اعلان نبوت کے بعد ایک موقع پر بکرے ذبح کرکے دعوت کی۔ اس حدیث کے معنی لوگ یہ لینے لگے کہ سرکارﷺ نے اپنا عقیقہ فرمایا۔ اس کا جواب امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ دیتے ہیں: سرکارﷺ کا عقیقہ آپ کے دادا عبدالمطلب رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے ساتویں دن کردیا تھا۔ سرکارﷺ کا بکرے ذبح کرکے دعوت کرنا حقیقت میں اپنا میلاد منانا تھا۔

اس سے معلوم ہوا کہ میلاد منانا سنت رسولﷺ ہے،اب جہاں تک مروجہ طریقے کا سوال ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جیسے جیسے زمانہ ترقی کرتا رہا لوگ ہر چیز احسن سے احسن طریقے سے کرتے رہے۔ پہلے مسجدیں بالکل سادہ ہوتی تھیں۔ اب اس میں فانوس اور دیگر چراغاں کرکے اس کو مزین کرکے بنایا جاتا ہے۔ پہلے قرآن مجید سادہ طباعت میں ہوتے تھے۔ اب خوبصورت سے خوبصورت طباعت میں آتے ہیں وغیرہ اسی طرح پہلے میلاد سادہ انداز میں ہوتا تھا۔ صحابہ کرام اور تابعین اپنے گھروں پر محافل منعقد کرتے تھے اور صدقہ و خیرات کرتے تھے۔

ازالہ شبہ:
اگر انبیاء کی تاریخ پیدائش پر ہر سال جشن منانا جائز تھا تو کیا آپﷺ نے اپنے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام یا کسی دوسرے نبی کا یوم پیدائش منایا؟۔۔ اس کا سادہ سا جواب جی ہاں! منایا، سرکار اعظمﷺ نے انبیاء کرام علیہم السلام کا یوم ولادت خود بھی منایا اور صحابہ کرام کو بھی تعلیم دی۔

جیسا کہ حدیث: بخاری و مسلم شریف میں حضرت عبد ﷲ بن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جب سرکارﷺ مدینہ شریف تشریف لائے۔ یہود کو آپﷺ نے عاشورہ کا روزہ رکھتے ہوئے پایا‘ ان سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ وہ دن ہے جس میں ﷲ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون پر غلبہ عطا فرمایا تھا ہم اس دن کی تعظیم کرتے ہوئے روزہ رکھتے ہیں۔
(غور کیجیے! حضورﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ میرے صحابہ گواہ ہوجائو! ہم کبھی عاشورہ کا روزہ نہیں رکھیں گے کیونکہ یہ روزہ یہودیوں کا شعار بن گیا ہے بلکہ اس پر سرکارﷺ نے فرمایا) ’’ہم تم سے موسیٰ کے زیادہ چاہنے والے ہیں‘‘ پھر آپﷺ نے روزہ رکھنے کا حکم دیا۔

سرکارﷺ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خوشی منائی۔حدیث: حضرت اوس بن اوس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارﷺ نے فضیلت جمعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا تمہارے دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے۔ اس میں حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا اور اسی میں ان کا وصال ہوا (ابو دائود‘ نسائی‘ ابن ماجہ‘ دارمی)۔۔۔لہذا ہم ہر جمعہ حضرت آدم علیہ السلام کا میلاد مناتے ہیں کیونکہ سرکارﷺ نے فرمایا ہے۔

ازالہ شبہ دوم:
صحابہ کرام علیہم الرضوان جو آپﷺ سے مثالی اور بے لوث محبت کرتے تھے‘ صحابہ کرام نے کبھی جشن عید میلاد النبیﷺ منایا؟ اس کا بھی سادہ سا جواب جی ہاں!! صحابہ کرام علیہم الرضوان نے بھی سرکارﷺ کا میلاد منایا اور سرکارﷺ کے سامنے منعقد کیا۔ میرے رسولﷺ نے منع کرنے کے بجائے خوشی کا اظہار فرمایا۔جلیل القدر صحابی حضرت حسان بن ثابت رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بارگاہ رسالتﷺ میں قصیدہ پڑھ کر جشن ولادت منایا کرتے تھے۔

حدیث: سرکارﷺ خود حضرت حسان رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے لئے منبر رکھا کرتے تھے تاکہ وہ اس پر کھڑے ہوکر سرکارﷺ کی تعریف میں فخریہ اشعار پڑھے۔ سرکارﷺ حضرت حسان رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے لئے فرماتے۔ ﷲ تعالیٰ روح القدس (حضرت جبرائیل علیہ السلام) کے ذریعہ حسان کی مدد فرمائے (بحوالہ: بخاری شریف جلد اول ص65)

ایک اور حدیث: حضرت ابو درداء رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ میں سرکارﷺ کے ساتھ حضرت عامر انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے گھر گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ اپنے بچوں اور اپنے خاندان والوں کو ولادت مبارکہ کے حالات وواقعات بتا رہے ہیں۔ سرکارﷺ نے اس وقت فرمایا۔ : ’’ان ﷲ تعالیٰ فتح لک ابواب الرحمۃ والملئکۃ من فعل ذالک نجح‘‘ ﷲ تعالیٰ نے تم پر رحمت اور فرشتوں کے دروازے کھول دیئے ہیں جو شخص بھی یہ عمل کرے گا، نجات پائے گا (التنویر فی مولد السراج المنیر، ص ۶۲۳)۔۔۔(نوٹ: اس موضوع پر تفصیل کے لیے تبیان القرآن؛ سورہ المائدہ: آیت 3، 114، دیکھ سکتے ہیں نیز اس پر اور بھی کتب/رسائل آن لائن لائبریری الغزالی اکیڈمی ٹیلیگرام میں دیکھیں)

الحاصل: الحمدللہ عزوجل ہم نے احادیث مبارکہ سے ثابت کیا کہ میلاد نہ بدعت ہے اور نہ ہی برا کام بلکہ باعث برکت اور نجات کیونکہ اس کام کے کرنے سے منع نہیں کیا گیا ہے لہذا یہ جائز ہیں اور اگر کوئی اس پر اعتراض کرے کہ میلاد صحابہ کرام سے ثابت نہیں (حالانکہ کئی ایسے کام ہیں جو صحابہ کرام نے نہیں کئے مگر ہم اسے کرتے ہیں) تو وہ لوگ میلاد کی نفی میں ایک حدیث لاکر دکھا دے جس میں واضح طور پر یہ لکھا ہو کہ میلاد نہ منایا جائے۔۔۔۔۔۔۔!!؟.. اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے کی صلاحیت عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین ﷺ

از قلم: محمد توصیف رضا قادری علیمی
بانی الغزالی اکیڈمی واعلیٰحضرت مشن، کٹیہار
شائع کردہ: 27/ستمبر/2022
[email protected]

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button