نبی کریمﷺ

اک عرب نے آدمی کا بول بالا کردیا

تحریر: غیاث الدین احمد عارف ؔمصباحیؔ
خادم التدریس: مدرسہ عربیہ سعیدالعلوم
یکما ڈپو،لکشمی پور،مہراج گنج(یوپی)

ہر طرف کشت و خون اور قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا،خون خرابہ آئے دن کا شُغل تھا، ہر چہار جانب خود پسندی اور خود بینی کے ڈینگ مارےجارہے تھے ، شرمساری اور ندامت کا دُور دُورتک کہیں نام تک نہ تھا ،عزت و ناموس کا کوئی پاس نہ تھا جنگ وجدل انسانوں کی ایسی بیماری بن گئی تھی کہ ادنیٰ سی بات کو لے کربرسہا برس تک لاشوں پر لاشیں گرتی رہتیں ، فریب و دغا انسان کاایک جز ءلا ینفک بن گیا تھا ،انسا نیت درندگی کے دلدل میں پھنس چکی تھی ، رقص وسرود، جُوا اور شراب نوشی سخاوت کی دلیل سمجھی جاتی تھی ،غروراِنتہا کو پہنچ چکا تھا ،عبد ومولیٰ میں ، گورے اور کالے میں امتیاز برتا جارہا تھا ، ظلم، عریانی اور بے حیائی کے بھوت ننگے ہوکرناچ رہے تھے ،فسق و فجور کی ندیاں بہہ رہی تھیں ،قلاش و تنگ دست اور غریب ومفلس انسانوں کو غلامی کے قفس میں جکڑ کرطرح طرح کے مصائب و آلام سے دو چار کیا جارہا تھا ، عصمت نسواں کے تحفظ کا کوئی ضامن نہیں تھا ،معصوم بچیوں کے جسدِ نازک کومنوں مٹی کے تلے بڑی بے دردی کے ساتھ زندہ دبا دیا جاتا ،وہ معصوم کلیاں اپنے ظالم والدین سے التجا کرتیں، آہ و فغاںکرتیں لیکن نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے ، بے حیائی کی حد یہ تھی کہ بہنوں کی عفت و عصمت کا جنازہ نکال دیا جاتا لیکن بھائی کی پیشانی پرشکن تک نہ آتی ، بدبختوں اور کمینوں نے اپنی ماؤں تک کی عصمت سے کھلواڑ کیا پر انہیں ذرہ برابر قلق محسوس نہ ہوا، بدنصیبی سے اگرکسی کا شوہر دار فانی سے کوچ کر جاتا تو اس کی بیوہ کے ساتھ یہ وحشیانہ حرکت کی جاتی کہ اُسے شہر بدر کر دیا جا تا ، اور اسی پر اکتفانہیں کیا جاتا بلکہ جب سال بھر کا عرصہ پورا ہو جا تا تو اس کے آنچل میں اونٹوں کی میگنیاں بھر دی جاتیں اور اونٹ کی ننگی پیٹھ پر بٹھا دیا جا تا ،ظلم اس حد تک کہ اسے پورے سال بھر پانی نہیں دیا جا تا ،جس سے وہ غلاظت اور گندگی کا مجسمہ بن جاتی مختصر یہ کہ ؛عورتیں مردوں کیلئے کھلونا بنی ہوئی تھیں اوریہ مرض صرف عرب ہی کانہیں تھا بلکہ پورے عجم کا یہی حال تھا ، اور پوری دنیا تاریکیوں اور جہالت سےبھری ہوئی تھی۔
اس وقت ضرورت تھی ایک ایسی عبقری شخصیت کی جو پیش آنے والے ہر خطرات کا کامل طور پر سد باب کر تی ،ضرورت تھی ایک ایسے مبلغ پیغام خدا کی کی جوخزاں کے تیز و تند اور شرکش جھونکوں کا سامنا کرتا ،لیکن تبلیغ دین الہی کی خاطراُف تک نہ کرتا ،ضرورت تھی ایک ایسے ساحر البیان کی جو قلوب کو مسخر کر دیتا ،ضرورت تھی ایک ایسی پاک طینت ہستی کی جو دنیائے انسانیت کو وحدانیت کا درس دیتی ۔ جن کی آمد کی بشارت گذشتہ تمام نبیوں اور رسولوں (علیھم السلام)نے دی،جن کی بشارت دیتے ہوئےاللہ کے نبی حضرت عيسيٰ بن مريم علیہ السلام نےاپنی قوم سے کہا:
’’ اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرتا ہوا اور ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے ‘‘(اَلصَّفّ،06)

قد جاء كم من الله نور و کتاب مبین
با لآخر معصوموں اور مظلوموں کی سردآہیں باب اجابت سےٹکرائیں ، رحمت خداوندی کو جوش آیا،اچانک آسمان دنیا سے یہ پر مسرت آواز فضا میں گونجنے لگی کہ اے بیواؤ اور مظلومو! خوشی سے اچھل جاؤ ، مچل جاؤ، اس لئے کہ وہ آ گیا، جس کا صدیوں سے انتظار تھا ، وہ آ گیا، جو باعث تخلیق کائنات ہے، وہ آ گیا، جس کےصدقے میں آدم علیہ السلام کی دعا بارگاہ خداوندی میں مقبول ہوئی ، وہ آ گیا ، جس کی بشارت کم و بیش ایک لاکھ چوبیں ہزار کم وبیش دولاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام کی مقدس جماعت نے دی تھی ، وہ آ گیا، حضرت عیسی علیہ السلام بھی جس کے امتی ہونے کے متمنی تھے ، وہ آ گیا،معصوم ، بے گناہ ، مظلوم جس کے متلاشی تھے ، ہاں ہاں!! حضرت ابراہیم وعیسیٰ علیہما التحیۃ والسلام کی دعائے مستجاب
’’ رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(البقرہ129)
’’اے رب ہمارے اور بھیج ان میں ایک رسول انہیں میں سے کہ ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں تیری کتاب اور پختہ علم سکھائے اور انہیں خوب ستھرا فرمادے بےشک تو ہی ہے غالب حکمت والا ہے‘‘
بارگاہ ایزدی میں مقبول ہوگئی۔ اور 12ربیع الاول مطابق20/اپریل 571 عیسوی اور باعتبار بکرمی یکم جیٹھ628 س، صبح صادق کی ساعت مسعود ومبارک آ گئی۔ جب حضرت آمنہ کا گھر نورمحمدی ﷺ سے منور ومجلّیٰ ہو گیا۔مکہ کی دیوار میں تعظیم نبی کیلئے سربجو د ہوگئیں، سینہ تانے ہوئےپہاڑوں نے زانوئے ادب تہہ کردیا، مکہ کی پر خار وادیاں عالم تصورات میں اپنے سینے پر اذان کی میٹھی میٹھی ،مد بھری آوازیں سن کرمست وسرشار ہونے لگیں، سورج ،چاند اور ستارے اُس نورمحمدی ﷺ کےپاکیزہ نور سے فیض یاب ہوکربے انتہا ء خوشیوں میں مگن ہونے لگے جس کےصدقے میں انھیں روشنیوں کی سوغات ملی ہے ، جنت کی حوروں ، آسمان کے ملائکہ میں بھی مسرتوں کی گہما گہمی ہوگئی ، جنگلی بہائم اور پرندے بھی اپنی اپنی مختلف زبانوں میں نعت نبیﷺ کی مبارک صدائیں بلند کرنے لگے،سارا عالم مسرتوں کی دنیا میں سفر کرنے لگا ۔لیکن، شیاطین کے فریب و دغا اور عیاری و مکاری پرنحوست کے بادل چھا گئے ۔اس کے مکرکے سارے تارو پود بیت العنکبوت کی طرح بکھر کر تار تار ہو گئے، دوٹوک میں یوں کہئے کہ: اللہ والے دنیا کے گوشے گوشے میں تسبیح وتہلیل کی صدائیں اور مسرتوں کے ترانے بلند کر رہے تھے اور شیطان والوں پر نحوست کے بادل چھائے ہوئے تھے ۔
برائیوں کی تہہ بہہ تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی انسانیت آپ کو دیکھ کر پکاراٹھی ، آسمان ہدایت کا آفتاب ہماری رہنمائی کیلئے جلوہ گر ہو گیا ، فضا میں مظلوموں کی پرمسرت آوازیں گونجنے لگیں ،آفریں صد آفریں ، مصائب و آلام کے سلاسل ، قید و بند اور رنج ومحن کی صعوبتوں سے نجات دہندہ کی ولادت باسعادت ہوگئی، ہاں ہاں !! زمین نے اپنے سینے پر اور آسمان نے اپنے سائے تلےپر ایسی خوشیوں کا نظارہ دیکھاجس کی دنیا نے کسی دور میں نہ مثال پیش کیا اور نہ آئندہ پیش کر سکے گی۔

بچپن کے تقریبا چھ سال آپ ﷺنے حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ساتھ قبیلہ بنی سعد بن بکر کے ساتھ گزارے ،اس عمر میں آپ نے اپنی صدق گوئی اور راست گفتاری کا سکہ پورے علاقہ میں چلا دیا ، ہر زبان پر آپ کی تہذیب و حیا، عقل و سلیقہ تد برو دانائی کا شہرہ ہونے لگا، معجزات اور خوارق عادات کا ظہور عام بات تھی ، والد مکرم حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ تو قبل ولادت ہی وفات فرما چکے تھے ،ابھی آپ ﷺبچپن کے مراحل بھی طے نہ کر سکے تھے کہ اچانک آپ کی والدہ محترمہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مقام’’ ابواء‘‘ میں انتقال ہوگیا ۔ جب آپ نے عنفوان شباب پر پہلا قدم رکھا تو سارے مکہ والوں سے اپنی امانت وصداقت کا لوہا منوالیا ، آپ نے چالیس برس کی زندگی جن جاہل اقوام کی صحبت میں ان کے بگڑے ہوئے معاشرےسے الگ ہٹ کر نہایت پاکیزہ اور صاف و شفاف زندگی گزاری ،یہ بذات خود ایک عظیم معجزہ ہے ۔اس سے کسی صاحب فکر ونظر کو جائے انکار نہیں ۔
تاریخ اسلامی اور قرآن کریم اس بات پر گواہ ہے کہ مکہ میں شراب خانے بھی تھے لیکن آپﷺ نے کبھی ان کی طرف ایک نظراٹھا کر دیکھنا بھی گوارا نہ کیا، قمار خانے بھی تھے لیکن آپ ﷺنے ایسی بری جگہوں پر قدم نہ رکھا ، رنگ رلیوں کی محفلیں بھی سجائی جاتیں تھیں،لیکن آپﷺ کبھی بھی ان میں شامل نہیں ہوتے ، کافروں کے میلے بھی لگتے تھے جس میں نیم عریاں لڑکیوں کا جمگھٹا ہوتا ،لیکن آپﷺنے کبھی بھی ایسے میلوں میں شرکت نہیں کی اور کرتے بھی کیوں؟آپﷺ تو انھیں برائیوں ، بے حیائیوں اور جہالتوں کا خاتمہ کرنے کیلئے تشریف لائے تھے، بلکہ آپ ﷺنے دنیائے انسانیت کواخوت د محبت کا درس دیا، تنازعات میں نہ پڑنے کی تاکید کی ، امن وسلامتی صلح و آشتی کا وہ پر چم لہرایا جو صبح قیامت تک لہرا تا رہے گا اور عدل و انصاف کا ایسا بے مثال نمونہ پیش کیا کہ مکہ والوں نےآپ ﷺکوامین کا لقب دے دیا، اس لئے کہ آپﷺ نے ان کے قلوب پر اپنی سچائی اورایمانداری کا مہر ثبت کر دیا تھا۔

لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا شاد ہر ناکام ہو ہی جائے گا
مفلسو ان کی گلی میں جا پڑو باغ خلد ا کرام ہو ہی جائے گا

آپﷺ کی چالیس سالہ زندگی بہت ہی مسرت و شادمانی کےساتھ گزری ، پورا مکہ بالخصوص اہل قریش آپ کوسروں ، آنکھوں پر بٹھائے رہے لیکن جیسے ہی آپ نے اپنی نبوت کا اعلان فرمایا تو تمام مکہ والے آپ کے جانی دشمن ہو گئے ، وہی احباب جو کل تک آپ کو مد برو دانا کہتے تھے آج پاگل و دیوانہ کہنے لگے ، جو مہذبو خوش اخلاق کہتے تھے آج گالیوں کے تیر برسانے لگے، جن کی زبانیں امین دصادق کہتے نہیں تھکتی تھیں آج جھوٹا و کذاب کہنے لگے، جنہیں آپ کی زبان سے نکلی ہوئی ہر بات بڑی پیاری لگتی تھی آج وہی آپ کے کلام کو اشعار سے تشبیہ دینے لگے ،کون ساایسا ظلم تھا جو اعلان نبوت کے بعد آپ پر ڈھایا نہ گیا ہو۔
لیکن انہیں میں کچھ صالح افراد بھی تھے جنہوں نے آیات قرآنی پر غور وفکر کیا، آپ کے ارشادات عالیہ کی ایمان افروز روشنی میں زادسفر باندھا، آپ کی نبوت کی تصدیق کی اور صراط مستقیم کا راستہ اپنا لیا، مکہ میں آپ نے تیرہ سال قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کر کے وحدانیت کے پرستاروں کی ایک چھوٹی سی ٹیم تیار کر لی لیکن کفار مکہ نے ان کا جینا دوبھر کر دیا اورظلم کے پہاڑ توڑ نے لگے ، طائف کی گلیوں میں لہولہان کیا گیا،صحن کعبہ میں چادر کا پھندا لگا کر مارنے کی کوشش کی گئی ، بد قماش اور اوباش لڑکوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا گیا، آپ کے ساتھیوں کو آگ کے انگاروں پر لٹا دیا گیا ، جلتی ہوئی ریت پر ،دھوپ کی تپش میں پیٹھ پرمنوں وزنی پتھر رکھ کر مارنے کی کوشش کی گئی ۔
آخر جب ظلم حد سے تجاوز کر گیا تو آپ ﷺنے اللہ کے حکم سے اپنے یار غار حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ مد ینہ کارخت سفر باندھا اور کچھ عشاق کرام بھی آپ کے ساتھ مدینہ کی طرف تشریف لے گئے پھر بھی ان بدبختوں اور ظالموں نے آپ کا پیچھا نہ چھوڑا جوں جوں اسلام ترقی کرتا گیا مخالفت و تصادم بھی اسی طرح بڑھتا گیا، اہل مکہ تو پہلے سے ہی آپ کے جانی دشمن بنے ہوئے تھے مدینہ میں آ کر سکون کی کوئی سانس نہ لینے دیا ، دشمنان عظمت رسالت اور حاسدین دین اسلام ،ہر دم مار آستین بن کر اسلام اور مسلمانوں کو ڈستے رہے۔لیکن عاشقان مصطفی ﷺ کی چھوٹی سی جماعت نے ایک مختصرسی مدت میں جسارت و بہادری اور اپنی قربانیوں کا ایسا بےمثال نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا کہ دشمنان اسلام کی کوئی سازش اور اسلام کے خلاف کسی بھی چال کو شرمندۂ تعبیر نہ ہونے دیا، ہر سازش کو پنپنے سے پہلےہی کچل دیا اور ہر فتنے کوخس وخاشاک کی طرح بہا دیا۔

اليوم اكملت لكم دينكم
بالآخر وہ دن آگیا جب پیارے آقاﷺ اپنے دیوانوں کے ساتھ ایک فاتح اور سالار بن کر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور اس شان سے کہ جو قوم آپ اور آپ کے اصحاب کو ستانے کا ہرممکن حربہ اپناتی تھی آج ان میں اتنی جرات بھی نہ تھی کہ آپ کے دیوانوں پر ایک نظر اٹھا کر بھی دیکھ سکے۔
سب کے دلوں میں بس اسی طرح کے خیالات آرہے تھے کہ آج تمام ظلموں کا بدلہ لیا جائے گا ،شاید آج محمد عربی ﷺ قتل عام کا اعلان کریں گے ، یا آج ان جفاکاروں کے لیےملک بدری کا فرمان جاری کیا جائے گا اور ان سب کے گھر بار قرق کیے جائیں گے جنھوں نے پیغمبر ﷺ اور ان کے چاہنے والوں کو تین سال تک ’’ شعب ابی طالب ‘‘ کی گھاٹیوں میں جلا وطنی کی زندگی جینے پر مجبور کیا تھا ، وغیرہ وغیرہ۔مگر انھیں کیا معلوم تھا کہ یہ پیامبر رحمت ہیں ،جن کو خالق ومالک نے بنایا ہی ’’ رحمۃ للعالمین‘‘ ہے ۔ جب اس سراپا رحمت کی زبان کھلی تو دنیا نے رحمتوں کا ایک نیا جلوہ دیکھا ۔ سرکار ﷺ نے فرمایا: جاؤ سب کے سب آزاد ہو ،ہرایک معاف کردیا گیا اور اعلان عام ہوا:لاتثریب لکم الیوم۔
صدیوں سے جس کعبہ میں پتھر کے بتوں کی پرستش ہورہی تھی آج بتوں کی نجاست اور نحوست سے پاک کر دیا گیا اور انھیں مسمار و منہدم کر کے ایک بار پھر اللہ کے مقدس گھر کو اس کا اپنا مقام عطا کر دیا گیا، پانچ سو ا یکہتر برس بعد دنیا میں ایسا انقلاب آیا کہ جس نے مظلوموں کو جینے کا حق دے دیا ، اور دنیا سے برائیوں کو ختم کرنے کا ایک جامع نصاب عطا کر دیا اور ایک بار پھر ورطہ حیات میں ایمان و یقین کی قندیلیں روشن ہوگئیں، ہر چہار جانب سے اللہ اکبر کی پیاری پیاری صدائیں گونجنے لگیں۔

ایک عرب نے آدی کا بول بالا کر دیا
خاک کے ذروں کو ہم دوش ثریا کردیا

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button