تعلیم

آسام میں دینی تعلیم کا فروغ: مسائل اور امکانات

تحریر: مزمل حسین علیمیؔ
دارالعلوم علیمیہ جمداشاھی
ساکن: ڈھکیاجولی ضلع، سنیت پور ،آسام

آسام ہندوستان کی ایک ایسی ریاست ہےجہاں اکثر مسلمان دینی تعلیمات و تربیت سے ناآشنا ہیں۔جس کے نتائج میں اکثر و بشتر مسلمان شعار اسلام کو فراموش کر بیٹھیں ہیں۔عبادات مثلاً صلوۃ،صوم، زکوٰۃ وغیرہ کو ترک کرتےنظر آتے ہیں، صلہ رحمی، باہمی تعاون،اعمال صالحہ کی بجائے حسد بغض،سود کی حرام کمائی،ایک دوسرے کو نقصان پہچانا ان کاوطیرہ بن گیا ہے ، دولت، عزت، طاقت و قوت وغیرہ کے حصول کو ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ یہاں پہلے ہی سے دینی تعلیم کے فروغ کے سلسلے میں در پیش مسائل تھے اب حکومت نے سبھی سرکاری مدارس کو اسکولوں میں تبدیل کر دیاہے علاوہ ازیں چار پانچ نیزی ادارے کو جھادی بتا کر بلڈوزر سے منہدم کر دیا ہے۔ اب نیزی مدرسوں کوآسام حکومت بورڈ کےزیر نگرانی تعلیم جاری رکھنے کی ہدایت فراہم کی جا رہی ہے۔کیا مسلمان آسام کے لیے یہ لمحہ فکریہ نہیں ہے بلکہ میں تو کہوں گا کہ پورے ملک کے مسلمانوں کے لیے مقامات آہ و فغاں ہیں۔
آج کے دور میں دینی تعلیم کے بغیر ایمان وعقیدت کی حفاظت و صیانت تقریباً نا ممکن ہے دینی تعلیم کی اہمیت کے پیش نظر علامہ قمر الزماں اعظمی کا یہ اقتباس پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے ملاحظہ ہو:

” یہ ایک حقیقت بات ہے کہ جن ملکوں میں مدارس، کو ختم کر دیا گیا ہو وہاں اسلام مٹ گیا۔ امام بخاری رضی اللہ عنہ اور بہت سے ائمہ حدیث و فقہ کی سر زمینوں میں صحیح سے کلمہ پڑھنے والے نایاب ہیں۔ وسط ایشیا کی وہ تمام ریاستیں جو اشتراکیت کی زد میں آئیں وہاں مدارس کو مٹا کر اسلام کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی کچھ اور ملکوں میں اس طرح کی کوشش جاری ہے اس صورت میں علمائے کرام کو تمام مساجد کو جزوقتی درسگاہوں میں تبدیل کرنا ہوگا،
مساجد کے تمام ائمہ اپنے ارد گرد کا جائزہ لیں اور کوشش کریں کہ متعلقہ آبادی ،یا محلہ میں کوئی بچہ دینی تعلیم سے محروم نہ رہ پاۓ اور سن بلیغ پہنچنے سے قبل دینی تعلیم سے اس قدر آگاہ ہوجاۓ۔ کہ وہ در پیش چیلنجوں کا مقابلہ کر سکے ۔ علماء و ائمہ مساجد کے لیے تدریس و تبلیغ دین اب فرض کفایہ نہیں بلکہ فرض عین ہے۔”

حضرت علامہ صاحب مدظلہ العالی کے اقوال کی روشنی میں آپ آسام کے حالات ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ آسام جہاں مسلمان کثیر تعداد میں ہونے کےباوجود دینی تعلیم و تربیت سے ناواقف ہیں۔ مسلمان! ہوش کے ناخن لیں بالخصوص علمائے اھلسنت آسام، کہیں ہم سےدیر نہ ہو جاۓ۔ ہم ایک جمہوری ملک میں رہتے ہیں جہاں ہمیں مذہبی تعلیم حاصل کرنے کا پورا حق ہے-میری رائے یہ ہےکہ پرائیوٹ مدارس کے قیام و ترقی کی ہر ممکن کوشش کی جایے -احتیاط کے ساتھ کہیں جھاد کے متعلق کوئی اشیاء نہ رہے -ساتھ ہی پڑوسی ملک سے قطع تعلق کریں۔جن علاقوں میں مدارس نہیں ہیں وہاں کے ائمہ مساجد بچوں کو ہر ممکن دینی تعلیم دینے میں کوشاں رہیں- عوام چونکہ دینی تعلیمات سے غافل ہیں انہیں اس کی اہمیت بتائی جائے یہ بھی بتایا جائے کہ آپ کا بچہ دنیاوی تعلیمات کے ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کر سکتا ہے۔مدارس میں مذہبی تعلیم کے ساتھ بنیادی دنیاوی تعلیم بھی دی جائے،بعض مسائل ضروریہ کی کتابیں جو اردو میں دستیاب ہیں انہیں آسامی زبان میں ٹرانسلیشن کروا کر اسکولوں، کالجوں،اور یونیورسٹیوں کے طلبا کو دی جائے ، تبلیغ دین کو عام کیا جائے لوگوں کو ہر ممکن طور پر دین سکھایا جائے۔
مذکورہ بالا اقدامات کی صورت میں دینی تعلیم کا فروغ ممکن ہو سکے گا-

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button