نبی کریمﷺ

حیراں ہوں میرے شاہ میں کیا کیا کہوں تجھے

اللہ تبارک وتعالیٰ نےاپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کوکیسا لازوال اور عمدہ حُسن وجمال عطافرمایا تھا کہ دیکھنے والادیکھتا ہی رہ جاتا ۔یادرکھئے! حُضور ﷺjis کی صورت کے ساتھ ساتھ سیرت میں بھی آپ جیسا کوئی نہ تھا ۔ بعض لوگ وہ ہوتے ہیں کہ اگر اُن سے صرف سلام دعا کی حد تک تعلق ہو تو وہ بہت نیک اور اعلیٰ اخلاق کے مالک نظر آتے ہیں، لیکن جب اُن سے لَین دَیْن کا معاملہ کیاجائے،یا اُن سےرشتے داری کی جائےتو اُن کی حقیقت کاپتہ چلتاہےکہ کتنے نیک ہیں اورکیسے بااخلاق ہیں، لیکن میرے آقاۓ نعمت کامُعاملہ ایسا نہیں تھا،آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ تو کَامِلُ الْاَخْلَاق ہیں،چھوٹا ہویا بڑا،مرد ہو یا عورت، بُوڑھا ہو یا جَوان، آقا ہو یا غُلام ہرایک سے ہمارے پیارےآقا ﷺ کااَخلاقی بَرتاؤ اِتنا عُمدَہ ہوتا کہ لوگ مُتَأَثِّر ہوکرآپ ﷺ کی تَعرِیفیں کرتے، وَجَلَّ

سرکش جو تھے قائل ہوئے دُشمن جو تھے مائل ہوئے
مسحُور کُن ہے کِس قدر یا مُصطفیٰ لہجہ تیرا

مشہور مُفسرِقرآن،حکیمُ الاُمَّت مفتی احمدیار خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اس حدیثِ پاک کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :اِن حضرات (صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان )کی نگاہ حقیقت بِین (یعنی حقیقت دیکھنے والی) تھی۔ حقیقت میں چہرۂ مُصْطَفَو ِی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ چاند سے کہیں زیادہ حسین ہے کہ چاند صرف رات میں چمکے یہ چہرہ دن رات چمکے، چاند صرف تین رات چمکے یہ چہرہ ہمیشہ ہر دن رات چمکے، چاند جسموں پر چمکے یہ چہرہ دلوں پر بھی چمکے،چاند نورِ اَبدان(یعنی جسْموں کو نُور) دے یہ چہرہ نور ِاِیمان دے، چاند گھٹے بڑھے یہ چہرہ گھٹنے سے محفوظ رہے،چاند کو گِرہن لگے یہ کبھی نہ گہے ، چاند سے عالَمِ اَجسام کا نظام قائم ہے ،حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے عالَمِ ایمان کا،حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا چاند سے زیادہ حسین ہونا صرف ان کی عقیدت میں نہ تھا ۔بلکہ واقعہ یوں ہی ہے ،چاند دیکھ کر کسی نے ہاتھ نہ کاٹے،حُسنِ یُوسف دیکھ کر زنانِ مصر(مِصر کی عورتوں)نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے اورحُسْنِ یوسف سے حُسْنِ محمد کہیں افضل ہے،لہٰذا حضرت جابر ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ ) کایہ فرمان بالکل درست ہے۔ (مِراٰۃُ المَناجِیح، باب اسماء النبی۔۔۔الخ،الفصل الثانی،۸/۶۰)

حُسنِ یُوسُف پہ کٹیں مِصر میں انگشتِ زَناں
سَر کٹاتے ہیں تِرے نام پہ مردانِ عرب(حدائقِ بخشش)


مُختصر وضاحت: مصر کی عورتوں نےجب حُسنِ یوسف دیکھا تو بے اختیار ہو کر اپنی انگلیاں کاٹ بیٹھیں۔اے میرے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ !آپ کے حُسن و جمال کا عالم کیا ہو گا جبکہ آپ کا نامِ نامی اسمِ گرامی ہی ایسا ہے کہ عرب کے جوان آپ کے نام پر اپنے سر کٹارہے ہیں اور تا قیامت کٹاتے رہیں گے۔
حُسن و جمالِ مصطفیٰ سبحان اللہ

آپ کے حُسنِ اَخلاق سےمُتَأَثِّر ہوکر اَجْنَبی اَپنائیت محسوس کرتے،جو آپ ﷺ سے دُور ہوتے وہ بھی آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو صَادق و اَمین کہتے،جو آپ ﷺ سے لَین دَین کرتے اورغَیر مسلم ہوتے تو آپ کےاَخلاق سے مُتَأَثِّر ہو کر مسلمان ہو جاتے اور اگر لین دَین کرنے والے مسلمان ہوتے تو اُن کے ایمان پُختہ ہوجاتے اور وہ آپ ﷺ کے نام پہ اپنی جانیں تک قربان کر نے سےگریز نہ کرتے تھے۔ سُبْحانَ اللہ عَزَّ

اب آئے ایک پیارا سا واقعہ میرے آقا جانِ رحمت چودھویں رات کے چاند صلی اللہ علیہ وسلم کا پیش کر رہی ہوں۔

ایک مَرتبہ نبیِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ مدینےکے باغات میں تشریف لے گئے،وہاں آپ کا سامنا ایک قافلے والوں سے ہوا، آپ ﷺ نےپوچھا تم یہاں کس لئے آئے ہو؟ انہوں نےکہا: ہم یہاں کى کھجوریں لینے آئے ہىں، ان کے پاس سُرخ اُونٹ تھا، آپ ﷺ نے پوچھا کیا تم لوگ یہ اُونٹ مجھے بیچو گے؟ انہوں نے کہا :جى ہاں، اتنے اتنے صاع کھجوروں کے بدلے میں بیچ دیں گے ،آپ ﷺ نےارشادفرمایا: میں یہاں اُونٹ لینے کی نیت سے تو نہیں آیا،اس لئے قیمت(Price) ساتھ نہیں لایا، میں اپنے شہر پہنچ کر اس کی قیمت بھجوا دوں گا۔(یہ کہہ کر )آپ ﷺ نے اونٹ کى مہار تھامی اور چل دیئے، قافلے والوں کو جب تک وہ ماہ جبیں وہ دل میں اتر جانے والی صورت ﷺ نظر آتی رہی، وہ آپ ﷺ کو ہی دیکھتے رہے، جب آپ عَلَیْہِ السَّلَام ان کی نظروں سے اوجھل ہوگئے تو اب وہ آپس میں کہنے لگے کہ یہ ہم نے کیا کیا، اللہ رب العزت کى قسم! ہم نے اونٹ ایک ایسے آدمى کو دے دیا،جسے ہم جانتے بھى نہىں، اور نہ ہى ہم نے اس سے قیمت وصول کى ہے۔ ہم باتوں میں لگے رہے اور وہ آدمی ہمارا اُونٹ لے گیا۔ اتنے میں جو عورت ان کے ساتھ تھی،اس نے کہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں نے اُن کاچہرہ دیکھا تھا ،ان کا چہرہ چودھوىں رات کے چاند کا ٹکڑا تھا،اَنَا ضَامِنَۃٌ لِثَمَنِِ جَمَلِکُمْ میں تمہارے اُونٹ کی ضامن ہوں، اگر وہ تشریف نہ لائے تو قیمت مجھ سے لے لینا ۔(دلائل النبوة للبیہقی،ج۵/۳۸۱ ملخصا)
کچھ دیر بعد حضور کے غلام قافلے والوں کے پاس آۓ اور کہنے لگے سرخ اونٹ جو ہمارے آقاﷺ نے خریدہ ہے اسکی قیمت کسے دینی ہے۔ انتا سنتے ہی قافلے والے مچل گئے اور کہنے لگے قیمت کی چھوڑو ہمیں بتاؤ وہ کون ہے جو سب کا دل لے کر چلے گئے۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنھم نے حضور ﷺ کی شان بیان فرمائی تو کہا ہمیں بھی لے چلو انکے پاس۔ اور قافلے والے حضور کی بارگاہ میں پہنچے تو دل قدموں میں رکھ کر مشرف بہ اسلام ہو گئے۔
قربان جاؤں اے میرے رب کے دلارے میں تو واری واری جاؤں
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔

کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہوگا شہا تیرے خال حسن و ادا کی قسم

ازقلم: اے رضویہ، ممبئی
مرکز جامعہ نظامیہ صالحات کرلا

ہما اکبر آفرین

محترمہ ہما اکبر آفرین صاحبہ گورکھ پور(یو۔پی۔) کے قدیم ترین قصبہ گولا بازار سے تعلق رکھنے والی بہترین قلم کار ہیں۔ فی الحال موصوفہ ہماری آواز کے گوشہ خواتین و اطفال میں ایڈیٹر ہیں۔ ہماری آواز

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button